عمران فاروق کے قتل کا کوڈورڈ ’’ماموں‘‘ تھا معظم علی
ملزم سے تفتیش تقریباً مکمل کرلی گئی ہے اوررواں ہفتے ہی جے آئی ٹی اپنی رپورٹ محکمہ داخلہ سندھ کوپیش کردے گی، ذرائع
ملزم سے تفتیش تقریباً مکمل کرلی گئی ہے اوررواں ہفتے ہی جے آئی ٹی اپنی رپورٹ محکمہ داخلہ سندھ کوپیش کردے گی، ذرائع ۔ فوٹو: فائل
MIAMI:
عمران فاروق قتل کیس میں سہولت کار کا کردار ادا کرنے والے ملزم معظم علی خان سے جوائنٹ انٹیروگیشن ٹیم نے تحقیقات مکمل کرلی ہے، ملزم نے جے آئی ٹی کے سامنے کچھ نئے انکشافات کیے ہیں جن کی روشنی میں جلدایک بڑی کارروائی کی جاسکتی ہے، رپورٹ رواں ہفتے محکمہ داخلہ کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق رینجرزنے کچھ عرصہ قبل عزیزآباد میں بوتراب امام بارگاہ کے سامنے والی گلی میں قائم ایک مکان سے معظم علی خان نامی شخص کوگرفتار کیا۔ معظم پرالزام تھاکہ اس نے لندن میں قتل کیے گئے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماعمران فاروق کیس میں سہولت کارکا کردارادا کیاتھا۔
ذرائع نے ایکسپریس کوبتایا کہ معظم علی خان سے جے آئی ٹی نے 4مرتبہ تفتیش کی۔ ملزم نے بتایاکہ قتل کی وارداتوں میں کوڈورڈز استعمال کیے جاتے ہیں جبکہ عمران فاروق کیس میں بھی کوڈورڈ کے ذریعے ہی بات چیت کی جاتی تھی۔ عمران فاروق کے حوالے سے کوڈورڈ ''ماموں'' استعمال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق معظم نے عابدنامی شخص کے بارے میں بھی بتایاہے جسے اس قتل کے حوالے سے معلومات تھیں۔
وہ معظم کا دوست اورلانڈھی کارہائشی بتایا جاتا ہے۔ ذرائع نے ایکسپریس کو مزید بتایا کہ ملزم سے تفتیش تقریباً مکمل کرلی گئی ہے اوررواں ہفتے ہی جے آئی ٹی اپنی رپورٹ محکمہ داخلہ سندھ کوپیش کردے گی۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق اپنے چونکا دینے والے انکشافات میں تحقیقاتی ٹیم سے تفتیش کے دوران گرفتارملزم معظم علی خان نے بتایاکہ ڈاکٹرعمران فاروق کے قتل کی منصوبہ بندی دوبار کی گئی۔ پہلامنصوبہ 2007میں بنایاگیا جسے نامعلوم وجوہ کی بناپر روک دیاگیا۔ دوسرامنصوبہ 2010میں بنایاگیا جس کے تحت عمران فاروق کوقتل کردیا گیا۔
قتل کی سازش کے بارے میںاس کے علاوہ خالدشمیم، عابدعرف نورا، کاشف اورمحسن کوبھی علم تھا۔ لانڈھی کاعابد عرف نورااس کاپرانا دوست تھا۔ ڈاکٹرعمران فاروق کوقتل کرنے والے محسن اورکاشف قتل کے ایک گھنٹے کے بعدفرار ہوگئے تھے۔ معظم علی نے بتایاکہ اس کی اورالطاف حسین کی کئی بارملاقات ہوئی اوراس نے لندن میں قائدایم کیوایم کے ولیمے میں بھی شرکت کی ہے۔ اس کے علاوہ وہ لندن میں متحدہ کے رہنما محمدانور، اشفاق چیف، جاویدکاظمی اور ذوالفقارحیدر سے بھی مل چکاہے۔
