سیاست میں حقیقت پسندانہ رجحان کی ابتداء
مطلب یہ کہ جس طرح اس ملک کے سارے کام اور معاملات کا کریڈٹ مسلم لیگ کو جاتا ہے...
barq@email.com
بزرگوں نے تو صبر کے پھل کے بارے میں کہا تھا کہ میٹھا ہوتا ہے لیکن آج کل پھلوں کے علاوہ بھی ایسی بہت ساری چیزیں ہیں جو صبر کرنے سے آخر کار میٹھی ہو جاتی ہیں، اسی لیے کہا گیا ہے کہ'' پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ''، اور اس کی تازہ ترین مثال ہمارے ایک سیاسی رہنما ہیں جو نام کے مشیر سے آخر کار ترقی کر کے کام کے مشیر بن گئے ہیں۔
یہ بڑے کام کے آدمی ہیں' سب سے پہلی بات تو یہ کہ موصوف ان لوگوں بلکہ لوگوں کے اس قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جو غلطی کو فوراً سدھار لیتے ہیں چنانچہ ایسے لوگ فوراً اپنے غیر موزوں پیشے کو تیاگ کر سیاست میں آجاتے ہیں کیونکہ ان میں خدمت کا جذبہ اتنا کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے کہ اصل پیشہ چھوڑ کر خدمت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیتے ہیں چنانچہ آج کل ایسے کافی خدمت گزار دیکھنے میں آرہے ہیں جو تعلیم تو ڈاکٹری، انجینئری یا استادی کی حاصل کر چکے ہیں لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ
بقدر شوق نہیں ظرف تنگنائے غزل
کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے
اور پرانے سیٹ اور دولت کثیر کے خرچے پر لعنت بھیج کر اپنے اصل رجحان کے مطابق اس پیشے سے اس پیشے میں آگئے کیوں کہ خدمت ہے مقصود و مطلوب مومن، کام اچھا ہے وہ جس کا ''مال'' اچھا ہے جہاں تک اس لفظ مال کا تعلق ہے تو اس کی قرأت آپ ہمزہ کے بغیر بھی کر سکتے ہیں، پیسے کے سلسلے میں ہر کسی کو حق حاصل ہے کہ جو پیشہ پیامن بھائے وہی اپنائے کسی اور کو کسی بھی پیشہ ور کے پیشے پر انگلی اٹھانے کا حق نہیں ہے۔
کیا پیشہ بدلنے کا گلہ پیشہ وروں سے
جس رہ سے چلے تیرے ''در و بام'' ہی آئے
بعض لوگ جو بنیادی طور پر شر پسند عناصر کے زمرے میں آتے ہیں اور ''منفی تنقیدیے'' کہلاتے ہیں اکثر کہا کرتے ہیں کہ یہ لوگ جو ایک ڈاکٹری یا انجینئری کا سیٹ خراب کر کے دوسرا پیشہ اختیار کرتے ہیں، اچھے لوگ نہیں ہوتے لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ ہم نے تو سیاست میں دوسرے پیشوں سے آئے ہوئے جتنے لوگ دیکھے ہیں سب اچھے لوگ ہیں، کم از کم دور سے تو ایسا ہی لگتا ہے، باطن کی خبر خدا جانے، بہرحال ہمارا عقیدہ تو یہ ہے کہ پیشہ کوئی بھی برا نہیں ہوتا۔
ہم سخن تیشے نے فرہاد کو شیریں سے کیا
جس طرح کا کہ کسی میں ہو کمال اچھا ہے
یہ تو ویسے ہی درمیان میں پیشہ ورانہ بات آگئی ورنہ اپنے دوست اور ممدوح سیاسی رہنما کو داد دینا چاہتے ہیں کہ انھوں نے نام کے مشیر سے ترقی کر کے کام کا مشیر بنتے ہی کام شروع کر دیا ، روز کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی تقریب میں کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں۔
چنانچہ تازہ ترین باتصویر خبر میں وہ ایک مرحوم لیڈر کے بڑے بیٹے کو مرحوم کا جانشین بنا رہے ہیں اور ان کے سر پر پگڑی رکھ رہے ہیں، پشتو میں ''پگڑی پہنانا'' اگرچہ کچھ اچھے معنوں میں استعمال نہیں ہوتا لیکن بنیادی طور پر دستار بندی اور جانشینی کی رسم کافی پسندیدہ ہے، جانشینی کے لیے کبھی کبھی گدی نشینی کا لفظ بھی استعمال کیا جاتا ہے لیکن سیاست میں اس کے لیے مووزن ترین لفظ ''کرسی نشینی'' ہو سکتا ہے کیوں کہ سیاست کا محور اصل میں یہ ہی ہوتا ہے، ایک پشتو ٹپہ ہے
