خدمات ہی خدمات اور رسائی ہی رسائی
سچ تو یہ ہے کہ اخبارات میں خدمات کے ان ’’چرچوں‘‘ سے ہمارے دل میں بھی ’’کچھ کچھ‘‘ ہونے لگا ہے
barq@email.com
اے این پی کی فخریہ پیش کش کے پی کے، کے معنی وہ کچھ ہی کرے لیکن درحقیقت اس سے جو صحیح لفظ بنتا ہے وہ ''خیر پہ خیر'' ہی ہے کیونکہ ایک تو یہاں آنے والے ہر کسی کو ''خیر پہ خیر'' کہا جاتا ہے، تقریباً ہر کسی کا تکیہ کلام بھی یہی ہے، جب بھی دو آدمی ملتے ہیں سب سے پہلے آپس میں ''خیر پہ خیر'' کرتے ہیں لیکن ۔۔۔ ''خیر پہ خیر'' کے حق میں جو سب سے بڑی دلیل دی جا سکتی ہے۔
وہ یہ ہے کہ یہاں کے لوگوں کا عقیدہ بھی ''خیر پہ خیر'' ہے اور چاہے گرمی ہو یا سردی بسنت ہو یا بہار؟ کسی بھی جھنڈے سرخ سفید چتکبرے سبز نیلے پیلے دھاری دار گل دار پشم دار کی حکومت میں تمام جھنڈوں میں ایک ہی جیسا ''ڈنڈا'' ہوتا ہے جسے ''خیر پہ خیر'' کا ڈنڈا کہتے ہیں، ''خیر'' کے معاملے میں یہاں کے لوگ اتنے راسخ العقیدہ ہیں کہ اگر گھر میں دس آدمی چھت تلے دب کر دھماکے میں اڑ کر یا دریا میں ڈوب کر یا کسی سیاسی جلسے میں کچل کر مر جائیں اور صرف ایک آدمی بچ جائے تو بھی کہتے ہیں شکر ہے خدا نے خیر کی، وہ واقعہ بھی یہیں کا ہے جب ایک آدمی آنکھ سے ذرا اوپر ابرو پر گولی لگنے سے مر گیا تو خواتین اس کی بیوہ سے گلے مل مل کر تسلی دیتی رہیں کہ شکر کرو بہن کہ خیر سے آنکھ تو بچ گئی اس کی ۔۔۔
اس وضاحت کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ ہم جب کے پی کے کو خیر پخیر لکھتے ہیں تو کچھ لوگ ''ناک بھوں'' چڑھا لیتے ہیں لیکن یہ بات ہم دلائل و براہن سے ثابت کر سکتے ہیں کہ کے پی کے میں ہمیشہ خیر پہ خیر کی کیفیت رہتی ہے، اس ''خیر پہ خیر'' کی کیفیت میں آج کل جس چیز بلکہ ''خیر پہ خیر'' کے سب سے زیادہ چرچے چل رہے ہیں اور اخبارات کے پرچوں میں بڑے بڑے خرچے کر کے یہ چرچے کیے جارہے ہیں وہ ''خدمات'' سے متعلق ہیں، خدمات تک رسائی خدمات کا حصول، خدمات کی آسان فراہمی خدمات کی مفت فراہمی، خدمات کی ۔۔۔ خدمات کی ۔۔۔ خدمات کی ۔۔۔ خدمات خدمات خدمات یعنی جدھر دیکھیے ادھر خدمات ہی خدمات ہیں یعنی
آج کل ترے مرے چرچے ہیں ہر زبان پر
سب کو معلوم ہے اور سب کو خبر ہو گئی
