سیاسی زراعت کی پنیری اور خدمت کا بوفے
آج کل سیاسی زراعت نے کافی ترقی کی ہوئی ہے ایک اندازے کےمطابق ہمارے پڑوسی ملک نےگزشتہ سترسال میں جتنامال برآمد کیا ہے
barq@email.com
HOUSTON:
اب تو ہمیں یقین ہو گیا ہے اور یقین بھی کچھ ایسا ویسا نہیں بلکہ پکا پکا یقین ہو گیا ہے کہ پاکستان کا مستقبل نہایت ہی تابناک ہے اور اپنے صوبے خیر پخیر کے بارے میں تو ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ اب روز گوشت پکے گا ہر دن پلاؤ کھائیں گے اور ہر رات حلوہ ٹھونسیں گے، ایک پشتو ٹپہ ہے کہ
سانگہ بہ نن صبا کے گل شی
مائے پہ سر کے سرے غوٹی لیدلی دینہ
یعنی ٹہنی آج کل ہی میں پھولوں سے لدنے والی ہیں کیوں کہ میں نے اس میں سرخ سرخ کلیاں دیکھ لی ہیں سالکوں نے فرمایا ہے کہ یقین کے تین درجات ہوتے ہیں۔ علم الیقین، عین الیقین اور حق الیقین ۔۔۔ علم الیقین کا درجہ وہ ہے جب آپ دھواں دیکھ کر آگ کا یقین کر لیں کیوں کہ یہ آپ کے علم میں ہوتا ہے کہ جہاں سے دھواں اٹھتا ہے وہاں ہمیشہ آگ ہوتی ہے، عین الیقین کا درجہ وہ ہے جب آپ اس آگ کو آنکھوں سے دیکھ لیں اور حق الیقین وہ جب آپ آگ کے قریب جا کر اس کی حرارت کو محسوس کریں گے گویا
رفتہ رفتہ وہ میری ہستی کا ساماں ہو گئے
پہلے جاں پھر جان جاں پھر جان جاناں ہو گئے
اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ہمارا یہ یقین اور بھی پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ ایک دن ہمارا یہ پیارا پیارا صوبہ اس مقام پر پہنچ جائے گا جہاں اسے پہنچنا چاہیے اور جہاں اسے پہنچایا جا رہا ہے کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ
دن بدن بڑھتی رہیں اس حسن کی رعنائیاں
پہلے گل پھر گل بدن پھر گل بداماں ہو گئے
اس یقین کے تینوں درجات سے ہم کیسے گزرے اس کی سرسری تفصیل یوں ہے کہ جب صوبے میں نئی حکومت آئی ہے اور اس کے بیانات پڑھے تو ہمیں علم الیقین ہو گیا پھر اگلے ہی دن جب یہ مژدہ سنا کہ کرپشن کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیا گیا ایسا کہ اس کا ککھ بھی نہیں چھوڑا گیا تب عین الیقین کے درجے پر پہنچے اور اب بلدیاتی انتخابات سے حق الیقین بھی حاصل ہو گیا ہے کہ اب نیا پاکستان تعمیر ہو کر رہے گا کیونکہ نیا رول ماڈل اس کے سامنے ہو گا۔
آپ سوچیں گے کہ بلدیاتی انتخابات میں ایسی کون سی نئی بات ہے جو نئے صوبے اور پھر نئے پاکستان کی تعمیر پر منتج ہو گی تو یہی تو وہ اصل بات ہے کہ کسی کو پتہ بھی نہیں چلا اور تعمیر کی ابتداء ہو بھی چکی ہے، گراس روٹ کا نام تو آپ نے سنا ہی ہو گا چلو گراس روٹ نہ سہی ''ہچری'' کو تو ضرور آپ جانتے ہوں گے یہ بھی نہیں جانتے تو چلیے ''پنیری'' تو کوئی انجانی چیز ہے ہی نہیں ۔۔۔ یوں سمجھ لیجیے کہ بلدیاتی انتخابات کی صورت میں نئی ترقی دادہ لہلہاتی فصل کی ''پنیری'' تیار ہو جائے گی۔