دیدن مے ستا بہانے مے نورے
پہ لویہ لار کے سہ بہانہ کڑم اود ریگمہ
یعنی میرا اصل مقصد تو صرف تمہارا دیدار کرنا ہوتا ہے باقی سارے حیلے بہانے ہوتے ہیں اس لیے کبھی کبھی بیچ چوراہے میں بھی کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر کھڑا ہو جاتا ہوں، مطلب یہ کہ سیاست میں ''نشینی'' صرف کرسی پر ہوتی ہے اس لیے تو بعض پارٹیوں نے صدر وغیرہ کے تکلفات چھوڑ کر سیدھی سادی چیئرمینی اور چیئرپرسنی کے عہدے ایجاد کر لیے ہیں کہ شف شف کرنے سے کیا فائدہ سیدھا سیدھا شفتالو ہی کیوں نہ کہا جائے، کسی فارسی شاعر نے بھی کہا ہے کہ
کرسئی تو مہ اندیش زغو غائے لیڈران
آواز ''ٹھگاں'' کم نہ کند رزق ٹھگاں را
مذکورہ خبر جس میں کسی مقام پر مقامی لیڈر کے جانشین کو پگڑی پہنائی جا رہی ہے، ایک خاص بات یہ ہے کہ ہماری سیاست میں اب ''حقیقت پسندی'' کا چلن ہونے لگا ہے، خواہ مخواہ کی اس جمہوریت وغیرہ کی رٹ اب نہیں لگانا پڑے گی اور نہ ہی خواہ مخواہ کارکنوں کے ناز نخرے اٹھنا پڑیں گے۔ باپ کی وفات پر خود بخود وراثت بیٹے کو مل جائے گی، ملتی تو اس سے پہلے بھی تھی کیوں کہ تقریباً ہر پارٹی میں وراثت کا قانون سختی سے نافذ ہے، چاہے وارث کوئی شیر خوار بچہ ہی کیوں نہ ہو صرف کھلے عام اس کا اعتراف نہیں کیا جاتا تھا لیکن اب کھل کر کہا جا سکے گا۔
سو پشت سے ہے پیشہ آبا یہ لیڈری
کچھ اور کرنے ورنے کی عادت نہیں مجھے
مطلب یہ کہ جس طرح اس ملک کے سارے کام اور معاملات کا کریڈٹ مسلم لیگ کو جاتا ہے اسی طرح یہ جانشینی کا سلسلہ بھی اسی طرح چلتا آیا ہے کیوں کہ فرنگیوں نے جاتے جاتے وراثت صحیح جانشینوں کے ہاتھ میں دے دی تھی اسی لیے تو بے چارے قائداعظم اور لیاقت علی خان جو آؤٹ سائیڈر تھے کو ''یہاں وہاں'' کر دیا گیا تاکہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری، یہاں رحمن بابا کی اس وصیت کا ذکر نہ کرنا بے انصافی ہو گی جس میں انھوں نے اپنے آپ کو مجنوں کا صحیح جانشین بنائے جانے کا واقعہ بیاں کیا ہے۔
فرمایا ہے ''کہ جب مجنوں کے چل چلاؤ کے دن آگئے تو اس نے مجھے بلا کر اپنا جانشین مقرر کر دیا اور نہایت کام کی پندو نصائح کے بعد دعا دی کہ اے رحمن میرے سارے مرتبے تجھے نصیب ہوں'' اس سے بہت بڑے بڑے فوائد حاصل ہونے کی امید ہے ایک تو لیڈر بلکہ مسلم لیگ کی اصطلاح میں ممتاز رہنما نچنت ہو کر ''قوم و ملک'' کی خدمت کریں گے۔
اس اطمینان کے ساتھ کہ سب کچھ اپنے ہی گھر میں رہے گا تو خواہ مخواہ یہاں وہاں چھپانے سے کیا فائدہ، دوسرا بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ یہ مسلم لیگ میں ایک سے دو، دو سے چار اور چار سے آٹھ ہونے کا رجحان ہے، یہ ختم ہو جائے گا جو جہاں ہے جیسا ہے کی بنیاد پر صرف ایک مسلم لیگ سے بھی کام چلایا جا سکے گا، جب وراثت کا مسئلہ ہی نہ رہے گا تو کاہے کا جھگڑا بالم،
یہ کیا کہ اک جہاں کو کرو وقف اضطراب
یہ کیا ایک خاندان کو شکیبا نہ کر سکو،
