مسلم لیگ ن کی کامیابیاں اور اقتدارکے خاتمے کی افواہیں
پریس کانفرنس میں آئی ایم ایف جائزہ مشن سربراہ نے بھی پاکستان کی اقتصادی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا
رواں مالی سال کیلئے جی ڈی پی گروتھ ، قومی آمدنی، ملکی معیشت کے حجم سمیت دیگر تمام قومی اعشاریوں و اکاونٹس کو حتمی شکل دی جائے گی،فوٹو : فائل
پاکستان مسلم لیگ(ن)کی حکومت جون کے پہلے عشرے میں اپنا تیسرا بجٹ پیش کرنے جارہی ہے جس کیلئے تیاریاں اختتامی مراحل میں ہیں۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈاربیرون ممالک دوروں کے دوران بھی بجٹ سازی کے حوالے سے ویڈیو لنک کے ذریعے اہم اجلاس کرتے رہے ۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کے سالانہ اجلاس میں شرکت اور پھر آئی ایم ایف سے پچاس کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالر کی اگلی قسط حاصل کرنے کیلئے ساتویں اقتصادی جائزہ کیلئے دبئی میں جاری مذاکرات کی کامیابی سے تکمیل کے بعدآئی ایم ایف جائزہ مشن کے سربراہ ہیرلڈ فنگر کے ہمراہ بھرپور پریس کانفرنس کی ہے۔
جس میں آئی ایم ایف کے ساتھ ساتویں کامیاب اقتصادی جائزہ کی تکمیل بارے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ آئی ایم ایف جائزہ مشن پاکستان کے ساتویں اقتصادی جائزہ کی رپورٹ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کو پیش کریگا اورتوقع ہے کہ جون میں ہونے والے آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری کی صورت میں پاکستان کو پچاس کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالر کی قسط مل جائے گی ۔ تاہم وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا آئی ایم ایف جائزہ مشن کے سربراہ کے سامنے لائیو پریس کانفرنس میں یہ کہنا ہے کہ آئی ایم ایف ہمارا آقا نہیں ہے بلکہ ڈویلپمنٹ پارٹنر ہے بہت بڑی بات ہے۔
پریس کانفرنس میں آئی ایم ایف جائزہ مشن سربراہ نے بھی پاکستان کی اقتصادی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا اور بتایا کہ پروگرام آن ٹریک ہے البتہ ٹیکس وصولیاں مقررہ ہدف سے کچھ کم ہیں اور اس کی وجہ پٹرول کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ ساتھ دیگر عوامل ہیں مگر اس کے باوجود حکومت نے یقین دہانی کروائی ہے کہ رواں مالی سال کیلئے مالیاتی خسارے کا ہدف حاصل کرلیا جائیگا اور پاکستان نے یہ بھی یقین دہانی کروائی ہے کہ اگلے بجٹ میں مزید ریونیو اقدامات کئے جائیں گے، اس کے ساتھ ساتھ ٹیرف سبسڈی میں کمی کی جائے گی۔
ریونیو اقدامات کا جہاں تک تعلق ہے تو وزارت خزانہ حکام کا کہنا ہے کہ اگلے بجٹ میں ایک تہائی رعایتی ایس آر اوز واپس لئے جائیں گے جس سے ایک کھرب چالیس ارب روپے کے لگ بھگ اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے، اسی طرح ٹیرف سبسڈی میں کمی اور سرکلر ڈیبٹ کا مسئلہ حل کرنے کیلئے بھی پلان لایا جارہا ہے جس میں غالباً تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث بجلی کی قیمتوں میں کمی کا جو عوام کو ریلیف متوقع تھا شائد اسکی قربانی ہونے جا رہی ہے، جس کا کچھ اشارہ وزیر خزانہ نے بھی دیا ہے۔
