سیاستدانوں کی سیکیورٹی کیلیے موثر اقدامات کیے جائیں آئی جی
اہم عمارتوں و تنصیبات، شخصیات، علمائے کرام کی سیکیورٹی کو مزید سخت بنایا جائے
فوٹو: فائل
آئی جی سندھ فیاض احمد لغاری نے پولیس کو سیکیورٹی کے اقدامات مزید سخت کرنے کی ہدایات کی ہے ۔
اس ضمن میں شہریوں کی آگاہی کے لیے اقدامات کا بھی حکم دیا گیا ہے ، سینٹرل پولیس آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق آئی جی سندھ فیاض احمد لغاری نے ارکان اسمبلی اور سینیٹرز کی سیکیورٹی کے لیے موثراقدامات کی ہدایت کردی ، تمام سرکاری، نیم سرکاری، اہم عمارتوں و تنصیبات، اہم دینی، سیاسی شخصیات، تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام کی سیکیورٹی کے لیے اختیار کردہ اقدامات کو مزید سخت بنایا جائے،شہریوں کو آگاہی دی جائے کہ مشکوک سر گرمی، مشتبہ شخص، پیکٹ، پارسل، تھیلا ،بریف کیس وغیر یا لاورث گاڑی دکھائی دے تو فوری قریبی پولیس اسٹیشن یا مدد گار 15پر اطلاع دیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ سندھ سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹرز کی رہائش گاہوں اور دفاتر پر سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے جائیں جبکہ سندھ اسمبلی بلڈنگ کی سیکیورٹی کا جائزہ لے کر سیکیورٹی امور کو مزید موثر بنایا جائے اور اس ضمن میں مامورکیے گئے پولیس اہلکاروں کو سیکیورٹی فرائض کے حوالے سے باقاعدہ بریفنگ کو بھی یقینی بنایا جائے،انھوں نے کہا ہے کہ پرو ایکٹو پولیسنگ کے تحت نہ صرف شرپسند عناصر پر نگاہ رکھی جائے بلکہ عوام کا پولیس پر اعتماد بحال کرنے کے لیے کمیونٹی پولیسنگ کے نیٹ ورک کو تھانہ جات تک وسعت دینے کے لیے تمام تر اقدامات بھی کیے جائیں اور عوام کو آگاہی دی جائے کہ اپنے اطراف میںکوئی بھی مشکوک سر دکھائی دے تو فوری قریبی پولیس اسٹیشن یا مدد گار 15پر دیں۔
اس ضمن میں شہریوں کی آگاہی کے لیے اقدامات کا بھی حکم دیا گیا ہے ، سینٹرل پولیس آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق آئی جی سندھ فیاض احمد لغاری نے ارکان اسمبلی اور سینیٹرز کی سیکیورٹی کے لیے موثراقدامات کی ہدایت کردی ، تمام سرکاری، نیم سرکاری، اہم عمارتوں و تنصیبات، اہم دینی، سیاسی شخصیات، تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام کی سیکیورٹی کے لیے اختیار کردہ اقدامات کو مزید سخت بنایا جائے،شہریوں کو آگاہی دی جائے کہ مشکوک سر گرمی، مشتبہ شخص، پیکٹ، پارسل، تھیلا ،بریف کیس وغیر یا لاورث گاڑی دکھائی دے تو فوری قریبی پولیس اسٹیشن یا مدد گار 15پر اطلاع دیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ سندھ سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹرز کی رہائش گاہوں اور دفاتر پر سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے جائیں جبکہ سندھ اسمبلی بلڈنگ کی سیکیورٹی کا جائزہ لے کر سیکیورٹی امور کو مزید موثر بنایا جائے اور اس ضمن میں مامورکیے گئے پولیس اہلکاروں کو سیکیورٹی فرائض کے حوالے سے باقاعدہ بریفنگ کو بھی یقینی بنایا جائے،انھوں نے کہا ہے کہ پرو ایکٹو پولیسنگ کے تحت نہ صرف شرپسند عناصر پر نگاہ رکھی جائے بلکہ عوام کا پولیس پر اعتماد بحال کرنے کے لیے کمیونٹی پولیسنگ کے نیٹ ورک کو تھانہ جات تک وسعت دینے کے لیے تمام تر اقدامات بھی کیے جائیں اور عوام کو آگاہی دی جائے کہ اپنے اطراف میںکوئی بھی مشکوک سر دکھائی دے تو فوری قریبی پولیس اسٹیشن یا مدد گار 15پر دیں۔