مقبوضہ کشمیرمیں یاسین ملک سمیت متعدد حریت رہنما گرفتار
بارہ مولا میں بھارتی افواج کی گولہ باری سے تباہ شدہ مکانات کے متاثرین سے یاسین ملک کو ملنے نہیں دیاگیا
بارہ مولا میں بھارتی افواج کی گولہ باری سے تباہ شدہ مکانات کے متاثرین سے یاسین ملک کو ملنے نہیں دیاگیا۔ فوٹو: اے ایف پی
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس نے جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک، انجینئر ہلال احمد وار، جاوید احمد میر اور شوکت احمد بخشی سمیت متعدد حریت رہنماؤں کو سری نگر سے گرفتار لیاجبکہ میر واعظ عمر فاروق اور نعیم خان کو ان کے گھروں میں نظربند کر دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق پولیس نے یاسین ملک کو پارٹی رہنماؤں شوکت احمد بخشی ، بشیر کشمیری اور محمد یونس سمیت سری نگر کے علاقے پرمپورہ سے گرفتار کرلیا۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما ہلال احمد وار، جاوید احمد میر اور محمد شفیع ایک عوامی ریلی کی قیادت کرنے کیلیے بیج بہاڑہ جار ہے تھے تاہم پولیس نے انھیں پانتھہ چھوک سے گرفتار کر کے مقامی تھانے میں منتقل کردیا۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ شاہد الاسلام نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ میر واعظ کو بیج بہاڑہ میں ایک عوامی ریلی سے خطاب کرنا تھا۔
نعیم احمد خان نے ٹیلی فون پر صحافیوں کو بتایا کہ پولیس کی اس کارروائی سے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ مفتی سعید کے لوگوں کے زخموں پرمرہم رکھنے کے دعوے بے نقاب ہو گئے ہیں۔ دریں اثنا جدوجہد آزادی میں سرگرم8 تنظیموں نے باضابطہ طور پر حریت کانفرنس گیلانی گروپ میں شامل ہونے کا اعلان کرتے ہوئے تجدید عہد کیا ہے کہ جب تک بھارت کا ایک بھی سپاہی جموں کشمیر میں موجود ہے جدوجہد کو ہر صورت میں جاری و ساری رکھا جائے گا اور کشمیر کی مکمل آزادی سے کم کسی بھی طرح کے حل پر سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا۔
اسلام آبادسے نمائندہ ایکسپریس کے مطابق جموں وکشمیرلبریشن فرنٹ کے چیئرمین یاسین ملک کو جمعے کو سری نگر میں اس وقت گرفتار کر لیاگیاجب وہ بھارتی افواج کی گولہ باری سے بارہ مولامیں درجن سے زائد تباہ شدہ مکانات کے متاثرین سے ملنے جا رہے تھے۔ جے کے ایل ایف نے بھارتی فوج اور سیکیورٹی ایجنسیوں کی جانب سے یاسین ملک اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما ہلال احمد وار، جاوید احمد میر اور محمد شفیع ایک عوامی ریلی کی قیادت کرنے کیلیے بیج بہاڑہ جار ہے تھے تاہم پولیس نے انھیں پانتھہ چھوک سے گرفتار کر کے مقامی تھانے میں منتقل کردیا۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ شاہد الاسلام نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ میر واعظ کو بیج بہاڑہ میں ایک عوامی ریلی سے خطاب کرنا تھا۔
نعیم احمد خان نے ٹیلی فون پر صحافیوں کو بتایا کہ پولیس کی اس کارروائی سے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ مفتی سعید کے لوگوں کے زخموں پرمرہم رکھنے کے دعوے بے نقاب ہو گئے ہیں۔ دریں اثنا جدوجہد آزادی میں سرگرم8 تنظیموں نے باضابطہ طور پر حریت کانفرنس گیلانی گروپ میں شامل ہونے کا اعلان کرتے ہوئے تجدید عہد کیا ہے کہ جب تک بھارت کا ایک بھی سپاہی جموں کشمیر میں موجود ہے جدوجہد کو ہر صورت میں جاری و ساری رکھا جائے گا اور کشمیر کی مکمل آزادی سے کم کسی بھی طرح کے حل پر سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا۔
اسلام آبادسے نمائندہ ایکسپریس کے مطابق جموں وکشمیرلبریشن فرنٹ کے چیئرمین یاسین ملک کو جمعے کو سری نگر میں اس وقت گرفتار کر لیاگیاجب وہ بھارتی افواج کی گولہ باری سے بارہ مولامیں درجن سے زائد تباہ شدہ مکانات کے متاثرین سے ملنے جا رہے تھے۔ جے کے ایل ایف نے بھارتی فوج اور سیکیورٹی ایجنسیوں کی جانب سے یاسین ملک اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