پاکستانی پرنٹنگ انڈسٹری کی مالیت 45 ارب ڈالر ہوگئی
حکومت ٹیکسز اور ڈیوٹیوں کے ضمن میں انڈسٹری کو چھوٹ دے اس سے صنعت کو چند برسوں میں ہی بہت فروغ ملے گا۔
حکومت ٹیکسز اور ڈیوٹیوں کے ضمن میں انڈسٹری کو چھوٹ دے اس سے صنعت کو چند برسوں میں ہی بہت فروغ ملے گا،ڈاکٹر ایس ایم منہاج الدین۔ فوٹو فائل
لاہور:
صدر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری افتخار احمد ووہرہ نے ملک کی انڈسٹری کو مقامی اور عالمی سطح پر فروغ دینے اور نمائش کے حوالے سے پاکستان ایسوسی ایشن آف پرنٹنگ اینڈ گرافک آرٹس انڈسٹریکی کوششوں کو سراہا ہے۔
انہوں نے ملک میں روزگار اور کاروبار کے مواقع پیدا کرنے میں انڈسٹری کے کردار کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ پرنٹنگ انڈسٹری کو درپیش مسائل کو دور کرنے اور سپورٹ کے لیے چیمبر اپنا پلیٹ فارم استعمال کرے گا۔صدر کے سی سی آئی افتخار احمد ووہرہ عالمی نمائش پرنٹ پاک 2015 کے حوالے سے تقریب کے مہمان خصوصی تھے جو کراچی میں ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی۔
اس موقع پر چیئرمین ڈاکٹر ایس ایم منہاج الدین نے کہا کہ پاکستان عالمی پرنٹنگ مارکیٹ میں اہم مقام حاصل کرسکتا ہے جو اس وقت 925 ارب امریکی ڈالر کے لگ بھگ ہے جبکہ ایشیا کا حصہ اس میں 40 فیصد ہے۔ نمائش دنیا بھر کی مقامی اور عالمی کمپنیوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرے گی جس سے پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوگا۔
پرنٹنگ اور گرافک کی عالمی نمائش پرنٹ پاک 2015 سے دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص ابھرے گا۔اس وقت پاکستان کی پرنٹنگ انڈسٹری 4.5 ارب ڈالر مالیت ہے جبکہ اس کا شمار ٹیکسٹائل کے بعد دوسری سب سے بڑی انڈسٹری میں کیا جاتا ہے جہاں 20 لاکھ سے زائد افراد کا روزگار وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکسز اور ڈیوٹیوں کے ضمن میں انڈسٹری کو چھوٹ دے اس سے صنعت کو چند برسوں میں ہی بہت فروغ ملے گا۔
صدر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری افتخار احمد ووہرہ نے ملک کی انڈسٹری کو مقامی اور عالمی سطح پر فروغ دینے اور نمائش کے حوالے سے پاکستان ایسوسی ایشن آف پرنٹنگ اینڈ گرافک آرٹس انڈسٹریکی کوششوں کو سراہا ہے۔
انہوں نے ملک میں روزگار اور کاروبار کے مواقع پیدا کرنے میں انڈسٹری کے کردار کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ پرنٹنگ انڈسٹری کو درپیش مسائل کو دور کرنے اور سپورٹ کے لیے چیمبر اپنا پلیٹ فارم استعمال کرے گا۔صدر کے سی سی آئی افتخار احمد ووہرہ عالمی نمائش پرنٹ پاک 2015 کے حوالے سے تقریب کے مہمان خصوصی تھے جو کراچی میں ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی۔
اس موقع پر چیئرمین ڈاکٹر ایس ایم منہاج الدین نے کہا کہ پاکستان عالمی پرنٹنگ مارکیٹ میں اہم مقام حاصل کرسکتا ہے جو اس وقت 925 ارب امریکی ڈالر کے لگ بھگ ہے جبکہ ایشیا کا حصہ اس میں 40 فیصد ہے۔ نمائش دنیا بھر کی مقامی اور عالمی کمپنیوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرے گی جس سے پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوگا۔
پرنٹنگ اور گرافک کی عالمی نمائش پرنٹ پاک 2015 سے دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص ابھرے گا۔اس وقت پاکستان کی پرنٹنگ انڈسٹری 4.5 ارب ڈالر مالیت ہے جبکہ اس کا شمار ٹیکسٹائل کے بعد دوسری سب سے بڑی انڈسٹری میں کیا جاتا ہے جہاں 20 لاکھ سے زائد افراد کا روزگار وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکسز اور ڈیوٹیوں کے ضمن میں انڈسٹری کو چھوٹ دے اس سے صنعت کو چند برسوں میں ہی بہت فروغ ملے گا۔