سراج الحق صاحب دیر آپ کی ذمے داری ہے
یہ خبریں بھی آئیں کہ کچھ مقامات پر مقامی جرگوں نے خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے
لاہور:
پانچ روز قبل خیبر پختون خوا اسمبلی کی نشست پی کے پچانوے لوئر دیر کے ضمنی انتخاب میں حسبِ توقع جماعتِ اسلامی کے امیدوار اعزاز الملک افکاری نے اپنے مدِ مقابل عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار حاجی سردار بہادر کو تین ہزار سے زائد ووٹوں سے ہرا دیا۔انیس سو اٹھاسی سے اب تک جماعتِ اسلامی نے یہ نشست پانچویں بار جیتی ہے۔جب کہ عوامی نیشنل پارٹی یہاں سے تین بار کامیاب ہو چکی ہے۔
اس ضمنی انتخاب میں تحریکِ انصاف نے جماعتِ اسلامی کی حمایت کی۔ انتخاب میں جمیعت علمائے اسلام ( ف ) کے سید انور خان ، راہِ حق پارٹی کے ضیا الحق حیدری ، تین آزاد امیدواروں میر زادہ ، لیاقت سیماب اور تحریکِ انصاف کے ناراض کارکن ڈاکٹر عبید الرحمان نے بھی حصہ لیا۔اس حلقے میں آٹے میں نمک برابر ووٹ پیپلز پارٹی کا بھی ہے۔
یہ نشست امیرِ جماعتِ اسلامی سراج الحق کے سینیٹ کا رکن بننے کے سبب خالی ہوئی تھی۔مئی دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات میں سراج الحق نے یہ نشست لگ بھگ بارہ ہزار ووٹوں کے فرق سے جیتی تھی۔
پی کے پچانوے میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد لگ بھگ ایک لاکھ ستائیس ہزار بتائی جاتی ہے۔ان میں سینتالیس ہزار دو سو اسی خواتین ووٹرز بھی شامل ہیں۔یعنی اس حلقے کا اکسٹھ اعشاریہ چھہتر فیصد ووٹ بینک مردوں اور اڑتیس اعشاریہ تئیس فیصد ووٹ بینک عورتوں پر مشتمل ہے۔حالانکہ حلقے میں خواتین کی مجموعی آبادی مردوں سے زائد یعنی پچاس اعشاریہ چار فیصد ہے۔
ضمنی انتخاب کے لیے پچاسی پولنگ اسٹیشنوں میں دو سو چھیاسٹھ پولنگ بوتھ بنائے گئے۔ہر پولنگ اسٹیشن پر خواتین ووٹروں کے لیے کم ازکم ایک بوتھ مختص کیا گیا اور خواتین پولنگ ایجنٹس بھی تھیں۔کسی ناخوشگواری سے نمٹنے کے لیے لگ بھگ ایک ہزار سیکیورٹی اہل کار بھی مامور تھے۔الیکشن کمیشن کے مقامی افسروں کے بقول بہت سی مساجد سے بارہا یہ اعلان بھی ہوا کہ خواتین ووٹ کا حق استعمال کریں۔
یہ خبریں بھی آئیں کہ کچھ مقامات پر مقامی جرگوں نے خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ البتہ پولنگ سے قبل تمام امیدوار اور جماعتیں اس تاثر کی تردید کرتی رہیں کہ وہ بذاتِ خود خواتین ووٹروں کو گھروں تک محدود کرنے کی بابت کسی خفیہ یا اعلانیہ فیصلے میں شریک ہیں۔ جماعتِ اسلامی کے مقامی امیر اور جیتنے والے امیدوار اعزاز الملک افکاری کہتے ہیں کہ جماعت نے نہ صرف اپنی خواتین پولنگ ایجنٹوں کی تربیت کی بلکہ خواتین ووٹروں سے بھی رابطہ کیا۔مگر عملاً یہ ہوا کہ کسی پولنگ اسٹیشن میں کسی خاتون نے آ کر ووٹ نہیں ڈالا۔
