صحت کا انصاف کے بعد صحت کا اتحاد
زیادہ سے زیادہ یہ جانتے تھے کہ اس نام کا ایک محکمہ بھی ہوتا ہے جس کا ایک وزیر اور بہت سارے چھوٹے بڑے تارے ہوتے ہیں
barq@email.com
FAISALABAD:
ہم تو ٹھہرے روگی اور دائم المریض قسم کے بیمار بندے، اس لیے یہ تو پتہ ہے کہ ''بیماری'' میں کیا کیا ہوتا ہے لیکن یہ بالکل نہیں جانتے کہ ''صحت'' میں کیا ہوتا ہے، یعنی
کس سے پوچھیں کہ ''وصل'' میں کیا ہے
''ہجر'' میں کیا نہیں کہ تم سے کہیں
مثلاً ہم آنکھیں ناک کان بلکہ پوری ای این ٹی بند کر کے بتا سکتے ہیں کہ روگوں اور بیماریوں میں بخار ہوتا ہے، کھانسی ہوتی ہے، سر اور نہ جانے کہاں کہاں درد ہوتا ہے، طرح طرح کے ڈاکٹر بھانت بھانت کے کلینک اور اسپتال ہوتے ہیں، لیبارٹریاں ہوتی ہیں' دواؤں کی دکانیں ہوتی ہیں اور طرح طرح کی کسمپرسیاں ہوتی ہیں، پرائیوں کی دعائیں ہوتی ہیں اور اپنوں کی بددعائیں کہ خدا اسے جلد ایمان نصیب کرے' اس پر رحم فرمائے اور ساری تکالیف سے نجات دلائے۔ اس کے برعکس ''صحت'' کے بارے میں ہماری جان کاری صفر سے بھی دو چار اعشاریئے کم تھی۔
زیادہ سے زیادہ یہ جانتے تھے کہ اس نام کا ایک محکمہ بھی ہوتا ہے جس کا ایک وزیر اور بہت سارے چھوٹے بڑے تارے ہوتے ہیں جو تنخواہ تو لیتے ہیں لیکن کرتے کیا ہیں پتہ نہیں، کبھی کبھی اخبارات میں البتہ ایسی خبریں آ جاتی ہیں جس سے پتہ چل جاتا ہے کہ اس محکمے کے لوگ بیکار نہیں بیٹھے ہوتے ہیں' کچھ نہ کچھ تو کرتے ہیں جیسے گھپلے، اسکینڈل، خورد برد اور ''بیماریوں''کے خلاف ڈاکٹروں، اسپتالوں اور دواؤں کے ذریعے جہادوغیرہ کیونکہ اس کا عقیدہ ہے کہ پرابلم کی جڑ کو پکڑیں شاخیں پتے نہ پکڑیں، اگر مریض اور بیمار کو ختم کیا جائے تو امراض اور بیماریاں خود بخود ختم ہو جائیں گی یہاں پر اس محکمے اور حکومت کے خیالات بالکل سیم ٹو سیم ہو جاتے ہیں کیونکہ حکومت کا غربت کے بارے میں وہی نظریہ ہے جو محکمے کا امراض کے بارے میں ہے، بانسری تب بجتی ہے جب بانس موجود ہو اور تالیاں بھی ہاتھوں سے بجتی ہیں اس لیے اگر ہاتھ ہی نہ رہیں تو
بیکاریِٔ جنوں میں ہے سر پیٹنے کا شغل
جب ہاتھ ٹوٹ جائیں تو پھر کیا کرے کوئی
لیکن اب کہیں جا کر پتہ چلا ہے کہ ''صحت'' اور بھی بہت کچھ کرتی ہے بلکہ کرتی رہتی ہے لیکن کسی کو پتہ نہیں ہوتا کیوں کہ ''صحت'' کا پکا پکا عقیدہ یہ بھی ہے کہ نیکی یوں کی جائے کہ دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کا پتہ نہ چلے، اس کی تازہ ترین مثال یہ ہے کہ کچھ عرصہ پہلے اچانک ''صحت'' کو خیال آیا کہ بے انصافی بہت ہو گئی ہے اور تحریک انصاف کا کام انصاف کرنا ہے جسے انگریزی میں ففٹی ففٹی اور عربی میں ''نصف لی و نصف لک'' کہا جاتا ہے چنانچہ ''صحت کا انصاف'' شروع ہو گیا۔
