سوئس حکام کو خط لکھنے کا حکومتی فیصلہ
این آر اور عملدرآمد کیس کے حوالے سے گزشتہ چار برس میں کئی نشیب و فراز آتے رہے
فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ یہ خط وزارتِ خارجہ کے ذریعے سوئٹزرلینڈ میں پاکستانی سفیر کو بھجوایا جائے گا اور وہ خود یا ان کا کوئی نمایندہ اسے سوئس اٹارنی جنرل کے حوالے کرے گا۔ فوٹو: فائل
سپریم کورٹ نے حکومت پاکستان کی جانب سے سوئس حکام کو منی لانڈرنگ کے مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے مجوزہ خط کے مسودے کی منظوری دے دی ہے ۔
عدالت عظمیٰ نے حکومت کو 4 ہفتے میں سوئس اٹارنی جنرل کو خط پہنچانے کا پراسس مکمل کر کے وصولی کی مصدقہ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ بدھ کو حکومت اور عدلیہ کے درمیان پونے 3 سال سے جاری تنازع اس وقت بخیر وخوبی اختتام پذیر ہوا جب وزیر قانون فاروق نائیک کی جانب سے پیش کیے جانے والے مسود ے پر سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے اطمینان کا اظہار کیا اور باقی پراسس مکمل کر نے کی ہدایت کی۔ وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک کی جانب سے عدالت عظمیٰ کے سامنے پیش کردہ خط کے مسودہ میں کہا گیا ہے کہ ''حکومت پاکستان سابق اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم کی جانب سے بھجوائے گئے اس مراسلے کو واپس لے رہی ہے جس کے تحت سوئس حکام کو منی لانڈرنگ کے مقدمات بند کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ اس خط کے بارے میں ایسا تصور کیا جائیگا کہ یہ کبھی سوئس حکام کو لکھا ہی نہیں گیا تھا' اس لیے متعلقہ مقدمات میں قانونی معاونت کو بحال کر دیا جائے۔
البتہ یہ بات پیش نظر رکھی جائے کہ صدور اور سربراہان ریاست کو آئینی استثنیٰ حاصل ہوتا ہے''۔ وفاقی وزیر قانون نے سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ سے استدعا کی کہ وزیراعظم کو جاری کیے گئے اظہار وجوہ کے نوٹس خارج کر دیئے جائیں جس پر فاضل عدالت نے ریمارکس دیے کہ جب خط سوئس اٹارنی جنرل کو جنیواء میں موصول ہوجائے گا تو وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم کر دی جائے گی۔ اطلاعات کے مطابق مسودے میں سربراہان ریاست، صدر مملکت کو مقدمات سے استثنیٰ کا بھی ذکر ہے، خط انگریزی اور فرانسیسی زبانوں میں لکھا جائے گا۔ عدالت کے استفسار پر فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ یہ خط وزارتِ خارجہ کے ذریعے سوئٹزرلینڈ میں پاکستانی سفیر کو بھجوایا جائے گا اور وہ خود یا ان کا کوئی نمایندہ اسے سوئس اٹارنی جنرل کے حوالے کرے گا۔
جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ اس کیس کی سماعت کررہا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے27 ستمبر کو پیش کیے جانے والے حکومتی خط کے نئے مسودے پر اعتراض کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ 5 اکتوبر کو خط کے حتمی مسودے کو عدالت کے فیصلے کی روشنی میں نہ لکھا گیا تو عدالت توہین عدالت کی کارروائی آگے بڑھانے پر مجبور ہو گی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے آیندہ سماعت پر این آر او فیصلے کے مطابق خط کا مسودہ پیش کر نے کی یقین دہانی کرائی تھی، اس کے بعد جو نیا مسودہ پیش ہوا' اس میں بھی ایک دو غلطیوں کی نشاندہی ہوئی اور عدالت نے حکومت کو مزید مہلت دی ۔ آخر کار بدھ کو پیش ہونے والے مسودے پر عدلیہ کو اطمینان ہو گیا اور یوں طویل عرصے سے چلا آنے والا یہ مسئلہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا۔
