یوم مئی اور مزدوروں کے حقوق
دنیا میں اب بھی کئی ممالک ہیں جہاں آٹھ گھنٹے کے اوقات کار پر عمل درامد نہیں کیا جاتا۔
وفاقی حکومت کو بھی مزدوروں کی حالت بہتر بنانے کے لیے صوبائی حکومتوں کے اقدامات کا جائزہ لینا چاہیے۔ فوٹو : فائل
آج یکم مئی کو دنیا بھر میں مزدوروں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ مزدوروں کا عالمی دن ان مزدوروں کی یاد میں منایا جاتا ہے جو آج سے ایک سو تیس سال قبل امریکا کے شہر شکاگو میں محنت کشوں کے اوقات کار مقرر کرانے کی خاطر احتجاج کر رہے تھے کہ ان پر پولیس نے بلاتفریق گولی چلا دی تھی جس میں کئی مزدور مارے گئے تھے۔
شکاگو کے مزدوروں کا خون رائیگاں نہیں گیا اور ان کا یہ مطالبہ کہ مزدوروں سے آٹھ گھنٹے سے زاید کام نہ لیا جائے بالعموم تسلیم کر لیا گیا۔ مگر دنیا میں اب بھی کئی ممالک ہیں جہاں آٹھ گھنٹے کے اوقات کار پر عمل درامد نہیں کیا جاتا۔ دنیا بھر میں مزدور آج بھی اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ہمارے وطن عزیز میں بھی اس اصول پر سختی سے عملدرامد کرانے کا موثر اہتمام نہیں ہے اور یہاں بھی غریب محنت کشوں کا جی بھر کر استحصال کیا جاتا ہے۔
اس حوالے سے باونڈڈ لیبر بطور خاص قابل ذکر ہے جہاں بے رحم طاقتور لوگ پورے کے پورے گھرانوں کو بچوں اور عورتوں سمیت یرغمال بنا کر ان سے دن رات مشقت کراتے ہیں۔ اگلے روز ایکسپریس فورم میں مزدور رہنماؤں نے اس حوالے سے خاصی معلوماتی باتیں کی ہیں۔مزدور رہنماؤں کا خیال تھا کہ اداروں کی نجکاری سے معیشت بہتر نہیں ہو سکتی بلکہ یہ مزدور دشمن اقدام ہے لہذا حکومت کو اس عالمی دن کے موقع پر مزدوروں کو ریلیف دینا چاہیے۔
ادھریہیں اسی فورم میں پنجاب حکومت کے پارلیمانی سیکریٹری برائے لیبرنے مزدور کی 12 ہزار تنخواہ پر عملدرآمد کی نوید بھی سنائی۔یہ بہت خوش آئند ہے لیکن یہ بات صرف ایک خوش کن اعلان تک ہی محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اس پر عمل درآمد بھی کرایا جانا چاہیے۔ اور نہ صرف پنجاب میں بلکہ ملک کے دیگر صوبوں میں بھی اسے لاگو کیا جانا چاہیے۔وفاقی حکومت کو بھی مزدوروں کی حالت بہتر بنانے کے لیے صوبائی حکومتوں کے اقدامات کا جائزہ لینا چاہیے۔
شکاگو کے مزدوروں کا خون رائیگاں نہیں گیا اور ان کا یہ مطالبہ کہ مزدوروں سے آٹھ گھنٹے سے زاید کام نہ لیا جائے بالعموم تسلیم کر لیا گیا۔ مگر دنیا میں اب بھی کئی ممالک ہیں جہاں آٹھ گھنٹے کے اوقات کار پر عمل درامد نہیں کیا جاتا۔ دنیا بھر میں مزدور آج بھی اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ہمارے وطن عزیز میں بھی اس اصول پر سختی سے عملدرامد کرانے کا موثر اہتمام نہیں ہے اور یہاں بھی غریب محنت کشوں کا جی بھر کر استحصال کیا جاتا ہے۔
اس حوالے سے باونڈڈ لیبر بطور خاص قابل ذکر ہے جہاں بے رحم طاقتور لوگ پورے کے پورے گھرانوں کو بچوں اور عورتوں سمیت یرغمال بنا کر ان سے دن رات مشقت کراتے ہیں۔ اگلے روز ایکسپریس فورم میں مزدور رہنماؤں نے اس حوالے سے خاصی معلوماتی باتیں کی ہیں۔مزدور رہنماؤں کا خیال تھا کہ اداروں کی نجکاری سے معیشت بہتر نہیں ہو سکتی بلکہ یہ مزدور دشمن اقدام ہے لہذا حکومت کو اس عالمی دن کے موقع پر مزدوروں کو ریلیف دینا چاہیے۔
ادھریہیں اسی فورم میں پنجاب حکومت کے پارلیمانی سیکریٹری برائے لیبرنے مزدور کی 12 ہزار تنخواہ پر عملدرآمد کی نوید بھی سنائی۔یہ بہت خوش آئند ہے لیکن یہ بات صرف ایک خوش کن اعلان تک ہی محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اس پر عمل درآمد بھی کرایا جانا چاہیے۔ اور نہ صرف پنجاب میں بلکہ ملک کے دیگر صوبوں میں بھی اسے لاگو کیا جانا چاہیے۔وفاقی حکومت کو بھی مزدوروں کی حالت بہتر بنانے کے لیے صوبائی حکومتوں کے اقدامات کا جائزہ لینا چاہیے۔