سچ تو یہ ہے کہ اخبارات میں خدمات کے ان ''چرچوں'' سے ہمارے دل میں بھی ''کچھ کچھ'' ہونے لگا ہے، آخر جب چاروں طرف خدمات کی گنگا یوں بہہ رہی ہے تو کیوں نہ ہم بھی کچھ اپنی ''زبان تر'' کر لیں۔ زبان ہی ''تر'' کر سکتے ہیں کیوں کہ کچھ مخلوقات کے نصیب میں یہی لکھا ہوتا ہے، چاہے ساری دنیا پانی پانی ہی کیوں نہ ہو جائے، آپ سے کیا پردہ خدمات کے سلسلے میں ہم بے پناہ بھوکے ہیں۔
آج تک ایسا موقع کبھی نہیں آیا ہے کہ ہم نے کسی کی ''خدمات'' حاصل کرنے کی سعادت حاصل کی ہو بلکہ جب سے آنکھیں کھلی ہیں، دوسرے لوگ ہی ہم سے خدمت لیتے رہے ہیں، بچے تھے تو ماں باپ اور اسکول مدرسے کے اساتذہ پاؤں دبوانے کی خدمات لیتے تھے، ذرا بڑے ہوئے تو ''خدمات'' لینے والوں کا دائرہ کچھ پھیل گیا اور چونکہ ان خدمات کے عوض ہمیں کچھ ملتا بھی تھا اس لیے ''خدمات'' ہی اوڑھنا بچھونا بن گئیں، دفتر میں تو خیر خدمات لینے والوں کو تو قانونی تحفظ بھی حاصل ہوتا ہے وہ جو لوگ اپنے آپ کو ہمارے خادم کہہ کر آتے تھے، وہ بھی الٹا ہم ہی سے خدمات لیتے تھے۔
جلسوں کے لیے جگہ ہموار کرنا، کرسیاں اور تمبو شامیانے لگانا، بات بات پر تالی بجانا، نعرے لگانا اور ان کے قدموں میں بچھ بچھ کر کھلانا پلانا، کہاں تک گنائیں خدمات کا ایک لمبا سلسلہ ہے جس میں قدم قدم پر بے شمار مقامات آہ و فغان بھی آتے ہیں مثلاً جس چیز کو لوگوں نے ہماری شادی کہا اس تک پہنچنے کے لیے بھی ہم نے ماں باپ ساس سسر سالے سالیوں اور پھوپھیوں خالاؤں کی کیا کیا خدمات نہیں کی، وہ ایک پشتو ٹپہ ہے کہ
ستا د دے دؤو سترگو د پارہ
زہ خوشامندے ستا د ٹول ٹبر کومہ
یعنی تمہاری دو آنکھوں کی خاطر میں تمہارے سارے خاندان اور پاس پڑوس والوں تک کی چاپلوسیاں کرتا پھرتا ہوں۔ کچھ ایسا ویسا نہ سمجھیے یہ کسی عشق وشق کی بات نہیں ہے بے پناہ خدمات کرنے سے ہمیں اتنی فرصت ہی نصیب نہ تھی کہ کچھ ایسا ویسا سوچ سکیں، آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اگر کسی بھوکے کے آگے ایک بھرا پرا دستر خوان سجا دیں یا کسی فقیر کو گھر کے اندر آنے اور کھانا تناول کرنے کا کہا جائے تو اسے شادی مرگ ہو گی یا نہیں، ہم نے بھی جب اخبارات کے پرچوں میں بڑے بڑے خرچوں والے اشتہاری چرچوں کے ذریعے یہ جانا کہ ہم ہر قسم کی ''خدمات'' بالکل مفت حاصل کر سکتے ہیں تو
ساغر کو مرے ہاتھ سے لینا کہ چلا میں
ذرا تصور تو کریں یہ تو بالکل کایا پلٹ والی بات ہو گئی، اتنا بڑا انقلاب؟ کہیں ہم خواب تو نہیں دیکھ رہے ہیں کہیں حشر تو برپا نہیں ہو گیا ہے جہاں جہاں خدمات ''لی'' جاتی تھیں وہاں سے اب خدمات ملیں گی، آج تک تو ہم تھانے کی خدمت کرنے والوں کو دیکھتے آرہے تھے بلکہ تھانے میں کسی کا مرتبہ اس کی ''تھانے کی خدمات'' سے متعین کیا جاتا تھا۔
