پاک افغان تعلقات اور زمینی صورتحال

افغان صدر اشرف غنی کا انداز نظر سابقہ افغان حکمرانوں سے قدرے مختلف ہے

اطلاعات کے مطابق افغان صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے ساتھ مفید اور تعمیری گفت و شنید ہوئی، فوٹو:پی آئی ڈی

سیاسی مبصرین وزیراعظم نواز شریف کے افغان صدر اشرف غنی کی دعوت پر افغانستان کے تازہ ترین دورے کو اہمیت کا حامل قراردینے میں حق بجانب ہیں ۔ منگل کو دو روزہ سرکاری دورے پر کابل پہنچنے پر صدر اشرف غنی اور دیگر سینئر افغان حکام نے وزیراعظم نواز شریف اور ان کے وفد کا والہانہ استقبال کیا،افغان فوجی دستے نے توپوں کی سلامی دی، پاکستانی وفد کے اعزاز میں صدارتی محل میں استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا۔

وزیراعظم نواز شریف کا افغانستان کا یہ دوسرا اور موجودہ حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلا دورہ ہے جس میں پاک افغان تعلقات کی مثبت تناظر میں نہ صرف برف پگھلتی نظر آرہی ہے بلکہ خطے میں امن و ترقی کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے خاتمہ، امریکی انخلا کے بعد کی صورتحال سے نمٹنے ، دوطرفہ اقتصادی و سماجی اشتراک عمل کو یقینی بنانے اور امریکی حمایت و کوششوں سے افغان طالبان ڈائیلاگ کی راہ ہموار کرنے کے لیے پیش رفت غیر معمولی رخ اختیار کر رہی ہے۔

اگرچہ 3 مئی 2015 کو دوحہ (قطر) میں بات چیت کے ابتدائی راؤنڈ کے بعد طالبان کے بدخشاں، قندوز اور دیگر مقامات پر ہولناک حملوں سے حالات تشویش ناک ہوئے، امن پروسیس کو سیٹ بیک ہوا ، امریکا سمیت تمام یورپی ممالک بے تاب تھے کہ طالبان اور افغان حکومت میں مکالمہ شروع ہوتاکہ افغانستان میں امن قائم کرنے اور جمہوری و سیاسی عمل کے بلا روک ٹوک یقینی بنایا جاسکے۔ تاہم اب بھی امید کا دامن سارے اسٹیک ہولڈر بدستور تھامے ہوئے ہیں۔ ابھی مزید اہم اطلاعات کی آمد متوقع ہے ۔

افغان ایشو کے تصفیہ اور طالبان کو افغان سیاست کے مین اسٹریم میں لانے کے لیے 40 رکنی 'نان آفیشل میٹنگ' بریک تھرو کے قریب تھی جس میں اقوام متحدہ ، افغان حکام اور طالبان کے مختلف گروپس اور دیگر ممالک کے نمایندوں نے شرکت کی، پاکستان افغان مسئلہ کا اہم مصالحتی اور تزویراتی اسٹیک ہولڈر اور کلیدی کردار ہے جسے عالمی قوتیں تسلیم کرتی ہیں ، وہ قطر بات چیت میں بھی شامل تھا، مگر بھارت اپنی ریشہ دوانیوں سے باز نہیں آتا جب کہ کابل کو اپنے مذموم عزائم کی آماجگاہ بنانے کے جس منصوبے پر مسلسل عمل پیرا ہے اور اس کے شواہد بلوچستان کنکشن سے ہویدا ہوئے ہیں، چنانچہ نواز شریف کے اس دورہ سے ''را'' کا غبارہ پھٹ جائے گا ۔


اسے اصل میں تیزی سے بہتر ہوتے ہوئے پاک افغان تعلقات میں قربتوں کے نئے سنگ میل سے بلاوجہ پریشانی ہے، اس لیے اس ضمن میں پاکستانی وفد کی افغان صدر سے بات ہوئی ہوگی اور ''را'' کی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی جنرل راحیل شریف کی افغان فوجی حکام سے تبادلہ خیال کا ہونا بعید از قیاس نہیں۔ افغانستان امریکی حصار سے نکلنے کے اہم مرحلہ میں ہے ، امریکی فورسز کے انخلا ، افغان کی داخلی سیکیورٹی،پاک افغان سرحدی صورتحال ، طالبان کے مفرور کمانڈروں کی افغانستان میں موجودگی اور ان کو پاکستان کے حوالے کرنے سمیت پائیدار امن و باہمی خیرسگالی کے کئی امور زیر بحث لائے جانے کے حوالہ سے ملاقاتوں کا یہ تسلسل خطے میں سیاست کی تبدیلی کا اشارہ دیتے ہیں۔

اس دورے کے میکنزم اور بات چیت کے ایجنڈے کی تیاری کے ضمن میں ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر اس سے قبل کابل کا دورہ کرچکے تھے ۔ اطلاعات کے مطابق افغان صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے ساتھ مفید اور تعمیری گفت و شنید ہوئی ۔ سفارتی ذرایع کے مطابق پاک افغان قیادت افغان سرحد کے دونوں اطراف میں دہشتگردوں کے خلاف فوجی آپریشنز، افغانستان میں قیام امن کے لیے طالبان اور افغان حکومت میں مفاہمتی عمل اور افغانستان میں بھارتی اثرو رسوخ اور پاکستانی قبائلی علاقوں میں بھارتی خفیہ ادارے''را''کی کارروائیوں سمیت مختلف اہم امور پر بات چیت ہوئی ۔

پیر کو اس حوالے سے وزیراعظم کی زیرصدارت اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں پاک افغان تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار، آرمی چیف جنرل راحیل شریف، سرتاج عزیز، طارق فاطمی، چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل زبیر محمود حیات اور سیکریٹری خارجہ امور اعزاز احمد چوہدری کے علاوہ دیگر سینئر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں دونوں ہمسایہ برادر ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مستحکم اور مزید بہتر بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔پاک افغان تعلقات میں تبدیلی کا عندیہ خوش آیند ہے۔

افغان صدر اشرف غنی کا انداز نظر سابقہ افغان حکمرانوں سے قدرے مختلف ہے ، وہ طالبان تنازع اور جنگ کی تباہ کاریوں سے بچنے کے لیے خطے میں امن ،استحکام ، پاکستان سے دوستی ، تجارتی روابط ، خیرسگالی و دوطرفہ اشتراک عمل پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ طالبان کو بھی حکومت کے ساتھ چلنے اور امن پسندانہ طرز سیاست کی دعوت دے چکے ہیں، تاہم پاکستان دہشت گردوں کے خلاف فاٹا آپریشن میں مصروف ہے، اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ افغان قیادت اپنے ملک میں روپوش دہشت گردوں کے خلاف یکسو ہوکر کارروائی کرے، ملا فضل اللہ سمیت تمام دہشت گردوں کو پاکستان کے حوالے کیا جائے کیونکہ دہشت گردی کا مشترکہ جدوجہد کے تحت خاتمہ ہی پاکستان و افغانستان میں سیاسی استحکام کی ضمانت دے سکتا ہے۔
Load Next Story