مطلب یہ کہ کرسی نشینی، جانشینی یا تخت نشینی کا سلسلہ تو ویسے بھی چل ہی رہا تھا اور چل رہا ہے لیکن پھر بھی ذرا حجاب یا نقاب میں، ہمیں یقین ہے کہ سیاست میں اگر حقیقت پسندی کا یہ رجحان برقرار رہا تو ایک دن اور بھی ''بہت کچھ'' کھلے عام بلکہ قانونی ڈھنگ سے ہونے لگے گا، بے چاری کرپشن اور ووٹوں کی تجارت کی ''چھپن چھپائی'' بھی ختم ہو جائے گی
پردہ نہیں جب کوئی خدا سے
تو بندوں سے ڈرنا کیا
یہ بڑے کام کے آدمی ہیں' سب سے پہلی بات تو یہ کہ موصوف ان لوگوں بلکہ لوگوں کے اس قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جو غلطی کو فوراً سدھار لیتے ہیں چنانچہ ایسے لوگ فوراً اپنے غیر موزوں پیشے کو تیاگ کر سیاست میں آجاتے ہیں کیونکہ ان میں خدمت کا جذبہ اتنا کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے کہ اصل پیشہ چھوڑ کر خدمت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیتے ہیں چنانچہ آج کل ایسے کافی خدمت گزار دیکھنے میں آرہے ہیں جو تعلیم تو ڈاکٹری، انجینئری یا استادی کی حاصل کر چکے ہیں لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ
بقدر شوق نہیں ظرف تنگنائے غزل
کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے
اور پرانے سیٹ اور دولت کثیر کے خرچے پر لعنت بھیج کر اپنے اصل رجحان کے مطابق اس پیشے سے اس پیشے میں آگئے کیوں کہ خدمت ہے مقصود و مطلوب مومن، کام اچھا ہے وہ جس کا ''مال'' اچھا ہے جہاں تک اس لفظ مال کا تعلق ہے تو اس کی قرأت آپ ہمزہ کے بغیر بھی کر سکتے ہیں، پیسے کے سلسلے میں ہر کسی کو حق حاصل ہے کہ جو پیشہ پیامن بھائے وہی اپنائے کسی اور کو کسی بھی پیشہ ور کے پیشے پر انگلی اٹھانے کا حق نہیں ہے۔
کیا پیشہ بدلنے کا گلہ پیشہ وروں سے
جس رہ سے چلے تیرے ''در و بام'' ہی آئے
بعض لوگ جو بنیادی طور پر شر پسند عناصر کے زمرے میں آتے ہیں اور ''منفی تنقیدیے'' کہلاتے ہیں اکثر کہا کرتے ہیں کہ یہ لوگ جو ایک ڈاکٹری یا انجینئری کا سیٹ خراب کر کے دوسرا پیشہ اختیار کرتے ہیں، اچھے لوگ نہیں ہوتے لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ ہم نے تو سیاست میں دوسرے پیشوں سے آئے ہوئے جتنے لوگ دیکھے ہیں سب اچھے لوگ ہیں، کم از کم دور سے تو ایسا ہی لگتا ہے، باطن کی خبر خدا جانے، بہرحال ہمارا عقیدہ تو یہ ہے کہ پیشہ کوئی بھی برا نہیں ہوتا۔
ہم سخن تیشے نے فرہاد کو شیریں سے کیا
جس طرح کا کہ کسی میں ہو کمال اچھا ہے
یہ تو ویسے ہی درمیان میں پیشہ ورانہ بات آگئی ورنہ اپنے دوست اور ممدوح سیاسی رہنما کو داد دینا چاہتے ہیں کہ انھوں نے نام کے مشیر سے ترقی کر کے کام کا مشیر بنتے ہی کام شروع کر دیا ، روز کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی تقریب میں کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں۔
چنانچہ تازہ ترین باتصویر خبر میں وہ ایک مرحوم لیڈر کے بڑے بیٹے کو مرحوم کا جانشین بنا رہے ہیں اور ان کے سر پر پگڑی رکھ رہے ہیں، پشتو میں ''پگڑی پہنانا'' اگرچہ کچھ اچھے معنوں میں استعمال نہیں ہوتا لیکن بنیادی طور پر دستار بندی اور جانشینی کی رسم کافی پسندیدہ ہے، جانشینی کے لیے کبھی کبھی گدی نشینی کا لفظ بھی استعمال کیا جاتا ہے لیکن سیاست میں اس کے لیے مووزن ترین لفظ ''کرسی نشینی'' ہو سکتا ہے کیوں کہ سیاست کا محور اصل میں یہ ہی ہوتا ہے، ایک پشتو ٹپہ ہے
دیدن مے ستا بہانے مے نورے
پہ لویہ لار کے سہ بہانہ کڑم اود ریگمہ