ہماری سیاست میں اب تک یہی تو ایک کم زور پہلو تھا کہ ہر اچھی فصل کی طرح اس کی مناسب پنیری تیار نہیں ہوتی تھی لوکل گورنمنٹ میں یہ بڑے بڑے حلقے اور کہیں دور دور فاصلے پر ''بوٹے'' اگائے جاتے تھے ورنہ اکثر براہ راست ''بیج'' کا سلسلہ تھا کچھ خاص قسم کے تخمی خاندان ہوتے تھے جن کی مٹی زرخیز ہوتی تھی اور ایک کے بعد ایک ''سیاسی بوٹا'' اگتا تھا جو اتنی بار آوری دکھا کر جب ''بیج'' آور ہو جاتا تھا تو خود زیر زمین پڑ کر نئی نئی کونپلیں چھوڑ جاتا تھا۔
مطلب یہ کہ سیاست کی زراعت چل تو رہی تھی لیکن پرانے ڈھنگ اور روایتی طریقے پر ہونے کی وجہ سے کوئی خاص ''پیداوار'' نہیں دے رہی تھی زیادہ سے زیادہ اپنی ضروریات پوری ہو جاتی تھیں دساور یعنی سوئس بینکوں اور یورپ و امریکا کی منڈیوں میں ہمارے مال کی کوئی خاص کھپت نہیں تھی جب کہ آج کل سیاسی زراعت نے کافی ترقی کی ہوئی ہے ایک اندازے کے مطابق ہمارے پڑوسی ملک نے گزشتہ ستر سال میں جتنا مال برآمد کیا ہے اتنا مال انگریزوں نے اپنی دو سو سالہ حکومت میں بھی برآمد نہیں کیا تھا جب کہ اس سے چوگنا مال تو آج کل صرف سوئٹزر لینڈ کی منڈی میں موجود ہے۔
مطلب یہ کہ ہمارے ہاں سیاسی زراعت میں چنداں پیش رفت نہیں ہو رہی تھی اندازہ اس سے لگائیں کہ اگر کہیں کوئی ایک خاص قسم کا بیج پاپولر ہو جاتا تو صرف اسی کو لے کر سیاسی زراعت چلائی جاتی تھی جیسے مسلم لیگ، پیپلز پارٹی، اے این پی وغیرہ میں وہی ایک ہی ''بیج'' چل رہا ہے جس سے ابتداء ہو گئی تھی لیکن یہ کمی اب دور ہو جائے گی کیونکہ ایک یونین کونسل میں جہاں چار پانچ بوٹے لگائے جاتے تھے اس مرتبہ اس کھیت میں چار چار کھیت بنائے گئے ہیں اور ہر کھیت میں سابقہ یونین کھیت سے دگنی تعداد کی پنیری بوئی جائے گی ظاہر ہے کہ چار کی جگہ چالیس پودے پنپ سکیں گے جن میں اگر آدھے بھی باور آور ہو جاتے ہیں تو نیا پاکستان بس بنا ہی سمجھئے، صرف ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے جو اگر حل ہو گیا تو نئے کے ساتھ نویلا پاکستان بھی تعمیر ہو جائے گا اور وہ چھوٹا سا مسئلہ یہ ہے کہ نئی بلدیاتی سیاسی پنیری اتنی زیادہ نہ ہو جائے کہ کھیت میں فصل بونے کے لیے جگہ ہی باقی نہ رہے۔
کیونکہ اس مرتبہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ تقریباً آدھے لوگ تو امیدوار ہیں اور اگر یہ سارے منتخب ہو جائیں گے تو نمایندگی کے لیے ووٹر یا عوام کہاں سے لائے جائیں گے کیونکہ ووٹر ہٹیاں وچ نہیں لبھدے ۔۔۔ وہ قصہ تو آپ نے سنا ہی ہو گا کہ پولیس نے جوئے بازی میں چار آدمیوں کو پکڑ لیا تو ان میں سے ایک ایک کی سفارش آتی رہی اور وہ چھوٹتا رہا آخر میں صرف ایک بے چارہ باقی بچ گیا اور اس پر ایف آئی آر کاٹی جانے لگی تو اس نے کہا حضور اگر جان کی امان پاؤں تو کچھ عرض کروں صرف اتنا بتا دیجیے کہ میں اکیلا آخر کس کے ساتھ جوا کھیل رہا تھا۔
اور یہی دھڑکا ہمیں لگا ہوا ہے اگر یونہی نمایندوں کی تعداد بڑھتی رہی تو پھر ان کے لیے وہ بے چارا کہاں سے لایا جائے گا جس کی یہ سب نمایندگی کر رہے ہوتے ہیں اور اگر بالفرض مروجہ فیشن کے مطابق ان کو حکومتیں بھی کہا جانے لگا جیسے ویلج ون حکومت، ویلج ٹو، ویلج تھری حکومت، پھر یونین تحصیل اور ضلعی حکومت تو اتنی حکومتیں حکومت کس پر کریں گے جب ''خدمت'' لینے والا کوئی ہو گا ہی نہیں تو یہ خادم خدمت کس کی کریں گے؟ شاید اپنی مدد آپ کے اصول پر اپنی ہی خدمت کرنا نئے پاکستان کا مقصد ہو جسے ''سیاسی بوفے'' بھی کہہ سکتے ہیں۔
