کراچی اسٹاک مارکیٹ میں مندی سے96پوائنٹس کی کمی
کاروباری حجم بدھ کی نسبت 25.52 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر15 کروڑ98 لاکھ40 ہزار670 حصص کے سودے ہوئے
کاروباری حجم بدھ کی نسبت 25.52 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر15 کروڑ98 لاکھ40 ہزار670 حصص کے سودے ہوئے۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل
سیاسی عدم استحکام اور سرمایہ کاروں میں اعتماد کے فقدان سے محدود تجارتی سرگرمیوں کے باعث کراچی اسٹاک ایکس چینج میں جمعرات کوایک بارپھراتارچڑھاؤ کے بعد مندی کے بادل چھائے رہے۔
مندی کے باعث61 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں جبکہ سرمایہ کاروں کے65 کروڑ1 لاکھ1 ہزار282 روپے ڈوب گئے۔ ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں، میوچل فنڈز، این بی ایف سیز اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر67 لاکھ89 ہزار776 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کے نتیجے میں ایک موقع پر46 پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن اس دوران مقامی کمپنیوں کی جانب سے37 لاکھ72 ہزار850 ڈالر، بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے29 لاکھ38 ہزار727 ڈالر اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے78 ہزار198 ڈالر مالیت کے سرمائے کے انخلا سے تیزی مندی میں تبدیل ہوگئی۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس96.40 پوائنٹس کی کمی سے 33742.88 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 50.58 پوائنٹس کی کمی سے21736.11 اور کے ایم آئی 30 انڈیکس195.02 پوائنٹس کی کمی سے 55508.64 ہوگیا۔ کاروباری حجم بدھ کی نسبت 25.52 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر15 کروڑ98 لاکھ40 ہزار670 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار359 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں121 کے بھاؤ میں اضافہ 218 کے داموں میں کمی اور20 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں نیسلے پاکستان کے بھاؤ225 روپے بڑھ کر10200 روپے اور شیزان انٹرنیشنل کے بھاؤ43.50 روپے بڑھ کر 913.50 روپے ہوگئے جبکہ اللہ وسایا ٹیکسٹائل کے بھاؤ 17.50 روپے کم ہوکر332.50 روپے اور ایبٹ لیبارٹریز کے بھاؤ14.21 روپے کم ہوکر610.20 روپے ہوگئے۔
مندی کے باعث61 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں جبکہ سرمایہ کاروں کے65 کروڑ1 لاکھ1 ہزار282 روپے ڈوب گئے۔ ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں، میوچل فنڈز، این بی ایف سیز اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر67 لاکھ89 ہزار776 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کے نتیجے میں ایک موقع پر46 پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن اس دوران مقامی کمپنیوں کی جانب سے37 لاکھ72 ہزار850 ڈالر، بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے29 لاکھ38 ہزار727 ڈالر اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے78 ہزار198 ڈالر مالیت کے سرمائے کے انخلا سے تیزی مندی میں تبدیل ہوگئی۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس96.40 پوائنٹس کی کمی سے 33742.88 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 50.58 پوائنٹس کی کمی سے21736.11 اور کے ایم آئی 30 انڈیکس195.02 پوائنٹس کی کمی سے 55508.64 ہوگیا۔ کاروباری حجم بدھ کی نسبت 25.52 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر15 کروڑ98 لاکھ40 ہزار670 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار359 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں121 کے بھاؤ میں اضافہ 218 کے داموں میں کمی اور20 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں نیسلے پاکستان کے بھاؤ225 روپے بڑھ کر10200 روپے اور شیزان انٹرنیشنل کے بھاؤ43.50 روپے بڑھ کر 913.50 روپے ہوگئے جبکہ اللہ وسایا ٹیکسٹائل کے بھاؤ 17.50 روپے کم ہوکر332.50 روپے اور ایبٹ لیبارٹریز کے بھاؤ14.21 روپے کم ہوکر610.20 روپے ہوگئے۔