سقراط کی لگاتار تالیاں
ملک کے 18 کروڑ، کراچی کی دو کروڑ خاموش اکثریت گھر کے اندر گھر کے باہر اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھ رہی ہے
zaheerakhtar_beedri@yahoo.com
میں ایک بار پھر آپ کے سامنے 415 ق م یونان میں مشہور ڈرامہ نگار یوری پیڈیز کے پیش کیے گئے ڈرامے کا ایک منظرنامہ پیش کررہا ہوں۔
ایمفی تھیٹر میں پتھر کے پہاڑ کے اوپر جاتی ہوئی نشستوں پر ایتھنز کے تیس ہزار مشتاق شہری بیٹھے ڈرامہ شروع ہونے کے منتظر ہیں، کھلی عبائوں میں بیٹھے ان پرشوق ناظرین میں دنیائے سچائی اور سچ کو تسلیم کرانے کے لیے زہر کا پیالہ پی جانے والا وہ عظیم انسان سقراط بھی بیٹھا ہوا تھا۔ ایتھنز پیلوپوتیتائی جنگ میں مصروف تھا۔ یہ یونانیوں کی یونانیوں سے جنگ تھی، انسان انسان کا خون بہارہا تھا۔ یونانی یونانیوں کو قتل کررہے تھے، رشتے ناتوں، گنہگار بے گناہ کے امتیاز کے بغیر قتل و غارت گری کا سلسلہ جاری تھا۔ ایمفی تھیٹر کے وسیع و عریض ہال میں اچانک خاموشی چھا گئی۔ اداکاروں کے بوتھ سے ایک شبیہہ ابھری جو اس دور کے سمندری دیوتا پوسیڈون کی ہم شکل تھی۔ اداکار جو اونچے جوتے پہنے سربلند نظر آرہا تھا کہنے لگا:
تم اندھے کیسے ہوگئے ہو
اے شہروں کو روندنے والو!
بے گناہ انسانوں کو قتل کرنے والو!
معبدوں کو اجاڑنے والو!
مقبروں، قدما کی قبروں کو روندنے والو!
اسکولوں، عبادت گاہوں کو بموں سے اڑانے والو!
جلد ہی تم بھی مرجائوگے
اور جہنم میں جائوگے
کہا جاتا ہے کہ اداکار کے ان جملوں پر سقراط نے کھڑے ہو کر اتنی دیر تک تالیاں بجائیں کہ اداکار کو بار بار یہ جملے دہرانے پڑے۔ ڈرامہ نگار یوری پیڈیز تمام انسانوں سے محبت کرنے والا۔ یہ انسان عین جنگی ہذیان کے دوران جنگ کا حیوانی پن دِکھانے کی جرأت رکھتا تھا۔ یونان کے نوجوان گلی کوچوں میں یوری پیڈیز کے جملے دہراتے پھرتے تھے۔ یہ اہلِ فن اور اہلِ قلم کے لیے وہ خراجِ تحسین تھا، جس کا مستحق یوری پیڈیز تھا۔ ڈرامہ نگار فلیمون کہتا ہے ''اگر مجھے یقین ہوتا کہ مردہ لوگ شعور رکھتے ہیں تو یوری پیڈیز سے ملنے کی خاطر میں پھانسی لے لیتا۔ گوئٹے کہتا ہے ''کیا یوری پیڈیز کے بعد دنیا کی کسی قوم نے کوئی ایسا ڈرامہ نگار پیدا کیا ہے جو یوری پیڈیز کے جوتے سیدھے کرسکے؟
یونان 415 قبل مسیح میں جن حالات سے گزر رہا تھا۔ آج ہمارے ملک کے حالات اس سے کئی گنا زیادہ سنگین ہیں۔ دہشت گرد بارودی گاڑیوں، ٹائم بموں، خودکش حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے ہر روز سیکڑوں بے گناہ انسانوں کو انتہائی وحشیانہ انداز میں قتل کررہے ہیں اور ان کا نیٹ ورک ساری دنیا کو اپنے گھیرے میں لے رہا ہے۔ شمالی وزیرستان ان کی وحشیانہ کارروائیوں کا گڑھ بن گیا ہے۔ کراچی کے گلی کوچوں میں یہ پاگل اور وحشی انسان اپنی جڑیں مضبوط کررہے ہیں۔لیاری میں نوجوان لڑکے زندہ جلائے اور قتل کیے جارہے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کو جنّت کا لالچ دے کر ان سے خودکش حملے کرارہے ہیں۔