ایک ایس ایچ او جاتے ہوئے اپنے آنے والے جانشین کو بریف کرتا تھا کہ کون کون تھانے کی خدمت کرتے ہیں اور کتنی خدمت کرتے ہیں بلکہ ان خدمات کی باقاعدہ الاٹمنٹ ہوتی تھی مثلاً فلاں صاحب ہر عید پر تھانے کی خدمت عملے کے لیے دیگ پکوا کر کرتا ہے، فلاں صاحب ہر ایس ایچ او کے گھر میں غلہ پہنچا کر سبزی دے کر یا گوشت بھجوا کر کرتا ہے، فلاں عید بقر عید پر تھانے کی خدمت مٹھائی ایک دو دنبوں یا بکروں سے کرتا ہے۔
فلاں ٹرانسپورٹر کی ایک گاڑی مستقل تھانے کی خدمت پر مامور ہے، فلاں اڈے والا روزانہ دو گاڑیاں گشت کے لیے بھجوا کر تھانے کی خدمت کرتا ہے، لیکن ایک دم یہ الٹ پلٹ کہ اب ''خدمات'' ۔۔۔۔ یقین نہیں آتا کیا آپ کو آتا ہے؟ نہیں آتا ناں، لیکن اخباری پرچے یہ چرچے کر رہے ہیں کہ عام آدمی کے سامنے ہر محکمہ تھانوں سمیت دستہ بستہ ہو کر ''خدمات'' پیش کر رہا ہے، وہ بھی باقاعدہ دعوت دے کر کہ آیئے اور ہماری خدمات پایئے، اب آپ ہی بتائیں کہ اگر ہم جیسے تشنہ خدمت کو کیوں خدمات کی چپڑیاں وہ بھی دو نہیں چار نہیں بے شمار یعنی جہاں جایئے خدمات ہی خدمات اور بالکل ہی مفت
سرمہ مفت نظر ہوں میری قیمت یہ ہے
کہ رہے چشم خریدار پہ احساں میرا
خدمات کی اس وافر اور آسان مواقع کو پا کر پہلے تو یوں لگا جیسے کسی تپتے ہوئے ریگستان میں ایک تھکے ہارے بھوکے پیاسے مسافر کو نخلستان مل گیا ہو، اس کے بعد اٹھے تاکہ اپنے تشنہ خدمت آرزؤں اور تمناؤں کی تکمیل کر سکیں ،کچھ ہی فاصلے پر ایک دو جگہیں ہمیں معلوم تھیں جہاں کبھی اس ڈر سے کبھی پاس سے بھی نہیں گزرے تھے کہ کہیں لومڑی کو اونٹ کا بچہ سمجھ کر دھر نہ لیا جائے اور بے چاری لومڑی جب تک اپنی ولدیت ثابت کرے گی تب تک اس کی شکل والدین کے لیے بھی ناقابل شناخت ہو چکی ہو گی۔
خدمت گاہ کے دروازے پر پہنچے تو جو اپنے پہلی والی جگہ سے دو فرلانگ آگے نئی جگہ بنا ہوا تھا سوچا آثار اچھے ہیں عوام کو کم سے کم تکلیف دینے کے لیے دروازہ بھی آگے بڑھ آیا ہے، دروازے کو کھٹکھٹایا تو ایک ''خادم'' فوراً دروازہ کھول کر دکھائی دیا جو باہیں پھیلائے کھڑا تھا، آثار اچھے تھے یوں باہیں پھیلا کر ہمارا استقبال کیا جائے کبھی سوچا نہ تھا، چنانچہ ہم بھی نہایت خلوص کے ساتھ جوابی بغل گیری کے لیے آگے بڑھے لیکن پھر اچانک ادراک ہوا کہ وہ شخص ہم سے بغل گیر ہونے کے بجائے ہمارا جسم ٹٹول رہا ہے، سر سے لے کر پاؤں تک ٹٹولنے کے بعد ہمیں لگا جیسے جیسے جیسے ۔۔۔۔ اب کیا بتائیں آپ کسی دن جا کر خود ہی خدمات کیوں نہیں حاصل کر لیتے۔
