جوڈیشل کمیشن کا سوالنامہ
وہ آئین اور قانون کے تقاضوں کے بالکل مطابق ہے.
وہ آئین اور قانون کے تقاضوں کے بالکل مطابق ہے. فوٹو: فائل
مئی 2013 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے سیاسی جماعتوں کو سوالنامہ جاری کرتے ہوئے کل تک تحریری جواب طلب کیا، تمام جماعتوں سے کہا گیا ہے کہ اگر عام انتخابات شفاف اور منصفانہ نہیں تھے تو اپنے اس دعوے کو ثابت کریں اور اس کے حق میں شواہد اور گواہ پیش کریں۔
اگر منصوبہ بندی کے تحت منظم دھاندلی ہوئی تو بتایا جائے منصوبہ ساز کون تھا، منصوبہ کیسے بنایا گیا اور اس پر عمل درآمد کس نے کرایا جب کہ اس الزام کے حق میں ثبوت کیا ہیں، کیا منظم دھاندلی کسی ایک صوبے کے چند مخصوص حلقوں میں ہوئی ہے یا چاروں صوبوں میں ہوئی ہے؟چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں3 رکنی جوڈیشل کمیشن نے گزشتہ روز دوبارہ سماعت شروع کی۔
جوڈیشل کمیشن نے ریمارکس دیے کہ کارروائی میں فریق جماعتوں سے ٹرمز آف ریفرنس کے اندر رہتے ہوئے شواہد مانگے تھے لیکن اس پر عمل نہیں ہوا، بی بی سی کے مطابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ابھی تک کچھ جماعتوں نے سیاق و سباق سے ہٹ کر عمومی شواہد کمیشن کے سامنے جمع کروائے ہیں۔ تحریک انصاف کے وکیل حفیظ پیرزادہ نے کہا کہ اگر ایک صوبے میں بھی یہ ثابت ہوجائے کہ مینڈیٹ چرایا گیا ہے تو اس کا اطلاق پورے ملک پر کیا جائے جب کہ آئی ایس آئی،آئی بی اور ایف آئی اے سمیت خفیہ ایجنسیوں پر مشتمل اسپیشل انکوائری کمیٹی بھی بنائی جائے۔
انکوائری کمیشن نے یہ استدعا مسترد کردی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس وقت ہماری معاونت کے لیے وکلاء اور کے کے آغا موجود ہیں، اگر ہم سے کام نہیں ہوا تو پھر اس کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ آن لائن کے مطابق چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم اپنے دائرہ کار سے باہر نہیں جا سکتے، اگر کوئی سیاسی جماعت الزامات عائد کرتی ہے تو ہم توقع کرتے ہیں کہ وہ ثبوت بھی فراہم کرے گی، ریکارڈ کی تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم مقرر کرنے کا فیصلہ سوالات کے جوابات کے بعد کریں گے۔
پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات کے لیے اتنے اعلیٰ پیمانے پر جوڈیشل کمیشن قائم کیا گیا ہے۔ مئی 2013 کے الیکشن میں تقریباً سب جماعتوں نے ڈھکے چھپے الفاظ میں دھاندلیوں کی بات کی تھی تاہم تحریک انصاف نے اس حوالے سے لانگ مارچ بھی کیا اور اسلام آباد میں دھرنے بھی دیے۔
اب جوڈیشل کمیشن قائم ہو چکا ہے لہٰذا سیاسی جماعتوں کی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ انتخابی دھاندلیوں کے ثبوت کمیشن کے سامنے رکھیں تاکہ یہ کمیشن جلد از جلد اپنی کارروائی پوری کر سکے۔ محض بیان بازیوں سے یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ انتخابات میں دھاندلیاں ہوئی ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں انفرادی سطح پر مختلف پولنگ اسٹیشنوں پر بے ضابطگیاں ہوتی رہتی ہیں اور کئی کیس ایسے بھی سامنے آئے ہیں جن میں جعلی ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے کچھ لوگ پکڑے گئے لیکن یہ سب کچھ انفرادی اور محدود سطح پر ہوتا ہے۔
یقینی طور پر 2013 کے الیکشن میں بھی ایسے واقعات ہوئے ہوں گے 'کئی جگہ انتخابی بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہوں گی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں لیا جا سکتا کہ سارے کا سارا الیکشن دھاندلی زدہ تھا یا کسی قوت نے منظم دھاندلی کر کے کسی مخصوص جماعت کو جتوایا اور کسی دوسری مخصوص جماعت کو ہرایا ہو۔ اب ایک باضابطہ فورم قائم ہو چکا ہے 'مختلف سیاسی جماعتیں بھی اپنی اپنی شکایات یا ثبوت لے کر کمیشن میں جا رہی ہیں 'جوڈیشل کمیشن نے جو سوالنامہ دیا ہے ۔
