غیرقانونی عمارتوں کیخلاف فوری کارروائی کی جائے سپریم کورٹ
سرکاری ادارے منتیںنہیں بلکہ کارروائی کرتے ہیں،ازخود نوٹس کیس میںریمارکس.
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کوغیرقانونی عمارتوں کی مکمل فہرست پیش کرنیکی ہدایت۔ فوٹو: راشد اجمیری/فائل
سپریم کورٹ کے جسٹس انورظہیرجمالی اورجسٹس شیخ عظمت سعید پر مشتمل بینچ نے سکھرکے سجاد پلازہ کے انہدام کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران غیرقانونی عمارتوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ادارے درخواستیں اورمنتیں نہیں بلکہ کارروائی کرتے ہیں۔
فاضل بینچ نے مزید ہدایت کی کہ غیرقانونی عمارتوں کی مکمل فہرست پیش کی جائے اور تعاون نہ کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے چیف لا افسر شاہد جمیل نے عدالت کو بتایا کہ سکھر میں 53عمارتوں کو نوٹس جاری کیا گیا تھا، دستاویزات پیش نہ کرنے پر 4عمارتوں کوحتمی اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کردیاگیاہے،انھوں نے بتایاکہ عمارتوں کے مالکان کی جانب سے تعاون نہیں کیا جارہا،نوٹس کے باوجود دستاویزات پیش نہیںکی جاتیں، جس پر عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ادارے درخواستیں اور منتیں نہیں بلکہ کارروائی کرتے ہیں،جسٹس انور ظہیرجمالی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ تعاون نہ کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔
شاہد جمیل نے بتایا کہ درخواست گزار کریم الدین شیخ کی جانب سے جن عمارتوں کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں 23عمارتوں کو نوٹس جاری کیا جاچکا ہے اور ان کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔ریجنل ڈائریکٹر ایس بی سی اے سکھرجمیل احمد نے بتایا کہ بعض عمارتوں کی منظوری ٹائون میونسپل نے دی تھی اس لیے ان کے خلاف کارروائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔درخواست گزار کریم الدین شیخ نے عدالت کو ایک رپورٹ پیش کی جس میں 51غیرقانونی عمارتوں کی نشاندہی کی گئی ہے،عدالت کو بتایا گیا کہ ان میں 5عمارتیں رفاہی پلاٹس پر تعمیرکی گئی ہیں جن میں پارک،کلب اور چرچ کی زمین شامل ہے۔عدالت نے ہدایت کی کہ درخواست گزار کی نشاندہی کے مطابق غیرقانونی عمارتوں کی تفصیلات بمع تصاویر پیش کی جائیں۔
فاضل بینچ نے مزید ہدایت کی کہ غیرقانونی عمارتوں کی مکمل فہرست پیش کی جائے اور تعاون نہ کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے چیف لا افسر شاہد جمیل نے عدالت کو بتایا کہ سکھر میں 53عمارتوں کو نوٹس جاری کیا گیا تھا، دستاویزات پیش نہ کرنے پر 4عمارتوں کوحتمی اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کردیاگیاہے،انھوں نے بتایاکہ عمارتوں کے مالکان کی جانب سے تعاون نہیں کیا جارہا،نوٹس کے باوجود دستاویزات پیش نہیںکی جاتیں، جس پر عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ادارے درخواستیں اور منتیں نہیں بلکہ کارروائی کرتے ہیں،جسٹس انور ظہیرجمالی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ تعاون نہ کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔
شاہد جمیل نے بتایا کہ درخواست گزار کریم الدین شیخ کی جانب سے جن عمارتوں کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں 23عمارتوں کو نوٹس جاری کیا جاچکا ہے اور ان کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔ریجنل ڈائریکٹر ایس بی سی اے سکھرجمیل احمد نے بتایا کہ بعض عمارتوں کی منظوری ٹائون میونسپل نے دی تھی اس لیے ان کے خلاف کارروائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔درخواست گزار کریم الدین شیخ نے عدالت کو ایک رپورٹ پیش کی جس میں 51غیرقانونی عمارتوں کی نشاندہی کی گئی ہے،عدالت کو بتایا گیا کہ ان میں 5عمارتیں رفاہی پلاٹس پر تعمیرکی گئی ہیں جن میں پارک،کلب اور چرچ کی زمین شامل ہے۔عدالت نے ہدایت کی کہ درخواست گزار کی نشاندہی کے مطابق غیرقانونی عمارتوں کی تفصیلات بمع تصاویر پیش کی جائیں۔