اس سے قبل بھی ہم یہ کہہ چُکے ہیں کہ بجلی ، پانی اورگیس جیسے مسائل سے نبرد آزما ہونا جہاں حکومت کیلئے بڑے چیلنجز ہیں وہیں اگلا بجٹ بھی حکومت کیلئے ایک امتحان ہوگا کیونکہ اس وقت ملکی و عالمی سطح پر پاکستان کی اقتصادی ترقی و استحکام کے شادیانے بجائے جارہے ہیں ۔ اسٹینڈرز اینڈ پورز یو موڈیز ہو یا دوسرے کریڈٹ ریٹنگ کے ادارے ہوں سب پاکستان کی اقتصادی ترقی کا اعتراف کر رہے ہیں اسی طرح آئی ایم ایف،عالمی بینک یا ایشیائی ترقیاتی بینک ہو یہ سب ادارے جو ملکی معیشت کے بارے میں خدشات رکھتے تھے اور معیشت کے دیوالیہ ہونے کی باتیں کررہے تھے۔
اب یہ سب ادارے بھی اپنی رپورٹس میں پاکستان کی اقتصادی کارکردگی کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے ہیں لہٰذا اب حکومت کے پاس وسائل کی کمی کا کوئی جواز نہیں ہے۔ پہلے دو بجٹ سخت فیصلوں کی نذر ہوگئے اب تیسرا بجٹ ریلیف کا متقاضی ہے اور پھر حکومت کو بلدیاتی انتخابات میں بھی جانا ہے، ایسے میں اگر حکومت سرکاری ملازمین کے نظر ثانی شُدہ پے سکیل جاری کردیتی ہے اور اس کے ساتھ کوئی اور بڑا ریلیف دینے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ ریلیف پاکستان مسلم لیگ(ن) کیلئے بلدیاتی انتخابات میں بہت بڑا ریلیف ثابت ہوگا اور پی ٹی آئی ہو ، پیپلز پارٹی ہو یا دوسری سیاسی جماعتیں ہوں ان کے لئے یہ بڑا دھچکا ہوگا چونکہ بجٹ سازی حتمی مراحل میں ہے اور اگلے چند روز میں نیشنل اکاونٹس کمیٹی کا اجلاس ہونے جا رہا ہے۔
جس میں رواں مالی سال کیلئے جی ڈی پی گروتھ ، قومی آمدنی، ملکی معیشت کے حجم سمیت دیگر تمام قومی اعشاریوں و اکاونٹس کو حتمی شکل دی جائے گی جس کی بنیاد پر اگلے مالی سال کیلئے نیشنل اکاونٹس کے اہداف کو بھی فائنل کیا جائے گا اور توقع یہ کی جا رہی ہے کہ نیشنل اکاونٹس کمیٹی کے بعد قومی اقتصادی کونسل کا بھی اجلاس ہوگا جس میں اگلے مالی سال کیلئے سرکاری ترقیاتی بجٹ(پی ایس ڈی پی) کی حتمی منظوری دی جائے گی۔
اس تمام تر صورتحال سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ اب پاکستان ایشیئن ٹائیگر بننے والا ہے کیونکہ جہاں اقتصادی لحاظ سے کامیابیوں کا اعتراف ہو رہا ہے وہیں سیاسی و سفارتی لحاظ سے بھی ماحول پاکستان کے انتہائی موافق دکھائی دے رہا ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کامیابی سے تکمیل کے مراحل میں ہے اور اس کے اثرات دکھائی بھی دے رہے ہیں ۔ ملک کی عسکری و سیاسی قیادت ایک صفحہ پر دکھائی دیتی ہے۔ تمام اہم قومی ایشوز پر ملک کی تمام سیاسی جماعتوں خصوصاً پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیاجا رہا ہے ۔
قومی ایکشن پلان ہو،مشرق وسطٰی کی صورتحال ہو یا افغانستان کے ساتھ معاملات یا امریکہ،برطانیہ،ایران اور پھر بھارت کا معاملہ ہو ہر سطح پر مشاورت ،اتفاق رائے دکھائی دیتا ہے اور اب بھی وزیراعظم نوازشریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف ایک ساتھ ایک روزہ دورے پرافغانستان گئے ہیں اور ان سطور کی اشاعت تک ان کا دورہ مکمل ہو چکا ہوگا تاہم اب تک کی تفصیلات کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے افغان صدر اشرف غنی اورچیف ایگزیکٹوعبداللہ عبداللہ سے ملاقاتیں کی ہیں ۔
