لوئر دیر ضمنی الیکشن … خواتین ووٹر کہاں غائب ہو گئیں

ضلعی الیکشن کمیشن کے مطابق تمام پولنگ اسٹیشنوں پر خواتین ووٹروں کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے

سوال یہ ہے کہ جس الیکشن میں 47 ہزار خواتین نے ووٹ ہی نہیں ڈالا، اس کی حیثیت کیا ہے؟۔ فوٹو : فائل

KARACHI:
خیبرپختونخوا کے علاقے لوئر دیر کی اسمبلی کی نشست جماعت اسلامی نے ضمنی انتخاب میں دوبارہ حاصل کر لی ہے جو امیر جماعت اسلامی سراج الحق کے مارچ میں سینیٹر بننے پر خالی ہوئی تھی تاہم اس انتخاب کا سب سے چشم کشا پہلو یہ ہے کہ انتخاب میں کسی ایک خاتون نے بھی ووٹ نہیں ڈالا حالانکہ وہاں خواتین کے رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد 47 ہزار سے زائد تھی۔ ضمنی انتخاب کے لیے 85 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے۔

جن میں سے کسی میں بھی کوئی خاتون ووٹ ڈالنے نہیں آئی۔ ضلعی الیکشن کمیشن کے مطابق تمام پولنگ اسٹیشنوں پر خواتین ووٹروں کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے، وہاں خواتین پولنگ اسٹاف بھی متعین کیا گیا مگر شام پانچ بجے ووٹنگ کا وقت ختم ہونے تک کوئی ایک خاتون بھی ووٹ ڈالنے نہیں آئی۔ ادھر امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے اخباری نمایندوں کو بتایا کہ ان کی پارٹی نے کبھی بھی خواتین کے ووٹ ڈالنے کی مخالفت نہیں کی۔ پولنگ کے دوران امیر جماعت نے خواتین سے اپیل بھی کی کہ وہ ووٹ ڈالنے آئیں۔


اے این پی کے امیدوار نے اخباری نمایندوں کو بتایا کہ کسی پارٹی نے عورتوں کو ووٹ ڈالنے سے منع نہیں کیا تاہم اگر خواتین خود ہی نہ آنا چاہتی ہوں تو ان کو زبردستی تو پولنگ اسٹیشنوں پر نہیں لایا جا سکتا تھا۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ اس صوبے میں عورتیں ووٹ ڈالنے نہیں آئیں۔ ماضی میں کئی بار ایسا ہو چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جس الیکشن میں 47 ہزار خواتین نے ووٹ ہی نہیں ڈالا، اس کی حیثیت کیا ہے؟

کیا وہاں سے الیکشن جیتنے والے امید وار کو عوام کا حقیقی نمایندہ کہا جا سکتا ہے؟ کیا یہ عجیب بات نہیں ہے کہ ایک گھرانے کے مرد تو ووٹ کاسٹ کر رہے ہیںلیکن اس گھرانے کی خواتین ووٹ ڈالنے نہیں آئیں۔الیکشن میں حصہ لینے والی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین،الیکشن لڑنے والے امیدواروں اورخیبر پختونخوا کی حکومت اور وفاقی حکومت کو اس پہلو پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
Load Next Story