شہرت پانے کیلئے بھارت سے پسندیدگی کا ٹھپہ لگنا ضروری نہیںاسرار

میوزک کے شعبے میں صوفی میوزک پرہی نہیں ہے بلکہ میں اپنے مختصر فنی سفرمیں پاپ،راک اوردیگراصناف میں کام کرچکا ہوں،اسرار

’’میں‘‘ مارے بغیر منزل نہیں ملتی، منفرد گلوکار اسرار کی ’’ایکسپریس‘‘ سے بات چیت ۔ فوٹو : فائل

فن موسیقی میں جہاں دنیا بھرمیں انوکھی آواز اورانداز رکھنے والے گلوکاروں کی تعداد انتہائی کم ہے ، وہیں پاکستان میں بھی ایسے گلوکارکم ہی ملتے ہیں جن کی آواز اورانداز دوسروں سے جدا ہو۔ کلاسیکل، غزل، فوک ، پاپ اورصوفی میوزک پر اگرنظرڈالیں تو ایسی مثالیں بہت کم ملتی ہیں۔

منفرد آواز اوراندازرکھنے والے گلوکاروں میں ایک بہترین اضافہ گلوکاراسرارکی شکل میں ہو چکا ہے۔ ایک طرف توان کی آواز سچے سروں سے مالامال ہے تودوسری جانب انداز بھی سب سے نرالہ ہے۔ پاکستان میں میوزک انڈسٹری کوشہرت کی بلندیوں پرلیجانے والے 'کوک سٹوڈیو' نے اسرار جیسے باکمال سنگرکو کچھ اس انداز سے پیش کیا کہ اب تمام عمر کے لوگ ان کے گیت سن کرجھومتے کھائی دیتے ہیں۔

گزشتہ دنوں اسرارنے ایک ملاقات کے دوران '' ایکسپریس '' کواپنی فنی اورنجی زندگی کے حوالے سے ایک دلچسپ انٹرویو دیاجوقارئیں کی نذرہے۔

گلوکاراسرار نے کہا کہ کبھی سوچا نہ تھا کہ میوزک کواپنا پروفیشن بناؤں گا۔ ایسا بھی نہیں کہ میں میوزک کو پسند نہیں کرتا تھا لیکن ایک وجہ تھی کہ میرے اندرایک بہت ہی مضبوط قسم کا 'سید' تھا۔ ہماری سوسائٹی میں سیدزادے ہی نہیں بلکہ نام نہاد جتنی بھی بڑی زاتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں، ان کے نزدیک میوزک ایک ہتک آمیزچیز ہے۔ وہ سب سمجھتے ہیں کہ یہ صرف میراثیوں کا کام ہے ۔



میں بھی جب بڑا ہورہا تھا تومیرے اندربھی یہی بات تھی کہ میں ایک ' سیدزادہ' ہوں اورمیں دوسروں سے بہت '' بلند'' ہوں۔ جب میں بڑا ہوا تومیرے دماغ میں بہت سے سوالات اٹھنے لگے۔ میں نے اپنے سکول اورکالج کے اساتذہ سے بھی بہت سے سوالات کئے لیکن میرے اندرجوالجھنیں جنم لے رہی تھیں اس کا حل کسی نے تلاش کیا اورنہ ہی مجھے کوئی مثبت جواب مل سکا۔ ایسے میں میوزک ہی ایک واحد چیز تھی جس کی وجہ سے میری زندگی میں سکون آیا۔ حالانکہ مجھے اپنے بچپن میں کبھی یہ پتہ نہیں چل سکا تھاکہ مجھ میں بھی موسیقی کے جراثیم موجود ہیں۔ البتہ میں ڈھول کی تھاپ پردھمال ڈالتا، بانسری کی آوازاچھی لگتی اورگٹاربھی بے حد پسند تھا۔ جب تھوڑی ہوش سنبھالی تومیں دین، دنیا اوردیگرمذاہب کولے کربہت کنفیوژ رہتا تھا ، ایسے میں جب میں صوفیاء کرام کا کلام سنتا تودل کوسکون ملتا اورخوب مزہ بھی آتا۔