وزیراعظم کے دورہ کابل کیلئے ڈی جی آئی ایس آئی میجر جنرل رضوان اختر، چیف آف جنرل اسٹاف، سیکرٹری خارجہ اعزاز چودھری، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور طارق فاطمی اور عسکری و سیاسی حکام بھی وفد میں شامل ہیں اس دورے کا بنیادی مقصد خطے میں امن و امان کا قیام ہے اور بھارت کا پاکستان میں امن وامان کے مسائل پیدا کرنے کیلئے افغان سرزمین کے استعمال کا معاملہ اٹھانا ہے کیونکہ اطلاعات ہیں کہ بھارت افغانستان کے راستے پاکستان میں دراندازی کررہا ہے۔
جس کے ٹھوس شواہد بھی عالمی سطح پر فراہم کئے جا چکے ہیں اور وزیراعظم نے بھی افغانستان روانگی سے قبل اس بات کا اظہار کیا ہے کہ دوستانہ تعلقات کا فروغ ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات کا اہم جزو ہے اور دورے کا مقصد دونوں برادرانہ ملکوں کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم بنانا ہے۔ مگر نجانے کیوں اس تمام تر بہتر صورتحال کے باوجود بعض سیاسی پنڈت اہم سیاسی شخصیات کے معروف سیاسی پیر کی پیشنگوئیوں کی بنیاد پر دعوے اور قیاس آرائیاں کر رہے ہیں کہ جون کے بعد کچھ بڑا ہونے والا ہے۔
ان سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے احتجاج اور دھرنوں کے موقع پر بھی اسی سیاسی پیر کی پیشنگوئی تھی کہ حکومت کیلئے مُشکلات ضرور ہونگی مگر حکومت نہیں جائے گی اور ان مشکلات سے نکل جائے گی ۔ عمران خان کی دوسری شادی کے حوالے سے بھی ان سیاسی پنڈتوں کے کچھ ایسے ہی خیالات ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انہی پیر صاحب نے شادی سے دوسال قبل عمران خان صاحب کی نہ صرف دوسری شادی بلکہ یہ بھی پیشنگوئی کی تھی کہ جس عورت سے شادی ہوگی اس کا نام بھی آر سے شروع ہوگا۔ البتہ انکا کہنا ہے کہ عمران خان صاحب کی وزارت عُظمٰی کی خواہش کی تکمیل شائد پیر صاحب کی پیشنگوئی میں شامل نہیں ہے۔
ان حلقوں میں خواجہ سعد رفیق کے خلاف ٹریبونل کے فیصلے کو بہت اہمیت دی جا رہی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اسلام آباد میں کے پی کے اراکین پارلیمنٹ کا احتجاج و دھرنا، پاکستان چین اکنامک کوریڈور پر سیاست سمیت دیگر نان ایشوز کو ایشو بنانے کی کوششیں جاری ہیں جو جون کے بعد سیاسی ماحول میں گرما گرمی کے آغاز کی جانب ایک اشارہ ہے۔ دوسری جانب خواجہ سعد رفیق کے خلاف ٹریبونل کے فیصلے کو سُپریم کورٹ کی جانب سے معطل کیا گیا ہے اور اس کیس کی ابھی سُپریم کورٹ میں سماعت ہونا ہے مگراس کے ساتھ ساتھ جوڈیشل کمیشن بھی کام جاری رکھے ہوئے ہے۔