یعنی میرا اصل مقصد تو صرف تمہارا دیدار کرنا ہوتا ہے باقی سارے حیلے بہانے ہوتے ہیں اس لیے کبھی کبھی بیچ چوراہے میں بھی کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر کھڑا ہو جاتا ہوں، مطلب یہ کہ سیاست میں ''نشینی'' صرف کرسی پر ہوتی ہے اس لیے تو بعض پارٹیوں نے صدر وغیرہ کے تکلفات چھوڑ کر سیدھی سادی چیئرمینی اور چیئرپرسنی کے عہدے ایجاد کر لیے ہیں کہ شف شف کرنے سے کیا فائدہ سیدھا سیدھا شفتالو ہی کیوں نہ کہا جائے، کسی فارسی شاعر نے بھی کہا ہے کہ
کرسئی تو مہ اندیش زغو غائے لیڈران
آواز ''ٹھگاں'' کم نہ کند رزق ٹھگاں را
مذکورہ خبر جس میں کسی مقام پر مقامی لیڈر کے جانشین کو پگڑی پہنائی جا رہی ہے، ایک خاص بات یہ ہے کہ ہماری سیاست میں اب ''حقیقت پسندی'' کا چلن ہونے لگا ہے، خواہ مخواہ کی اس جمہوریت وغیرہ کی رٹ اب نہیں لگانا پڑے گی اور نہ ہی خواہ مخواہ کارکنوں کے ناز نخرے اٹھنا پڑیں گے۔ باپ کی وفات پر خود بخود وراثت بیٹے کو مل جائے گی، ملتی تو اس سے پہلے بھی تھی کیوں کہ تقریباً ہر پارٹی میں وراثت کا قانون سختی سے نافذ ہے، چاہے وارث کوئی شیر خوار بچہ ہی کیوں نہ ہو صرف کھلے عام اس کا اعتراف نہیں کیا جاتا تھا لیکن اب کھل کر کہا جا سکے گا۔
سو پشت سے ہے پیشہ آبا یہ لیڈری
کچھ اور کرنے ورنے کی عادت نہیں مجھے
مطلب یہ کہ جس طرح اس ملک کے سارے کام اور معاملات کا کریڈٹ مسلم لیگ کو جاتا ہے اسی طرح یہ جانشینی کا سلسلہ بھی اسی طرح چلتا آیا ہے کیوں کہ فرنگیوں نے جاتے جاتے وراثت صحیح جانشینوں کے ہاتھ میں دے دی تھی اسی لیے تو بے چارے قائداعظم اور لیاقت علی خان جو آؤٹ سائیڈر تھے کو ''یہاں وہاں'' کر دیا گیا تاکہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری، یہاں رحمن بابا کی اس وصیت کا ذکر نہ کرنا بے انصافی ہو گی جس میں انھوں نے اپنے آپ کو مجنوں کا صحیح جانشین بنائے جانے کا واقعہ بیاں کیا ہے۔
فرمایا ہے ''کہ جب مجنوں کے چل چلاؤ کے دن آگئے تو اس نے مجھے بلا کر اپنا جانشین مقرر کر دیا اور نہایت کام کی پندو نصائح کے بعد دعا دی کہ اے رحمن میرے سارے مرتبے تجھے نصیب ہوں'' اس سے بہت بڑے بڑے فوائد حاصل ہونے کی امید ہے ایک تو لیڈر بلکہ مسلم لیگ کی اصطلاح میں ممتاز رہنما نچنت ہو کر ''قوم و ملک'' کی خدمت کریں گے۔
اس اطمینان کے ساتھ کہ سب کچھ اپنے ہی گھر میں رہے گا تو خواہ مخواہ یہاں وہاں چھپانے سے کیا فائدہ، دوسرا بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ یہ مسلم لیگ میں ایک سے دو، دو سے چار اور چار سے آٹھ ہونے کا رجحان ہے، یہ ختم ہو جائے گا جو جہاں ہے جیسا ہے کی بنیاد پر صرف ایک مسلم لیگ سے بھی کام چلایا جا سکے گا، جب وراثت کا مسئلہ ہی نہ رہے گا تو کاہے کا جھگڑا بالم،
یہ کیا کہ اک جہاں کو کرو وقف اضطراب
یہ کیا ایک خاندان کو شکیبا نہ کر سکو،
مطلب یہ کہ کرسی نشینی، جانشینی یا تخت نشینی کا سلسلہ تو ویسے بھی چل ہی رہا تھا اور چل رہا ہے لیکن پھر بھی ذرا حجاب یا نقاب میں، ہمیں یقین ہے کہ سیاست میں اگر حقیقت پسندی کا یہ رجحان برقرار رہا تو ایک دن اور بھی ''بہت کچھ'' کھلے عام بلکہ قانونی ڈھنگ سے ہونے لگے گا، بے چاری کرپشن اور ووٹوں کی تجارت کی ''چھپن چھپائی'' بھی ختم ہو جائے گی
پردہ نہیں جب کوئی خدا سے
تو بندوں سے ڈرنا کیا