آپریشن خیبر ٹو میں دہشت گردوں کے خلاف مزید کامیابیاں
سیاسی اور عسکری قیادت بارہا اس عزم کا اظہار کر چکی ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کا مشن ہر قیمت پر پورا کیا جائے گا۔
پاکستان میں دہشت گردی کی اس لہر میں ہزاروں افراد شہید ہو چکے ہیں مگر ان قربانیوں کے باوجود قوم اور فوج کے قدم ڈگمگائے نہیں۔ فوٹو : فائل
MANILA:
پاک فوج نے خیبر ایجنسی میں آپریشن خیبرٹو میں بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے سندا پال، توردرہ' کنڈ والا اور مہربان قلعہ کو دہشت گردوں سے خالی کرا لیا ہے' اس کارروائی کے دوران 27دہشت گرد ہلاک جب کہ پاک فوج کے کیپٹن سمیت پانچ جوان شہید ہو گئے۔ پاک فوج کے ترجمان کے مطابق دہشت گردوں سے خالی کرائے گئے علاقے ان کے مضبوط گڑھ تھے، یہ بہت بڑی کامیابی ہے جو حاصل کی گئی ہے۔
یہ آپریشن اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ خیبر ایجنسی کے علاقوں میں دہشت گرد ابھی تک موجود اور یہ علاقے ان کی محفوظ پناہ گاہ ہیں۔ اس حالیہ آپریشن میں کیپٹن سمیت پانچ فوجی جوانوں کی شہادت اس حقیقت کا اظہار ہے کہ پاک فوج دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے بڑے پیمانے پر قربانیاں دے رہی ہے۔ پوری قوم کو اپنی بہادر فوج پر فخر ہے جو نہ صرف سرحدوں کا دفاع بخوبی کر رہی بلکہ اندرون ملک بھی امن وامان کو یقینی بنانے کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کر رہی ہے۔
گزشتہ ماہ اپریل کے آغاز میں بھی آپریشن خیبرٹو کے دوران وادی تیراہ میں سیکیورٹی فورسز کی فضائی اور بھاری توپ خانے کی کارروائیوں کے نتیجے میں متعدد دہشت گرد ہلاک ، ان کے ٹھکانے اور بارود کے ذخیرے تباہ ہو گئے تھے۔اس آپریشن میں دہشت گرد بڑی تعداد میں ہلاک اور فوج کو روز نئی کامیابیاں مل رہی ہیں ۔
پاکستان ایک طویل عرصے سے دہشت گردی کا شکار چلا آ رہا ہے، ایک وہ وقت تھا کہ جب انتہا پسندوں نے سوات پر قبضہ کر کے اپنی حکومت کا اعلان کر دیا تھا اور یوں محسوس ہونے لگا تھا کہ یہ صرف چند دنوں ہی کی بات ہے کہ انتہا پسند ارد گرد کے علاقوں پر بھی قبضہ کر لیں گے۔ ایسے وقت میں پاک فوج قوم کا آخری سہارا ثابت ہوئی اور اس نے آگے بڑھ کر سوات سے انتہا پسندوں کا انتہائی کامیابی سے خاتمہ کرکے ایک بار پھر وہاں امن و امان بحال کر دیا۔
اس طرح اقتدار پر قبضے کے لیے انتہا پسندوں کے بڑھتے ہوئے قدم رک گئے اور انھوں نے شمالی وزیرستان اور اس سے ملحقہ علاقوں کو اپنا گڑھ بنا کر ملک بھر میں دہشت گردی کی کارروائیاں تیز کر دیں۔دہشت گردوں کا خیال تھا کہ اس طرح وہ حکومت کو دباؤ میں لانے اور اپنی مرضی کی شرائط منوانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ان مشکل حالات میں قوم کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے پاک فوج ایک بار پھر آگے بڑھی اور اس نے 15 جون 2014ء کو شمالی وزیرستان میں ضرب عضب کے نام سے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کر دیا۔
فوج نے بہترین حکمت عملی، جرات اور قربانیوں کے باعث بڑی تیزی سے اس آپریشن میں کامیابی حاصل کی، اس آپریشن کے دوران القاعدہ اور طالبان کے سرکردہ افراد سمیت بڑی تعداد میں غیر ملکی جنگجو ہلاک ہو گئے' جنوبی وزیرستان میں آپریشن کے دوران پاکستان میں القاعدہ کا سربراہ عدنان الشکری الجمعہ بھی ہلاک ہوا۔