اس کے باوجود غیر رسمی نتائج کا اعلان ہوا۔جیتنے والوں نے مٹھائی تقسیم کی اور ہارنے والے اے این پی کے امیدوار خود کو اس قدر سادہ لوح ثابت کر رہے ہیں گویا ان پر پولنگ کے بعد اچانک سے منکشف ہوا کہ ارے یہ کیا غضب ہوا ! خواتین کو ووٹ دینے کے حق سے محروم رکھا گیا۔۔۔ اور یہ کہ الیکشن کمیشن نے نتائج کالعدم قرار نہیں دیے تو وہ انھیں عدالت میں چیلنج کریں گے۔واضح رہے کہ مئی دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات میں بھی اس حلقے میں بہت کم خواتین نے ووٹ ڈالنے کی جرات کی حالانکہ اس وقت تو سراج الحق بذات ِخود امیدوار تھے۔
گذشتہ برس جب سراج الحق امیرِ جماعتِ اسلامی منتخب ہوئے تو ان کے بیانات میں جمہوری روایات اور محروم عوامی طبقات کا تذکرہ اور درد گذشتہ امرا کی نسبت زیادہ محسوس ہوا۔ انھوں نے مزدوروں، کسانوں، غیرمسلم اقلیتوں کے حقوق اور خواتین کے سماجی کردار وغیرہ پر بارہا روشنی ڈالی۔کبھی کبھی تو یوں لگا گویا سراج الحق مزاجاً حسرتِ موہانی اور مولانا عبید اللہ سندھی کے افکار سے زیادہ قریب ہیں۔
حال ہی میں کراچی کے حلقہ دو سو چھیالیس کے ضمنی انتخاب میں جماعتِ اسلامی اگرچہ تیسرے نمبر پر رہی تاہم جماعت کی خاتون ورکروں نے نہ صرف محلہ وار کنویسنگ کی بلکہ خواتین ووٹروں کو پولنگ اسٹیشنوں تک جانے پر بھی آمادہ کیا۔لیکن وہی منظم جماعتِ اسلامی اپنے امیر کے گھر اور روایتی سیاسی گڑھ دیر میں اپنی خواتین ووٹرز کو پولنگ اسٹیشنز تک نہ لا پائی۔کیا اسے رواج کے مقابلے میں جماعت کی نظریاتی بے بسی سمجھا جائے یا پھر یوں جانا جائے کہ جو عمل کراچی میں حلال ہو ضروری نہیں کہ وہ دیر میں بھی حلال ہو۔ یعنی جیسا دیس ویسا بھیس۔۔۔۔۔
آپ کہہ سکتے ہیں کہ دیر جیسے علاقوں کی سوچ اور سماجی روایات پاکستان کے دیگر خطوں بالخصوص شہری علاقوں سے خاصی مختلف اور قدامتی ہیں لہذا اس بابت صرف جماعتِ اسلامی کے پیچھے لٹھ لے کے پڑنا چہ معنی دارد۔اور اگر یہ دوعملی کی سیاست ہے تو دیگر جماعتوں نے بھی تو اس کا مظاہرہ کیا ۔مثلاً عوامی نیشنل پارٹی باقی ملک میں قوم پرستانہ ترقی پسندی کا راگ الاپتی ہے اور خواتین کو برابری کے حقوق دینے کی بات بھی کرتی ہیں مگر دیر جیسے علاقوں میں اسے بھی رواجی نقاب پہننا پڑتا ہے۔تحریکِ انصاف کو اسلام آباد میں مخلوط دھرنے سے کوئی مسئلہ نہیں لیکن خیبر پختون خوا میں برسرِ اقتدار ہونے کے باوجود اسے قطعاً تشویش نہیں اگر ایک بھی خاتون دیر میں کسی پولنگ بوتھ تک نہ پہنچ سکے۔
مگر اس تناظر میں جماعتِ اسلامی پر فوکس کرنے کی کچھ خاص وجوہات ہیں۔ کیونکہ جماعتِ اسلامی دیگر مذہبی جماعتوں کے مقابلے میں یہ تاثر دیتی ہے کہ وہ کٹھ ملائیت کے خلاف ہے۔ آئین کی پاسداری اور جمہوری عمل کے پھیلاؤ پر یقین رکھتی ہے۔مسلح کے بجائے سیاسی جدوجہد کی قائل ہے۔ معاشرے کو ماضی کی بھول بھلیوں میں گھسیٹنے کے بجائے اسلام کے بنیادی اصولوں کو جدید زندگی پر منطبق کرکے سماج کو آگے لے جانا چاہتی ہے۔
