کیا یہ جوابی اقدام ہے
ایک اطلاع کے مطابق سعودی عرب نے بنگلہ دیش پر عائد لیبر پابندیاں ختم کر دی ہیں۔
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
ایک اطلاع کے مطابق سعودی عرب نے بنگلہ دیش پر عائد لیبر پابندیاں ختم کر دی ہیں۔ 2005ء میں دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر بنگلہ دیش کے شہریوں پر سعودی عرب میں کام کرنے کے حوالے سے پابندیاں لگا دی تھیں۔ لیکن جن حالات میں یہ قدم اٹھایا گیا ہے اس سے پاکستان میں شکوک و شبہات پیدا ہونا ایک فطری بات ہے۔
سعودی حکمرانوں نے پاکستان کی حکومت سے کہا تھا کہ وہ اپنی افواج کو یمن کی جنگ میں شرکت کے لیے بھیجے۔لیکن اس سے ایران سے پاکستان کے برادرانہ تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان روس کے خلاف افغان جنگ میں شرکت کر کے جو نقصانات اٹھا چکا ہے' اس کا مزید متحمل نہیں ہو سکتا۔ان خدشات کی آواز بازگشت ہماری پارلیمنٹ تک پہنچ گئی اور پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ پاکستان کو خلیج کی اس جنگ سے دور رہنا چاہیے ۔ پاکستانی پارلیمنٹ کے اس فیصلے پر ہمارے عرب بھائی سخت ناراض ہو گئے۔
ہمارے عرب بھائی چونکہ صدیوں سے شخصی اور خاندانی حکمرانی کے کلچر میں مبتلا ہیں اس لیے نہ انھیں رائے عامہ کی اہمیت کا اندازہ ہے نہ پارلیمنٹ کے وقار کو وہ سمجھنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔اس ناروا اور جمہوری اور سفارتی آداب کے خلاف دھمکی کے باوجود پاکستان کے وزیر اعظم مسلسل یہ فرماتے رہے کہ اگر سعودی عرب کی سالمیت کو کوئی خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان سعودی عرب کا دفاع کرے گا۔ اگرچہ پاکستانی عوام عرب اور عجم کی اس لڑائی سے دور رہنا چاہتے ہیں یا اس کے باوجود پاکستان کے وزیر اعظم نے سعودی حکمرانوں کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ اگر سعودی عرب کو کوئی خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان اس کا دفاع کرے گا۔
اس کی ایک وجہ تو یہ دکھائی دیتی ہے کہ نواز شریف پر سعودی حکمرانوں کے بہت احسانات ہیں۔دوسری وجہ یہ نظر آتی ہے کہ سعودی عرب میں ایسے مقامات مقدسہ ہیں جن کی حفاظت کرنا ہر مسلمان اپنی ذمے داری سمجھتا ہے۔ غالباً انھی وجوہات کے پس منظر میں وزیر اعظم نے سعودی عرب کے تحفظ کی یقین دہانی کرائی ورنہ کسی ملک کی سالمیت کے لیے دوسرا ملک اسی صورت میں اس کا دفاع کرتا ہے جب ایسے دو ملکوں کے درمیان کوئی دفاعی معاہدہ ہو اور ایسا کوئی معاہدہ سعودیہ کے ساتھ نہیں ہے۔
سعودی حکمرانوں کی ممکنہ غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے محترم وزیراعظم اپنے ساتھ آرمی چیف کو بھی لے گئے اور امید یہی کی جا رہی تھی کہ یہ دونوں اکابرین سعودی حکمرانوں کی ممکنہ غلط فہمیوں کو دورکر کے انھیں مطمئن کر دیں گے لیکن بنگلہ دیش کی لیبر پر پابندی اٹھانے کا جو اعلان سعودی حکومت نے کیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سعودی بھائیوں کا غصہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا۔
جس وقت پاکستان کی پارلیمنٹ نے یمن کی جنگ سے دور رہنے کا فیصلہ کیا اس کے بعد ہی اہل خرد کو یہ خطرہ نظر آ رہا تھا کہ خلیجی ممالک (سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات) خلیجی ریاستوں میں کام کرنے والے پاکستانیوں کے خلاف کوئی کارروائی کر سکتے ہیں۔ اور بنگلہ دیشی مزدوروں سے پابندی ہٹانے کو اسی سلسلے کی ایک کڑی سمجھا جا رہا ہے اگر سعودیہ کا مقصد بنگلہ دیش کے مزدوروں کو روزگار فراہم کرنا ہے تو اس کا اس لیے خیر مقدم کرنا چاہیے کہ اس فیصلے سے بنگلہ دیش کے غریب عوام کو روزگار کے مواقعے فراہم ہوں گے۔