جگہ جگہ ترازو کھڑے کیے گئے جو صحت کا انصاف کرتے رہے، ''صحت کا انصاف'' کا کام چونکہ ہمارے دوست کے ہاتھ میں تھا جو صحافت سے سیاست میں ترقی کر چکے ہیں باقی تو ہمیں بالکل بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ صوبہ بھر میں صحت کا انصاف کہاں کہاں کیسے کیسے اور کتنا کتنا ہوا لیکن اپنے اس دوست کی ''صحت'' سے کچھ کچھ اندازہ ہوتا ہے کہ ''صحت کا انصاف'' ہوا اور بہت اچھے طریقے سے ہوا، تھوڑی سی ''صحت کی عزت'' گئی ہو گی لیکن ''عزت'' وہ تو ہر کسی کے پاس ہزاروں من ہوتی ہے' دو چار من اگر ادھر ادھر ہو جائے تو کیا فرق پڑے گا۔
بہرحال ہم سمجھے یا نہ سمجھے لیکن دوست کا معاملہ تھا اس لیے سمجھ سمجھ کر سمجھ گئے کہ ''صحت کا انصاف'' ہو گیا ہو گا ورنہ بخدا آج تک ہماری سمجھ کی سمجھ دانی میں یہ سمجھ نہیں بیٹھی ہے کہ صحت کا سب کچھ ہو سکتا ہے' چاچے مامے ہو سکتے ہیں' وزیر و مشیر ہو سکتے ہیں' ٹھیکیدار بھی ہو سکتے ہیں سکینڈل اور گھپلے بھی ہو سکتے ہیں لیکن صحت کا انصاف؟ کیا صحت نے انصاف کیا ہے تو کس کے ساتھ انصاف کیا ہے۔
انصاف کے معنی اگر نصف نصف بھی لیے جائیں تو صحت کے ساتھ وہ دوسرا فریق کون تھا؟ کون تھی؟ کون تھے۔ آج تک تو یہ سنتے آئے تھے بادشاہ کا انصاف، وزیر کا انصاف، قاضی کا انصاف، لیکن یہ صحت کا انصاف ۔۔۔۔ خیرصحت کا انصاف یا جو کچھ بھی تھا وہ تو ہو گیا لیکن پھر ایک اور انصاف نے سر اٹھایا، آخر ''اتحاد'' بھی تو اسی قبیلے کا فرد تھا یا اسی تھیلے کا چھٹا بٹا، بولا' بس بہت ہو گیا صحت کا انصاف ۔۔۔ اب مجھے بھی تو کچھ کرنا ہے اس نے انصاف کو کاندھے سے پکڑ کر اٹھایا اور اس کی جگہ پر جم کر بیٹھ گیا اگر صحت کے ساتھ انصاف ہو سکتا ہے تو ''اتحاد'' بھی ہو سکتا ہے۔
اے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی، یہ سوال پیدا تو ہو سکتا ہے کہ ''صحت'' کا ''اتحاد'' کیا ہوتا ہے کیسے ہوتا ہے اور کس کے خلاف ہو سکتا ہے تو صحت کے اتحاد والے کہہ سکتے ہیں کہ اگر صحت کا انصاف ہو سکتا ہے تو صحت کا اتحاد کیوں نہیں ہو سکتا؟ وہ لطیفہ تو آپ نے سنا ہی ہو گا کہ بحری جہاز پر نوکری کے ایک امیدوار سے انٹرویو لینے والے نے پوچھا کہ اگر تمہارا جہاز طوفان میں پھنس جائے تو تم کیا کرو گے۔
امیدوار نے کہا میں ''لنگر'' ڈال دوں گا، انٹرویو والے چونکہ ہمیشہ بڑے ذہین ہوتے ہیں کیونکہ افسر ہوتے ہیں اور افسر ہمیشہ ذہین ہوتا ہے اس لیے افسر نے دوبارہ پوچھا اور اگر ایک اور طوفان آ جائے؟ میں دوسرا لنگر ڈال دوں گا؟ پھر پوچھا گیا اگر ایک اور طوفان آ گیا تو؟ امیدوار نے وہی جواب پھر ایک لنگر ڈال دوں گا، اس طرح جب افسر آٹھ دس طوفان لے آیا اور امیدوار لنگر ڈالتا رہا تو افسر نے اپنی ''ذہانت'' سے کام لیتے ہوئے کہا لیکن اتنے لنگر تم لاؤ گے کہاں سے؟ امیدوار نے کہا جناب وہیں سے جہاں سے آپ طوفان لا رہے ہیں۔
سیدھی سی بات یہ بھی ہے کہ جہاں اتنا سارا صحت کا ''انصاف'' ہو گیا تو کم از کم اتنا تو صحت کا اتحاد بھی ہونا چاہیے اس کے بعد اس ساجھے کی ہانڈی کا تیسرا رکن شاید ''صحت'' کا ''الخدمت'' لائے یا صحت کا میزان بھی ہو سکتا ہے۔ کیوں کہ اب تو یہ ثابت ہو ہی گیا ہے کہ صحت کا سب کچھ ہو سکتا ہے سوائے صحت کے ۔۔۔۔۔ لیکن اس کے لیے ڈاکٹروں کے پرائیویٹ کلینک ہیں نا ۔۔۔۔۔