انسانی تاریخ کے سب سے بڑے جاہلوں نے ایک منظم انتہائی خفیہ منصوبہ بندی کے ساتھ کراچی جیسے باشعور اور بیدار شہر کے ہر علاقے پر یہ اپنا قبضہ مضبوط کررہے ہیں۔ ان کے پاس ناخواندہ لیکن جان سے گزر جانے والے نظریاتی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ ان کے پرفریب نظریے کو ماننے والوں کی ہمدردیاں انھیں حاصل ہیں۔ خاموش اکثریت کو اپنے گھنائونے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے عقایدی ہتھیار کے یہ مالک ہیں۔ عبادت گاہوں کے مورچے ان کے قبضے میں ہیں۔ جدید ہتھیار اور جدید کمیونیکیشن کی سہولتوں سے یہ آراستہ ہیں۔ سیکیورٹی فورسز میں ان کی جڑیں مضبوط ہورہی ہیں۔
ہمارا حکمران طبقہ تاریخ کے اس خطرناک ترین طوفان سے لاتعلق ہے یا نیم دلانہ اقدامات کررہا ہے۔ اپوزیشن اس طوفان کی خطرناکی کو محسوس کیے بغیر اپنے سیاسی مفادات کے حصول میں مصروف ہے۔ مذہبی جماعتوں کا خیال ہے کہ اگر یہ مذہبی دیوانے اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو انھیں بھی اقتدار میں حصّہ ملے گا۔ ملک کے 18 کروڑ، کراچی کی دو کروڑ خاموش اکثریت گھر کے اندر گھر کے باہر اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھ رہی ہے۔ یہ انتہا پسند طاقتیں ایسی خوف و دہشت کی فضا قائم کرنا چاہتی ہیں کہ عوام 1968 اور 1977 کی طرح سڑکوں پر آجائیں اور یہ وحشی عوام کے اشتعال سے فائدہ اٹھا کر اقتدار پر قبضہ کرلیں۔
مشرق وسطیٰ کی اسلامسٹ نئی منتخب حکومتیں بھی دہشت گردوں سے سخت خوف زدہ ہیں اور ان بے لگام طاقتوں کو ختم کرنے کے لیے سخت اقدامات کررہی ہیں۔ لیبیا کے 30 ہزار عوام نے دہشت گردوں کے اڈوں کو تہس نہس کردیا ہے۔ مصر کی اخوانی حکومت کی ایک عدالت نے 14 مذہبی انتہا پسند قاتلوں کو سزائے موت کا حکم سنایا ہے۔ شام میں بشار الاسد سے نجات حاصل کرنے کی جمہوری لڑائی میں شامی عوام کا کردار ثانوی ہے، اصل جنگ مذہبی انتہا پسند لڑرہے ہیں۔
اے اقتدار کے لیے مرے جانے والے سیاست دانو، اے دہشت گردوں کو زندگی دینے والی اسٹیبلشمنٹ کے کرتا دھرتاؤ! کیا جی ایچ کیو پر، مہران اور کامرہ ایئر بیس پر تباہ کن حملوں، ہزاروں سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کے قتل کے بعد بھی تم انھیں دوبارہ جلسوں، جلوسوں میڈیا کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے کی آزادی دینے کے نتائج و عواقب سے آگاہ ہو؟ کیا تمہیں اس بات کا علم نہیں کہ گستاخی رسول کے خلاف پرتشدد احتجاج، ٹارگٹ کلنگ، بینک ڈکیتیوں، اغوا برائے تاوان، منشیات اور اسلحے سے حاصل ہونے والا اربوں روپے کہاں جارہا ہے اور اس کا استعمال کہاں ہورہا ہے۔
یہ منظرنامہ یونان کے 415 ق م کے منظرنامے سے سو گنا زیادہ خطرناک منظرنامہ ہے لیکن اس منظرنامے میں کوئی یوری پیڈیز کوئی سقراط، کوئی گلیلیو نظر نہیں آتا۔ یہ وحشی مذہب سے محبت کرنے والی خاموش اکثریت کو انتہائی عیاری سے اپنے پیچھے کھڑی کرنے کی کوشش کررہی ہے، تاکہ جب وہ اقتدار کی طرف بڑھیں تو حکومت اور اپوزیشن سے بے زار یہ اکثریت ان کے پیچھے کھڑی ہوجائے، اگر ان بلائوں سے نجات حاصل کرنا ہو تو یہاں کے عوام کو لیبیا کے عوام کی طرح آگے بڑھ کر ان کے ٹھکانوں کو تہس نہس کرنا پڑے گا۔
مصر کی عدالتوں کی طرح ان درندوں کو پھانسیوں کی سزائیں دینا ہوگا۔ مصر کے حکمرانوں کی طرح ہمارے حکمرانوں کو سخت فیصلے کرنے ہوں گے۔ روشن خیال دانشوروں، قلم کاروں اور فنکاروں کو یوری پیڈیز، سقراط، گلیلیو بننا پڑے گا۔ یا پھر بارودی گاڑیوں، ٹائم بموں، خودکش حملوں اور ٹارگٹ کلر کا انتظار کرنا پڑے گا جو ہمیں 415 ق م سے بھی پیچھے دھکیلنے کی تیاری کررہے ہیں۔