وہ یہ ہے کہ یہاں کے لوگوں کا عقیدہ بھی ''خیر پہ خیر'' ہے اور چاہے گرمی ہو یا سردی بسنت ہو یا بہار؟ کسی بھی جھنڈے سرخ سفید چتکبرے سبز نیلے پیلے دھاری دار گل دار پشم دار کی حکومت میں تمام جھنڈوں میں ایک ہی جیسا ''ڈنڈا'' ہوتا ہے جسے ''خیر پہ خیر'' کا ڈنڈا کہتے ہیں، ''خیر'' کے معاملے میں یہاں کے لوگ اتنے راسخ العقیدہ ہیں کہ اگر گھر میں دس آدمی چھت تلے دب کر دھماکے میں اڑ کر یا دریا میں ڈوب کر یا کسی سیاسی جلسے میں کچل کر مر جائیں اور صرف ایک آدمی بچ جائے تو بھی کہتے ہیں شکر ہے خدا نے خیر کی، وہ واقعہ بھی یہیں کا ہے جب ایک آدمی آنکھ سے ذرا اوپر ابرو پر گولی لگنے سے مر گیا تو خواتین اس کی بیوہ سے گلے مل مل کر تسلی دیتی رہیں کہ شکر کرو بہن کہ خیر سے آنکھ تو بچ گئی اس کی ۔۔۔
اس وضاحت کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ ہم جب کے پی کے کو خیر پخیر لکھتے ہیں تو کچھ لوگ ''ناک بھوں'' چڑھا لیتے ہیں لیکن یہ بات ہم دلائل و براہن سے ثابت کر سکتے ہیں کہ کے پی کے میں ہمیشہ خیر پہ خیر کی کیفیت رہتی ہے، اس ''خیر پہ خیر'' کی کیفیت میں آج کل جس چیز بلکہ ''خیر پہ خیر'' کے سب سے زیادہ چرچے چل رہے ہیں اور اخبارات کے پرچوں میں بڑے بڑے خرچے کر کے یہ چرچے کیے جارہے ہیں وہ ''خدمات'' سے متعلق ہیں، خدمات تک رسائی خدمات کا حصول، خدمات کی آسان فراہمی خدمات کی مفت فراہمی، خدمات کی ۔۔۔ خدمات کی ۔۔۔ خدمات کی ۔۔۔ خدمات خدمات خدمات یعنی جدھر دیکھیے ادھر خدمات ہی خدمات ہیں یعنی
آج کل ترے مرے چرچے ہیں ہر زبان پر
سب کو معلوم ہے اور سب کو خبر ہو گئی
سچ تو یہ ہے کہ اخبارات میں خدمات کے ان ''چرچوں'' سے ہمارے دل میں بھی ''کچھ کچھ'' ہونے لگا ہے، آخر جب چاروں طرف خدمات کی گنگا یوں بہہ رہی ہے تو کیوں نہ ہم بھی کچھ اپنی ''زبان تر'' کر لیں۔ زبان ہی ''تر'' کر سکتے ہیں کیوں کہ کچھ مخلوقات کے نصیب میں یہی لکھا ہوتا ہے، چاہے ساری دنیا پانی پانی ہی کیوں نہ ہو جائے، آپ سے کیا پردہ خدمات کے سلسلے میں ہم بے پناہ بھوکے ہیں۔
