زلف اس کی ہے جو اسے چھو لے

کیا ملک کو واقعی وزیرِ دفاع کی ضرورت ہے یا اس کے بغیر بھی کام بخیر و خوبی نکل سکتا ہے؟

پچھلے اڑسٹھ برس میں پاکستان کے ساتھ جو کچھ ہوتا آیا ہے، اس کے کئی اسباب میں سے ایک اہم سبب یہ بھی ہے کہ یہی گتھی نہیں سلجھتی کہ اوپر سے نیچے تک فیصلہ سازی کا اصل اختیار کس کس کے پاس ہے۔

گیارہ اگست انیس سو سینتالیس کو قائد اعظم محمد علی جناح نے جو تاریخی تقریر کی، ممتاز صحافتی مورخ ضمیر نیازی کے بقول یہ تقریر اخبارات کو ریلیز کرنے سے پہلے ایک سیکشن افسر نے سنسر کرنے کی کوشش کی۔ لیکن روزنامہ ڈان کے ایڈیٹر الطاف حسین اڑ گئے کہ اگر انھیں اصل مسودہ شایع نہ کرنے دیا گیا تو وہ یہ معاملہ براہ راست گورنر جنرل کے علم میں لائیں گے۔ چنانچہ جناح صاحب سے بھی زیادہ محب ِ وطن سرکاری بابوؤں کو بادل نخواستہ یہ تقریر بغیر سنسر جاری کرنا پڑ گئی۔

مشرقی پاکستان کی عددی اکثریت کو مغربی پاکستان کی عددی کمتری کے مساوی کرنے کے لیے ون یونٹ کے ترازو کی ایجاد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ مبینہ طور پر وزیرِ دفاع جنرل ایوب خان اور سیکریٹری داخلہ اسکندر مرزا کا برین چائلڈ تھا جسے سویلین حکومت کے ٹروجن ہارس میں چھپا کر پیش کیا گیا اور تمام وفاقی یونٹوں سے کہا گیا کہ یہ گولی بغیر منہ بگاڑے نگل لیں۔

ایوب خان نے برسرِ اقتدار آتے ہی اوریجنل ''انقلابی ٹیم'' کو مرحلہ وار چلتا کر دیا اور پھر کاروبارِ حکومت از قسمِ شعیب احمد، الطاف گوہر اور ذوالفقار علی بھٹو کی معاون ہدایت کاری سے چلایا جاتا رہا۔ اسی طرح یحییٰ دور کے بارے میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ فیصلے جنرل ایم ایم پیرزادہ، میجر جنرل غلام عمر وغیرہ کرتے تھے اور بھونپو یحییٰ خان کا استعمال ہوتا تھا۔

حال ہی میں ڈاکٹر مبشر حسن کا ایک انٹرویو دیکھنے کو ملا، فرمایا کہ میں نے بھٹو صاحب سے پوچھا کہ جب آپ سوشلسٹ منشور پر برسرِ اقتدار آئے ہیں تو اسے عملی جامہ پہنانے اور عوام کی طاقت پر بھروسہ کرنے کے بجائے نوکر شاہی اور غیر عوامی قوتوں کو کیوں قریب کر رہے ہیں، اس کا نقصان صرف آپ کو نہیں ملک کو بھی اٹھانا پڑے گا۔ بھٹو صاحب نے کہا کہ میں نے جتنا کر دیا اس سے زیادہ میرے بس میں نہیں۔ وزیرِ اعظم ہاؤس کے تمام فون بھی ٹیپ ہوتے ہیں اور میں کچھ نہیں کر سکتا۔ یہ اس شخص کے الفاظ ہیں جسے تاریخ میں سب سے طاقتور پاکستانی وزیرِ اعظم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