اس کے برخلاف اگر اس فیصلے کا مقصد خلیج میں کام کرنے والے پاکستانیوں کے لیے مشکلات پیدا کرنا اور انھیں ملازمتوں سے سبکدوش کرنا ہے تو پھر یہ ایک ایسا فیصلہ ہو گا جو سعودی عرب کو زیب نہیں دیتا کہ وہ محض ایک معقول اور منطقی فیصلے کے خلاف اس قسم کا نقصان رساں جوابی اقدام کرے۔ اس قسم کے خدشات کی ایک وجہ یہ ہے کہ عراق کویت جنگ کے دوران جب یمن نے غیر جانبدار رہنے اور عراق کویت جنگ میں ملوث نہ ہونے کا فیصلہ کیا تو سعودی عرب اور خلیجی ممالک نے اپنے ملکوں میں کام کرنے والے 7 لاکھ 56 ہزار یمنی باشندوں کو انتقاماً ملازمتوں سے نکال کر واپس بھیج دیا تھا۔
کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کے بھارت سے اس قدر شدید اختلافات ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان دو جنگیں ہو چکی ہیں ایک جنگ میں بھارتی فوجیں لاہور تک پہنچنے کی دعویدار رہیں دوسری جنگ میں بھارتی افواج نے مشرقی پاکستان کو پاکستان سے علیحدہ کر دیا۔ پاکستان ایک مسلم ملک ہے بھارت ایک ہندو ریاست۔ بھارت کی پاکستان کے خلاف جارحیت روکنے کے لیے نہ کسی عرب ملک نے اپنی فوجیں بھیجیں نہ کسی مسلم ملک نے۔ اس کے برخلاف عرب ملکوں کے آج بھی بھارت سے بہترین دوستانہ تعلقات ہیں اور ہمارے عرب بھائی بھارت کو اپنا بڑا بھائی سمجھتے ہیں۔ اور اس سے سفارتی تعلقات بھی ہیں اور بھاری تجارتی تعلقات بھی لیکن پاکستان نے عربوں کے بھارت سے تعلقات پر کبھی نہ شکایت کی نہ احتجاج کیا۔
ان حقائق کی روشنی میں پاکستان سے یمن کی جنگ میں شرکت اور ایران سے تعلقات خراب کرنے پر مجبور کرنا کسی طرح سے نہ اصولی موقف ہے نہ اخلاقی۔پاکستان کے 18 کروڑ عوام پاکستان کو یمن کی جنگ سے دور رکھنا چاہتے ہیں لیکن مسلکی اختلافات رکھنے والی بعض جماعتیں پاکستانی حکومت پر دباؤ ڈال رہی ہیں کہ وہ اپنی افواج کو یمن کی خطرناک جنگ میں جھونک دے۔
یمن کے باغی حوثی نمائندے نے واضح طور پر اس بات کی یقین دہانی کی ہے کہ حوثی باغی سعودی عرب میں موجود مقامات مقدسہ کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی بھی جرأت نہیں کر سکتے یہی موقف ایرانی حکومت کا بھی ہے پھر پاکستانی حکومت کو فوج بھیجنے کا مشورہ کیوں دیا جا رہا ہے؟
سعودی حکمرانوں نے پاکستان کی حکومت سے کہا تھا کہ وہ اپنی افواج کو یمن کی جنگ میں شرکت کے لیے بھیجے۔لیکن اس سے ایران سے پاکستان کے برادرانہ تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان روس کے خلاف افغان جنگ میں شرکت کر کے جو نقصانات اٹھا چکا ہے' اس کا مزید متحمل نہیں ہو سکتا۔ان خدشات کی آواز بازگشت ہماری پارلیمنٹ تک پہنچ گئی اور پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ پاکستان کو خلیج کی اس جنگ سے دور رہنا چاہیے ۔ پاکستانی پارلیمنٹ کے اس فیصلے پر ہمارے عرب بھائی سخت ناراض ہو گئے۔
ہمارے عرب بھائی چونکہ صدیوں سے شخصی اور خاندانی حکمرانی کے کلچر میں مبتلا ہیں اس لیے نہ انھیں رائے عامہ کی اہمیت کا اندازہ ہے نہ پارلیمنٹ کے وقار کو وہ سمجھنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔اس ناروا اور جمہوری اور سفارتی آداب کے خلاف دھمکی کے باوجود پاکستان کے وزیر اعظم مسلسل یہ فرماتے رہے کہ اگر سعودی عرب کی سالمیت کو کوئی خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان سعودی عرب کا دفاع کرے گا۔ اگرچہ پاکستانی عوام عرب اور عجم کی اس لڑائی سے دور رہنا چاہتے ہیں یا اس کے باوجود پاکستان کے وزیر اعظم نے سعودی حکمرانوں کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ اگر سعودی عرب کو کوئی خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان اس کا دفاع کرے گا۔
