لوگ بدل رہے ہیں

کراچی متحدہ سے پہلے جماعت اسلامی اور جے یو پی کا گڑھ تھا۔۔۔

سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد 2002ء میں جو عام انتخابات ہوئے تھے اس وقت موجودہ کے پی کے اور سابقہ سرحد وہ صوبہ تھا جس میں عوام کی بھاری اکثریت نے پیپلزپارٹی، مسلم لیگ اور اے این پی کو مسترد کر کے مذہبی جماعتوں کے سیاسی اتحاد متحدہ مجلس عمل پر مکمل اعتماد کا اظہار کر کے ووٹ ڈالے تھے۔

مجلس عمل میں جے یو آئی (ف) اور جماعت اسلامی کی اکثریت تھی جب کہ سرحد میں اس سے قبل پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن اور قاف اور اے این پی اقتدار میں آتے جاتے رہے اور سرحد کے عوام نے مجلس عمل کو حکومت کا موقع دیا جو عوام کے اعتماد پر پوری نہ اتری تو 2008ء میں ووٹروں نے انھیں مسترد کر کے اے این پی کو دوبارہ موقع دیا، مگر اے این پی پھر عوام کی خواہشات پوری کرنے میں ناکام رہی اور اس نے صوبہ سرحد کا نام ضرور تبدیل کرا لیا مگر 2013ء کے انتخابات میں عوام نے اے این پی پر مکمل عدم اعتماد کر کے چوتھی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کو آزمایا جو پونے دو سال سے جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر کے پی کے میں حکومت کر رہی ہے۔

پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی پر اس کے مخالفین تنقید بھی کر رہے ہیں جب کہ حکومتی حلیفوں کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی اپنے صوبے میں تبدیلی لائی ہے، پولیس کو سدھار کر دوسرے صوبوں کی پولیس سے بہتر بنا دیا گیا ہے اور تعلیم اور صحت کے میدان میں انقلابی تبدیلیاں آئی ہیں، جن کی تشہیر بھی کی جا رہی ہے۔

پنجاب میں 2002ء سے مسلم لیگ کی حکومت چلی آ رہی ہے اور کہا جاتا ہے کہ مسلم لیگ کا گڑھ پنجاب ہے، جہاں سے پیپلز پارٹی کا صفایا ہوتا آ رہا ہے، البتہ تحریک انصاف اب پنجاب میں مسلم لیگ کے مد مقابل ہے اور مسلم لیگ کو ٹف ٹائم دے رہی ہے اور پنجاب کے عوام بھی لیگی حکومتوں سے نالاں ہیں۔ پنجاب میں 2002ء سے اب تک ق لیگ اور پھر ن لیگ 13 سال سے مسلسل اقتدار میں ہے، ق لیگ کی حکومت نے بھی اپنے پانچ سال میں اچھے کام کیے تھے مگر ہمارے یہاں مخالفین کے اچھے کاموں کی تعریف کا رواج نہیں ہے، اس لیے نئی آنے والی ہر حکومت تمام برائیوں کا ذمے دار سابق حکومت کو ہی قرار دیتی ہے۔

سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کے کسی اچھے کام کو شہباز شریف نے نہیں سراہا تو ق لیگ کو پنجاب میں شہباز شریف کا کوئی کام پسند نہیں آئے گا اور یہی کام اب عمران خان نے شروع کر رکھا ہے اور وہ بھی ق لیگ کی طرح پنجاب میں شہباز شریف کے اچھے کاموں میں کیڑے نکالنے کے عادی ہو چکے ہیں اور عمران خان کی تقلید میں مسلم لیگ ن، جے یو آئی ف اور اے این پی تحریک انصاف کی کے پی کے حکومت کے اچھے کاموں کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ حالانکہ اچھا کام اگر آپ کا مخالف بھی کرے تو اصولی طور پر اسے سراہنا چاہیے۔

سندھ میں گزشتہ سات سال سے پیپلزپارٹی حکومت کر رہی ہے اور سندھ بھی دیہی اور شہری سندھ میں تقسیم ہے، جہاں سے 2002ء سے پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم ہی منتخب ہوتی آ رہی ہیں، 2002ء جنرل پرویز دور میں پیپلزپارٹی میں پیٹریاٹ گروپ بنوا کر وفاق اور سندھ میں زیادہ نشستیں لے کر بھی اپنی حکومت نہ بنوا سکی تھی اور ق لیگ نے پی پی کے ارکان توڑ کر جو حکومت بنوائی تھی وہ حقیقت میں مسلم لیگ ق کی نہیں بلکہ جنرل پرویز کی حکومت تھی۔ سندھ کے عوام تبدیل نہیں ہوئے اور انھوں نے پیپلزپارٹی اور متحدہ ہی کو اپنا سیاسی سہارا بنایا ہوا ہے۔