الشکری پر نیویارک کی عدالت نے 2010 ء میں امریکا اور برطانیہ میں دہشت گردی کے منصوبے میں فرد جرم عائد کی تھی، وہ اسامہ کا اہم ساتھی اور القاعدہ کے بیرونی آپریشنز کا سربراہ تھا۔ آپریشن ضرب عضب کے دوران انتہا پسندوں کے مضبوط ٹھکانے، اسلحہ ساز فیکٹریاں اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تباہ ہو گیا اور دہشت گردوں کی ایک تعداد اپنی جان بچانے کے لیے یہاں سے فرار ہو گئی اور آج یہ وقت آ گیا ہے کہ یہ علاقے دہشت گردوں سے پاک ہو چکے اور آئی ڈی پیز اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔
سیاسی اور عسکری قیادت بارہا اس عزم کا اظہار کر چکی ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کا مشن ہر قیمت پر پورا کیا جائے گا۔ دنیا کے بہت سے ممالک دہشت گردی کا شکار رہے ہیں لیکن ان ممالک کی حکومتوں اور عوام نے متحد ہو کر دہشت گردی کا مقابلہ کیا اور اپنے وطن کو پرامن بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ سری لنکا کی مثال سب کے سامنے ہے جس نے برسوں تامل ٹائیگرز کی بغاوت اور دہشت گردی کا سامنا کیا پھر وہ وقت آ گیا کہ سری لنکن حکومت اور فوج فتح یاب ہوئی اور تامل ٹائیگرز مارے گئے۔ پاکستان میں دہشت گردی کی اس لہر میں ہزاروں افراد شہید ہو چکے ہیں مگر ان قربانیوں کے باوجود قوم اور فوج کے قدم ڈگمگائے نہیں اور وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پر عزم ہیں۔
ان قربانیوں اور عزم ہی کا ثمر ہے کہ آج دہشت گرد کمزور سے کمزور تر ہوتے جا رہے اور ملک میں امن و امان کی صورت حال پہلے سے بہتر ہوتی جا رہی ہے۔ بلوچستان اور کراچی کی صورت حال میں بھی بہتری آ رہی ہے۔ فوج جس طرح بہتر حکمت عملی سے دہشت گردوں کے خلاف کامیابیاں حاصل کر رہی ہے اس سے یہ امید روشن ہو جاتی ہے کہ یہ ملک جلد ہی دہشت گردوں سے پاک ہو کر امن و امان کا گہوارہ بن جائے گا۔
پاک فوج نے خیبر ایجنسی میں آپریشن خیبرٹو میں بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے سندا پال، توردرہ' کنڈ والا اور مہربان قلعہ کو دہشت گردوں سے خالی کرا لیا ہے' اس کارروائی کے دوران 27دہشت گرد ہلاک جب کہ پاک فوج کے کیپٹن سمیت پانچ جوان شہید ہو گئے۔ پاک فوج کے ترجمان کے مطابق دہشت گردوں سے خالی کرائے گئے علاقے ان کے مضبوط گڑھ تھے، یہ بہت بڑی کامیابی ہے جو حاصل کی گئی ہے۔
یہ آپریشن اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ خیبر ایجنسی کے علاقوں میں دہشت گرد ابھی تک موجود اور یہ علاقے ان کی محفوظ پناہ گاہ ہیں۔ اس حالیہ آپریشن میں کیپٹن سمیت پانچ فوجی جوانوں کی شہادت اس حقیقت کا اظہار ہے کہ پاک فوج دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے بڑے پیمانے پر قربانیاں دے رہی ہے۔ پوری قوم کو اپنی بہادر فوج پر فخر ہے جو نہ صرف سرحدوں کا دفاع بخوبی کر رہی بلکہ اندرون ملک بھی امن وامان کو یقینی بنانے کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کر رہی ہے۔
گزشتہ ماہ اپریل کے آغاز میں بھی آپریشن خیبرٹو کے دوران وادی تیراہ میں سیکیورٹی فورسز کی فضائی اور بھاری توپ خانے کی کارروائیوں کے نتیجے میں متعدد دہشت گرد ہلاک ، ان کے ٹھکانے اور بارود کے ذخیرے تباہ ہو گئے تھے۔اس آپریشن میں دہشت گرد بڑی تعداد میں ہلاک اور فوج کو روز نئی کامیابیاں مل رہی ہیں ۔
