فتح سے پاکستانی ٹیم کے مُرجھائے چہرے کھل اُٹھے
ٹیسٹ کرکٹ میں ہماری کارکردگی کافی بہتر رہی، ہم نے پہلے مقابلے میں بھی اچھا پرفارم کیا، مصباح الحق
ٹیسٹ کرکٹ میں ہماری کارکردگی کافی بہتر رہی، ہم نے پہلے مقابلے میں بھی اچھا پرفارم کیا، مصباح الحق۔ فوٹو : اے ایف پی
دورہ بنگلہ دیش کی واحد فتح سے پاکستانی ٹیم کے مرجھائے چہرے کھل اٹھے، کپتان مصباح الحق نے کہاکہ کھلاڑیوں کا اعتماد بحال ہوگیا، ٹیسٹ سیریز میں پرفارمنس بہترین رہی،کئی مثبت چیزیں حاصل ہوئیں، فالو آن نہ کرانے کا فیصلہ بنگال ٹائیگرز کو مکمل طور پر بے بس کرنے کیلیے کیا۔
مصباح نے زمبابوین ٹیم کی پاکستان آمد کو خوش آئند قرار دیا اور اس بار بھی ٹیسٹ فارمیٹ سے ریٹائرمنٹ کا سوال مذاق میں اڑا گئے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان نے دوسرے ٹیسٹ میں بنگلہ دیش کو 328 رنز سے شکست دیکر سیریز 1-0 سے اپنے نام کرلی، یہ ٹیم کی ٹور میں پہلی اور آخری کامیابی رہی۔ کپتان مصباح الحق نے کہاکہ ٹیسٹ کرکٹ میں ہماری کارکردگی کافی بہتر رہی، ہم نے پہلے مقابلے میں بھی اچھا پرفارم کیا مگر میزبان سائیڈ نے زیادہ بہتر کھیلتے ہوئے میچ بچالیا تھا، مگر اس بار ہم انھیں گھیرنے میں کامیاب ہوگئے۔
دونوں میچز میں ہماری کارکردگی کافی اچھی رہی۔ انھوں نے کہا کہ یہاں کی کنڈیشنز فاسٹ بولرز کیلیے زیادہ اچھی نہیں تھیں اسکے باوجود ہم اس مقابلے میں مکمل 20 وکٹیں لینے میں کامیاب رہے۔ ایک سوال پر مصباح نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ یہ واحد فتح ہمارے لیے اس مایوس کن ٹور میں بحالی وقار کی طرح ہے، ہمیں مختلف وجوہات کو سامنے رکھنا چاہیے، ہماری ٹیم میں بہت زیادہ تبدیلیاں ہوئیں، ون ڈے اور ٹوئنٹی 20 میں بنگلہ دیشی ٹیم زیادہ تجربہ کار اور پلیئرز پانچ برس سے ایک ساتھ کھیل رہے ہیں، اس وجہ سے انھیں برتری حاصل رہی جبکہ ٹیسٹ میں ہم ان سے زیادہ تجربہ کار ہیں، پہلا ٹیسٹ ڈرا ہونے سے ہمیں مایوسی ہوئی مگر دوسرے میں ازالہ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
مصباح نے فتح کیلیے دبائو کے بارے میں کہا کہ ٹیسٹ میچ سے قبل ہی ہم نے واضح کردیا تھا کہ ہر میچ میں فتح کیلیے میدان میں اترتے ہیں، اس چیز کا دبائو تو ہوتا ہی ہے مگر آپ پوری توانائیوں سے کھیلتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جس طرح ٹور کے آغاز میں میزبان سائیڈ کھیلی اسکے پیش نظر کھلاڑیوں کا اعتماد بحال کرنے کیلیے ٹیسٹ سیریز جیتنا ضروری تھی،اب پلیئرز کا اعتماد واپس لوٹ آیا اور انھوں نے دوبارہ سے سپورٹرز کا اعتبار بھی حاصل کرلیا۔ زمبابوین ٹیم کے دورہ پاکستان کے حوالے سے مصباح نے کہاکہ یہ ہمارے لیے خوش کن لمحہ ہے۔
شائقین 2009 سے اپنے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کا انتظار کررہے ہیں، اگرچہ 6 برس بعد اپنے ہوم گرائونڈز پر میچز کا میں حصہ نہیں ہونگا مگر میری نیک تمنائیں ٹیم کیساتھ ہیں۔ دوسرے ٹیسٹ میں مضبوط پوزیشن کے باجود فالو آن نہ کرانے کے بارے میں انھوں نے کہاکہ جب آپ کے پاس حریف سائیڈ کو مکمل طور پر بے بس کرنے کا موقع ہو تو پھر اس طرح کے فیصلے کرتے ہیں۔ ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے سوال پر مصباح نے کہا کہ کوئی مجھے یہ بتا سکتا ہے کہ وہ کتنا عرصہ زندہ رہے گا؟ہوسکتا ہے کہ یہ میرا اس دنیا میں آخری دن ہو، بلاشبہ آپ نے اپنے مستقبل کے بارے میں کچھ پلان بنائے ہوتے ہیں لیکن فی الحال میں نے اس بارے میں کچھ نہیں سوچا۔
