ڈینگی وائرس بیماری یا چیلنج

بیماریوں کے خاتمہ میں پاکستان کا ٹریک ریکارڈ بھی عالمی صحت اداروں اور مختلف ہیلتھ فورمزکے لیے مثالی نہیں رہا

حکومت پنجاب نے ڈینگی اور دیگر وبائی بیماریوں اور وائرس کے خاتمہ کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں،فوٹو فائل

ملک میں مختلف امراض اور خاص طور پر بچوں کو لگنے والی وبائی بیماریوںکی روک تھام اور موثر علاج کے لیے میڈیا نے اگرچہ کافی بیداری پیدا کی ہے اورعام آدمی بھی پولیو، ڈینگی اورملیریا وغیرہ سے بچنے اور فوری علاج کی فکر کرنے لگا ہے مگراب بھی شہروں کی بہ نسبت دیہی علاقوں میں زبردست آگہی مہم کی ضرورت ہے ۔ یوں بھی پولیو کے حوالے سے ہمارا ملک عالمی ادارہ صحت کے متعدد انتباہات کی زد میں رہا ہے،جب کہ بیماریوں کے خاتمہ میں پاکستان کا ٹریک ریکارڈ بھی عالمی صحت اداروں اور مختلف ہیلتھ فورمزکے لیے مثالی نہیں رہا۔ یہ لمحہ فکریہ ہے۔

ادھرکراچی میں ڈینگی کا خطرہ پلٹ آیا ہے اور فوری انسدادی مہم کا آغاز کردیا گیا ہے۔ ایکسپریس کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں سال 242 افراد ڈینگی وائرس سے متاثر ہوئے جب کہ سرخ فیتہ کی لعنت کے باعث محکمہ صحت کے ڈینگی پریونشن اینڈ کنٹرول پروگرام کو ایک سال سے مختص رقم42ملین روپے جاری نہ ہوسکے۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ بجٹ میں مختص رقوم یا تو مجرمانہ غفلت کی وجہ سے ضایع ہو جاتی ہیں یا سرے سے وہ منصوبے بھی مکمل نہیں ہوتے جن کے لیے رقم مختص کی جاتی ہے، دیکھا گیا ہے کہ ایسے کیسزاور سکینڈلز کے انکشاف کے باوجود کسی مجرم یا ذمے دار محکمے کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔


یہی وجہ ہے کہ ملک کے لاکھوں شہری اور دیہی عوام دورافتادہ علاقوں میں ڈینگی، ملیریا، پولیو، تپ دق ، ہیپاٹائٹس ، ذیابیطس اور کینسر جیسے موذی امراض کا شکار رہتے ہوئے علاج کو ترستے اور ایڑیاں رگڑتے ہوئے مرجاتے ہیں۔ طبی حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ کراچی میں اگست ڈینگی وائرس کے حملے کا مہینہ ہے۔

یہ انتباہ تمام صوبائی حکومتوں اور ان کے وزارت و محکمہ صحت کے لیے الرٹ رہنے کا پیغام ہے، حکومت پنجاب نے ڈینگی اور دیگر وبائی بیماریوں اور وائرس کے خاتمہ کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ وبائی امراض کے کنٹرول اور خاتمہ کے لیے حکومتی پروگرامز عالمی صحت اصولوں اور احکامات کے تحت مکمل کیے جائیں۔

یہ حقیقت ہے کہ 2011-12 ڈینگی کے پھیلاؤ کا ہولناک دورانیہ تھا جس نے پنجاب سمیت دیگر صوبوں کے محکمہ صحت کو دفاعی پوزیشن پر ڈال دیا تھا، مگر اس عرصہ میں حکومت پنجاب نے دیگر صوبوں کے برعکس ڈینگی کے کنٹرول میں کامیابی حاصل کی مگر اب بھی کوشش ہونی چاہیے کہ اس کا انسدادی ٹمپو ہر قیمت پر برقرار رہے۔
Load Next Story