پولیو پاکستان پر پابندیاں برقرار
پاکستان میں یہی صورتحال برقراررہی تونہ صرف یہ کہ موجودہ پابندیاں برقراررہیں گی بلکہ مزید سفری پابندیاں بھی لگ سکتی ہیں
مرکزی حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ انسداد پولیو مہم کے لیے صوبائی حکومتوں کی بھرپور مدد کرے ۔فوٹو : فائل
پاکستان میں انسداد پولیو مہم میں پیدا کی جانے والی رکاوٹوں کا افسوسناک نتیجہ یہ نکلاتھا کہ عالمی ادارہ صحت کی طرف سے پاکستان سے بیرون ملک سفر کرنے والوں پر پابندیاں عاید کر دی گئی تھیں اور پاکستانی مسافروں کے لیے لازم قرار دیدیا گیا کہ وہ بیرونی سفر کے لیے پولیو فری کا طبی سرٹیفکیٹ ساتھ لے کر آئیں بصورت دیگر انھیں سفر نہیں کرنے دیا جائے گا۔ اس پابندی کے بعد پاکستانی حکام کی طرف سے انسداد پولیو مہم میں زیادہ تیزی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اس کا تا حال کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا اور عالمی اداروں نے پاکستان میں پولیو کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان پر بدستور سفری پابندیاں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس حوالے سے عالمی ادارہ صحت اور دیگر عالمی اداروں کا ابو ظہبی میں ایک اہم اجلاس ہوا جس میں پاکستان سے وزیر مملکت سائرہ افضل کی سربراہی میں ایک سرکاری وفد نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں عالمی ادارہ صحت کی طرف سے خیبر پختونخوا میں انسداد پولیو مہم کی ناکامی پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔ واضح رہے کے پی کے میں تحریک انصاف کی حکومت نے صوبے میں ''صحت کا انصاف پروگرام'' کے نام سے جس منصوبے کا آغاز کیا تھا عالمی ادارہ صحت نے اس کو بھی غیر تسلی بخش قرار دے دیا۔ ابوظہبی اجلاس میں عالمی نمایندوں نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے پاکستان کو انتباہ کیا کہ اگر پاکستان میں یہی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف یہ کہ موجودہ پابندیاں برقرار رہیں گی بلکہ مزید سفری پابندیاں بھی لگ سکتی ہیں۔
اس اجلاس میں افغانستان نے بھی شرکت کی اور اپنی نا اہلی کا الزام بھی پاکستان پر عاید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے ملک میں پاکستان سے پولیو وائرس منتقل ہو رہا ہے تاہم افغانستان کے اس مؤقف کو عالمی ادارہ صحت نے مسترد کر دیا۔بہر حال پاکستان کو پولیو کے خاتمے کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئیں۔ چاروں صوبوں کی حکومتوں کو اس معاملے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔ مرکزی حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ انسداد پولیو مہم کے لیے صوبائی حکومتوں کی بھرپور مدد کرے۔
اس حوالے سے عالمی ادارہ صحت اور دیگر عالمی اداروں کا ابو ظہبی میں ایک اہم اجلاس ہوا جس میں پاکستان سے وزیر مملکت سائرہ افضل کی سربراہی میں ایک سرکاری وفد نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں عالمی ادارہ صحت کی طرف سے خیبر پختونخوا میں انسداد پولیو مہم کی ناکامی پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔ واضح رہے کے پی کے میں تحریک انصاف کی حکومت نے صوبے میں ''صحت کا انصاف پروگرام'' کے نام سے جس منصوبے کا آغاز کیا تھا عالمی ادارہ صحت نے اس کو بھی غیر تسلی بخش قرار دے دیا۔ ابوظہبی اجلاس میں عالمی نمایندوں نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے پاکستان کو انتباہ کیا کہ اگر پاکستان میں یہی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف یہ کہ موجودہ پابندیاں برقرار رہیں گی بلکہ مزید سفری پابندیاں بھی لگ سکتی ہیں۔
اس اجلاس میں افغانستان نے بھی شرکت کی اور اپنی نا اہلی کا الزام بھی پاکستان پر عاید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے ملک میں پاکستان سے پولیو وائرس منتقل ہو رہا ہے تاہم افغانستان کے اس مؤقف کو عالمی ادارہ صحت نے مسترد کر دیا۔بہر حال پاکستان کو پولیو کے خاتمے کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئیں۔ چاروں صوبوں کی حکومتوں کو اس معاملے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔ مرکزی حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ انسداد پولیو مہم کے لیے صوبائی حکومتوں کی بھرپور مدد کرے۔