پاک چین اقتصادی راہداری میں تبدیلی نہ کرنے کی حکومتی یقین دہانی
پاکستان میں چین 46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے،اتنی بڑی سرمایہ کاری سےپاکستان میں نئےترقیاتی منصوبے شروع ہوں گے
تنقید برائے اصلاح ہونی چاہیے نہ کہ تنقید برائے تنقید کا رویہ اپنا کر مسائل میں اضافہ کیا جائے۔ویسے بھی سیاستدانوں کو وہ کام کرنا چاہیے جس کی ان پر ذمے داری عائد ہوتی ہے۔ فوٹو : فائل
وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بدھ کو قومی اسمبلی میں پاک چین اقتصادی راہداری کا نقشہ پیش کرتے ہوئے یقین دلایا کہ اس منصوبے کے روٹ کا ایک انچ بھی تبدیل نہیں ہو گا' اس عالمی منصوبہ کو متنازعہ نہ بنایا جائے، یہ منصوبہ گیم چینج کے طور پر دنیا بھر میں مشہور ہوا ہے، گوادر سے کاشغر تک کام شروع ہو چکا ہے۔
اقتصادی راہداری گوادر کو خنجراب سے جوڑے گی جن کے ملٹی پل روٹ ہوں گے۔ پاکستان میں چین 46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے، اتنی بڑی سرمایہ کاری سے پاکستان میں نئے ترقیاتی منصوبے شروع ہوں گے۔
گوادر کا تعلق چین کے ساتھ منسلک ہونے سے خطے میں کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آئے گی' روز گار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور بیروز گاری جو اس وقت ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے، پر قابو پانے میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔ پاکستان میں توانائی کے بحران کے باعث اقتصادی شعبے میں ترقی کی رفتار سست ہو چکی ہے۔
احسن اقبال نے بتایا کہ چین توانائی کے شعبے میں 37 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ توانائی کے ان منصوبوں کی تکمیل سے جہاں توانائی کے بحران پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی۔ کچھ عرصے سے پاکستان میں چند سیاستدان پاک چین اقتصادی راہداری کے روٹ میں تبدیلی کا واویلا مچا کر حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ مجوزہ روٹ ہی پر عملدرآمد کرے۔حیرت انگیز امر ہے کہ ملک میں جب بھی کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع ہوتا ہے تو کچھ سیاستدان اسے متنازعہ بنانے کی کوشش میں جت جاتے ہیں۔
جس کی واضح مثال کالا باغ ڈیم ہے جو تنازعات کا شکار ہو چکا ہے ۔ اب پاک چین اقتصادی راہداری کے روٹ میں تبدیلی کا واویلا مچانے سے دنیا بھر میں پاکستان کا امیج متاثر ہونے سے غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہو گی۔ کسی بھی قومی منصوبہ کو متنازعہ بنانا ملک اور قوم کی قطعی خدمت نہیں۔
ہونا تو یہ چاہیے کہ تمام سیاستدان ملکی ترقی اور خوشحالی کے لیے حکومت کو منصوبے پیش کریں چہ جائیکہ وہ کسی بھی قومی منصوبہ کے شروع ہونے پر اسے متنازعہ بنانے کی کوشش کر کے ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کریں۔ تنقید برائے اصلاح ہونی چاہیے نہ کہ تنقید برائے تنقید کا رویہ اپنا کر مسائل میں اضافہ کیا جائے۔ویسے بھی سیاستدانوں کو وہ کام کرنا چاہیے جس کی ان پر ذمے داری عائد ہوتی ہے۔ اقتصادی، سائنسی اور ٹیکنیکل معاملات پر ماہرین کی رائے کو اہمیت دی جانی چاہیے۔
اب جب حکومت نے پاک چین اقتصادی راہداری کے روٹ میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے تو تمام سیاستدانوں پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مخالفانہ رویہ ترک کر کے اس منصوبے کی تکمیل میں حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔ ایسے مثبت رویے ہی پاکستان میں بڑے پیمانے پر غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کریں گے جس سے یہ ملک ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو جائے گا۔
اقتصادی راہداری گوادر کو خنجراب سے جوڑے گی جن کے ملٹی پل روٹ ہوں گے۔ پاکستان میں چین 46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے، اتنی بڑی سرمایہ کاری سے پاکستان میں نئے ترقیاتی منصوبے شروع ہوں گے۔
گوادر کا تعلق چین کے ساتھ منسلک ہونے سے خطے میں کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آئے گی' روز گار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور بیروز گاری جو اس وقت ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے، پر قابو پانے میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔ پاکستان میں توانائی کے بحران کے باعث اقتصادی شعبے میں ترقی کی رفتار سست ہو چکی ہے۔
احسن اقبال نے بتایا کہ چین توانائی کے شعبے میں 37 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ توانائی کے ان منصوبوں کی تکمیل سے جہاں توانائی کے بحران پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی۔ کچھ عرصے سے پاکستان میں چند سیاستدان پاک چین اقتصادی راہداری کے روٹ میں تبدیلی کا واویلا مچا کر حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ مجوزہ روٹ ہی پر عملدرآمد کرے۔حیرت انگیز امر ہے کہ ملک میں جب بھی کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع ہوتا ہے تو کچھ سیاستدان اسے متنازعہ بنانے کی کوشش میں جت جاتے ہیں۔
جس کی واضح مثال کالا باغ ڈیم ہے جو تنازعات کا شکار ہو چکا ہے ۔ اب پاک چین اقتصادی راہداری کے روٹ میں تبدیلی کا واویلا مچانے سے دنیا بھر میں پاکستان کا امیج متاثر ہونے سے غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہو گی۔ کسی بھی قومی منصوبہ کو متنازعہ بنانا ملک اور قوم کی قطعی خدمت نہیں۔
ہونا تو یہ چاہیے کہ تمام سیاستدان ملکی ترقی اور خوشحالی کے لیے حکومت کو منصوبے پیش کریں چہ جائیکہ وہ کسی بھی قومی منصوبہ کے شروع ہونے پر اسے متنازعہ بنانے کی کوشش کر کے ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کریں۔ تنقید برائے اصلاح ہونی چاہیے نہ کہ تنقید برائے تنقید کا رویہ اپنا کر مسائل میں اضافہ کیا جائے۔ویسے بھی سیاستدانوں کو وہ کام کرنا چاہیے جس کی ان پر ذمے داری عائد ہوتی ہے۔ اقتصادی، سائنسی اور ٹیکنیکل معاملات پر ماہرین کی رائے کو اہمیت دی جانی چاہیے۔
اب جب حکومت نے پاک چین اقتصادی راہداری کے روٹ میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے تو تمام سیاستدانوں پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مخالفانہ رویہ ترک کر کے اس منصوبے کی تکمیل میں حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔ ایسے مثبت رویے ہی پاکستان میں بڑے پیمانے پر غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کریں گے جس سے یہ ملک ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو جائے گا۔