مافیاز کا خاتمہ قومی مشن

حقیقت یہ ہے کہ مافیائی تنظیمیں برسوں سے کراچی کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں

ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ جرائم اور سیاست کے درمیان فرق بوجوہ مٹ گیا ہے اور معمولات زندگی میں آجکل قانون شکنی ہی معمول بن گیا ہے۔ فوٹو : فائل

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا کہ کراچی آپریشن سے بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ میں کمی آئی ہے، کراچی آپریشن کے منطقی انجام تک بلا تفریق کارروائی جاری رہے گی، حکومت اور عوام کے ساتھ مل کر مافیاز کا خاتمہ کریں گے کیونکہ کراچی میں امن ملکی معیشت کی بحالی کے لیے ضروری ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ معیشت کی بہتری کے لیے کراچی میں امن و امان ترجیح ہے، اس موقع پر آرمی چیف نے این اے 246 میں انتخاب کے پرامن انعقاد پر رینجرز کے کردار کو سراہا۔

دنیا بھر میں جرائم پیشہ اور پر تشدد و انسانیت دشمن مافیاز کی تنظیمی اور ساختیاتی ڈھانچہ کی تاریخ بتاتی ہے کہ شہروں کی تجارتی ریل پیل، معاشی استحکام، بے ہنگم کاروباری سرگرمیوں اور ریاست کی معاشی شہ رگ ہونے کے حوالہ سے مافیاؤں کی جنت بنتے رہے ہیں اس لیے آرمی چیف نے مافیاز کا لفظ عمومی طور پر یقیناً نہیں کہا ہے بلکہ اس گھناؤنے سنڈیکیٹ کی جڑوں کو ختم کرنے کی ضرورت کا احساس دلاتے ہوئے رینجرز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ ٹارگٹ کلرز اور ان کے معاونین کو پکڑا جائے۔

یہ بروقت اور ناگزیر ہدایت آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کورہیڈ کوارٹرز کراچی کا دورہ کرتے ہوئے دی، اس موقع پرکورکمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار اور ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر نے شہر میں جاری آپریشن اور سکیورٹی کی صورتحال پر بریفنگ دی اور امن و امان کی صورتحال سے آگاہ کیا، آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کراچی آپریشن میں اہداف کے حصول پر اطمینان کا اظہار کیا۔ تاہم کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کی جو پرتشدد لہر ابھی چند ہی روز میں اٹھی ہے اس کے بارے میں بھی آرمی چیف کا کہنا ہے کہ حالیہ وارداتیں ایک مخصوص پیٹرن کے تحت ہو رہی ہیں۔

ایجنسیاں اور رینجرز ان کے منصوبہ سازوں کا سراغ لگائیں اور ملزمان کو گرفتار کر کے انھیں بے نقاب کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ مافیائی تنظیمیں برسوں سے کراچی کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں، پہلے ان کی تنظیمی صلاحیت محدود تھی مگر افغان جنگ کے بعد ملک میں اسلحہ و منشیات کی درآمد کے ساتھ ہی کلاشنکوف کلچر سے ملکی سماجی و اقتصادی شیرازہ کے بکھرنے کا عمل غیر محسوس طور پر پھیلتا چلا گیا۔


ایک طرف تاجر برادری تو دوسری جانب عوام الناس کا جرائم پیشہ عناصر، ٹارگٹ کلنگ اور سیاسی جماعتوں کی کشمکش سے جینا حرام ہو گیا، پھر اس میں لسانی، فسطائی، مذہبی، مسلکی، جہادی اور بین الاسلامی شدت پسند تحریکوں کی شمولیت اور ان سے مذہبی، روحانی، نیم علمی، تدریسی و عسکری وابستگی اور غیر ملکی فنڈز کی دستیابی نے ملک کے اقتصادی شہ رگ ہونے کے ناتے کراچی کو آتش فشاں بنا دیا۔ گزشتہ ایک عشرہ کے دوران مختلف جامعات کے اساتذہ، سیاسی رہنما، انسانی حقوق اور سیاسی جماعتوں کے سرگرم کارکن، علمائے کرام، اسکالر، انجینئرز، صحافی اور سماجی کارکن ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے۔

جامعہ کراچی کے ممتاز اسکالر پروفیسر ڈاکٹر شکیل اوج کو ستمبر 2014 ء جب کہ معروف ماہر تعلیم اور لیاقت آباد ڈگری کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر سبط حسن قتل کیے گئے، دونوں کیس پہلے بلائنڈ مرڈر بتائے گئے، تفتیش ہوئی، ایک ملزم پکڑا بھی گیا مگر کسی قاتل کو سزا نہیں ہوئی، پولیس کے کئی اعلیٰ افسر جن میں چوہدری اسلم، شفیق تنولی، غضنفر کاظمی، آغا اسد اور متعدد اہلکار بھی شامل ہیں قاتلانہ حملوں میں شہید کیے گئے۔ کراچی آپریشن میں رینجرز اور پولیس اہلکاروں کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا، گزشہ دنوں امریکی نژاد معلمہ ڈیبوورا لوبو پر قاتلانہ حملہ کیا گیا مگر وہ معجزانہ طور پر بچ گئیں مگر پریڈی تھانہ کے ایس ایچ او اعجاز خواجہ جاں بحق ہو گئے۔

چند روز قبل معروف ایکٹیوسٹ سبین محمود کو نادیدہ ہاتھوں نے مار ڈالا، جب کہ قانون شکنی ہی اصل اصول ٹھہرا۔ مگر سوال انصاف کی فوری فراہمی کا ہے۔ اس مشن میں ریاستی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے ارباب بست وکشاد کو سخت محنت کرنی ہے، عدلیہ ملزمان کے خلاف مضبوط شواہد کا آئینی تقاضہ کرتی ہے، اس لیے استغاثہ مضبوط ہونا ناگزیر ہے، انصاف کی فراہمی اور سزا و جزا کے معاملات کا جلد طے ہونا معاشرے میں استحکام کے لیے اشد ضروری ہے۔

تفتیش اگر ناقص ہو گی تو مجرم بچ نکلتے رہیں گے، لہٰذا قانون کی حکمرانی اور ملک میں امن و امان کی بحالی اس امر کا تقاضہ کرتی ہے کہ کالعدم تنطیموں کے ماسٹر مائنڈ، طالبان کمانڈرز گینگ وار کارندے اور مافیا گروہ کے ارکان جو کراچی سے گرفتار ہوئے ان کے مقدمات کا جلد فیصلہ ہو۔ ملک کو مجرمانہ قوتوں سے نمٹنے کے لیے جنرل راحیل شریف کے انداز فکر کی حقیقت کو سمجھنا چاہیے، ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ جرائم اور سیاست کے درمیان فرق بوجوہ مٹ گیا ہے اور معمولات زندگی میں آجکل قانون شکنی ہی معمول بن گیا ہے۔ کرپشن ہماری رگوں میں اتر چکی ہے، یہی طرز عمل اورا سٹرٹیجی مافیا گینگز کی ہوتی ہے۔

کراچی کی بدامنی بلاشبہ ملک کے لیے ناقابل تلافی نقصان کا باعث بنتی رہی ہے اور اسی طرز پر جاری رہی ہے جیسے اٹلی میں سسلین، امریکا کے شہر نیویارک اور لندن میں انڈر ورلڈ اور سیریل کلرز کا وتیرہ قتل و غارتگری اور تشدد رہا ہے، چنانچہ ایسے تمام مافیاز کا خاتمہ اہم قومی مشن ہونا چاہیے۔
Load Next Story