وفاقی دارلحکومت کے سیاسی حلقوں میں جون میں پیش کئے جانیوالے بجٹ کے بعد کی صورتحال کو زیادہ اہمیت دی جارہی ہے جو ماضی کے حوالے سے کسی حد تک درست بھی ہے اور یہ کہ پاکستان کی سیاست میں کب کیا ہو جائے اس بارے کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے اور ماضی اس بات کا گواہ ہے کہ جتنے بھی منتخب وزراء اعظم کی حکومتیں ختم ہوئی ہیں وہ حکومتیں ختم ہونے سے کچھ عرصہ پہلے تک معمول کے مطابق اور بہتر طور پر کام کر رہی تھیں اور پھر حالات کروٹ لیتے ہیں اور سیاسی بساط لپٹ جاتی ہے اس وقت بھی اسی قسم کی قیاس آرائیاں اور افواہیں گردش کررہی ہیں۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈاربیرون ممالک دوروں کے دوران بھی بجٹ سازی کے حوالے سے ویڈیو لنک کے ذریعے اہم اجلاس کرتے رہے ۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کے سالانہ اجلاس میں شرکت اور پھر آئی ایم ایف سے پچاس کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالر کی اگلی قسط حاصل کرنے کیلئے ساتویں اقتصادی جائزہ کیلئے دبئی میں جاری مذاکرات کی کامیابی سے تکمیل کے بعدآئی ایم ایف جائزہ مشن کے سربراہ ہیرلڈ فنگر کے ہمراہ بھرپور پریس کانفرنس کی ہے۔
جس میں آئی ایم ایف کے ساتھ ساتویں کامیاب اقتصادی جائزہ کی تکمیل بارے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ آئی ایم ایف جائزہ مشن پاکستان کے ساتویں اقتصادی جائزہ کی رپورٹ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کو پیش کریگا اورتوقع ہے کہ جون میں ہونے والے آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری کی صورت میں پاکستان کو پچاس کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالر کی قسط مل جائے گی ۔ تاہم وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا آئی ایم ایف جائزہ مشن کے سربراہ کے سامنے لائیو پریس کانفرنس میں یہ کہنا ہے کہ آئی ایم ایف ہمارا آقا نہیں ہے بلکہ ڈویلپمنٹ پارٹنر ہے بہت بڑی بات ہے۔
پریس کانفرنس میں آئی ایم ایف جائزہ مشن سربراہ نے بھی پاکستان کی اقتصادی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا اور بتایا کہ پروگرام آن ٹریک ہے البتہ ٹیکس وصولیاں مقررہ ہدف سے کچھ کم ہیں اور اس کی وجہ پٹرول کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ ساتھ دیگر عوامل ہیں مگر اس کے باوجود حکومت نے یقین دہانی کروائی ہے کہ رواں مالی سال کیلئے مالیاتی خسارے کا ہدف حاصل کرلیا جائیگا اور پاکستان نے یہ بھی یقین دہانی کروائی ہے کہ اگلے بجٹ میں مزید ریونیو اقدامات کئے جائیں گے، اس کے ساتھ ساتھ ٹیرف سبسڈی میں کمی کی جائے گی۔
ریونیو اقدامات کا جہاں تک تعلق ہے تو وزارت خزانہ حکام کا کہنا ہے کہ اگلے بجٹ میں ایک تہائی رعایتی ایس آر اوز واپس لئے جائیں گے جس سے ایک کھرب چالیس ارب روپے کے لگ بھگ اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے، اسی طرح ٹیرف سبسڈی میں کمی اور سرکلر ڈیبٹ کا مسئلہ حل کرنے کیلئے بھی پلان لایا جارہا ہے جس میں غالباً تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث بجلی کی قیمتوں میں کمی کا جو عوام کو ریلیف متوقع تھا شائد اسکی قربانی ہونے جا رہی ہے، جس کا کچھ اشارہ وزیر خزانہ نے بھی دیا ہے۔
