سارک ممالک اور قدرتی آفات
پاکستان میں کشمیراورخیبرپختونخواکےشمالی حصوں میں2005میں تباہ کن زلزلہ آیاتھا،اب نیپال اوربھارت میں زلزلےنےتباہی مچادی
جنوبی کا خطہ غریب اور ترقی پذیر ممالک پر مشتمل ہیں، کوئی اکیلا ملک اس قابل نہیں کہ قدرتی آفات سے نبٹنے کے لیے وہ میکنزم تیار کر سکے جو امریکا، جاپان یا مغربی یورپ میں ہے۔ فوٹو : اے ایف پی
MULTAN:
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے گزشتہ روز بھارتی ہم منصب نریندر مودی کو ٹیلی فون کرکے حالیہ زلزلے سے ہونے والے جانی نقصانات پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بے موسمی بارشوں اور اس سے جانی نقصان کے علاوہ فصلوں کو پہنچنے والے نقصانات پر بھی بات کرتے ہوئے نیپال میں بھارتی امدادی کارروائیوں کو سراہا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو تجویز دی کہ سارک ممالک ملکر آفت زدہ ممالک میں امدادی کارروائی کریں اور خطے کے تمام ممالک کو ملکر قدرتی آفات سے نمٹنے کی مشقیں کرنی چاہئیں۔
انھوں نے اس امر کا اعادہ کیا کہ نیپال میں زلزلے جیسی قدرتی آفات نے مؤثر مینجمنٹ کے لیے مشترکہ علاقائی حکمت عملی اپنانے کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو قدرتی آفت کی صورت میں سارک ممالک کے ڈاکٹروں اور ریسکیو ٹیموں کی ہرسال مشترکہ مشقیں کرنے کی تجویز دی تاکہ پتہ لگایا جاسکے کہ کیسے قدرتی آفات کے نتیجے میں نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اس تجویز کو پسند کیا اور کہا کہ اس قسم کے اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
بلاشبہ سارک ممالک کو اپنے تمام تر باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قدرتی آفات سے نمٹنے کے معاملے پر مشترکہ اقدامات کرنے کا کوئی موثر میکنزم تیار کرنا چاہیے۔ سارک ممالک جس خطے میں آباد ہیں، یہاں دنیا کے بلند ترین پہاڑی سلسلے اور چوٹیاں ہیں،ماؤنٹ ایورسٹ، کے ٹو اور نانگا پربت جیسی دنیا کی بلند ترین چوٹیاں جنوبی ایشیا کے خطے میں ہی واقع ہیں۔یہاں ریگستان ہیں اور سیکڑوں دریا، ندی نالے بھی ہیں اور برصغیر کے ساتھ دنیا کا تیسرا بڑا سمندر جسے بحرہند کہتے ہیں لگتا ہے۔
یہاں انتہائی ہلاکت خیز قدرتی آفات آتی رہتی ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے سری لنکا میں سونامی نے تباہی برپا کی، پاکستان میں کشمیر اور خیبرپختونخوا کے شمالی حصوں میں 2005 میں تباہ کن زلزلہ آیاتھا، اب نیپال اور بھارت میں زلزلے نے تباہی مچا دی ہے۔ ان زلزلوں میں ہزاروں جانیں ضایع ہوئیں اور کروڑوں اربوں کا مالی نقصان ہوا۔ بارش اور سیلاب تو ہر سال تباہی پھیلاتے ہیں۔
اس تباہی سے بھی ہر سال بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال اور افغانستان میں اربوں کا نقصان ہوتا ہے۔ جنوبی کا خطہ غریب اور ترقی پذیر ممالک پر مشتمل ہیں، کوئی اکیلا ملک اس قابل نہیں کہ قدرتی آفات سے نبٹنے کے لیے وہ میکنزم تیار کر سکے جو امریکا، جاپان یا مغربی یورپ میں ہے لیکن اگر یہ مشترکہ طور پر کام کریں تو بہت کچھ کیا جا سکتا ہے لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ سارک ممالک اور کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے کوئی کام کرلیں۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے گزشتہ روز بھارتی ہم منصب نریندر مودی کو ٹیلی فون کرکے حالیہ زلزلے سے ہونے والے جانی نقصانات پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بے موسمی بارشوں اور اس سے جانی نقصان کے علاوہ فصلوں کو پہنچنے والے نقصانات پر بھی بات کرتے ہوئے نیپال میں بھارتی امدادی کارروائیوں کو سراہا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو تجویز دی کہ سارک ممالک ملکر آفت زدہ ممالک میں امدادی کارروائی کریں اور خطے کے تمام ممالک کو ملکر قدرتی آفات سے نمٹنے کی مشقیں کرنی چاہئیں۔
انھوں نے اس امر کا اعادہ کیا کہ نیپال میں زلزلے جیسی قدرتی آفات نے مؤثر مینجمنٹ کے لیے مشترکہ علاقائی حکمت عملی اپنانے کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو قدرتی آفت کی صورت میں سارک ممالک کے ڈاکٹروں اور ریسکیو ٹیموں کی ہرسال مشترکہ مشقیں کرنے کی تجویز دی تاکہ پتہ لگایا جاسکے کہ کیسے قدرتی آفات کے نتیجے میں نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اس تجویز کو پسند کیا اور کہا کہ اس قسم کے اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
بلاشبہ سارک ممالک کو اپنے تمام تر باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قدرتی آفات سے نمٹنے کے معاملے پر مشترکہ اقدامات کرنے کا کوئی موثر میکنزم تیار کرنا چاہیے۔ سارک ممالک جس خطے میں آباد ہیں، یہاں دنیا کے بلند ترین پہاڑی سلسلے اور چوٹیاں ہیں،ماؤنٹ ایورسٹ، کے ٹو اور نانگا پربت جیسی دنیا کی بلند ترین چوٹیاں جنوبی ایشیا کے خطے میں ہی واقع ہیں۔یہاں ریگستان ہیں اور سیکڑوں دریا، ندی نالے بھی ہیں اور برصغیر کے ساتھ دنیا کا تیسرا بڑا سمندر جسے بحرہند کہتے ہیں لگتا ہے۔
یہاں انتہائی ہلاکت خیز قدرتی آفات آتی رہتی ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے سری لنکا میں سونامی نے تباہی برپا کی، پاکستان میں کشمیر اور خیبرپختونخوا کے شمالی حصوں میں 2005 میں تباہ کن زلزلہ آیاتھا، اب نیپال اور بھارت میں زلزلے نے تباہی مچا دی ہے۔ ان زلزلوں میں ہزاروں جانیں ضایع ہوئیں اور کروڑوں اربوں کا مالی نقصان ہوا۔ بارش اور سیلاب تو ہر سال تباہی پھیلاتے ہیں۔
اس تباہی سے بھی ہر سال بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال اور افغانستان میں اربوں کا نقصان ہوتا ہے۔ جنوبی کا خطہ غریب اور ترقی پذیر ممالک پر مشتمل ہیں، کوئی اکیلا ملک اس قابل نہیں کہ قدرتی آفات سے نبٹنے کے لیے وہ میکنزم تیار کر سکے جو امریکا، جاپان یا مغربی یورپ میں ہے لیکن اگر یہ مشترکہ طور پر کام کریں تو بہت کچھ کیا جا سکتا ہے لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ سارک ممالک اور کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے کوئی کام کرلیں۔