آج تک ایسا موقع کبھی نہیں آیا ہے کہ ہم نے کسی کی ''خدمات'' حاصل کرنے کی سعادت حاصل کی ہو بلکہ جب سے آنکھیں کھلی ہیں، دوسرے لوگ ہی ہم سے خدمت لیتے رہے ہیں، بچے تھے تو ماں باپ اور اسکول مدرسے کے اساتذہ پاؤں دبوانے کی خدمات لیتے تھے، ذرا بڑے ہوئے تو ''خدمات'' لینے والوں کا دائرہ کچھ پھیل گیا اور چونکہ ان خدمات کے عوض ہمیں کچھ ملتا بھی تھا اس لیے ''خدمات'' ہی اوڑھنا بچھونا بن گئیں، دفتر میں تو خیر خدمات لینے والوں کو تو قانونی تحفظ بھی حاصل ہوتا ہے وہ جو لوگ اپنے آپ کو ہمارے خادم کہہ کر آتے تھے، وہ بھی الٹا ہم ہی سے خدمات لیتے تھے۔
جلسوں کے لیے جگہ ہموار کرنا، کرسیاں اور تمبو شامیانے لگانا، بات بات پر تالی بجانا، نعرے لگانا اور ان کے قدموں میں بچھ بچھ کر کھلانا پلانا، کہاں تک گنائیں خدمات کا ایک لمبا سلسلہ ہے جس میں قدم قدم پر بے شمار مقامات آہ و فغان بھی آتے ہیں مثلاً جس چیز کو لوگوں نے ہماری شادی کہا اس تک پہنچنے کے لیے بھی ہم نے ماں باپ ساس سسر سالے سالیوں اور پھوپھیوں خالاؤں کی کیا کیا خدمات نہیں کی، وہ ایک پشتو ٹپہ ہے کہ
ستا د دے دؤو سترگو د پارہ
زہ خوشامندے ستا د ٹول ٹبر کومہ
یعنی تمہاری دو آنکھوں کی خاطر میں تمہارے سارے خاندان اور پاس پڑوس والوں تک کی چاپلوسیاں کرتا پھرتا ہوں۔ کچھ ایسا ویسا نہ سمجھیے یہ کسی عشق وشق کی بات نہیں ہے بے پناہ خدمات کرنے سے ہمیں اتنی فرصت ہی نصیب نہ تھی کہ کچھ ایسا ویسا سوچ سکیں، آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اگر کسی بھوکے کے آگے ایک بھرا پرا دستر خوان سجا دیں یا کسی فقیر کو گھر کے اندر آنے اور کھانا تناول کرنے کا کہا جائے تو اسے شادی مرگ ہو گی یا نہیں، ہم نے بھی جب اخبارات کے پرچوں میں بڑے بڑے خرچوں والے اشتہاری چرچوں کے ذریعے یہ جانا کہ ہم ہر قسم کی ''خدمات'' بالکل مفت حاصل کر سکتے ہیں تو
ساغر کو مرے ہاتھ سے لینا کہ چلا میں
ذرا تصور تو کریں یہ تو بالکل کایا پلٹ والی بات ہو گئی، اتنا بڑا انقلاب؟ کہیں ہم خواب تو نہیں دیکھ رہے ہیں کہیں حشر تو برپا نہیں ہو گیا ہے جہاں جہاں خدمات ''لی'' جاتی تھیں وہاں سے اب خدمات ملیں گی، آج تک تو ہم تھانے کی خدمت کرنے والوں کو دیکھتے آرہے تھے بلکہ تھانے میں کسی کا مرتبہ اس کی ''تھانے کی خدمات'' سے متعین کیا جاتا تھا۔