ایمفی تھیٹر میں پتھر کے پہاڑ کے اوپر جاتی ہوئی نشستوں پر ایتھنز کے تیس ہزار مشتاق شہری بیٹھے ڈرامہ شروع ہونے کے منتظر ہیں، کھلی عبائوں میں بیٹھے ان پرشوق ناظرین میں دنیائے سچائی اور سچ کو تسلیم کرانے کے لیے زہر کا پیالہ پی جانے والا وہ عظیم انسان سقراط بھی بیٹھا ہوا تھا۔ ایتھنز پیلوپوتیتائی جنگ میں مصروف تھا۔ یہ یونانیوں کی یونانیوں سے جنگ تھی، انسان انسان کا خون بہارہا تھا۔ یونانی یونانیوں کو قتل کررہے تھے، رشتے ناتوں، گنہگار بے گناہ کے امتیاز کے بغیر قتل و غارت گری کا سلسلہ جاری تھا۔ ایمفی تھیٹر کے وسیع و عریض ہال میں اچانک خاموشی چھا گئی۔ اداکاروں کے بوتھ سے ایک شبیہہ ابھری جو اس دور کے سمندری دیوتا پوسیڈون کی ہم شکل تھی۔ اداکار جو اونچے جوتے پہنے سربلند نظر آرہا تھا کہنے لگا:
تم اندھے کیسے ہوگئے ہو
اے شہروں کو روندنے والو!
بے گناہ انسانوں کو قتل کرنے والو!
معبدوں کو اجاڑنے والو!
مقبروں، قدما کی قبروں کو روندنے والو!
اسکولوں، عبادت گاہوں کو بموں سے اڑانے والو!
جلد ہی تم بھی مرجائوگے
اور جہنم میں جائوگے
کہا جاتا ہے کہ اداکار کے ان جملوں پر سقراط نے کھڑے ہو کر اتنی دیر تک تالیاں بجائیں کہ اداکار کو بار بار یہ جملے دہرانے پڑے۔ ڈرامہ نگار یوری پیڈیز تمام انسانوں سے محبت کرنے والا۔ یہ انسان عین جنگی ہذیان کے دوران جنگ کا حیوانی پن دِکھانے کی جرأت رکھتا تھا۔ یونان کے نوجوان گلی کوچوں میں یوری پیڈیز کے جملے دہراتے پھرتے تھے۔ یہ اہلِ فن اور اہلِ قلم کے لیے وہ خراجِ تحسین تھا، جس کا مستحق یوری پیڈیز تھا۔ ڈرامہ نگار فلیمون کہتا ہے ''اگر مجھے یقین ہوتا کہ مردہ لوگ شعور رکھتے ہیں تو یوری پیڈیز سے ملنے کی خاطر میں پھانسی لے لیتا۔ گوئٹے کہتا ہے ''کیا یوری پیڈیز کے بعد دنیا کی کسی قوم نے کوئی ایسا ڈرامہ نگار پیدا کیا ہے جو یوری پیڈیز کے جوتے سیدھے کرسکے؟
یونان 415 قبل مسیح میں جن حالات سے گزر رہا تھا۔ آج ہمارے ملک کے حالات اس سے کئی گنا زیادہ سنگین ہیں۔ دہشت گرد بارودی گاڑیوں، ٹائم بموں، خودکش حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے ہر روز سیکڑوں بے گناہ انسانوں کو انتہائی وحشیانہ انداز میں قتل کررہے ہیں اور ان کا نیٹ ورک ساری دنیا کو اپنے گھیرے میں لے رہا ہے۔ شمالی وزیرستان ان کی وحشیانہ کارروائیوں کا گڑھ بن گیا ہے۔ کراچی کے گلی کوچوں میں یہ پاگل اور وحشی انسان اپنی جڑیں مضبوط کررہے ہیں۔لیاری میں نوجوان لڑکے زندہ جلائے اور قتل کیے جارہے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کو جنّت کا لالچ دے کر ان سے خودکش حملے کرارہے ہیں۔
انسانی تاریخ کے سب سے بڑے جاہلوں نے ایک منظم انتہائی خفیہ منصوبہ بندی کے ساتھ کراچی جیسے باشعور اور بیدار شہر کے ہر علاقے پر یہ اپنا قبضہ مضبوط کررہے ہیں۔ ان کے پاس ناخواندہ لیکن جان سے گزر جانے والے نظریاتی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ ان کے پرفریب نظریے کو ماننے والوں کی ہمدردیاں انھیں حاصل ہیں۔ خاموش اکثریت کو اپنے گھنائونے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے عقایدی ہتھیار کے یہ مالک ہیں۔ عبادت گاہوں کے مورچے ان کے قبضے میں ہیں۔ جدید ہتھیار اور جدید کمیونیکیشن کی سہولتوں سے یہ آراستہ ہیں۔ سیکیورٹی فورسز میں ان کی جڑیں مضبوط ہورہی ہیں۔