جب سے راجہ پرویز اشرف وزیراعظم بنے ہیں، اس وقت سے ہی ایسے اشارے سامنے آرہے تھے کہ حکومت سوئس حکام کو خط لکھنے کے ایشو کو حل کرنے میں خاصی سنجیدہ ہے۔ وزیر قانون فاروق ایچ نائیک بڑے اعتماد سے یہ کہتے چلے آ رہے تھے کہ عدالت کی آبزرویشن کی روشنی میں خط کا معاملہ خوش اسلوبی کے ساتھ حل ہو جائے گا۔ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف بھی کئی بار کہہ چکے تھے کہ عدالت عظمیٰ کی ہدایت کے مطابق اس معاملے کو حل کر لیا جائے۔ ان حوصلہ افزا بیانات اور اشاروں سے کسی غیر متوقع یا نا خوشگوار صورتحال کے پیدا ہونے کی امید نہیں تھی اور اگلے روز ایسا ہی ہوا۔
این آر اور عملدرآمد کیس کے حوالے سے گزشتہ چار برس میں کئی نشیب و فراز آتے رہے۔ عدالت کا فیصلہ تھا کہ حکومت سوئس حکام کو خط لکھے لیکن حکومت ایسا کرنے سے انکار کرتی رہی۔ یوں یہ معاملہ پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتا چلا گیا۔ قیاس آرائیوں اور افواہوں کا بازار گرم ہو گیا۔ بحران اس نہج تک پہنچ گیا کہ ایک وزیر اعظم اسی کیس کی بھینٹ چڑھ گئے۔ یوسف رضا گیلانی توہین عدالت کے جرم میں پانچ برس کے لیے نااہل قرار پائے۔ راجہ پرویز اشرف جب وزیراعظم بنے تو ان کے سامنے بھی یہی کیس تھا۔ جب انھوں نے منصب سنبھالا تو اس وقت بھی انھوں نے اسی امید کا اظہار کیا تھا کہ حکومت آئین و قانون کی سر بلندی کے لیے کام کرے گی۔
بعض مبصرین اور تجزیہ نگار یہ رائے دیتے رہے کہ حکومت سوئس حکام کو خط نہیں لکھے گی اور بالآخر ٹکرائو ہو گا۔ ان خیالات کو تقویت یوں ملتی رہی کہ راجہ پرویز اشرف کی حکومت بھی سوئس حکام کو خط لکھنے کے معاملے پر مہلت طلب کرتی رہی۔ دوسری جانب عدالت عظمیٰ یہ استدعا منظور کرتی رہی۔ یوں ٹکرائو ٹلتا رہا ہے کیونکہ معاملات آئین اور قانون کے دائرے میں ہی رہے۔ اس دوران کوئی گرما گرمی نظر نہیں آئی۔ اس صورتحال کو مثبت قرار دیا جاتا رہا ہے اور آخر کار وہ دن آ گیا جب این آر او کیس سے جنم لینے والا قضیہ ختم ہوگیا۔
ملک کے فہمیدہ حلقوں کی شروع دن سے یہ تمنا اور خواہش رہی ہے کہ اس معاملے کو خوش اسلوبی سے طے ہو جانا چاہیے تا کہ سسٹم چلتا رہے۔ یہ ایشو' کئی برس تک حکومت اور اعلیٰ عدلیہ کے مابین اختلافات اور تناؤ کا باعث بنا رہا ہے۔ اس بارے میں دو آرا نہیں ہو سکتیں کہ یہ ایک آئینی اور قانونی مسئلہ تھا جس پر آئین اور قانون کی روح کے مطابق عمل درآمد ہونا چاہیے تھا۔ یہ امر اطمینان بخش ہے کہ عدلیہ اور حکومت دونوں نے حدود سے تجاوز نہیں کیا۔ فریقین آئین و قانون کا سہارا لیتے رہے اور آخر کار آئین وقانون کی ہی فتح ہوئی۔
اب حکومت کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ سوئس حکام کو عدالت کے مقرر کردہ ٹائم میں خط لکھ دے تاکہ یہ ایشو ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔ اس ساری صورت حال کا ایک خوشگوار اور خوش کن پہلو یہ ہے کہ جمہوری سیٹ اپ پوری کامیابی سے چلتا رہا۔ افواہیں اڑتی رہیں لیکن حکومت نے آئین اور قانون کا راستہ اختیار کیا۔ دوسری جانب عدالت عظمیٰ نے بھی ذرہ برابر بھی یہ تاثر پیدا نہیں ہونے دیا کہ وہ آئینی اور قانونی راستے سے ہٹ کر کوئی درمیانی راہ تلاش کر رہی ہے۔ یوں دیکھا جائے تو اس کیس سے ثابت ہو گیا کہ پاکستان میں آئین اور قانون کی بالادستی قائم ہے۔ اب حکومت کو سسٹم کو مستحکم کرنے کے لیے پوری توجہ سے کام کرنا چاہیے۔