اس کی ایک وجہ تو یہ دکھائی دیتی ہے کہ نواز شریف پر سعودی حکمرانوں کے بہت احسانات ہیں۔دوسری وجہ یہ نظر آتی ہے کہ سعودی عرب میں ایسے مقامات مقدسہ ہیں جن کی حفاظت کرنا ہر مسلمان اپنی ذمے داری سمجھتا ہے۔ غالباً انھی وجوہات کے پس منظر میں وزیر اعظم نے سعودی عرب کے تحفظ کی یقین دہانی کرائی ورنہ کسی ملک کی سالمیت کے لیے دوسرا ملک اسی صورت میں اس کا دفاع کرتا ہے جب ایسے دو ملکوں کے درمیان کوئی دفاعی معاہدہ ہو اور ایسا کوئی معاہدہ سعودیہ کے ساتھ نہیں ہے۔
سعودی حکمرانوں کی ممکنہ غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے محترم وزیراعظم اپنے ساتھ آرمی چیف کو بھی لے گئے اور امید یہی کی جا رہی تھی کہ یہ دونوں اکابرین سعودی حکمرانوں کی ممکنہ غلط فہمیوں کو دورکر کے انھیں مطمئن کر دیں گے لیکن بنگلہ دیش کی لیبر پر پابندی اٹھانے کا جو اعلان سعودی حکومت نے کیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سعودی بھائیوں کا غصہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا۔
جس وقت پاکستان کی پارلیمنٹ نے یمن کی جنگ سے دور رہنے کا فیصلہ کیا اس کے بعد ہی اہل خرد کو یہ خطرہ نظر آ رہا تھا کہ خلیجی ممالک (سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات) خلیجی ریاستوں میں کام کرنے والے پاکستانیوں کے خلاف کوئی کارروائی کر سکتے ہیں۔ اور بنگلہ دیشی مزدوروں سے پابندی ہٹانے کو اسی سلسلے کی ایک کڑی سمجھا جا رہا ہے اگر سعودیہ کا مقصد بنگلہ دیش کے مزدوروں کو روزگار فراہم کرنا ہے تو اس کا اس لیے خیر مقدم کرنا چاہیے کہ اس فیصلے سے بنگلہ دیش کے غریب عوام کو روزگار کے مواقعے فراہم ہوں گے۔
اس کے برخلاف اگر اس فیصلے کا مقصد خلیج میں کام کرنے والے پاکستانیوں کے لیے مشکلات پیدا کرنا اور انھیں ملازمتوں سے سبکدوش کرنا ہے تو پھر یہ ایک ایسا فیصلہ ہو گا جو سعودی عرب کو زیب نہیں دیتا کہ وہ محض ایک معقول اور منطقی فیصلے کے خلاف اس قسم کا نقصان رساں جوابی اقدام کرے۔ اس قسم کے خدشات کی ایک وجہ یہ ہے کہ عراق کویت جنگ کے دوران جب یمن نے غیر جانبدار رہنے اور عراق کویت جنگ میں ملوث نہ ہونے کا فیصلہ کیا تو سعودی عرب اور خلیجی ممالک نے اپنے ملکوں میں کام کرنے والے 7 لاکھ 56 ہزار یمنی باشندوں کو انتقاماً ملازمتوں سے نکال کر واپس بھیج دیا تھا۔
کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کے بھارت سے اس قدر شدید اختلافات ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان دو جنگیں ہو چکی ہیں ایک جنگ میں بھارتی فوجیں لاہور تک پہنچنے کی دعویدار رہیں دوسری جنگ میں بھارتی افواج نے مشرقی پاکستان کو پاکستان سے علیحدہ کر دیا۔ پاکستان ایک مسلم ملک ہے بھارت ایک ہندو ریاست۔ بھارت کی پاکستان کے خلاف جارحیت روکنے کے لیے نہ کسی عرب ملک نے اپنی فوجیں بھیجیں نہ کسی مسلم ملک نے۔ اس کے برخلاف عرب ملکوں کے آج بھی بھارت سے بہترین دوستانہ تعلقات ہیں اور ہمارے عرب بھائی بھارت کو اپنا بڑا بھائی سمجھتے ہیں۔ اور اس سے سفارتی تعلقات بھی ہیں اور بھاری تجارتی تعلقات بھی لیکن پاکستان نے عربوں کے بھارت سے تعلقات پر کبھی نہ شکایت کی نہ احتجاج کیا۔
ان حقائق کی روشنی میں پاکستان سے یمن کی جنگ میں شرکت اور ایران سے تعلقات خراب کرنے پر مجبور کرنا کسی طرح سے نہ اصولی موقف ہے نہ اخلاقی۔پاکستان کے 18 کروڑ عوام پاکستان کو یمن کی جنگ سے دور رکھنا چاہتے ہیں لیکن مسلکی اختلافات رکھنے والی بعض جماعتیں پاکستانی حکومت پر دباؤ ڈال رہی ہیں کہ وہ اپنی افواج کو یمن کی خطرناک جنگ میں جھونک دے۔
یمن کے باغی حوثی نمائندے نے واضح طور پر اس بات کی یقین دہانی کی ہے کہ حوثی باغی سعودی عرب میں موجود مقامات مقدسہ کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی بھی جرأت نہیں کر سکتے یہی موقف ایرانی حکومت کا بھی ہے پھر پاکستانی حکومت کو فوج بھیجنے کا مشورہ کیوں دیا جا رہا ہے؟