ملزم نے بتایاکہ ڈاکٹرعمران فاروق کے قتل کے بعد 2014میں اس کے موبائل پر ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے نے رابطہ کیاجس پروہ گھبراگیا اوراپنا موبائل بند کردیا۔ اس کے بعد خالدشمیم نے اس سے موبائل فون لے لیا۔
عمران فاروق قتل کیس میں سہولت کار کا کردار ادا کرنے والے ملزم معظم علی خان سے جوائنٹ انٹیروگیشن ٹیم نے تحقیقات مکمل کرلی ہے، ملزم نے جے آئی ٹی کے سامنے کچھ نئے انکشافات کیے ہیں جن کی روشنی میں جلدایک بڑی کارروائی کی جاسکتی ہے، رپورٹ رواں ہفتے محکمہ داخلہ کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق رینجرزنے کچھ عرصہ قبل عزیزآباد میں بوتراب امام بارگاہ کے سامنے والی گلی میں قائم ایک مکان سے معظم علی خان نامی شخص کوگرفتار کیا۔ معظم پرالزام تھاکہ اس نے لندن میں قتل کیے گئے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماعمران فاروق کیس میں سہولت کارکا کردارادا کیاتھا۔
ذرائع نے ایکسپریس کوبتایا کہ معظم علی خان سے جے آئی ٹی نے 4مرتبہ تفتیش کی۔ ملزم نے بتایاکہ قتل کی وارداتوں میں کوڈورڈز استعمال کیے جاتے ہیں جبکہ عمران فاروق کیس میں بھی کوڈورڈ کے ذریعے ہی بات چیت کی جاتی تھی۔ عمران فاروق کے حوالے سے کوڈورڈ ''ماموں'' استعمال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق معظم نے عابدنامی شخص کے بارے میں بھی بتایاہے جسے اس قتل کے حوالے سے معلومات تھیں۔
وہ معظم کا دوست اورلانڈھی کارہائشی بتایا جاتا ہے۔ ذرائع نے ایکسپریس کو مزید بتایا کہ ملزم سے تفتیش تقریباً مکمل کرلی گئی ہے اوررواں ہفتے ہی جے آئی ٹی اپنی رپورٹ محکمہ داخلہ سندھ کوپیش کردے گی۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق اپنے چونکا دینے والے انکشافات میں تحقیقاتی ٹیم سے تفتیش کے دوران گرفتارملزم معظم علی خان نے بتایاکہ ڈاکٹرعمران فاروق کے قتل کی منصوبہ بندی دوبار کی گئی۔ پہلامنصوبہ 2007میں بنایاگیا جسے نامعلوم وجوہ کی بناپر روک دیاگیا۔ دوسرامنصوبہ 2010میں بنایاگیا جس کے تحت عمران فاروق کوقتل کردیا گیا۔
قتل کی سازش کے بارے میںاس کے علاوہ خالدشمیم، عابدعرف نورا، کاشف اورمحسن کوبھی علم تھا۔ لانڈھی کاعابد عرف نورااس کاپرانا دوست تھا۔ ڈاکٹرعمران فاروق کوقتل کرنے والے محسن اورکاشف قتل کے ایک گھنٹے کے بعدفرار ہوگئے تھے۔ معظم علی نے بتایاکہ اس کی اورالطاف حسین کی کئی بارملاقات ہوئی اوراس نے لندن میں قائدایم کیوایم کے ولیمے میں بھی شرکت کی ہے۔ اس کے علاوہ وہ لندن میں متحدہ کے رہنما محمدانور، اشفاق چیف، جاویدکاظمی اور ذوالفقارحیدر سے بھی مل چکاہے۔
ملزم نے بتایاکہ ڈاکٹرعمران فاروق کے قتل کے بعد 2014میں اس کے موبائل پر ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے نے رابطہ کیاجس پروہ گھبراگیا اوراپنا موبائل بند کردیا۔ اس کے بعد خالدشمیم نے اس سے موبائل فون لے لیا۔