عدالت عظمیٰ نے حکومت کو 4 ہفتے میں سوئس اٹارنی جنرل کو خط پہنچانے کا پراسس مکمل کر کے وصولی کی مصدقہ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ بدھ کو حکومت اور عدلیہ کے درمیان پونے 3 سال سے جاری تنازع اس وقت بخیر وخوبی اختتام پذیر ہوا جب وزیر قانون فاروق نائیک کی جانب سے پیش کیے جانے والے مسود ے پر سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے اطمینان کا اظہار کیا اور باقی پراسس مکمل کر نے کی ہدایت کی۔ وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک کی جانب سے عدالت عظمیٰ کے سامنے پیش کردہ خط کے مسودہ میں کہا گیا ہے کہ ''حکومت پاکستان سابق اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم کی جانب سے بھجوائے گئے اس مراسلے کو واپس لے رہی ہے جس کے تحت سوئس حکام کو منی لانڈرنگ کے مقدمات بند کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ اس خط کے بارے میں ایسا تصور کیا جائیگا کہ یہ کبھی سوئس حکام کو لکھا ہی نہیں گیا تھا' اس لیے متعلقہ مقدمات میں قانونی معاونت کو بحال کر دیا جائے۔
البتہ یہ بات پیش نظر رکھی جائے کہ صدور اور سربراہان ریاست کو آئینی استثنیٰ حاصل ہوتا ہے''۔ وفاقی وزیر قانون نے سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ سے استدعا کی کہ وزیراعظم کو جاری کیے گئے اظہار وجوہ کے نوٹس خارج کر دیئے جائیں جس پر فاضل عدالت نے ریمارکس دیے کہ جب خط سوئس اٹارنی جنرل کو جنیواء میں موصول ہوجائے گا تو وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم کر دی جائے گی۔ اطلاعات کے مطابق مسودے میں سربراہان ریاست، صدر مملکت کو مقدمات سے استثنیٰ کا بھی ذکر ہے، خط انگریزی اور فرانسیسی زبانوں میں لکھا جائے گا۔ عدالت کے استفسار پر فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ یہ خط وزارتِ خارجہ کے ذریعے سوئٹزرلینڈ میں پاکستانی سفیر کو بھجوایا جائے گا اور وہ خود یا ان کا کوئی نمایندہ اسے سوئس اٹارنی جنرل کے حوالے کرے گا۔
جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ اس کیس کی سماعت کررہا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے27 ستمبر کو پیش کیے جانے والے حکومتی خط کے نئے مسودے پر اعتراض کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ 5 اکتوبر کو خط کے حتمی مسودے کو عدالت کے فیصلے کی روشنی میں نہ لکھا گیا تو عدالت توہین عدالت کی کارروائی آگے بڑھانے پر مجبور ہو گی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے آیندہ سماعت پر این آر او فیصلے کے مطابق خط کا مسودہ پیش کر نے کی یقین دہانی کرائی تھی، اس کے بعد جو نیا مسودہ پیش ہوا' اس میں بھی ایک دو غلطیوں کی نشاندہی ہوئی اور عدالت نے حکومت کو مزید مہلت دی ۔ آخر کار بدھ کو پیش ہونے والے مسودے پر عدلیہ کو اطمینان ہو گیا اور یوں طویل عرصے سے چلا آنے والا یہ مسئلہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا۔