ہم تو ٹھہرے روگی اور دائم المریض قسم کے بیمار بندے، اس لیے یہ تو پتہ ہے کہ ''بیماری'' میں کیا کیا ہوتا ہے لیکن یہ بالکل نہیں جانتے کہ ''صحت'' میں کیا ہوتا ہے، یعنی
کس سے پوچھیں کہ ''وصل'' میں کیا ہے
''ہجر'' میں کیا نہیں کہ تم سے کہیں
مثلاً ہم آنکھیں ناک کان بلکہ پوری ای این ٹی بند کر کے بتا سکتے ہیں کہ روگوں اور بیماریوں میں بخار ہوتا ہے، کھانسی ہوتی ہے، سر اور نہ جانے کہاں کہاں درد ہوتا ہے، طرح طرح کے ڈاکٹر بھانت بھانت کے کلینک اور اسپتال ہوتے ہیں، لیبارٹریاں ہوتی ہیں' دواؤں کی دکانیں ہوتی ہیں اور طرح طرح کی کسمپرسیاں ہوتی ہیں، پرائیوں کی دعائیں ہوتی ہیں اور اپنوں کی بددعائیں کہ خدا اسے جلد ایمان نصیب کرے' اس پر رحم فرمائے اور ساری تکالیف سے نجات دلائے۔ اس کے برعکس ''صحت'' کے بارے میں ہماری جان کاری صفر سے بھی دو چار اعشاریئے کم تھی۔
زیادہ سے زیادہ یہ جانتے تھے کہ اس نام کا ایک محکمہ بھی ہوتا ہے جس کا ایک وزیر اور بہت سارے چھوٹے بڑے تارے ہوتے ہیں جو تنخواہ تو لیتے ہیں لیکن کرتے کیا ہیں پتہ نہیں، کبھی کبھی اخبارات میں البتہ ایسی خبریں آ جاتی ہیں جس سے پتہ چل جاتا ہے کہ اس محکمے کے لوگ بیکار نہیں بیٹھے ہوتے ہیں' کچھ نہ کچھ تو کرتے ہیں جیسے گھپلے، اسکینڈل، خورد برد اور ''بیماریوں''کے خلاف ڈاکٹروں، اسپتالوں اور دواؤں کے ذریعے جہادوغیرہ کیونکہ اس کا عقیدہ ہے کہ پرابلم کی جڑ کو پکڑیں شاخیں پتے نہ پکڑیں، اگر مریض اور بیمار کو ختم کیا جائے تو امراض اور بیماریاں خود بخود ختم ہو جائیں گی یہاں پر اس محکمے اور حکومت کے خیالات بالکل سیم ٹو سیم ہو جاتے ہیں کیونکہ حکومت کا غربت کے بارے میں وہی نظریہ ہے جو محکمے کا امراض کے بارے میں ہے، بانسری تب بجتی ہے جب بانس موجود ہو اور تالیاں بھی ہاتھوں سے بجتی ہیں اس لیے اگر ہاتھ ہی نہ رہیں تو
بیکاریِٔ جنوں میں ہے سر پیٹنے کا شغل
جب ہاتھ ٹوٹ جائیں تو پھر کیا کرے کوئی
لیکن اب کہیں جا کر پتہ چلا ہے کہ ''صحت'' اور بھی بہت کچھ کرتی ہے بلکہ کرتی رہتی ہے لیکن کسی کو پتہ نہیں ہوتا کیوں کہ ''صحت'' کا پکا پکا عقیدہ یہ بھی ہے کہ نیکی یوں کی جائے کہ دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کا پتہ نہ چلے، اس کی تازہ ترین مثال یہ ہے کہ کچھ عرصہ پہلے اچانک ''صحت'' کو خیال آیا کہ بے انصافی بہت ہو گئی ہے اور تحریک انصاف کا کام انصاف کرنا ہے جسے انگریزی میں ففٹی ففٹی اور عربی میں ''نصف لی و نصف لک'' کہا جاتا ہے چنانچہ ''صحت کا انصاف'' شروع ہو گیا۔
جگہ جگہ ترازو کھڑے کیے گئے جو صحت کا انصاف کرتے رہے، ''صحت کا انصاف'' کا کام چونکہ ہمارے دوست کے ہاتھ میں تھا جو صحافت سے سیاست میں ترقی کر چکے ہیں باقی تو ہمیں بالکل بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ صوبہ بھر میں صحت کا انصاف کہاں کہاں کیسے کیسے اور کتنا کتنا ہوا لیکن اپنے اس دوست کی ''صحت'' سے کچھ کچھ اندازہ ہوتا ہے کہ ''صحت کا انصاف'' ہوا اور بہت اچھے طریقے سے ہوا، تھوڑی سی ''صحت کی عزت'' گئی ہو گی لیکن ''عزت'' وہ تو ہر کسی کے پاس ہزاروں من ہوتی ہے' دو چار من اگر ادھر ادھر ہو جائے تو کیا فرق پڑے گا۔