جماعت خود کو کنوئیں کا مینڈک نہیں سمجھتی بلکہ عالمی تحریکات اور بدلتے حالات کو پرکھنے اور اس بابت واضح موقف اپنانے کا دعویٰ کرتی ہے۔جماعت کا بنیادی حلقہ پڑھے لکھے متوسط و نیم متوسط خواندہ طبقات پر مشتمل ہے۔جماعت کا تنظیمی ڈھانچہ دیگر پارٹیوں کے مقابلے میں زیادہ جمہوری اور خاندانی و شخصی سیاست سے پاک ہے۔جماعت اپنی ذیلی تنظیموں اور اداروں کے ذریعے متعدد طبقات کے ہم خیال لوگوں کو منظم کرکے انھیں اسٹریٹ پاور کی شکل دینے کا گر جانتی ہے اور اپنی بات رسمی و غیر رسمی میڈیا کے ذریعے دیگر طبقوں تک پہنچانا بھی آتا ہے۔
دیر بھی اسی پاکستان کا حصہ ہے جہاں جماعتِ اسلامی ایک مساویانہ غیر استحصالی نظام قائم کرنا چاہتی ہے۔قومی و صوبائی اسمبلیوں سے بلدیاتی سطح تک خواتین کی نمایندگی بتاتی ہے کہ جماعت انتخابی عمل میں خواتین کی عملی شرکت کے بھی خلاف نہیں۔تو پھر دیر کے انتخابی عمل میں جماعتِ اسلامی کی حامی خواتین کہاں چلی گئیں ؟ اور اگر دیر جیسے علاقوں میں جماعتِ اسلامی کی برسوں پرانی نظریاتی موجودگی کے باوجود قدیم رواجات اس قدر طاقتور ہیں تو پھر جماعت اتنے برس میں دیر جیسے علاقوں میں مسلسل انتخابی کامیابی کے علاوہ کونسی نظریاتی تبدیلی لا پائی ؟
کیا پختون ولی کا تصورِ غیرت یہی ہے ؟ اگر ہاں تو پھر ہر پشتون علاقہ اس تصور کو کیوں نہیں مانتا ؟ اور یہ بتانا کس کی ذمے داری ہے کہ کون سا رواج اسلامی ہے اور کون سا نہیں ؟ اگر جماعت اپنے گڑھ میں بھی یہ ثابت نہ کرپائے کہ وہ خواتین کے بنیادی آئینی اور قانونی حق کے تحفظ میں کتنی سنجیدہ ہے تو پھر اس کی کس بات پر کتنا اعتبار آئے ؟
محترم سراج الحق صاحب۔کیا یہ ممکن ہے کہ آپ دیر کے انتخابی عمل سے خواتین کے یکسر اخراج کے اسباب منظرِ عام پر لانے کے لیے نہ صرف جماعت کی سطح پر تحقیقاتی کریں بلکہ الیکشن کمیشن سے بھی اس کی چھان بین کا مطالبہ کریں ؟ ویسے تو یہ کام آپ کو پچھلے عام انتخابات کے فوراً بعد ہی کرلینا چاہیے تھا لیکن اب تو آپ بطور امیرِ جماعتِ اسلامی زیادہ بہتر تنظیمی اور قومی پوزیشن میں ہیں۔اگر آپ کسی وجہ سے یہ نہیں کرسکتے تو کم ازکم یہ تو کر ہی سکتے ہیں کہ دو ہزار اٹھارہ کے مجوزہ عام انتخابات تک اپنے خواتینی ووٹ بینک کو پوری طرح فعال اور تیار کر سکیں۔تاکہ آپ کی جماعت اور دیگر مذہبی سیاسی جماعتوں میں سوچ کا فرق ہما شما بھی عملاً محسوس کرسکے۔
محترم ! اگر آپ اپنی امارت کے دوران بھی عشروں میں گڑا یہ عمومی تاثر نہ اکھاڑ پائے کہ جماعتِ اسلامی کا بنیادی سیاسی المیہ یہ ہے کہ وہ شکاری کا بھی ساتھ دیتی ہے اور خرگوش کے ساتھ بھی دوڑنے کی ماہر ہے۔تو پھر آپ کی سادہ طبیعت ، دردمندی ، ذاتی درویشی اور استحصال کی ہر شکل ، سماجی منافقت و دوغلا پن ختم کرنے کا عزم اور الیکشن کمیشن کی مکمل خودمختاری کے مطالبے پر مبنی دل چھو لینے والی باتوں کو مجھ جیسے چھٹ بھئیے کب تک سراہتے جائیں ؟