اب تو ہمیں یقین ہو گیا ہے اور یقین بھی کچھ ایسا ویسا نہیں بلکہ پکا پکا یقین ہو گیا ہے کہ پاکستان کا مستقبل نہایت ہی تابناک ہے اور اپنے صوبے خیر پخیر کے بارے میں تو ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ اب روز گوشت پکے گا ہر دن پلاؤ کھائیں گے اور ہر رات حلوہ ٹھونسیں گے، ایک پشتو ٹپہ ہے کہ
سانگہ بہ نن صبا کے گل شی
مائے پہ سر کے سرے غوٹی لیدلی دینہ
یعنی ٹہنی آج کل ہی میں پھولوں سے لدنے والی ہیں کیوں کہ میں نے اس میں سرخ سرخ کلیاں دیکھ لی ہیں سالکوں نے فرمایا ہے کہ یقین کے تین درجات ہوتے ہیں۔ علم الیقین، عین الیقین اور حق الیقین ۔۔۔ علم الیقین کا درجہ وہ ہے جب آپ دھواں دیکھ کر آگ کا یقین کر لیں کیوں کہ یہ آپ کے علم میں ہوتا ہے کہ جہاں سے دھواں اٹھتا ہے وہاں ہمیشہ آگ ہوتی ہے، عین الیقین کا درجہ وہ ہے جب آپ اس آگ کو آنکھوں سے دیکھ لیں اور حق الیقین وہ جب آپ آگ کے قریب جا کر اس کی حرارت کو محسوس کریں گے گویا
رفتہ رفتہ وہ میری ہستی کا ساماں ہو گئے
پہلے جاں پھر جان جاں پھر جان جاناں ہو گئے
اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ہمارا یہ یقین اور بھی پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ ایک دن ہمارا یہ پیارا پیارا صوبہ اس مقام پر پہنچ جائے گا جہاں اسے پہنچنا چاہیے اور جہاں اسے پہنچایا جا رہا ہے کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ
دن بدن بڑھتی رہیں اس حسن کی رعنائیاں
پہلے گل پھر گل بدن پھر گل بداماں ہو گئے
اس یقین کے تینوں درجات سے ہم کیسے گزرے اس کی سرسری تفصیل یوں ہے کہ جب صوبے میں نئی حکومت آئی ہے اور اس کے بیانات پڑھے تو ہمیں علم الیقین ہو گیا پھر اگلے ہی دن جب یہ مژدہ سنا کہ کرپشن کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیا گیا ایسا کہ اس کا ککھ بھی نہیں چھوڑا گیا تب عین الیقین کے درجے پر پہنچے اور اب بلدیاتی انتخابات سے حق الیقین بھی حاصل ہو گیا ہے کہ اب نیا پاکستان تعمیر ہو کر رہے گا کیونکہ نیا رول ماڈل اس کے سامنے ہو گا۔
آپ سوچیں گے کہ بلدیاتی انتخابات میں ایسی کون سی نئی بات ہے جو نئے صوبے اور پھر نئے پاکستان کی تعمیر پر منتج ہو گی تو یہی تو وہ اصل بات ہے کہ کسی کو پتہ بھی نہیں چلا اور تعمیر کی ابتداء ہو بھی چکی ہے، گراس روٹ کا نام تو آپ نے سنا ہی ہو گا چلو گراس روٹ نہ سہی ''ہچری'' کو تو ضرور آپ جانتے ہوں گے یہ بھی نہیں جانتے تو چلیے ''پنیری'' تو کوئی انجانی چیز ہے ہی نہیں ۔۔۔ یوں سمجھ لیجیے کہ بلدیاتی انتخابات کی صورت میں نئی ترقی دادہ لہلہاتی فصل کی ''پنیری'' تیار ہو جائے گی۔
ہماری سیاست میں اب تک یہی تو ایک کم زور پہلو تھا کہ ہر اچھی فصل کی طرح اس کی مناسب پنیری تیار نہیں ہوتی تھی لوکل گورنمنٹ میں یہ بڑے بڑے حلقے اور کہیں دور دور فاصلے پر ''بوٹے'' اگائے جاتے تھے ورنہ اکثر براہ راست ''بیج'' کا سلسلہ تھا کچھ خاص قسم کے تخمی خاندان ہوتے تھے جن کی مٹی زرخیز ہوتی تھی اور ایک کے بعد ایک ''سیاسی بوٹا'' اگتا تھا جو اتنی بار آوری دکھا کر جب ''بیج'' آور ہو جاتا تھا تو خود زیر زمین پڑ کر نئی نئی کونپلیں چھوڑ جاتا تھا۔