اس سے قبل بھی ہم یہ کہہ چُکے ہیں کہ بجلی ، پانی اورگیس جیسے مسائل سے نبرد آزما ہونا جہاں حکومت کیلئے بڑے چیلنجز ہیں وہیں اگلا بجٹ بھی حکومت کیلئے ایک امتحان ہوگا کیونکہ اس وقت ملکی و عالمی سطح پر پاکستان کی اقتصادی ترقی و استحکام کے شادیانے بجائے جارہے ہیں ۔ اسٹینڈرز اینڈ پورز یو موڈیز ہو یا دوسرے کریڈٹ ریٹنگ کے ادارے ہوں سب پاکستان کی اقتصادی ترقی کا اعتراف کر رہے ہیں اسی طرح آئی ایم ایف،عالمی بینک یا ایشیائی ترقیاتی بینک ہو یہ سب ادارے جو ملکی معیشت کے بارے میں خدشات رکھتے تھے اور معیشت کے دیوالیہ ہونے کی باتیں کررہے تھے۔
اب یہ سب ادارے بھی اپنی رپورٹس میں پاکستان کی اقتصادی کارکردگی کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے ہیں لہٰذا اب حکومت کے پاس وسائل کی کمی کا کوئی جواز نہیں ہے۔ پہلے دو بجٹ سخت فیصلوں کی نذر ہوگئے اب تیسرا بجٹ ریلیف کا متقاضی ہے اور پھر حکومت کو بلدیاتی انتخابات میں بھی جانا ہے، ایسے میں اگر حکومت سرکاری ملازمین کے نظر ثانی شُدہ پے سکیل جاری کردیتی ہے اور اس کے ساتھ کوئی اور بڑا ریلیف دینے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ ریلیف پاکستان مسلم لیگ(ن) کیلئے بلدیاتی انتخابات میں بہت بڑا ریلیف ثابت ہوگا اور پی ٹی آئی ہو ، پیپلز پارٹی ہو یا دوسری سیاسی جماعتیں ہوں ان کے لئے یہ بڑا دھچکا ہوگا چونکہ بجٹ سازی حتمی مراحل میں ہے اور اگلے چند روز میں نیشنل اکاونٹس کمیٹی کا اجلاس ہونے جا رہا ہے۔
جس میں رواں مالی سال کیلئے جی ڈی پی گروتھ ، قومی آمدنی، ملکی معیشت کے حجم سمیت دیگر تمام قومی اعشاریوں و اکاونٹس کو حتمی شکل دی جائے گی جس کی بنیاد پر اگلے مالی سال کیلئے نیشنل اکاونٹس کے اہداف کو بھی فائنل کیا جائے گا اور توقع یہ کی جا رہی ہے کہ نیشنل اکاونٹس کمیٹی کے بعد قومی اقتصادی کونسل کا بھی اجلاس ہوگا جس میں اگلے مالی سال کیلئے سرکاری ترقیاتی بجٹ(پی ایس ڈی پی) کی حتمی منظوری دی جائے گی۔
اس تمام تر صورتحال سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ اب پاکستان ایشیئن ٹائیگر بننے والا ہے کیونکہ جہاں اقتصادی لحاظ سے کامیابیوں کا اعتراف ہو رہا ہے وہیں سیاسی و سفارتی لحاظ سے بھی ماحول پاکستان کے انتہائی موافق دکھائی دے رہا ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کامیابی سے تکمیل کے مراحل میں ہے اور اس کے اثرات دکھائی بھی دے رہے ہیں ۔ ملک کی عسکری و سیاسی قیادت ایک صفحہ پر دکھائی دیتی ہے۔ تمام اہم قومی ایشوز پر ملک کی تمام سیاسی جماعتوں خصوصاً پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیاجا رہا ہے ۔
قومی ایکشن پلان ہو،مشرق وسطٰی کی صورتحال ہو یا افغانستان کے ساتھ معاملات یا امریکہ،برطانیہ،ایران اور پھر بھارت کا معاملہ ہو ہر سطح پر مشاورت ،اتفاق رائے دکھائی دیتا ہے اور اب بھی وزیراعظم نوازشریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف ایک ساتھ ایک روزہ دورے پرافغانستان گئے ہیں اور ان سطور کی اشاعت تک ان کا دورہ مکمل ہو چکا ہوگا تاہم اب تک کی تفصیلات کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے افغان صدر اشرف غنی اورچیف ایگزیکٹوعبداللہ عبداللہ سے ملاقاتیں کی ہیں ۔
