ٹیکس دہندگان کے آڈٹ کیلیے الگ آڈٹ ڈویژن قائم کرنے پر غور

ٹیکس دہندگان کے آڈٹ کے فنکشن کو باقی ایف بی آر سے مکمل طور پر علیحدہ کردیا جائے

ٹیکس دہندگان کے آڈٹ کے فنکشن کو باقی ایف بی آر سے مکمل طور پر علیحدہ کردیا جائے اور اس کیلیے الگ سے آڈٹ ڈویژن قائم کیا جائے۔فوٹو : فائل

SUKKUR:
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2015-16 کے وفاقی بجٹ میں ٹیکس دہندگان کے آڈٹ کیلیے الگ سے آڈٹ ڈویژن قائم کرنے کی تجویز کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔

اس ضمن میں ذرائع نے بتایا کہ وزارت خزانہ کی جانب سے قائم کردہ ٹیکس اصلاحات کمیشن نے اپنی رپورٹ میں تجویز دی ہے کہ ٹیکس دہندگان کے آڈٹ کے فنکشن کو باقی ایف بی آر سے مکمل طور پر علیحدہ کردیا جائے اور اس کیلیے الگ سے آڈٹ ڈویژن قائم کیا جائے اور ٹیکس دہندگان کے آڈٹ کیلیے آڈٹ پلان کی تیاری اور ٹیکس دہندگان کے آڈٹ کی ذمے داری کا کام اسی ڈویژن کو سونپا جائے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ ٹیکس اصلاحات کمیشن کی طرف سے سفارش کی گئی ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کا آڈٹ سسٹم بہتر بنانے کیلیے سول سروس کے تربیت یافتہ سی ایس پی افسران کے بجائے سیمی گورنمنٹ، خودمختار ادارے قائم کیے جائیں اور ان اداروں میں اکاونٹنگ و آڈٹ پروفیشنلز کی خدمات حاصل کی جائیں۔


ٹیکس ریفامز کمیشن کی جانب سے یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ آڈٹ کے موجودہ نظام و پراسیس کو بہتر بنا کر اور ورک ری آرگنائزیشن کے ذریعے ٹیکس دہندگان و ٹیکس کلکٹرز کے درمیان براہ راست رابطے کو کم سے کم کیا جائے۔ اس کے علاوہ یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ ٹیکس دہندگان کے آڈٹ کیلیے قائم کیے جانیوالے اس آڈٹ ڈویژن کو سالانہ بنیادوں پر سرچ اور تحقیقاتی کام کی بنیادوں پر قومی آڈٹ پلان مرتب کرنے کی ذمے داری سونپی جائے اور فیلڈ فارمشنز میں کیے جانیوالے آڈٹ کی نگرانی اور اسکروٹنی کا اختیار بھی براہ راست اس آڈٹ ڈویژن کے پاس ہونا چاہیے۔

علاوہ ازیں آڈٹ پراسیس کی معقول و باضابطہ ڈاکیومنٹیشن ہونی چاہیے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹیکس دہندگان کا آڈٹ کسی بھی ریونیو اتھارٹی کا اہم ترین کام ہے، اس کام پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آڈٹ ونگ اور فیلڈ فارمشنز کا موجودہ نظام ایک افسر کیلیے سالانہ ساڑھے چھ سو ٹیکس دہندگان کا آڈٹ مکمل کرنے کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام ہے لہٰذا ضرورت ہے کہ اگلے بجٹ میں آڈٹ کے حوالے سے خصوصی اقدامات متعارف کروائے جائیں جس کیلیے آڈٹ ڈویژن قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
Load Next Story