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com پر کلک کیجیے )
پانچ روز قبل خیبر پختون خوا اسمبلی کی نشست پی کے پچانوے لوئر دیر کے ضمنی انتخاب میں حسبِ توقع جماعتِ اسلامی کے امیدوار اعزاز الملک افکاری نے اپنے مدِ مقابل عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار حاجی سردار بہادر کو تین ہزار سے زائد ووٹوں سے ہرا دیا۔انیس سو اٹھاسی سے اب تک جماعتِ اسلامی نے یہ نشست پانچویں بار جیتی ہے۔جب کہ عوامی نیشنل پارٹی یہاں سے تین بار کامیاب ہو چکی ہے۔
اس ضمنی انتخاب میں تحریکِ انصاف نے جماعتِ اسلامی کی حمایت کی۔ انتخاب میں جمیعت علمائے اسلام ( ف ) کے سید انور خان ، راہِ حق پارٹی کے ضیا الحق حیدری ، تین آزاد امیدواروں میر زادہ ، لیاقت سیماب اور تحریکِ انصاف کے ناراض کارکن ڈاکٹر عبید الرحمان نے بھی حصہ لیا۔اس حلقے میں آٹے میں نمک برابر ووٹ پیپلز پارٹی کا بھی ہے۔
یہ نشست امیرِ جماعتِ اسلامی سراج الحق کے سینیٹ کا رکن بننے کے سبب خالی ہوئی تھی۔مئی دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات میں سراج الحق نے یہ نشست لگ بھگ بارہ ہزار ووٹوں کے فرق سے جیتی تھی۔
پی کے پچانوے میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد لگ بھگ ایک لاکھ ستائیس ہزار بتائی جاتی ہے۔ان میں سینتالیس ہزار دو سو اسی خواتین ووٹرز بھی شامل ہیں۔یعنی اس حلقے کا اکسٹھ اعشاریہ چھہتر فیصد ووٹ بینک مردوں اور اڑتیس اعشاریہ تئیس فیصد ووٹ بینک عورتوں پر مشتمل ہے۔حالانکہ حلقے میں خواتین کی مجموعی آبادی مردوں سے زائد یعنی پچاس اعشاریہ چار فیصد ہے۔
ضمنی انتخاب کے لیے پچاسی پولنگ اسٹیشنوں میں دو سو چھیاسٹھ پولنگ بوتھ بنائے گئے۔ہر پولنگ اسٹیشن پر خواتین ووٹروں کے لیے کم ازکم ایک بوتھ مختص کیا گیا اور خواتین پولنگ ایجنٹس بھی تھیں۔کسی ناخوشگواری سے نمٹنے کے لیے لگ بھگ ایک ہزار سیکیورٹی اہل کار بھی مامور تھے۔الیکشن کمیشن کے مقامی افسروں کے بقول بہت سی مساجد سے بارہا یہ اعلان بھی ہوا کہ خواتین ووٹ کا حق استعمال کریں۔
یہ خبریں بھی آئیں کہ کچھ مقامات پر مقامی جرگوں نے خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ البتہ پولنگ سے قبل تمام امیدوار اور جماعتیں اس تاثر کی تردید کرتی رہیں کہ وہ بذاتِ خود خواتین ووٹروں کو گھروں تک محدود کرنے کی بابت کسی خفیہ یا اعلانیہ فیصلے میں شریک ہیں۔ جماعتِ اسلامی کے مقامی امیر اور جیتنے والے امیدوار اعزاز الملک افکاری کہتے ہیں کہ جماعت نے نہ صرف اپنی خواتین پولنگ ایجنٹوں کی تربیت کی بلکہ خواتین ووٹروں سے بھی رابطہ کیا۔مگر عملاً یہ ہوا کہ کسی پولنگ اسٹیشن میں کسی خاتون نے آ کر ووٹ نہیں ڈالا۔