جب سے راجہ پرویز اشرف وزیراعظم بنے ہیں، اس وقت سے ہی ایسے اشارے سامنے آرہے تھے کہ حکومت سوئس حکام کو خط لکھنے کے ایشو کو حل کرنے میں خاصی سنجیدہ ہے۔ وزیر قانون فاروق ایچ نائیک بڑے اعتماد سے یہ کہتے چلے آ رہے تھے کہ عدالت کی آبزرویشن کی روشنی میں خط کا معاملہ خوش اسلوبی کے ساتھ حل ہو جائے گا۔ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف بھی کئی بار کہہ چکے تھے کہ عدالت عظمیٰ کی ہدایت کے مطابق اس معاملے کو حل کر لیا جائے۔ ان حوصلہ افزا بیانات اور اشاروں سے کسی غیر متوقع یا نا خوشگوار صورتحال کے پیدا ہونے کی امید نہیں تھی اور اگلے روز ایسا ہی ہوا۔
این آر اور عملدرآمد کیس کے حوالے سے گزشتہ چار برس میں کئی نشیب و فراز آتے رہے۔ عدالت کا فیصلہ تھا کہ حکومت سوئس حکام کو خط لکھے لیکن حکومت ایسا کرنے سے انکار کرتی رہی۔ یوں یہ معاملہ پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتا چلا گیا۔ قیاس آرائیوں اور افواہوں کا بازار گرم ہو گیا۔ بحران اس نہج تک پہنچ گیا کہ ایک وزیر اعظم اسی کیس کی بھینٹ چڑھ گئے۔ یوسف رضا گیلانی توہین عدالت کے جرم میں پانچ برس کے لیے نااہل قرار پائے۔ راجہ پرویز اشرف جب وزیراعظم بنے تو ان کے سامنے بھی یہی کیس تھا۔ جب انھوں نے منصب سنبھالا تو اس وقت بھی انھوں نے اسی امید کا اظہار کیا تھا کہ حکومت آئین و قانون کی سر بلندی کے لیے کام کرے گی۔
بعض مبصرین اور تجزیہ نگار یہ رائے دیتے رہے کہ حکومت سوئس حکام کو خط نہیں لکھے گی اور بالآخر ٹکرائو ہو گا۔ ان خیالات کو تقویت یوں ملتی رہی کہ راجہ پرویز اشرف کی حکومت بھی سوئس حکام کو خط لکھنے کے معاملے پر مہلت طلب کرتی رہی۔ دوسری جانب عدالت عظمیٰ یہ استدعا منظور کرتی رہی۔ یوں ٹکرائو ٹلتا رہا ہے کیونکہ معاملات آئین اور قانون کے دائرے میں ہی رہے۔ اس دوران کوئی گرما گرمی نظر نہیں آئی۔ اس صورتحال کو مثبت قرار دیا جاتا رہا ہے اور آخر کار وہ دن آ گیا جب این آر او کیس سے جنم لینے والا قضیہ ختم ہوگیا۔
ملک کے فہمیدہ حلقوں کی شروع دن سے یہ تمنا اور خواہش رہی ہے کہ اس معاملے کو خوش اسلوبی سے طے ہو جانا چاہیے تا کہ سسٹم چلتا رہے۔ یہ ایشو' کئی برس تک حکومت اور اعلیٰ عدلیہ کے مابین اختلافات اور تناؤ کا باعث بنا رہا ہے۔ اس بارے میں دو آرا نہیں ہو سکتیں کہ یہ ایک آئینی اور قانونی مسئلہ تھا جس پر آئین اور قانون کی روح کے مطابق عمل درآمد ہونا چاہیے تھا۔ یہ امر اطمینان بخش ہے کہ عدلیہ اور حکومت دونوں نے حدود سے تجاوز نہیں کیا۔ فریقین آئین و قانون کا سہارا لیتے رہے اور آخر کار آئین وقانون کی ہی فتح ہوئی۔
اب حکومت کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ سوئس حکام کو عدالت کے مقرر کردہ ٹائم میں خط لکھ دے تاکہ یہ ایشو ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔ اس ساری صورت حال کا ایک خوشگوار اور خوش کن پہلو یہ ہے کہ جمہوری سیٹ اپ پوری کامیابی سے چلتا رہا۔ افواہیں اڑتی رہیں لیکن حکومت نے آئین اور قانون کا راستہ اختیار کیا۔ دوسری جانب عدالت عظمیٰ نے بھی ذرہ برابر بھی یہ تاثر پیدا نہیں ہونے دیا کہ وہ آئینی اور قانونی راستے سے ہٹ کر کوئی درمیانی راہ تلاش کر رہی ہے۔ یوں دیکھا جائے تو اس کیس سے ثابت ہو گیا کہ پاکستان میں آئین اور قانون کی بالادستی قائم ہے۔ اب حکومت کو سسٹم کو مستحکم کرنے کے لیے پوری توجہ سے کام کرنا چاہیے۔