مصباح نے زمبابوین ٹیم کی پاکستان آمد کو خوش آئند قرار دیا اور اس بار بھی ٹیسٹ فارمیٹ سے ریٹائرمنٹ کا سوال مذاق میں اڑا گئے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان نے دوسرے ٹیسٹ میں بنگلہ دیش کو 328 رنز سے شکست دیکر سیریز 1-0 سے اپنے نام کرلی، یہ ٹیم کی ٹور میں پہلی اور آخری کامیابی رہی۔ کپتان مصباح الحق نے کہاکہ ٹیسٹ کرکٹ میں ہماری کارکردگی کافی بہتر رہی، ہم نے پہلے مقابلے میں بھی اچھا پرفارم کیا مگر میزبان سائیڈ نے زیادہ بہتر کھیلتے ہوئے میچ بچالیا تھا، مگر اس بار ہم انھیں گھیرنے میں کامیاب ہوگئے۔
دونوں میچز میں ہماری کارکردگی کافی اچھی رہی۔ انھوں نے کہا کہ یہاں کی کنڈیشنز فاسٹ بولرز کیلیے زیادہ اچھی نہیں تھیں اسکے باوجود ہم اس مقابلے میں مکمل 20 وکٹیں لینے میں کامیاب رہے۔ ایک سوال پر مصباح نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ یہ واحد فتح ہمارے لیے اس مایوس کن ٹور میں بحالی وقار کی طرح ہے، ہمیں مختلف وجوہات کو سامنے رکھنا چاہیے، ہماری ٹیم میں بہت زیادہ تبدیلیاں ہوئیں، ون ڈے اور ٹوئنٹی 20 میں بنگلہ دیشی ٹیم زیادہ تجربہ کار اور پلیئرز پانچ برس سے ایک ساتھ کھیل رہے ہیں، اس وجہ سے انھیں برتری حاصل رہی جبکہ ٹیسٹ میں ہم ان سے زیادہ تجربہ کار ہیں، پہلا ٹیسٹ ڈرا ہونے سے ہمیں مایوسی ہوئی مگر دوسرے میں ازالہ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
مصباح نے فتح کیلیے دبائو کے بارے میں کہا کہ ٹیسٹ میچ سے قبل ہی ہم نے واضح کردیا تھا کہ ہر میچ میں فتح کیلیے میدان میں اترتے ہیں، اس چیز کا دبائو تو ہوتا ہی ہے مگر آپ پوری توانائیوں سے کھیلتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جس طرح ٹور کے آغاز میں میزبان سائیڈ کھیلی اسکے پیش نظر کھلاڑیوں کا اعتماد بحال کرنے کیلیے ٹیسٹ سیریز جیتنا ضروری تھی،اب پلیئرز کا اعتماد واپس لوٹ آیا اور انھوں نے دوبارہ سے سپورٹرز کا اعتبار بھی حاصل کرلیا۔ زمبابوین ٹیم کے دورہ پاکستان کے حوالے سے مصباح نے کہاکہ یہ ہمارے لیے خوش کن لمحہ ہے۔
شائقین 2009 سے اپنے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کا انتظار کررہے ہیں، اگرچہ 6 برس بعد اپنے ہوم گرائونڈز پر میچز کا میں حصہ نہیں ہونگا مگر میری نیک تمنائیں ٹیم کیساتھ ہیں۔ دوسرے ٹیسٹ میں مضبوط پوزیشن کے باجود فالو آن نہ کرانے کے بارے میں انھوں نے کہاکہ جب آپ کے پاس حریف سائیڈ کو مکمل طور پر بے بس کرنے کا موقع ہو تو پھر اس طرح کے فیصلے کرتے ہیں۔ ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے سوال پر مصباح نے کہا کہ کوئی مجھے یہ بتا سکتا ہے کہ وہ کتنا عرصہ زندہ رہے گا؟ہوسکتا ہے کہ یہ میرا اس دنیا میں آخری دن ہو، بلاشبہ آپ نے اپنے مستقبل کے بارے میں کچھ پلان بنائے ہوتے ہیں لیکن فی الحال میں نے اس بارے میں کچھ نہیں سوچا۔