اس کے باوجود غیر رسمی نتائج کا اعلان ہوا۔جیتنے والوں نے مٹھائی تقسیم کی اور ہارنے والے اے این پی کے امیدوار خود کو اس قدر سادہ لوح ثابت کر رہے ہیں گویا ان پر پولنگ کے بعد اچانک سے منکشف ہوا کہ ارے یہ کیا غضب ہوا ! خواتین کو ووٹ دینے کے حق سے محروم رکھا گیا۔۔۔ اور یہ کہ الیکشن کمیشن نے نتائج کالعدم قرار نہیں دیے تو وہ انھیں عدالت میں چیلنج کریں گے۔واضح رہے کہ مئی دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات میں بھی اس حلقے میں بہت کم خواتین نے ووٹ ڈالنے کی جرات کی حالانکہ اس وقت تو سراج الحق بذات ِخود امیدوار تھے۔
گذشتہ برس جب سراج الحق امیرِ جماعتِ اسلامی منتخب ہوئے تو ان کے بیانات میں جمہوری روایات اور محروم عوامی طبقات کا تذکرہ اور درد گذشتہ امرا کی نسبت زیادہ محسوس ہوا۔ انھوں نے مزدوروں، کسانوں، غیرمسلم اقلیتوں کے حقوق اور خواتین کے سماجی کردار وغیرہ پر بارہا روشنی ڈالی۔کبھی کبھی تو یوں لگا گویا سراج الحق مزاجاً حسرتِ موہانی اور مولانا عبید اللہ سندھی کے افکار سے زیادہ قریب ہیں۔
حال ہی میں کراچی کے حلقہ دو سو چھیالیس کے ضمنی انتخاب میں جماعتِ اسلامی اگرچہ تیسرے نمبر پر رہی تاہم جماعت کی خاتون ورکروں نے نہ صرف محلہ وار کنویسنگ کی بلکہ خواتین ووٹروں کو پولنگ اسٹیشنوں تک جانے پر بھی آمادہ کیا۔لیکن وہی منظم جماعتِ اسلامی اپنے امیر کے گھر اور روایتی سیاسی گڑھ دیر میں اپنی خواتین ووٹرز کو پولنگ اسٹیشنز تک نہ لا پائی۔کیا اسے رواج کے مقابلے میں جماعت کی نظریاتی بے بسی سمجھا جائے یا پھر یوں جانا جائے کہ جو عمل کراچی میں حلال ہو ضروری نہیں کہ وہ دیر میں بھی حلال ہو۔ یعنی جیسا دیس ویسا بھیس۔۔۔۔۔
آپ کہہ سکتے ہیں کہ دیر جیسے علاقوں کی سوچ اور سماجی روایات پاکستان کے دیگر خطوں بالخصوص شہری علاقوں سے خاصی مختلف اور قدامتی ہیں لہذا اس بابت صرف جماعتِ اسلامی کے پیچھے لٹھ لے کے پڑنا چہ معنی دارد۔اور اگر یہ دوعملی کی سیاست ہے تو دیگر جماعتوں نے بھی تو اس کا مظاہرہ کیا ۔مثلاً عوامی نیشنل پارٹی باقی ملک میں قوم پرستانہ ترقی پسندی کا راگ الاپتی ہے اور خواتین کو برابری کے حقوق دینے کی بات بھی کرتی ہیں مگر دیر جیسے علاقوں میں اسے بھی رواجی نقاب پہننا پڑتا ہے۔تحریکِ انصاف کو اسلام آباد میں مخلوط دھرنے سے کوئی مسئلہ نہیں لیکن خیبر پختون خوا میں برسرِ اقتدار ہونے کے باوجود اسے قطعاً تشویش نہیں اگر ایک بھی خاتون دیر میں کسی پولنگ بوتھ تک نہ پہنچ سکے۔
مگر اس تناظر میں جماعتِ اسلامی پر فوکس کرنے کی کچھ خاص وجوہات ہیں۔ کیونکہ جماعتِ اسلامی دیگر مذہبی جماعتوں کے مقابلے میں یہ تاثر دیتی ہے کہ وہ کٹھ ملائیت کے خلاف ہے۔ آئین کی پاسداری اور جمہوری عمل کے پھیلاؤ پر یقین رکھتی ہے۔مسلح کے بجائے سیاسی جدوجہد کی قائل ہے۔ معاشرے کو ماضی کی بھول بھلیوں میں گھسیٹنے کے بجائے اسلام کے بنیادی اصولوں کو جدید زندگی پر منطبق کرکے سماج کو آگے لے جانا چاہتی ہے۔