ضیا الحق کی طوالتِ اقتدار میں جہاں موافق داخلی و خارجی حالات اور خوش قسمتی کو دخل ہے وہیں ان کی اس حکمتِ عملی کا بھی خاصا کردار رہا کہ جیسے ہی انھیں محسوس ہوتا کہ ان کے ہاتھ بندھ رہے ہیں وہ گھوڑوں میں رد و بدل کر دیتے۔ تاہم آخر میں وہ بھی نادیداؤں کے گھیرے میں آ گئے اور شکار ہو گئے۔

بے نظیر بھٹو کے ہاتھ منتخب ہونے سے پہلے کیسے باندھے گئے اور اقتدار کن شرائط پر منتقل ہوا اور پھر کیسے کیسے اسپیڈ بریکرز بنائے گئے اور کن کن کو استعمال کیا گیا۔ یہ سب اصغر خان، حمید گل اور اسد درانی سمیت متعدد شخصیات کی زبانی ہزار بار شایع اور نشر ہو چکا ہے۔

پرویز مشرف نے بھی اپنے اقتدار کی طوالت کے لیے ضیا الحق کی طرح متعدد بار اپنے ساتھی اور سویلین گھوڑے بدلے لیکن اقتدار میں رہنے کی بہرحال ایک حد ہوتی ہے اور جن پر تکیہ ہو وہی پتے بور بھی ہو جاتے ہیں۔

آصف زرداری نے اگرچہ اپنے پانچ صدارتی برس بخیر و خوبی گزار لیے لیکن یہ تب ہی ممکن ہو سکا جب انھوں نے انجیلِ مقدس کے اس مقولے پر پورا عمل کیا کہ جو خدا کا ہے خدا کو دو اور جو قیصر (رومن بادشاہ) کا ہے وہ قیصر کو دو۔ اور پھر اس پالیسی کو وسیع تر مفاہمت کی پیکنگ میں ہر ایک کو اس کا حصہ اور اختیار ایمانداری سے پہنچانے کے سبب ''نہ چھیڑو نہ چھیڑنے دو'' کی بنیاد پر خیریت سے نکل آئے۔


نواز شریف تیسری مرتبہ وزیرِ اعظم ہیں۔ لیکن تین میں سے دو بار بھاری اکثریت سے منتخب ہونے کے باوجود انھیں صرف اتنی ہی باتوں کا علم ہے جتنی ان کے لیے ضروری ہیں۔ اور اتنے ہی فیصلوں کا اختیار ہے جتنے وزیرِ اعظم کہلوانے کے لیے ضروری ہیں۔ جیسے یہ بتانا مشکل ہے کہ اس ملک کا وزیر خارجہ کون ہے؟خود نواز شریف، اسحاق ڈار، شہباز شریف، سرتاج عزیز یا طارق فاطمی؟ وزیرِ داخلہ کون ہے؟ چوہدری نثار علی خان یا آئی ایس پی آر؟ فیصلے پارلیمنٹ کرتی ہے؟ کابینہ؟ کوئی کور کمیٹی یا کوئی غیر رسمی کچن کیبنٹ؟ فیصلے کیے جاتے ہیں یا فیصلے اترتے ہیں؟ اس وقت نواز شریف پورے وزیرِ اعظم ہیں یا ان کے عملی اختیارات ممنون حسین سے ذرا زیادہ ہیں؟ کیا ملک کو واقعی وزیرِ دفاع کی ضرورت ہے یا اس کے بغیر بھی کام بخیر و خوبی نکل سکتا ہے؟

خود صوبائی حکومتیں کتنی با اختیار ہیں؟ کیا کسی کو پوری پنجاب کابینہ زبانی یاد ہے؟ چلیے آدھی یاد ہے؟ کیا آپ شہباز اور حمزہ شہباز کے علاوہ کسی تیسرے با اختیار کا نام فوراً بتا سکتے ہیں؟

سندھ کے وزیرِ اعلی کون ہیں؟ آپ جھٹ کہیں گے قائم علی شاہ؟ واقعی؟ پھر سوچ لیجیے۔ اور کسی سرکاری حکم نامے پر محض دستخطوں کی بنیاد پر فوری رائے قائم کرنے سے پرہیز کیجیے۔

