پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان پہلا ٹیسٹ ڈرا
بنگلہ دیش کے بیٹسمینوں نے دوسری اننگز میں ذمے دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور میچ بچانے میں کامیاب رہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کو بنگلہ دیش کی سیریز کو سامنے رکھ کر خامیاں تلاش کرنا چاہئیں اور باصلاحیت کھلاڑیوں کو ٹیم میں لانا چاہیے۔فوٹو : اے ایف پی
پاکستان اور بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان کھلنا میں کھیلا جانے والا پہلا ٹیسٹ میچ ڈرا ہو گیا، یوں تین میچوں کی ون ڈے سیریز اور واحد ٹوئنٹی20میچ میں شکستوں کا ازالہ نہ کیا جا سکا،اس میچ میں پاکستان کا پلڑا بھاری تھا کیونکہ پاکستان کو 296 رنز کی برتری حاصل کی تھی لیکن پاکستانی باؤلر اس برتری کا فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے۔ بنگلہ دیش کے بیٹسمینوں نے دوسری اننگز میں ذمے دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور میچ بچانے میں کامیاب رہے۔ بنگلہ دیش کے اوپننگ بیٹسمینوں نے 312 رنز کی پارٹنر شپ بنا کر نیا ریکارڈ قائم کیا۔بنگلہ دیشی اوپنر امین اقبال نے ڈبل سینچری بنائی جب کہ ان کے ساتھی اوپنر امرالقیس نے 150 رنز بنائے۔ پانچویں اور آخری روز کا کھیل ختم ہونے تک بنگلہ دیش نے 6 وکٹوں کے نقصان پر 555 رنز بنائے۔ یوں میچ کسی نتیجے کے بغیر ختم ہوگیا۔
بنگلہ دیش نے پہلی اننگز میں 332 رنز بنائے تھے، جواب میں پاکستان نے 628 رنز بنا کر 296رنز کی برتری حاصل کی تھی۔ اس وقت ایسا لگتا تھا کہ پاکستان یہ میچ جیت جائے گا کیونکہ پاکستان کی باؤلنگ کے بارے میں یہ تاثر ہے کہ وہ ورلڈ کلاس لیول کی ہے لیکن بنگلہ دیش نے جب دوسری باری شروع کی تو پاکستانی باؤلر اپنا جادو نہ دکھا سکے۔ وہاب ریاض، جنید خان، ذوالفقار بابر اور یاسر شاہ بنگلہ دیشی بیٹسمینوں کو جلد آؤٹ کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔بنگلہ دیش نے پاکستان کے ہاتھوں مسلسل 8ٹیسٹ میں شکستوں کے بعد اپنی تاریخ میں پہلی بار کوئی مقابلہ ڈرا کیا۔بنگلہ دیش کی سیریز نے پاکستانی کرکٹ کی کئی خامیوں کو اجاگر کیا ہے ۔کھیل میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے ،بلاشبہ بنگلہ دیش کی کرکٹ میں بہتری آئی ہے لیکن پھر بھی پاکستان کے مقابلے میں بنگلہ دیش خاصا پیچھے ہیں۔
پاکستان کے کھلاڑی باؤلنگ، بیٹنگ اور فیلڈنگ تینوں شعبوں میں متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکے۔ اہم موقعوں پر کیچز ڈراپ کیے گئے، بیٹسمین غلط شارٹ کھیلتے ہوئے آؤٹ ہوئے جب کہ باؤلر بھی متاثر نہ کر سکے۔ پاکستان میں کرکٹ کے زوال کی کئی وجوہات ہیں۔ ممکن ہے کہ بنگلہ دیش کی وکٹوں کا بھی کوئی کمال ہو لیکن اس حقیقت سے آنکھ نہیں چرائی جا سکتی کہ پاکستان کے پاس ماضی جیسے شاندار بیٹسمین ہیںاور نہ ہی باؤلنگ اس قابل ہے کہ وہ کسی مقررہ ہدف سے پہلے مخالف ٹیم کو آؤٹ کر سکے۔ایسا نہیں ہے کہ پاکستان کے پاس باصلاحیت کھلاڑیوں کی کمی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کو بنگلہ دیش کی سیریز کو سامنے رکھ کر خامیاں تلاش کرنا چاہئیں اور باصلاحیت کھلاڑیوں کو ٹیم میں لانا چاہیے تاکہ پاکستان کرکٹ میں اپنا کھویا ہوا وقار بحال کراسکے ۔
بنگلہ دیش نے پہلی اننگز میں 332 رنز بنائے تھے، جواب میں پاکستان نے 628 رنز بنا کر 296رنز کی برتری حاصل کی تھی۔ اس وقت ایسا لگتا تھا کہ پاکستان یہ میچ جیت جائے گا کیونکہ پاکستان کی باؤلنگ کے بارے میں یہ تاثر ہے کہ وہ ورلڈ کلاس لیول کی ہے لیکن بنگلہ دیش نے جب دوسری باری شروع کی تو پاکستانی باؤلر اپنا جادو نہ دکھا سکے۔ وہاب ریاض، جنید خان، ذوالفقار بابر اور یاسر شاہ بنگلہ دیشی بیٹسمینوں کو جلد آؤٹ کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔بنگلہ دیش نے پاکستان کے ہاتھوں مسلسل 8ٹیسٹ میں شکستوں کے بعد اپنی تاریخ میں پہلی بار کوئی مقابلہ ڈرا کیا۔بنگلہ دیش کی سیریز نے پاکستانی کرکٹ کی کئی خامیوں کو اجاگر کیا ہے ۔کھیل میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے ،بلاشبہ بنگلہ دیش کی کرکٹ میں بہتری آئی ہے لیکن پھر بھی پاکستان کے مقابلے میں بنگلہ دیش خاصا پیچھے ہیں۔
پاکستان کے کھلاڑی باؤلنگ، بیٹنگ اور فیلڈنگ تینوں شعبوں میں متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکے۔ اہم موقعوں پر کیچز ڈراپ کیے گئے، بیٹسمین غلط شارٹ کھیلتے ہوئے آؤٹ ہوئے جب کہ باؤلر بھی متاثر نہ کر سکے۔ پاکستان میں کرکٹ کے زوال کی کئی وجوہات ہیں۔ ممکن ہے کہ بنگلہ دیش کی وکٹوں کا بھی کوئی کمال ہو لیکن اس حقیقت سے آنکھ نہیں چرائی جا سکتی کہ پاکستان کے پاس ماضی جیسے شاندار بیٹسمین ہیںاور نہ ہی باؤلنگ اس قابل ہے کہ وہ کسی مقررہ ہدف سے پہلے مخالف ٹیم کو آؤٹ کر سکے۔ایسا نہیں ہے کہ پاکستان کے پاس باصلاحیت کھلاڑیوں کی کمی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کو بنگلہ دیش کی سیریز کو سامنے رکھ کر خامیاں تلاش کرنا چاہئیں اور باصلاحیت کھلاڑیوں کو ٹیم میں لانا چاہیے تاکہ پاکستان کرکٹ میں اپنا کھویا ہوا وقار بحال کراسکے ۔