جماعت خود کو کنوئیں کا مینڈک نہیں سمجھتی بلکہ عالمی تحریکات اور بدلتے حالات کو پرکھنے اور اس بابت واضح موقف اپنانے کا دعویٰ کرتی ہے۔جماعت کا بنیادی حلقہ پڑھے لکھے متوسط و نیم متوسط خواندہ طبقات پر مشتمل ہے۔جماعت کا تنظیمی ڈھانچہ دیگر پارٹیوں کے مقابلے میں زیادہ جمہوری اور خاندانی و شخصی سیاست سے پاک ہے۔جماعت اپنی ذیلی تنظیموں اور اداروں کے ذریعے متعدد طبقات کے ہم خیال لوگوں کو منظم کرکے انھیں اسٹریٹ پاور کی شکل دینے کا گر جانتی ہے اور اپنی بات رسمی و غیر رسمی میڈیا کے ذریعے دیگر طبقوں تک پہنچانا بھی آتا ہے۔
دیر بھی اسی پاکستان کا حصہ ہے جہاں جماعتِ اسلامی ایک مساویانہ غیر استحصالی نظام قائم کرنا چاہتی ہے۔قومی و صوبائی اسمبلیوں سے بلدیاتی سطح تک خواتین کی نمایندگی بتاتی ہے کہ جماعت انتخابی عمل میں خواتین کی عملی شرکت کے بھی خلاف نہیں۔تو پھر دیر کے انتخابی عمل میں جماعتِ اسلامی کی حامی خواتین کہاں چلی گئیں ؟ اور اگر دیر جیسے علاقوں میں جماعتِ اسلامی کی برسوں پرانی نظریاتی موجودگی کے باوجود قدیم رواجات اس قدر طاقتور ہیں تو پھر جماعت اتنے برس میں دیر جیسے علاقوں میں مسلسل انتخابی کامیابی کے علاوہ کونسی نظریاتی تبدیلی لا پائی ؟
کیا پختون ولی کا تصورِ غیرت یہی ہے ؟ اگر ہاں تو پھر ہر پشتون علاقہ اس تصور کو کیوں نہیں مانتا ؟ اور یہ بتانا کس کی ذمے داری ہے کہ کون سا رواج اسلامی ہے اور کون سا نہیں ؟ اگر جماعت اپنے گڑھ میں بھی یہ ثابت نہ کرپائے کہ وہ خواتین کے بنیادی آئینی اور قانونی حق کے تحفظ میں کتنی سنجیدہ ہے تو پھر اس کی کس بات پر کتنا اعتبار آئے ؟
محترم سراج الحق صاحب۔کیا یہ ممکن ہے کہ آپ دیر کے انتخابی عمل سے خواتین کے یکسر اخراج کے اسباب منظرِ عام پر لانے کے لیے نہ صرف جماعت کی سطح پر تحقیقاتی کریں بلکہ الیکشن کمیشن سے بھی اس کی چھان بین کا مطالبہ کریں ؟ ویسے تو یہ کام آپ کو پچھلے عام انتخابات کے فوراً بعد ہی کرلینا چاہیے تھا لیکن اب تو آپ بطور امیرِ جماعتِ اسلامی زیادہ بہتر تنظیمی اور قومی پوزیشن میں ہیں۔اگر آپ کسی وجہ سے یہ نہیں کرسکتے تو کم ازکم یہ تو کر ہی سکتے ہیں کہ دو ہزار اٹھارہ کے مجوزہ عام انتخابات تک اپنے خواتینی ووٹ بینک کو پوری طرح فعال اور تیار کر سکیں۔تاکہ آپ کی جماعت اور دیگر مذہبی سیاسی جماعتوں میں سوچ کا فرق ہما شما بھی عملاً محسوس کرسکے۔
محترم ! اگر آپ اپنی امارت کے دوران بھی عشروں میں گڑا یہ عمومی تاثر نہ اکھاڑ پائے کہ جماعتِ اسلامی کا بنیادی سیاسی المیہ یہ ہے کہ وہ شکاری کا بھی ساتھ دیتی ہے اور خرگوش کے ساتھ بھی دوڑنے کی ماہر ہے۔تو پھر آپ کی سادہ طبیعت ، دردمندی ، ذاتی درویشی اور استحصال کی ہر شکل ، سماجی منافقت و دوغلا پن ختم کرنے کا عزم اور الیکشن کمیشن کی مکمل خودمختاری کے مطالبے پر مبنی دل چھو لینے والی باتوں کو مجھ جیسے چھٹ بھئیے کب تک سراہتے جائیں ؟
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com پر کلک کیجیے )