ایمنسٹی اسکیموں کی مخالفت کالا دھن رکھنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے آئی ایم ایف
ایسی اسکیموںکے خاطرخواہ نتائج نہیںنکلتے،اگرٹیکس حکام کے پاس38لاکھ لوگوںکاڈیٹاہے توپھرایف بی آرکس بات کاانتظارکررہاہے
آئی ایم ایف کوبتادیاتھاملک میںالیکشن کا ماحول ہے ایسی کارروائی ممکن نہیں ہے،سینئر افسروزارت خزانہ کی ایکسپریس سے گفتگو۔ فوٹو: رائٹرز
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے ایک فیصد سے ڈیڑھ فیصدتک ٹیکس کی ادائیگی پر سیاستدانوں، بیوروکریٹس،ججز، جرنیل سمیت بلاامتیازدیگرتمام پاکستانیوں کے ملک کے اندر اوربیرون ممالک موجودہ قیمتی فلیٹس،مکانات سمیت دیگر اثاثہ جات اورغیرملکی بینکوںمیں رکھی گئی دولت کوقانونی حیثیت دینے کیلیے ایمنسٹی اسکیموں کی مخالفت کردی ہے۔
وزارت خزانہ کے سینئرافسرنے''ایکسپریس'' کوبتایاکہ آئی ایم ایف جائزہ مشن سے ہونیوالے حالیہ مذاکرات میں پاکستانی حکام نے بریفنگ میں بتایا تھا کہ ایف بی آرکے پاس قابل ٹیکس آمدنی رکھنے کے باوجودٹیکس ادا نہ کرنے والے 38 لاکھ لوگوں کا مکمل ڈیٹا، معلومات اور ثبوت کے ساتھ تمام ریکارڈموجودہے اور ایمنسٹی سکیم کی تجویزمیں ان لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں آنے کا موقع دیا جائیگا جس سے ایک ارب 76 کروڑ روپے ریونیوحاصل ہوگا جبکہ نئے لوگوںکے ٹیکس نیٹ میں آنے سے ٹیکس بیس اورٹیکس ٹوجی ڈی پی شرح میں بھی اضافہ ہوگا۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تجویزدی ہے کہ اگرٹیکس حکام کے پاس 38 لاکھ لوگوںکے کوائف اور ثبوت موجودہیں توایف بی آرانتظارکس بات کاکررہا ہے ان کیلیے ایمنسٹی سکیم لانے کی بجائے ان کیخلاف کارروائی ہونی چاہیے اس پہلے بھی ایسی کئی سکیمیں خاطر خواہ نتائج نہیں دے سکیں۔آئی ایم ایف نے یہ بھی تجویز دی کہ کالادھن رکھنے والوںکومحفوظ راستہ دینے کی بجائے ان کے خلاف کاروائی کی جائے کیونکہ ایسی اسکیموں سے ٹیکس ادائیگی کے کلچر پرمنفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
وزارت خزانہ کے سینئرافسرنے''ایکسپریس'' کوبتایاکہ آئی ایم ایف جائزہ مشن سے ہونیوالے حالیہ مذاکرات میں پاکستانی حکام نے بریفنگ میں بتایا تھا کہ ایف بی آرکے پاس قابل ٹیکس آمدنی رکھنے کے باوجودٹیکس ادا نہ کرنے والے 38 لاکھ لوگوں کا مکمل ڈیٹا، معلومات اور ثبوت کے ساتھ تمام ریکارڈموجودہے اور ایمنسٹی سکیم کی تجویزمیں ان لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں آنے کا موقع دیا جائیگا جس سے ایک ارب 76 کروڑ روپے ریونیوحاصل ہوگا جبکہ نئے لوگوںکے ٹیکس نیٹ میں آنے سے ٹیکس بیس اورٹیکس ٹوجی ڈی پی شرح میں بھی اضافہ ہوگا۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تجویزدی ہے کہ اگرٹیکس حکام کے پاس 38 لاکھ لوگوںکے کوائف اور ثبوت موجودہیں توایف بی آرانتظارکس بات کاکررہا ہے ان کیلیے ایمنسٹی سکیم لانے کی بجائے ان کیخلاف کارروائی ہونی چاہیے اس پہلے بھی ایسی کئی سکیمیں خاطر خواہ نتائج نہیں دے سکیں۔آئی ایم ایف نے یہ بھی تجویز دی کہ کالادھن رکھنے والوںکومحفوظ راستہ دینے کی بجائے ان کے خلاف کاروائی کی جائے کیونکہ ایسی اسکیموں سے ٹیکس ادائیگی کے کلچر پرمنفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