انہوں نے بتایاکہ میری فیملی کا تعلق کشمیرسے ہے جو بعدمیں حیدرآباد منتقل ہوگئی۔ میں نے حیدرآباد میں استاد سلطان احمد خاں سے موسیقی کی تعلیم لینا شروع کی۔ وہ صرف میوزک ٹیچرہی نہیں بلکہ ایک ایسے درویش صفت انسان تھے جنہوں نے مجھے ایسٹرن کلاسیکل کے ساتھ دین اودنیا کے فرق بارے بھی خوب سمجھایا۔ ان کے پاس جب بھی بیٹھتا توجوالجھنیں میرے اندر ہوتیں وہ دورہونے لگتیں۔ اس طرح سے میں میوزک کے قریب آتا چلاگیا اوراب ایک باقاعدہ پروفیشنل سنگر کے طورپرکام کررہا ہوں۔

میں حیدرآباد میں رہا اوروہیں میری پرورش ہوئی لیکن اب مجھے اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کے بھرپوراظہار کیلئے کراچی اور لاہورمیں سے کسی ایک جگہ کا انتخاب کرنا تھا۔ کراچی حالانکہ حیدرآباد سے بہت قریب تھا لیکن وہاں کے حالات بہت خراب تھے جبکہ میرے جیسے شخص کوکسی ایک مقام کی تلاش تھی جہاں امن اورسکون ہوتومیں نے اپنی بھائی سے مشورہ کیا اورانہوں نے مجھے لاہورشفٹ ہونے کوکہا۔ میں جب یہاں 2007ء میں آیا تومجھے جے علی اورحسن شاہ جیسے دوست ملے اورپھرہم نے مل کرکام شروع کیا۔ ویسے بھی لاہورآکر مجھے یوں لگا کہ جیسے میں جنت میں آگیا ہوں۔

ایک سوال کے جواب میں اسرار نے بتایا کہ سید فیملی سے تعلق تھا تومیرے والد نے موسیقی کے شعبے میں کام کرنے پرمجھے گھر سے نکال دیا۔ میرے والد کے قریب رہنے والے لوگوں نے بھی ان کے خوب کان بھرے ۔ دوسری جانب مجھے میوزک کا چسکا پڑ چکا تھا۔ ایسے میں میرے والد نے میرے گھر میں گھسنے پرپابندی لگادی۔ میں کبھی دیواریں پھلانگ کرگھرجاتا تواکثرمار پڑتی۔ گھرمیں سب لوگ ملتے توتھے لیکن میرے میوزک سے خوش نہ تھے۔ والدہ کی سپورٹ تھی مگروہ والد سمیت باقی فیملی کی وجہ سے کھل کرساتھ نہیں تھیں۔

ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جب میری فیملی دوبارہ حیدرآباد سے کشمیر چلی گئی تومیں تنہا رہا گیا۔ یہ وہ وقت تھا کہ جب نے اپنے میوزک پرمکمل توجہ دی۔ میراماننا ہے کہ آرٹسٹ تنہائی میں اپنے کام پرزیادہ فوکس کرتا ہے۔

ویسے بھی سُراور ردھم توہر انسان کے اندر ہے۔ میرے والد کی مجھ سے ناراضگی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ جب مجھے میوزک کا شوق پیدا ہوا تومیں نے باقی سب کام چھوڑ دیئے۔ ' ایم بی اے' کا سٹوڈنٹ تھا توتعلیم ادھوری چھوڑی دی، مارشل آرٹس بارہ برس تک کیا اس کوچھوڑدیا اورپھرمذہب سے بھی خاصا دورہوگیا۔ شایداسی لئے بھی میرے والد مجھ سے خفاء تھے۔ حالانکہ جب انہوںنے میری آواز میں صوفیاء کا کلام سنا توان میں خاصی نرمی آگئی۔

انہوں نے بتایاکہ میری پہلی پرفارمنس تھی تومیرے استاد نے کہا کہ بیٹا تیارہوجاؤآج تم نے ایک شادی کے فنکشن میں پرفارم کرنا ہے۔ یہ سنتے ہی میرے اندر کا 'سید' پھرجاگ گیا کہ میں ایک سیدزادہ اوراب شادیوں کے پروگراموں میں پرفارم کرونگا ؟ میرے استاد میرے پیر بھی ہیں، انہوں نے میری 'میں'مارنا تھی توانہوں نے مجھے خوب سمجھایا لیکن میرے دماغ میں ایک ہی بات چل رہی تھی کہ ''یارمیں کیا میراثی ہوں جو ڈھولک اور ہارمونیم پکڑکر شادی میں پرفارم کروں''۔ مگراستاد کے بہت زوردینے پرمیں نے وہاںپرفارم کیا تو سماں بندھ گیا۔ اس موقع پرمجھے یہ بات سمجھ آئی کہ ہم جوبلاوجہ کی ''میں '' کے سہارے زندگی بسرکرتے ہیں وہ ٹھیک نہیں ہے۔




