نیٹوکنٹینرزکی گمشدگیاین ایل سی کی کسٹم کیخلاف درخواست پرحکم امتناع
کسٹمز ٹریبونل کی کارروائی سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہے،سندھ ہائیکورٹ میں موقف
معاملے کی تفتیش نیب کر رہا ہے، این ایل سی، مدعا علیہان کو23اکتوبرکیلیے نوٹس جاری۔ فوٹو: فائل
سندھ ہائیکورٹ نے کسٹم حکام کونیٹو،ایساف کنٹینرزکی گمشدگی کیس میں نیشنل لاجسٹک سیل(این ایل سی)کے خلاف اقدام سے روکتے ہوئے کلکٹر،ڈپٹی کلکٹرکسٹم،رجسٹرارکسٹمزٹریبونل اورڈپٹی اٹارنی جنرل سمیت مدعا علیہان کو23اکتوبرکے لیے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
جسٹس عقیل احمد عباسی کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے این ایل سی کی جانب سے دائردرخواست کی سماعت کی، سابق ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سندھ بریگیڈیئر(ر) شفاعت النبی شیروانی ایڈووکیٹ کے توسط سے دائردرخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ افغانستان میں موجود نیٹو اور امریکی افواج کے لیے آنے والی اشیا ایک معاہدے کے تحت افغان ٹرانزٹ کے ذریعے افغانستان بھیجی جاتی ہیں،افغان ٹرانزٹ گروپ نے این ایل سی کے 11ہزار156کنٹینرز کی ٹرانسپورٹیشن کی تصدیق کی ہے۔
نیٹواورایساف کے ہزاروں کنٹینرز کی پراسرار طور پرگمشدگی کاچیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری نے ازخود نوٹس لیا اور نیب کوتحقیقات کا حکم دیا جس پر نیب نے تحقیقات کاآغاز کردیا،اسی دوران کسٹم حکام نے ٹریبونل میں سیکڑوں اپیلیں سماعت کے لیے بھیج دی ہیں۔کسٹمزٹریبونل میں 427اپیلیں دائرہوئی ہیں جن میں سے 62اپیلوں پرفیصلہ بھی سنادیاگیا ہے،این ایل سی نے موقف اختیارکیاہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے ایساف کنٹینرزکی گمشدگی کے معاملے پر سوموٹو کارروائی اور اس کے نتیجے میںنیب کی جانب سے تفتیش ہونے کی صورت میں کسی اور ادارے کواس معاملے میں مداخلت کا اختیارنہیں اورکسٹمز ٹریبونل کی کارروائی سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہے اس لیے ٹریبونل کوکارروائی سے روکاجائے۔عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد مدعا علیہان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے این ایل سی کے خلاف کسی بھی کارروائی سے روک دیا ہے۔
جسٹس عقیل احمد عباسی کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے این ایل سی کی جانب سے دائردرخواست کی سماعت کی، سابق ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سندھ بریگیڈیئر(ر) شفاعت النبی شیروانی ایڈووکیٹ کے توسط سے دائردرخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ افغانستان میں موجود نیٹو اور امریکی افواج کے لیے آنے والی اشیا ایک معاہدے کے تحت افغان ٹرانزٹ کے ذریعے افغانستان بھیجی جاتی ہیں،افغان ٹرانزٹ گروپ نے این ایل سی کے 11ہزار156کنٹینرز کی ٹرانسپورٹیشن کی تصدیق کی ہے۔
نیٹواورایساف کے ہزاروں کنٹینرز کی پراسرار طور پرگمشدگی کاچیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری نے ازخود نوٹس لیا اور نیب کوتحقیقات کا حکم دیا جس پر نیب نے تحقیقات کاآغاز کردیا،اسی دوران کسٹم حکام نے ٹریبونل میں سیکڑوں اپیلیں سماعت کے لیے بھیج دی ہیں۔کسٹمزٹریبونل میں 427اپیلیں دائرہوئی ہیں جن میں سے 62اپیلوں پرفیصلہ بھی سنادیاگیا ہے،این ایل سی نے موقف اختیارکیاہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے ایساف کنٹینرزکی گمشدگی کے معاملے پر سوموٹو کارروائی اور اس کے نتیجے میںنیب کی جانب سے تفتیش ہونے کی صورت میں کسی اور ادارے کواس معاملے میں مداخلت کا اختیارنہیں اورکسٹمز ٹریبونل کی کارروائی سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہے اس لیے ٹریبونل کوکارروائی سے روکاجائے۔عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد مدعا علیہان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے این ایل سی کے خلاف کسی بھی کارروائی سے روک دیا ہے۔