ایسا کرنا ان کی مجبوری ہے یا نہیں مگر سندھ میں متبادل سیاسی قوت نہ ہونے کا فائدہ ان دونوں جماعتوں کو پہنچ رہا ہے، سندھ کے بعض اضلاع میں اس بار پیپلزپارٹی کامیابی کم حاصل کر سکی تھی جو اس بات کا ثبوت تھا کہ اندرون سندھ بھی لوگ تبدیل ہوئے ہیں اور کراچی میں بھی پیپلزپارٹی اپنے مخصوص حلقوں میں شکست سے دوچار ہوئی تھی اور اس کی جگہ ن لیگ نے لے لی تھی۔ کراچی میں جماعت اسلامی کے 2013ء میں بائیکاٹ کا فائدہ متحدہ اور پی ٹی آئی کو پہنچا تھا اور پہلی بار کراچی میں پی ٹی آئی نے قابل ذکر ووٹ لے کر اپنے چند ارکان منتخب کرا لیے تھے۔

کراچی متحدہ سے پہلے جماعت اسلامی اور جے یو پی کا گڑھ تھا اور کراچی کے عوام نے اپنا سیاسی مزاج بدلا تو کراچی، حیدرآباد متحدہ کے گڑھ بن گئے اور دو عشروں سے زائد عرصہ گزر نے کے بعد کراچی میں متحدہ کا ووٹ بینک جماعت اسلامی کے بجائے پی ٹی آئی نے متاثر کیا اور اب 23 جولائی کو این اے 246 کے ضمنی الیکشن میں ثابت ہو گیا کہ کراچی میں متحدہ کے علاقوں میں جماعت اسلامی کے پاس مقابلے کے لیے امیدوار ہیں مگر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے پاس متحدہ سے مقابلے کے لیے امیدوار نہیں ہیں جب کہ پی ٹی آئی کراچی میں اس پوزیشن میں آ چکی ہے جو متحدہ کے حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کر سکتی ہے اور جماعت اسلامی اب تیسری پوزیشن پر چلی گئی ہے جو متحدہ کا مقابلہ تو کر سکتی ہے مگر کامیاب نہیں ہو سکتی، کیوں کہ جماعت اسلامی سے مایوس ہو کر اس کا ووٹر اب جماعت سے دور جا چکا ہے اور لوگ تبدیل ہو گئے ہیں اور تبدیلی چاہتے ہیں۔

متحدہ کو دو عشروں کے بعد این اے 246 میں کامیابی کے لیے جو محنت کرنا پڑی ایسی محنت متحدہ نے ماضی میں نہیں کی، متحدہ کی گھر بیٹھے ہی کوشش ہوتی تھی کہ وہ پہلے سے زیادہ ووٹوں سے کامیابی حاصل کرے تا کہ دنیا کو بتا سکے کہ اس کی مقبولیت بڑھی ہے، متحدہ کے رہنماؤں کو ووٹ کے لیے اس بار گھر گھر جا کر ووٹروں کو منانا پڑا اور اس طرح اپنے آبائی حلقے کی نشست بچانا پڑی مگر یہ ثابت ہو گیا کہ متحدہ کے حلقوں کے لوگوں کا سیاسی مزاج تبدیل ہو رہا ہے۔

ہر سیاسی پارٹی انتخابات کے موقع پر عوام سے جھوٹے وعدے کر کے ووٹ حاصل کرتی آئی ہے مگر اب ایسا ممکن نہیں رہا ہے کیوں کہ عوام میں سیاسی شعور پہلے سے زیادہ ہے جس کی وجہ دھرنے نہیں بلکہ میڈیا ہے، جس نے عوام کو سیاست دانوں کے جھوٹوں، منفی کردار، مفاد پرستی اور تمام غلط کاموں کا بتانا شروع کر رکھا ہے۔

اب سیاست دان اپنے کیے گئے وعدوں سے نہیں پھر سکتے کیوں کہ میڈیا ان کی اصلیت ظاہر کر دیتا ہے، حکمران اقتدار میں آ کر عوام سے دور ہو چکے ہیں اور اس کی وجہ دہشت گردی کا خوف بھی ہے اقتدار سے الگ ہو کر حکمرانوں کی سیکیورٹی برائے نام رہ جاتی ہے کیوں کہ پھر سیکیورٹی انھیں اپنے وسائل سے رکھنا پڑتی ہے مگر وہ پھر بھی سرکاری سیکیورٹی کے طلب گار رہتے ہیں۔

عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ پر کے پی کے، کے لوگ اور سرکاری ملازمین متعدد بار مظاہرے کر کے انھیں اپنے وعدے یاد کرانے لگے ہیں جس کو عمران خان نے نئے پاکستان کا چہرہ قرار دیا ہے مگر اب لوگوں کے بدلنے سے عمران خان کو دوسرے گھر کی مدد لے کر بنی گالہ پہنچنا پڑ رہا ہے اور بنی گالا کے باہر مظاہرین گرفتار بھی کیے جا رہے ہیں۔

کراچی میں مظاہرین کو بلاول ہاؤس اور سی ایم ہاؤس نہیں جانے دیا جاتا، لاہور میں مظاہرین کو حکمرانوں کے محلوں سے دور رکھا جاتا ہے تا کہ عوام انھیں ان کے وعدے یاد نہ دلا سکیں، حکمران جب عوام سے دور رہتے ہیں تو عوام بھی بدلنے لگے ہیں اور وہ ان کی پارٹیوں کے خلاف ووٹ دے کر اپنے غصے کا اظہار کرنے لگے ہیں تا کہ حکمرانوں کی آنکھیں کھول سکیں۔
Load Next Story