اپنی پہلی پرفارمنس کے بعد جو اعتماد پیدا ہوا اس کی بدولت ہی مجھ جیسے ایک عام سے آرٹسٹ کو' کوک سٹوڈیو'جیسے بڑے پلیٹ فارم پرپرفارم کرنے کا موقع ملا۔ سب جانتے ہیں کہ 'کوک سٹوڈیو'ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں پاکستان کے سب سے باصلاحیت سازندے اور گلوکار پرفارم کرتے ہیں۔ خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ مجھے ان عظیم فنکاروں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ یہاں یہ بتاتا چلوں کہ کچھ عرصہ پہلے معروف میزبان، رائٹر اور ڈائریکٹر انور مقصود اور گلوکار ٹینا ثانی سے ائیرپورٹ پر ملاقات ہوئی تو انہوں نے ملتے ہی یہ کہا کہ ہم آپ کے بہت بڑے مداح ہیں۔ یہ میرے لئے بہت بڑے اعزاز کی بات ہے کہ انورمقصود اورگلوکارہ ٹیناثانی جیسے بڑے فنکارمیرے کام کوپسند کرتے ہیں۔ سچ میں میوزک نے میری زندگی میں زبردست تبدیلی پیداکی، مجھے زندگی کا مقصد مل گیا۔

اسرار نے 'کوک سٹوڈیو'تک پہنچنے کی مختصرکہانی سناتے ہوئے کہا کہ میری چھوٹی چھوٹی پرفارمنس جاری تھیں اوراس دوران بلال مقصود نے مجھے ایک ٹی وی شومیں پرفارم کرتے دیکھا۔

ایک دن مجھے ان کا فون موصول ہوا توانہوں نے اپنا تعارف کروایا اوربتایا کہ وہ کوک سٹوڈیو کرنے جا رہے ہیں اورمجھے بھی اس میں پرفارمنس کا موقع دینا چاہتے ہیں تومیں حیران رہ گیا۔ کیونکہ میں اپنے دوست اورایک باصلاحیت میوزک کمپوزر اورارینجر جے علی کے ساتھ موٹرسائیکل پرجب لاہورکے علاقہ شملہ پہاڑی سے گزرتا تھا تو'کوک سٹوڈیو' کا ایک دیوقامت سائن بورڈ دیکھ کراکثرکہا کرتا تھا کہ ایک دن میری بھی تصویراسی طرح اس بورڈ پرہوگی۔

پھرمجھے کراچی بلوایا گیا، عامرزکی اور تنویر طافو جیسے بڑے سازندوں کے ساتھ پرفارم کرنے کا جومزہ تھا وہ میری پہلی پرفارمنس میں صاف دکھائی دے رہا تھا۔ کوک سٹوڈیومیں میرا انتخاب میری آواز، انداز اورسٹائل کی وجہ سے ہوااوراسی لئے سیزن 7 کا آغاز بھی میری پرفارمنس سے کیا گیا۔ پہلی پرفارمنس کے بعد جورسپانس سامنے آیا اس کولفظوں میں بیان نہیں کرسکتا،لیکن مجھے یوں محسوس ہورہا تھا کہ جیسے میں ہوا میں اُڑرہا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ یہ تاثربالکل غلط ہے کہ جو لوگ انڈیا میں جا کرکام کرتے ہیں وہ ہی شہرت اورمقبولیت حاصل کرتے ہیں۔معروف گلوکارہ عابدہ پروین نے جوکام کیا وہ نہ توکسی فلم کیلئے تھا اورنہ ہی ڈرامہ کیلئے ، مگرپھر بھی ان کے چاہنے والے دنیا بھرمیں موجود ہیں اورہمارے پڑوسی ملک بھارت میں توان کی پوجا کی جاتی ہے۔ اسی طرح استادنصرت فتح علی خاں کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔

اسی طرح اگرمیں اپنی بات کروں تومجھے جولوگ جانتے ہیں اورمیرے کام کوسراہتے ہیں، یہ بھارت سے نہیں بلکہ اسی ملک کی وجہ سے ہے۔ میرے نزدیک کسی بھی فنکارکیلئے انڈیا سے ٹھپا لگنا ضروری نہیں ہے۔ البتہ فنکارکی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ مجھے انڈیا یا دنیا کے کسی بھی کونے میں کام کرنے کا موقع ملے گا تومیں عزت کے ساتھ ضرورکام کرونگا۔ کیونکہ جب کوئی بھی فنکار اپنے ملک سے باہر جاکر عزت کے ساتھ کام کرتا ہے تووہ اپنے ملک کانام روشن کرتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں لوگوں کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ میوزک فلم، ڈرامہ یا کسی اورمیڈیم کا محتاج ہے۔

جبکہ میں اس بات کا بہت بڑا مخالف ہوں۔ میرے نزدیک اچھے میوزک کوکسی سہارے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسی لئے میں نے کبھی بھی کام کیلئے لوگوں سے رابطہ نہیں کیا۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ بس اچھا کام کروں اوراس کوایمانداری اورنیک نیتی کے ساتھ مکمل کروں، باقی اس پرجوبھی رسپانس ملے وہ مجھے قبول ہے۔ میں شہرت اوردولت کمانے کیلئے کبھی ایسا نہیں چاہتا کہ کوئی گھٹیا شاعری والا گیت ریکارڈ کروں تاکہ دنیا بھرمیں میری شہرت ہو اورچاہنے والے ہوں۔ میں ایک بہت چھوٹا سا فنکارہوں لیکن جوکام مجھے پسند نہیں آتا میں اس کونہیں کرتا۔

انہوں نے بتایاکہ میوزک میں میرے پہلے آئیڈیل میرے استاد سلطان احمد خاں ہیں اوران سے میوزک سیکھنے کے بعد جب میں نے شام چوراسی گھرانہ کے مہان گائیک استاد سلامت علی خاں کو سنا تومیں دھاڑیں مارکررونے لگا، میں ان کی گائیکی سے بہت متاثرہوں۔ استاد نصرت فتح علی خاں، طفیل نیازی، مائیکل جیکسن اورلتامنگیشکربھی میرے پسندیدہ گلوکاروں میں ہیں۔ میری دوخواہشیں ہیں، ایک میں لتا منگیشکرسے ملنا چاہتاہوں کیونکہ ان کی جیسی پاکیزہ آواز میں نے کوئی دوسری نہیں سنی اور دوسرے عظیم باکسرمحمد علی کلے ہیں جن سے ملنے کی بہت خواہش ہے۔



میوزک کے شعبے میں میرا فوکس صرف صوفی میوزک پرہی نہیں ہے بلکہ میں اپنے مختصر فنی سفرمیں پاپ، راک اوردیگراصناف میں کام کرچکا ہوں اورہوسکتا ہے کہ مستقبل میں ریپ میوزک بھی کروں۔ میرے نزدیک میوزک کا مطلب صرف انٹرٹینمنٹ نہیں بلکہ لوگوں تک اپنے میوزک سے مثبت پیغام کو پہنچانا ہے۔ ایک فنکارکوبہت ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔

اسرار نے بتایاکہ شروع میں میری ماں میرے بال، داڑھی دیکھ کراکثر اس بات کیلئے فکرمند رہتی تھی کہ میرے اس حلیے کودیکھ کرکون سی لڑکی مجھ سے شادی کرنے کے لئے رضامند ہوگی ؟ کیونکہ میرے کان میں بالیاں ، ہاتھ میں چوڑیاں ، سر پرلمبے بال اورمنہ پرداڑھی تھی۔ حالانکہ ایسا نہیں کہ میں تمام عمر اس گیٹ اپ کے ساتھ ہی زندگی بسرکروں گا۔ میں پہلے بھی اپنے بال اورداڑھی صاف کرواچکا ہوں اورجب دوبارہ کبھی یہ خیال آیا تواس میں دیرنہیں لگے گی۔

انٹرویوکے اختتام پراسرار نے کہا کہ میوزک کے ذریعے نفرت کوکم اورامن کے پیغام کولوگوں تک پہنچانا میرا مقصد ہے۔ میوزک کے شعبے کی جانب آنیوالوں کو یہی پیغام دیناچاہوں گاکہ وہ محنت اورلگن کے ساتھ اس شعبے میں کام کریں توعزت، شہرت آپ کے پیچھے پیچھے ہوگی۔
Load Next Story