وہ آئین اور قانون کے تقاضوں کے بالکل مطابق ہے۔ ظاہر ہے کہ محض کسی کے کہنے پر پورے الیکشن کو دھاندلی زدہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر کوئی سیاسی جماعت یا سیاسی جماعتیں یہ سمجھتی ہیں کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی اور ان کے پاس ثبوت بھی ہیں تو انھیں جوڈیشل کمیشن کے روبرو پیش ہونا چاہیے۔ پاکستان میں یہ کلچر عام ہو گیا ہے کہ کسی پر بھی الزام عائد کر دیا جاتا ہے اور بعد میں معاملات جوں کے توں چلتے رہتے ہیں ۔انتخابی دھاندلیوں کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔
ہر الیکشن میں عام انتخابات میں دھاندلیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں۔بلدیاتی الیکشنوں میں بھی دھاندلی کی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ شکر ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈ ز کے الیکشن میں دھاندلیوں کا شور بلند نہیں ہوا۔ جوڈیشل کمیشن نے اپنی تحقیقات کے بعد جو فیصلہ دینا ہے یا سفارشات دینی ہیں 'ان سے بہت سی چیزیں واضح ہو جائیں گی۔ یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ 2013کے الیکشن میں دھاندلی ہوئی یا نہیں' اگر ہوئی بھی ہے تو اس کا گراف کتنا تھا۔
یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ کوئی منظم قوت الیکشن کومتاثر کر رہی تھی یا نہیں۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو اس موقعے پر ذمے داری کا ثبوت دینا چاہیے ۔اگر ان کے پاس دھاندلی کے ٹھوس شواہد موجود ہیں تو انھیں لازمی سامنے لایا جانا چاہیے۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ سنگ میل ہے اور مستقبل میں اس کے انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
اگر منصوبہ بندی کے تحت منظم دھاندلی ہوئی تو بتایا جائے منصوبہ ساز کون تھا، منصوبہ کیسے بنایا گیا اور اس پر عمل درآمد کس نے کرایا جب کہ اس الزام کے حق میں ثبوت کیا ہیں، کیا منظم دھاندلی کسی ایک صوبے کے چند مخصوص حلقوں میں ہوئی ہے یا چاروں صوبوں میں ہوئی ہے؟چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں3 رکنی جوڈیشل کمیشن نے گزشتہ روز دوبارہ سماعت شروع کی۔
جوڈیشل کمیشن نے ریمارکس دیے کہ کارروائی میں فریق جماعتوں سے ٹرمز آف ریفرنس کے اندر رہتے ہوئے شواہد مانگے تھے لیکن اس پر عمل نہیں ہوا، بی بی سی کے مطابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ابھی تک کچھ جماعتوں نے سیاق و سباق سے ہٹ کر عمومی شواہد کمیشن کے سامنے جمع کروائے ہیں۔ تحریک انصاف کے وکیل حفیظ پیرزادہ نے کہا کہ اگر ایک صوبے میں بھی یہ ثابت ہوجائے کہ مینڈیٹ چرایا گیا ہے تو اس کا اطلاق پورے ملک پر کیا جائے جب کہ آئی ایس آئی،آئی بی اور ایف آئی اے سمیت خفیہ ایجنسیوں پر مشتمل اسپیشل انکوائری کمیٹی بھی بنائی جائے۔
انکوائری کمیشن نے یہ استدعا مسترد کردی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس وقت ہماری معاونت کے لیے وکلاء اور کے کے آغا موجود ہیں، اگر ہم سے کام نہیں ہوا تو پھر اس کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ آن لائن کے مطابق چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم اپنے دائرہ کار سے باہر نہیں جا سکتے، اگر کوئی سیاسی جماعت الزامات عائد کرتی ہے تو ہم توقع کرتے ہیں کہ وہ ثبوت بھی فراہم کرے گی، ریکارڈ کی تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم مقرر کرنے کا فیصلہ سوالات کے جوابات کے بعد کریں گے۔
پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات کے لیے اتنے اعلیٰ پیمانے پر جوڈیشل کمیشن قائم کیا گیا ہے۔ مئی 2013 کے الیکشن میں تقریباً سب جماعتوں نے ڈھکے چھپے الفاظ میں دھاندلیوں کی بات کی تھی تاہم تحریک انصاف نے اس حوالے سے لانگ مارچ بھی کیا اور اسلام آباد میں دھرنے بھی دیے۔
اب جوڈیشل کمیشن قائم ہو چکا ہے لہٰذا سیاسی جماعتوں کی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ انتخابی دھاندلیوں کے ثبوت کمیشن کے سامنے رکھیں تاکہ یہ کمیشن جلد از جلد اپنی کارروائی پوری کر سکے۔ محض بیان بازیوں سے یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ انتخابات میں دھاندلیاں ہوئی ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں انفرادی سطح پر مختلف پولنگ اسٹیشنوں پر بے ضابطگیاں ہوتی رہتی ہیں اور کئی کیس ایسے بھی سامنے آئے ہیں جن میں جعلی ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے کچھ لوگ پکڑے گئے لیکن یہ سب کچھ انفرادی اور محدود سطح پر ہوتا ہے۔
یقینی طور پر 2013 کے الیکشن میں بھی ایسے واقعات ہوئے ہوں گے 'کئی جگہ انتخابی بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہوں گی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں لیا جا سکتا کہ سارے کا سارا الیکشن دھاندلی زدہ تھا یا کسی قوت نے منظم دھاندلی کر کے کسی مخصوص جماعت کو جتوایا اور کسی دوسری مخصوص جماعت کو ہرایا ہو۔ اب ایک باضابطہ فورم قائم ہو چکا ہے 'مختلف سیاسی جماعتیں بھی اپنی اپنی شکایات یا ثبوت لے کر کمیشن میں جا رہی ہیں 'جوڈیشل کمیشن نے جو سوالنامہ دیا ہے ۔
وہ آئین اور قانون کے تقاضوں کے بالکل مطابق ہے۔ ظاہر ہے کہ محض کسی کے کہنے پر پورے الیکشن کو دھاندلی زدہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر کوئی سیاسی جماعت یا سیاسی جماعتیں یہ سمجھتی ہیں کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی اور ان کے پاس ثبوت بھی ہیں تو انھیں جوڈیشل کمیشن کے روبرو پیش ہونا چاہیے۔ پاکستان میں یہ کلچر عام ہو گیا ہے کہ کسی پر بھی الزام عائد کر دیا جاتا ہے اور بعد میں معاملات جوں کے توں چلتے رہتے ہیں ۔انتخابی دھاندلیوں کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔
ہر الیکشن میں عام انتخابات میں دھاندلیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں۔بلدیاتی الیکشنوں میں بھی دھاندلی کی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ شکر ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈ ز کے الیکشن میں دھاندلیوں کا شور بلند نہیں ہوا۔ جوڈیشل کمیشن نے اپنی تحقیقات کے بعد جو فیصلہ دینا ہے یا سفارشات دینی ہیں 'ان سے بہت سی چیزیں واضح ہو جائیں گی۔ یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ 2013کے الیکشن میں دھاندلی ہوئی یا نہیں' اگر ہوئی بھی ہے تو اس کا گراف کتنا تھا۔
یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ کوئی منظم قوت الیکشن کومتاثر کر رہی تھی یا نہیں۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو اس موقعے پر ذمے داری کا ثبوت دینا چاہیے ۔اگر ان کے پاس دھاندلی کے ٹھوس شواہد موجود ہیں تو انھیں لازمی سامنے لایا جانا چاہیے۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ سنگ میل ہے اور مستقبل میں اس کے انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