ہمارا حکمران طبقہ تاریخ کے اس خطرناک ترین طوفان سے لاتعلق ہے یا نیم دلانہ اقدامات کررہا ہے۔ اپوزیشن اس طوفان کی خطرناکی کو محسوس کیے بغیر اپنے سیاسی مفادات کے حصول میں مصروف ہے۔ مذہبی جماعتوں کا خیال ہے کہ اگر یہ مذہبی دیوانے اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو انھیں بھی اقتدار میں حصّہ ملے گا۔ ملک کے 18 کروڑ، کراچی کی دو کروڑ خاموش اکثریت گھر کے اندر گھر کے باہر اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھ رہی ہے۔ یہ انتہا پسند طاقتیں ایسی خوف و دہشت کی فضا قائم کرنا چاہتی ہیں کہ عوام 1968 اور 1977 کی طرح سڑکوں پر آجائیں اور یہ وحشی عوام کے اشتعال سے فائدہ اٹھا کر اقتدار پر قبضہ کرلیں۔
مشرق وسطیٰ کی اسلامسٹ نئی منتخب حکومتیں بھی دہشت گردوں سے سخت خوف زدہ ہیں اور ان بے لگام طاقتوں کو ختم کرنے کے لیے سخت اقدامات کررہی ہیں۔ لیبیا کے 30 ہزار عوام نے دہشت گردوں کے اڈوں کو تہس نہس کردیا ہے۔ مصر کی اخوانی حکومت کی ایک عدالت نے 14 مذہبی انتہا پسند قاتلوں کو سزائے موت کا حکم سنایا ہے۔ شام میں بشار الاسد سے نجات حاصل کرنے کی جمہوری لڑائی میں شامی عوام کا کردار ثانوی ہے، اصل جنگ مذہبی انتہا پسند لڑرہے ہیں۔
اے اقتدار کے لیے مرے جانے والے سیاست دانو، اے دہشت گردوں کو زندگی دینے والی اسٹیبلشمنٹ کے کرتا دھرتاؤ! کیا جی ایچ کیو پر، مہران اور کامرہ ایئر بیس پر تباہ کن حملوں، ہزاروں سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کے قتل کے بعد بھی تم انھیں دوبارہ جلسوں، جلوسوں میڈیا کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے کی آزادی دینے کے نتائج و عواقب سے آگاہ ہو؟ کیا تمہیں اس بات کا علم نہیں کہ گستاخی رسول کے خلاف پرتشدد احتجاج، ٹارگٹ کلنگ، بینک ڈکیتیوں، اغوا برائے تاوان، منشیات اور اسلحے سے حاصل ہونے والا اربوں روپے کہاں جارہا ہے اور اس کا استعمال کہاں ہورہا ہے۔
یہ منظرنامہ یونان کے 415 ق م کے منظرنامے سے سو گنا زیادہ خطرناک منظرنامہ ہے لیکن اس منظرنامے میں کوئی یوری پیڈیز کوئی سقراط، کوئی گلیلیو نظر نہیں آتا۔ یہ وحشی مذہب سے محبت کرنے والی خاموش اکثریت کو انتہائی عیاری سے اپنے پیچھے کھڑی کرنے کی کوشش کررہی ہے، تاکہ جب وہ اقتدار کی طرف بڑھیں تو حکومت اور اپوزیشن سے بے زار یہ اکثریت ان کے پیچھے کھڑی ہوجائے، اگر ان بلائوں سے نجات حاصل کرنا ہو تو یہاں کے عوام کو لیبیا کے عوام کی طرح آگے بڑھ کر ان کے ٹھکانوں کو تہس نہس کرنا پڑے گا۔
مصر کی عدالتوں کی طرح ان درندوں کو پھانسیوں کی سزائیں دینا ہوگا۔ مصر کے حکمرانوں کی طرح ہمارے حکمرانوں کو سخت فیصلے کرنے ہوں گے۔ روشن خیال دانشوروں، قلم کاروں اور فنکاروں کو یوری پیڈیز، سقراط، گلیلیو بننا پڑے گا۔ یا پھر بارودی گاڑیوں، ٹائم بموں، خودکش حملوں اور ٹارگٹ کلر کا انتظار کرنا پڑے گا جو ہمیں 415 ق م سے بھی پیچھے دھکیلنے کی تیاری کررہے ہیں۔