بلوچستان کا وزیرِ اعلی کون ہے؟ ظاہر ہے محمد مالک۔ مگر اختیار کس کے پاس ہے؟ ام ۔۔ وہ ۔۔ اونہہ ۔۔ دراصل ۔۔۔ یہی جواب دیں گے نا آپ ؟

اور خیبر پختون خوا میں کہنے کو تحریکِ انصاف کی اکثریتی حکومت ہے جس کا ایک عدد وزیرِ اعلی بھی ہے جسے ایک عدد صوبائی اسمبلی نے منتخب کیا ہے۔ مگر اختیار کہاں ہے اور کون استعمال کر رہا ہے؟ تو پھر اپنے ہی لوگوں نے بنی گالہ میں دھرنا کیوں دے رکھا ہے؟ اور عمران خان نے جو دھرنا دیا کیا انھی کا خانہ ساز آئیڈیا تھا؟

اور اب تو حالت یہ ہے کہ گراس روٹ ڈیموکریسی آئے نہ آئے گراس روٹ سوویرینٹی ضرور آ چکی ہے۔

مثلاً دو ہفتے پہلے کراچی میں رینجرز کے ترجمان نے شہریوں کے لیے حکم جاری کیا کہ اگر انھوں نے جیب میں اصل شناختی کارڈ نہ رکھے تو انھیں گرفتار کر لیا جائے گا؟ ایسے احکامات عموماً صوبائی حکومت، آئی جی پولیس یا کمشنر کے لیول پر جاری ہوتے ہیں مگر نہ کوئی پوچھنے کو اور نہ بتانے کو تیار کہ رینجرز کو کب اس طرح کے انتظامی احکامات جاری کرنے کا اختیار ملا؟

اور اب تو حد ہی ہو گئی۔ ایس ایس پی ملیر راؤ محمد انوار نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں بطور وزیرِ خارجہ انکشاف کیا کہ ایم کیو ایم کے بھارتی خفیہ ایجنسی را سے تعلقات ہیں، بطور وزیرِ داخلہ یہ سفارش کی کہ ایم کیو ایم کو کالعدم قرار دیا جائے، بطور سیاسی رہنما یہ تبصرہ کیا کہ ایم کیو ایم طالبان سے بھی زیادہ خطرناک ہے اور بطور جج یہ رولنگ دی کہ ایم کیو ایم جیسی ملک دشمن تنظیم کو جڑ سے اکھاڑنے کی ضرورت ہے۔ مگر صوبائی حکومت نے راؤ انوار کا شکر گزار ہونے کے بجائے الٹا انھیں آئی جی سندھ کے توسط سے ایس ایس پی ملیر کے عہدے سے ہٹا کے پولیس ہیڈ کوارٹر طلب کر لیا۔ قطع نظر اس کے کہ ان الزامات و انکشافات میں کتنی صداقت ہے۔ کوئی اور ملک ہوتا تو راؤ انوار کو برطرف کر کے حراست میں لے کر اپنے اختیارات سے انتہائی تجاوز کرنے کے الزام میں اب تک ایف آئی آر کٹ چکی ہوتی اور مراعات و پنشن بھی ضبط ہو چکی ہوتی۔

مگر یہ سب اس لیے نہیں ہو سکتا کہ ریاستی اقتدار اعلیٰ رفتہ رفتہ اللہ تعالی سے منتخب نمایندوں کی جانب منتقل ہونے کے بعد منتخب حکومت کے ذریعے غیر منتخب عناصر میں تقسیم ہوتے ہوتے اب ایس ایس پی راؤ انوار تک بٹ چکا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ اقتدارِ اعلی ایس ایچ او سے براستہ فٹ کانسٹیبل کس روز سپاہی تک پہنچتا ہے۔

زلف اس کی ہے جو اسے چھو لے
بات اس کی ہے جو بنا لے جائے
Load Next Story