وزیراعظم کے دورہ کابل کیلئے ڈی جی آئی ایس آئی میجر جنرل رضوان اختر، چیف آف جنرل اسٹاف، سیکرٹری خارجہ اعزاز چودھری، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور طارق فاطمی اور عسکری و سیاسی حکام بھی وفد میں شامل ہیں اس دورے کا بنیادی مقصد خطے میں امن و امان کا قیام ہے اور بھارت کا پاکستان میں امن وامان کے مسائل پیدا کرنے کیلئے افغان سرزمین کے استعمال کا معاملہ اٹھانا ہے کیونکہ اطلاعات ہیں کہ بھارت افغانستان کے راستے پاکستان میں دراندازی کررہا ہے۔
جس کے ٹھوس شواہد بھی عالمی سطح پر فراہم کئے جا چکے ہیں اور وزیراعظم نے بھی افغانستان روانگی سے قبل اس بات کا اظہار کیا ہے کہ دوستانہ تعلقات کا فروغ ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات کا اہم جزو ہے اور دورے کا مقصد دونوں برادرانہ ملکوں کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم بنانا ہے۔ مگر نجانے کیوں اس تمام تر بہتر صورتحال کے باوجود بعض سیاسی پنڈت اہم سیاسی شخصیات کے معروف سیاسی پیر کی پیشنگوئیوں کی بنیاد پر دعوے اور قیاس آرائیاں کر رہے ہیں کہ جون کے بعد کچھ بڑا ہونے والا ہے۔
ان سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے احتجاج اور دھرنوں کے موقع پر بھی اسی سیاسی پیر کی پیشنگوئی تھی کہ حکومت کیلئے مُشکلات ضرور ہونگی مگر حکومت نہیں جائے گی اور ان مشکلات سے نکل جائے گی ۔ عمران خان کی دوسری شادی کے حوالے سے بھی ان سیاسی پنڈتوں کے کچھ ایسے ہی خیالات ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انہی پیر صاحب نے شادی سے دوسال قبل عمران خان صاحب کی نہ صرف دوسری شادی بلکہ یہ بھی پیشنگوئی کی تھی کہ جس عورت سے شادی ہوگی اس کا نام بھی آر سے شروع ہوگا۔ البتہ انکا کہنا ہے کہ عمران خان صاحب کی وزارت عُظمٰی کی خواہش کی تکمیل شائد پیر صاحب کی پیشنگوئی میں شامل نہیں ہے۔
ان حلقوں میں خواجہ سعد رفیق کے خلاف ٹریبونل کے فیصلے کو بہت اہمیت دی جا رہی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اسلام آباد میں کے پی کے اراکین پارلیمنٹ کا احتجاج و دھرنا، پاکستان چین اکنامک کوریڈور پر سیاست سمیت دیگر نان ایشوز کو ایشو بنانے کی کوششیں جاری ہیں جو جون کے بعد سیاسی ماحول میں گرما گرمی کے آغاز کی جانب ایک اشارہ ہے۔ دوسری جانب خواجہ سعد رفیق کے خلاف ٹریبونل کے فیصلے کو سُپریم کورٹ کی جانب سے معطل کیا گیا ہے اور اس کیس کی ابھی سُپریم کورٹ میں سماعت ہونا ہے مگراس کے ساتھ ساتھ جوڈیشل کمیشن بھی کام جاری رکھے ہوئے ہے۔
وفاقی دارلحکومت کے سیاسی حلقوں میں جون میں پیش کئے جانیوالے بجٹ کے بعد کی صورتحال کو زیادہ اہمیت دی جارہی ہے جو ماضی کے حوالے سے کسی حد تک درست بھی ہے اور یہ کہ پاکستان کی سیاست میں کب کیا ہو جائے اس بارے کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے اور ماضی اس بات کا گواہ ہے کہ جتنے بھی منتخب وزراء اعظم کی حکومتیں ختم ہوئی ہیں وہ حکومتیں ختم ہونے سے کچھ عرصہ پہلے تک معمول کے مطابق اور بہتر طور پر کام کر رہی تھیں اور پھر حالات کروٹ لیتے ہیں اور سیاسی بساط لپٹ جاتی ہے اس وقت بھی اسی قسم کی قیاس آرائیاں اور افواہیں گردش کررہی ہیں۔