مطلب یہ کہ سیاست کی زراعت چل تو رہی تھی لیکن پرانے ڈھنگ اور روایتی طریقے پر ہونے کی وجہ سے کوئی خاص ''پیداوار'' نہیں دے رہی تھی زیادہ سے زیادہ اپنی ضروریات پوری ہو جاتی تھیں دساور یعنی سوئس بینکوں اور یورپ و امریکا کی منڈیوں میں ہمارے مال کی کوئی خاص کھپت نہیں تھی جب کہ آج کل سیاسی زراعت نے کافی ترقی کی ہوئی ہے ایک اندازے کے مطابق ہمارے پڑوسی ملک نے گزشتہ ستر سال میں جتنا مال برآمد کیا ہے اتنا مال انگریزوں نے اپنی دو سو سالہ حکومت میں بھی برآمد نہیں کیا تھا جب کہ اس سے چوگنا مال تو آج کل صرف سوئٹزر لینڈ کی منڈی میں موجود ہے۔
مطلب یہ کہ ہمارے ہاں سیاسی زراعت میں چنداں پیش رفت نہیں ہو رہی تھی اندازہ اس سے لگائیں کہ اگر کہیں کوئی ایک خاص قسم کا بیج پاپولر ہو جاتا تو صرف اسی کو لے کر سیاسی زراعت چلائی جاتی تھی جیسے مسلم لیگ، پیپلز پارٹی، اے این پی وغیرہ میں وہی ایک ہی ''بیج'' چل رہا ہے جس سے ابتداء ہو گئی تھی لیکن یہ کمی اب دور ہو جائے گی کیونکہ ایک یونین کونسل میں جہاں چار پانچ بوٹے لگائے جاتے تھے اس مرتبہ اس کھیت میں چار چار کھیت بنائے گئے ہیں اور ہر کھیت میں سابقہ یونین کھیت سے دگنی تعداد کی پنیری بوئی جائے گی ظاہر ہے کہ چار کی جگہ چالیس پودے پنپ سکیں گے جن میں اگر آدھے بھی باور آور ہو جاتے ہیں تو نیا پاکستان بس بنا ہی سمجھئے، صرف ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے جو اگر حل ہو گیا تو نئے کے ساتھ نویلا پاکستان بھی تعمیر ہو جائے گا اور وہ چھوٹا سا مسئلہ یہ ہے کہ نئی بلدیاتی سیاسی پنیری اتنی زیادہ نہ ہو جائے کہ کھیت میں فصل بونے کے لیے جگہ ہی باقی نہ رہے۔
کیونکہ اس مرتبہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ تقریباً آدھے لوگ تو امیدوار ہیں اور اگر یہ سارے منتخب ہو جائیں گے تو نمایندگی کے لیے ووٹر یا عوام کہاں سے لائے جائیں گے کیونکہ ووٹر ہٹیاں وچ نہیں لبھدے ۔۔۔ وہ قصہ تو آپ نے سنا ہی ہو گا کہ پولیس نے جوئے بازی میں چار آدمیوں کو پکڑ لیا تو ان میں سے ایک ایک کی سفارش آتی رہی اور وہ چھوٹتا رہا آخر میں صرف ایک بے چارہ باقی بچ گیا اور اس پر ایف آئی آر کاٹی جانے لگی تو اس نے کہا حضور اگر جان کی امان پاؤں تو کچھ عرض کروں صرف اتنا بتا دیجیے کہ میں اکیلا آخر کس کے ساتھ جوا کھیل رہا تھا۔
اور یہی دھڑکا ہمیں لگا ہوا ہے اگر یونہی نمایندوں کی تعداد بڑھتی رہی تو پھر ان کے لیے وہ بے چارا کہاں سے لایا جائے گا جس کی یہ سب نمایندگی کر رہے ہوتے ہیں اور اگر بالفرض مروجہ فیشن کے مطابق ان کو حکومتیں بھی کہا جانے لگا جیسے ویلج ون حکومت، ویلج ٹو، ویلج تھری حکومت، پھر یونین تحصیل اور ضلعی حکومت تو اتنی حکومتیں حکومت کس پر کریں گے جب ''خدمت'' لینے والا کوئی ہو گا ہی نہیں تو یہ خادم خدمت کس کی کریں گے؟ شاید اپنی مدد آپ کے اصول پر اپنی ہی خدمت کرنا نئے پاکستان کا مقصد ہو جسے ''سیاسی بوفے'' بھی کہہ سکتے ہیں۔