امریکی ریاست میں پھر سے نسلی فسادات
کالے جو امریکا کے حقیقی باسی اور وارث ہیں، ان میں یہ احساس بدرجہ اتم پایا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے۔
ان فسادات کا ایک اور منفی پہلو بھی سامنے آیا کہ پاکستانیوں کے اسٹوروں میں بھی لوٹ مار کی گئی، پاکستانیوں کے جان ومال کے تحفظ کی ذمے داری امریکی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ فوٹو : فائل
KARACHI:
امریکی شہر بالٹی مور میں سیاہ فام نوجوان کی پولیس حراست میں ہلاکت کے بعد پرتشدد واقعات پرقابو پانے میں ریاست میری لینڈ کی انتظامیہ بری طرح ناکام رہی ہے، جس کی وجہ سے کرفیو نافذ کرنا پڑا ہے، یہ پہلا واقعہ رونما نہیں ہوا ہے کہ پولیس کے زیرحراست سیاہ فام شخص کی ہلاکت ہوئی ہو،اس طرح کے واقعات پہلے بھی رونما ہوچکے ہیں۔
جس کے بعد ہنگامے پھوٹے ہیں ، انسانی جان و مال کا ضیاع ہوا ہے ، یہ واقعات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکا میں بھی انسانی حقوق کی صورتحال بہتر نہیںہے ، وہاں پر بھی نسلی و لسانی تعصبات موجود ہیں اورعدم مساوات کا پہلو بھی نمایاں ہے،کالے اورگورے کی تفریق بھی موجود ہے ۔کالے جو امریکا کے حقیقی باسی اور وارث ہیں، ان میں یہ احساس بدرجہ اتم پایا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے۔
بالٹی مور میں تازہ ہنگامہ آرائی پیر کو اس وقت شروع ہوئی جب لوگ پولیس کی تحویل میں ہلاک ہونے والے سیاہ فام شخص کی آخری رسوم اداکرنے کے بعد واپس آرہے تھے۔ اس دوران مظاہرین کے ساتھ تصادم میںپولیس کے پندرہ اہلکار زخمی ہوئے جب کہ پولیس کی متعددگاڑیوں کو بھی نذرآتش کردیا گیا۔ مظاہرین نے مختلف اسٹورزکولوٹا، کاروں، دکانوں اور عمارتوں کوآگ بھی لگائی۔
بالٹی مور میں گزشتہ روز اسکول بھی بند رہے۔ سیاہ فاموں نے دو پاکستانیوں کے اسٹوروں کو لوٹنے کے بعد آگ لگا دی تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ صورتحال اس قدر بگڑی کہ شہر میں کرفیو نافذ کر کے پانچ ہزار فوجیوں کو بھی طلب کیا گیا ۔بنیادی سوال تو اپنی جگہ موجود ہے کہ جو سیاہ فام شخص پولیس حراست میں ہلاک ہوا ۔
اس کے قتل کی تحقیقات کے لیے کیا کوئی کمیشن تشکیل دیا گیا ،یا پولیس اہلکاروں کے خلاف کوئی قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی ، ایسا نہیں ہوا جب ہی سیاہ فام افراد کے جذبات بھڑک اٹھے اور اس واقعے نے جلتی پر تیل کا کام کیا ۔دنیا بھر میں امن وانصاف کا علمبردارامریکا اگر اپنی حالت زار پر توجہ کرے تو بہتر ہے ۔
ان فسادات کا ایک اور منفی پہلو بھی سامنے آیا کہ پاکستانیوں کے اسٹوروں میں بھی لوٹ مار کی گئی، پاکستانیوں کے جان ومال کے تحفظ کی ذمے داری امریکی حکومت پر عائد ہوتی ہے ، اور اس ضمن میں قطعاً کوئی کوتاہی نہیں برتنی چاہیے۔ بہرحال مستقبل قریب میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق مثبت فیصلے کیے جائیں تاکہ امریکا میں بھی بنیادی انسانی حقوق کی پامالی نہ ہو۔
امریکی شہر بالٹی مور میں سیاہ فام نوجوان کی پولیس حراست میں ہلاکت کے بعد پرتشدد واقعات پرقابو پانے میں ریاست میری لینڈ کی انتظامیہ بری طرح ناکام رہی ہے، جس کی وجہ سے کرفیو نافذ کرنا پڑا ہے، یہ پہلا واقعہ رونما نہیں ہوا ہے کہ پولیس کے زیرحراست سیاہ فام شخص کی ہلاکت ہوئی ہو،اس طرح کے واقعات پہلے بھی رونما ہوچکے ہیں۔
جس کے بعد ہنگامے پھوٹے ہیں ، انسانی جان و مال کا ضیاع ہوا ہے ، یہ واقعات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکا میں بھی انسانی حقوق کی صورتحال بہتر نہیںہے ، وہاں پر بھی نسلی و لسانی تعصبات موجود ہیں اورعدم مساوات کا پہلو بھی نمایاں ہے،کالے اورگورے کی تفریق بھی موجود ہے ۔کالے جو امریکا کے حقیقی باسی اور وارث ہیں، ان میں یہ احساس بدرجہ اتم پایا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے۔
بالٹی مور میں تازہ ہنگامہ آرائی پیر کو اس وقت شروع ہوئی جب لوگ پولیس کی تحویل میں ہلاک ہونے والے سیاہ فام شخص کی آخری رسوم اداکرنے کے بعد واپس آرہے تھے۔ اس دوران مظاہرین کے ساتھ تصادم میںپولیس کے پندرہ اہلکار زخمی ہوئے جب کہ پولیس کی متعددگاڑیوں کو بھی نذرآتش کردیا گیا۔ مظاہرین نے مختلف اسٹورزکولوٹا، کاروں، دکانوں اور عمارتوں کوآگ بھی لگائی۔
بالٹی مور میں گزشتہ روز اسکول بھی بند رہے۔ سیاہ فاموں نے دو پاکستانیوں کے اسٹوروں کو لوٹنے کے بعد آگ لگا دی تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ صورتحال اس قدر بگڑی کہ شہر میں کرفیو نافذ کر کے پانچ ہزار فوجیوں کو بھی طلب کیا گیا ۔بنیادی سوال تو اپنی جگہ موجود ہے کہ جو سیاہ فام شخص پولیس حراست میں ہلاک ہوا ۔
اس کے قتل کی تحقیقات کے لیے کیا کوئی کمیشن تشکیل دیا گیا ،یا پولیس اہلکاروں کے خلاف کوئی قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی ، ایسا نہیں ہوا جب ہی سیاہ فام افراد کے جذبات بھڑک اٹھے اور اس واقعے نے جلتی پر تیل کا کام کیا ۔دنیا بھر میں امن وانصاف کا علمبردارامریکا اگر اپنی حالت زار پر توجہ کرے تو بہتر ہے ۔
ان فسادات کا ایک اور منفی پہلو بھی سامنے آیا کہ پاکستانیوں کے اسٹوروں میں بھی لوٹ مار کی گئی، پاکستانیوں کے جان ومال کے تحفظ کی ذمے داری امریکی حکومت پر عائد ہوتی ہے ، اور اس ضمن میں قطعاً کوئی کوتاہی نہیں برتنی چاہیے۔ بہرحال مستقبل قریب میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق مثبت فیصلے کیے جائیں تاکہ امریکا میں بھی بنیادی انسانی حقوق کی پامالی نہ ہو۔