ایک ایس ایچ او جاتے ہوئے اپنے آنے والے جانشین کو بریف کرتا تھا کہ کون کون تھانے کی خدمت کرتے ہیں اور کتنی خدمت کرتے ہیں بلکہ ان خدمات کی باقاعدہ الاٹمنٹ ہوتی تھی مثلاً فلاں صاحب ہر عید پر تھانے کی خدمت عملے کے لیے دیگ پکوا کر کرتا ہے، فلاں صاحب ہر ایس ایچ او کے گھر میں غلہ پہنچا کر سبزی دے کر یا گوشت بھجوا کر کرتا ہے، فلاں عید بقر عید پر تھانے کی خدمت مٹھائی ایک دو دنبوں یا بکروں سے کرتا ہے۔
فلاں ٹرانسپورٹر کی ایک گاڑی مستقل تھانے کی خدمت پر مامور ہے، فلاں اڈے والا روزانہ دو گاڑیاں گشت کے لیے بھجوا کر تھانے کی خدمت کرتا ہے، لیکن ایک دم یہ الٹ پلٹ کہ اب ''خدمات'' ۔۔۔۔ یقین نہیں آتا کیا آپ کو آتا ہے؟ نہیں آتا ناں، لیکن اخباری پرچے یہ چرچے کر رہے ہیں کہ عام آدمی کے سامنے ہر محکمہ تھانوں سمیت دستہ بستہ ہو کر ''خدمات'' پیش کر رہا ہے، وہ بھی باقاعدہ دعوت دے کر کہ آیئے اور ہماری خدمات پایئے، اب آپ ہی بتائیں کہ اگر ہم جیسے تشنہ خدمت کو کیوں خدمات کی چپڑیاں وہ بھی دو نہیں چار نہیں بے شمار یعنی جہاں جایئے خدمات ہی خدمات اور بالکل ہی مفت
سرمہ مفت نظر ہوں میری قیمت یہ ہے
کہ رہے چشم خریدار پہ احساں میرا
خدمات کی اس وافر اور آسان مواقع کو پا کر پہلے تو یوں لگا جیسے کسی تپتے ہوئے ریگستان میں ایک تھکے ہارے بھوکے پیاسے مسافر کو نخلستان مل گیا ہو، اس کے بعد اٹھے تاکہ اپنے تشنہ خدمت آرزؤں اور تمناؤں کی تکمیل کر سکیں ،کچھ ہی فاصلے پر ایک دو جگہیں ہمیں معلوم تھیں جہاں کبھی اس ڈر سے کبھی پاس سے بھی نہیں گزرے تھے کہ کہیں لومڑی کو اونٹ کا بچہ سمجھ کر دھر نہ لیا جائے اور بے چاری لومڑی جب تک اپنی ولدیت ثابت کرے گی تب تک اس کی شکل والدین کے لیے بھی ناقابل شناخت ہو چکی ہو گی۔
خدمت گاہ کے دروازے پر پہنچے تو جو اپنے پہلی والی جگہ سے دو فرلانگ آگے نئی جگہ بنا ہوا تھا سوچا آثار اچھے ہیں عوام کو کم سے کم تکلیف دینے کے لیے دروازہ بھی آگے بڑھ آیا ہے، دروازے کو کھٹکھٹایا تو ایک ''خادم'' فوراً دروازہ کھول کر دکھائی دیا جو باہیں پھیلائے کھڑا تھا، آثار اچھے تھے یوں باہیں پھیلا کر ہمارا استقبال کیا جائے کبھی سوچا نہ تھا، چنانچہ ہم بھی نہایت خلوص کے ساتھ جوابی بغل گیری کے لیے آگے بڑھے لیکن پھر اچانک ادراک ہوا کہ وہ شخص ہم سے بغل گیر ہونے کے بجائے ہمارا جسم ٹٹول رہا ہے، سر سے لے کر پاؤں تک ٹٹولنے کے بعد ہمیں لگا جیسے جیسے جیسے ۔۔۔۔ اب کیا بتائیں آپ کسی دن جا کر خود ہی خدمات کیوں نہیں حاصل کر لیتے۔