پاکستان ایک طویل عرصے سے دہشت گردی کا شکار چلا آ رہا ہے، ایک وہ وقت تھا کہ جب انتہا پسندوں نے سوات پر قبضہ کر کے اپنی حکومت کا اعلان کر دیا تھا اور یوں محسوس ہونے لگا تھا کہ یہ صرف چند دنوں ہی کی بات ہے کہ انتہا پسند ارد گرد کے علاقوں پر بھی قبضہ کر لیں گے۔ ایسے وقت میں پاک فوج قوم کا آخری سہارا ثابت ہوئی اور اس نے آگے بڑھ کر سوات سے انتہا پسندوں کا انتہائی کامیابی سے خاتمہ کرکے ایک بار پھر وہاں امن و امان بحال کر دیا۔
اس طرح اقتدار پر قبضے کے لیے انتہا پسندوں کے بڑھتے ہوئے قدم رک گئے اور انھوں نے شمالی وزیرستان اور اس سے ملحقہ علاقوں کو اپنا گڑھ بنا کر ملک بھر میں دہشت گردی کی کارروائیاں تیز کر دیں۔دہشت گردوں کا خیال تھا کہ اس طرح وہ حکومت کو دباؤ میں لانے اور اپنی مرضی کی شرائط منوانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ان مشکل حالات میں قوم کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے پاک فوج ایک بار پھر آگے بڑھی اور اس نے 15 جون 2014ء کو شمالی وزیرستان میں ضرب عضب کے نام سے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کر دیا۔
فوج نے بہترین حکمت عملی، جرات اور قربانیوں کے باعث بڑی تیزی سے اس آپریشن میں کامیابی حاصل کی، اس آپریشن کے دوران القاعدہ اور طالبان کے سرکردہ افراد سمیت بڑی تعداد میں غیر ملکی جنگجو ہلاک ہو گئے' جنوبی وزیرستان میں آپریشن کے دوران پاکستان میں القاعدہ کا سربراہ عدنان الشکری الجمعہ بھی ہلاک ہوا۔
الشکری پر نیویارک کی عدالت نے 2010 ء میں امریکا اور برطانیہ میں دہشت گردی کے منصوبے میں فرد جرم عائد کی تھی، وہ اسامہ کا اہم ساتھی اور القاعدہ کے بیرونی آپریشنز کا سربراہ تھا۔ آپریشن ضرب عضب کے دوران انتہا پسندوں کے مضبوط ٹھکانے، اسلحہ ساز فیکٹریاں اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تباہ ہو گیا اور دہشت گردوں کی ایک تعداد اپنی جان بچانے کے لیے یہاں سے فرار ہو گئی اور آج یہ وقت آ گیا ہے کہ یہ علاقے دہشت گردوں سے پاک ہو چکے اور آئی ڈی پیز اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔
سیاسی اور عسکری قیادت بارہا اس عزم کا اظہار کر چکی ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کا مشن ہر قیمت پر پورا کیا جائے گا۔ دنیا کے بہت سے ممالک دہشت گردی کا شکار رہے ہیں لیکن ان ممالک کی حکومتوں اور عوام نے متحد ہو کر دہشت گردی کا مقابلہ کیا اور اپنے وطن کو پرامن بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ سری لنکا کی مثال سب کے سامنے ہے جس نے برسوں تامل ٹائیگرز کی بغاوت اور دہشت گردی کا سامنا کیا پھر وہ وقت آ گیا کہ سری لنکن حکومت اور فوج فتح یاب ہوئی اور تامل ٹائیگرز مارے گئے۔ پاکستان میں دہشت گردی کی اس لہر میں ہزاروں افراد شہید ہو چکے ہیں مگر ان قربانیوں کے باوجود قوم اور فوج کے قدم ڈگمگائے نہیں اور وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پر عزم ہیں۔
ان قربانیوں اور عزم ہی کا ثمر ہے کہ آج دہشت گرد کمزور سے کمزور تر ہوتے جا رہے اور ملک میں امن و امان کی صورت حال پہلے سے بہتر ہوتی جا رہی ہے۔ بلوچستان اور کراچی کی صورت حال میں بھی بہتری آ رہی ہے۔ فوج جس طرح بہتر حکمت عملی سے دہشت گردوں کے خلاف کامیابیاں حاصل کر رہی ہے اس سے یہ امید روشن ہو جاتی ہے کہ یہ ملک جلد ہی دہشت گردوں سے پاک ہو کر امن و امان کا گہوارہ بن جائے گا۔