بہرحال ہم سمجھے یا نہ سمجھے لیکن دوست کا معاملہ تھا اس لیے سمجھ سمجھ کر سمجھ گئے کہ ''صحت کا انصاف'' ہو گیا ہو گا ورنہ بخدا آج تک ہماری سمجھ کی سمجھ دانی میں یہ سمجھ نہیں بیٹھی ہے کہ صحت کا سب کچھ ہو سکتا ہے' چاچے مامے ہو سکتے ہیں' وزیر و مشیر ہو سکتے ہیں' ٹھیکیدار بھی ہو سکتے ہیں سکینڈل اور گھپلے بھی ہو سکتے ہیں لیکن صحت کا انصاف؟ کیا صحت نے انصاف کیا ہے تو کس کے ساتھ انصاف کیا ہے۔
انصاف کے معنی اگر نصف نصف بھی لیے جائیں تو صحت کے ساتھ وہ دوسرا فریق کون تھا؟ کون تھی؟ کون تھے۔ آج تک تو یہ سنتے آئے تھے بادشاہ کا انصاف، وزیر کا انصاف، قاضی کا انصاف، لیکن یہ صحت کا انصاف ۔۔۔۔ خیرصحت کا انصاف یا جو کچھ بھی تھا وہ تو ہو گیا لیکن پھر ایک اور انصاف نے سر اٹھایا، آخر ''اتحاد'' بھی تو اسی قبیلے کا فرد تھا یا اسی تھیلے کا چھٹا بٹا، بولا' بس بہت ہو گیا صحت کا انصاف ۔۔۔ اب مجھے بھی تو کچھ کرنا ہے اس نے انصاف کو کاندھے سے پکڑ کر اٹھایا اور اس کی جگہ پر جم کر بیٹھ گیا اگر صحت کے ساتھ انصاف ہو سکتا ہے تو ''اتحاد'' بھی ہو سکتا ہے۔
اے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی، یہ سوال پیدا تو ہو سکتا ہے کہ ''صحت'' کا ''اتحاد'' کیا ہوتا ہے کیسے ہوتا ہے اور کس کے خلاف ہو سکتا ہے تو صحت کے اتحاد والے کہہ سکتے ہیں کہ اگر صحت کا انصاف ہو سکتا ہے تو صحت کا اتحاد کیوں نہیں ہو سکتا؟ وہ لطیفہ تو آپ نے سنا ہی ہو گا کہ بحری جہاز پر نوکری کے ایک امیدوار سے انٹرویو لینے والے نے پوچھا کہ اگر تمہارا جہاز طوفان میں پھنس جائے تو تم کیا کرو گے۔
امیدوار نے کہا میں ''لنگر'' ڈال دوں گا، انٹرویو والے چونکہ ہمیشہ بڑے ذہین ہوتے ہیں کیونکہ افسر ہوتے ہیں اور افسر ہمیشہ ذہین ہوتا ہے اس لیے افسر نے دوبارہ پوچھا اور اگر ایک اور طوفان آ جائے؟ میں دوسرا لنگر ڈال دوں گا؟ پھر پوچھا گیا اگر ایک اور طوفان آ گیا تو؟ امیدوار نے وہی جواب پھر ایک لنگر ڈال دوں گا، اس طرح جب افسر آٹھ دس طوفان لے آیا اور امیدوار لنگر ڈالتا رہا تو افسر نے اپنی ''ذہانت'' سے کام لیتے ہوئے کہا لیکن اتنے لنگر تم لاؤ گے کہاں سے؟ امیدوار نے کہا جناب وہیں سے جہاں سے آپ طوفان لا رہے ہیں۔
سیدھی سی بات یہ بھی ہے کہ جہاں اتنا سارا صحت کا ''انصاف'' ہو گیا تو کم از کم اتنا تو صحت کا اتحاد بھی ہونا چاہیے اس کے بعد اس ساجھے کی ہانڈی کا تیسرا رکن شاید ''صحت'' کا ''الخدمت'' لائے یا صحت کا میزان بھی ہو سکتا ہے۔ کیوں کہ اب تو یہ ثابت ہو ہی گیا ہے کہ صحت کا سب کچھ ہو سکتا ہے سوائے صحت کے ۔۔۔۔۔ لیکن اس کے لیے ڈاکٹروں کے پرائیویٹ کلینک ہیں نا ۔۔۔۔۔