سندھ پھر پسماندہ

اسی طرح بلوچستان کا ضلع کوئٹہ بھی پہلے 10اضلاع میں شامل ہوا ہے۔

tauceeph@gmail.com

سندھ مڈل تعلیم کے لحاظ سے بدترین صوبہ ہے۔ تعلیمی صورتحال کا جائزہ لینے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال پنجاب اورآزاد کشمیر میں اسکولوں کی صورتحال بہتر ہوئی۔ سندھ اور بلوچستان میں حالات انتہائی مخدوش ہیں۔ تعلیم کی بہتری کے لیے کوشاں غیر سرکاری تنظیموں کی کوششوں سے تیار ہونے والی یہ رپورٹ اسکول کی سطح تک صورتحال اور پاکستانی ریاست کی ترجیحات کا تعین کرنے والوں کے لیے ایک آئینہ ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تعلیم کے لے مختص کی جانے والی رقم نا کافی ہے اور اس مد میں خرچ کی جانے والی رقم میں خاطرخواہ اضافہ وقت کی ضرورت ہے اور جی ڈی پی کا 7فیصد تعلیم پر خرچ ہونا چاہیے۔ رپورٹ میں اعداد و شمار کے تجزیے سے اخذ ہونے والے نتائج کے تناظر میں تحریرکیا گیا ہے کہ آزادکشمیر میں اسکولوں کے حالات میں بہتری ہوئی ہے۔

اسی طرح پنجاب کے بعد اسلام آباد میں اسکولوں کی کارکردگی بھی بہتر ہے۔ اسی طرح پرائمری اسکولوں کی کارکردگی کے تناظر میں پنجاب، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے نام نمایاں ہیں۔ راولپنڈی، چکوال، لاہور، ہری پور اور اسلام آباد تعلیم کی شرح کے تناظر میں سرِ فہرست ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مڈل اسکولوں کے حوالے سے آزاد کشمیر کا نمبر ایک ہے۔ آزاد کشمیر کے 6اضلاع پہلے 10 اضلاع میں شامل ہیں۔

اسی طرح بلوچستان کا ضلع کوئٹہ بھی پہلے 10اضلاع میں شامل ہوا ہے۔ رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ صوبہ سندھ کے دو اضلاع کراچی اور حیدرآباد مڈل اسکولوں کی فہرست میں بالترتیب 45ویں اور 48ویں نمبر پر ہیں۔ اس فہرست میں 150 اضلاع شامل ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سندھ کے ضلع خیرپور میں اسکولوں کی صورتحال سب سے زیادہ خراب ہے۔ خیرپور وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کا آبائی ضلع ہے۔ اسی طرح بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک کا ضلع پنجگور سب سے زیادہ پسماندہ ہے۔

پاکستان میں ہمیشہ وفاق نے تعلیم پر توجہ دی، بعد ازاں صوبے اس شعبے میں اہم کردار ادا کرنے لگے۔ 1973 کے آئین کے نفاذکے بعد تعلیم کو صوبائی شعبہ قرار دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی ریاست نے عوام کے تعلیم کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے تعلیمی اداروں کو قومیانے کا فیصلہ کیا۔ وفاق اور صوبے تعلیمی شعبے میں منصوبہ بندی پر ترقی کے لیے سرمایہ کاری کرتے رہے مگر نصاب کی تیاری کا کام وفاق کے پاس رہا۔

جنرل ضیاء الحق نے نجی تعلیمی ادارے قائم کرنے کی اجازت دی، کیونکہ وفاق صوبوں کو مالیاتی امداد فراہم کرتا تھا اسی بناء پر وفاقی بجٹ میں تعلیم کے لیے مختص رقم ہی تعلیم کی ترقی میں اہم کرداد ادا کرتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ اقوامِ متحدہ اور تعلیم کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیمیں تعلیم کے لیے مختص رقم میں اضافے کا مطالبہ کرتی تھیں۔ اقوامِ متحدہ کی تعلیم کے لیے کام کرنے والی تنظیم یونیسکو نے گزشتہ صدی کے آخری عشرے میں جی ڈی پی کا 4فیصد سے زیادہ حصہ تعلیم کے لیے وقف کرنے پر زور دیا تھا۔ پاکستان میں تعلیم کے لیے جی ڈی پی کا ایک فیصد سے کم رقم مختص کی جاتی تھی۔


اس رقم میں ڈیڑھ فیصد کے قریب اضافہ ہوا مگر یونیسکو کے طے کردہ معیار کو بھی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے 90 کی دھائی میں کئی بار یہ اعلان کیا تھا کہ تعلیمی بجٹ میں جی ڈی پی کے 4 فیصد سے زیادہ رقم مختص کی جائے گی مگر بے نظیر بھٹو اپنے اس اعلان پر عمل نہیں کرسکیں تاہم آئین میں کی گئی 18ویں ترمیم کے بعد تعلیم کو صوبائی فہرست میں درج کیا گیا اور نئے این ایف سی ایوارڈ کے بعد صوبوں کو فراہم کی جانے والی رقم میں کئی گنا اضافہ ہوا۔

چھوٹے صوبوں کی آمدنی خاطرخواہ حد تک بڑھ گئی لیکن تعلیمی شعبے میں خاطرخواہ تبدیلی نہ آسکی۔ بدقسمتی کی صورتحال کچھ یو ں ہے کہ سندھ اور بلوچستان میں تعلیمی شعبے کے حالات پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ بلوچستان میں نیشنل پارٹی کے رہنما ڈاکٹر عبدالمالک کے وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد بلوچستان میں تعلیم کے شعبے میں اصلاحات ہوئیں اور کل بجٹ کا 2.7 فیصد حصہ تعلیم کے لیے مختص کردیا گیا مگر سندھ کی حکومت کی آمدنی بڑھنے کے باوجود یہ صوبہ محکمہ تعلیم کے بجٹ میں کمی، اچھی طرزِ حکومت اور ہر سطح پر میرٹ کے نفاذ کے تصور سے محروم رہا۔

سندھ کے سابق وزیر تعلیم پیر مظہر الحق نے تعلیمی شعبے میں میرٹ دشمن اقدامات کے لیے اس شعبے کا انتخاب کیا، یوں محکمہ تعلیم میں چپڑاسی سے لے کر ڈائریکٹر تک کے تقرر اور تبادلے کے لیے رقم کی ادائیگی اور سفارش لازمی قرار دی گئی۔

کئی ہزار افراد کا بحیثیت استاد تقرر کیا گیا جنہوں نے ملازمت کا کوئی امتحان بھی پاس نہیں کیا تھا۔ عمارتوں کی تعمیر، فرنیچر کی خریداری اور آلات کی فراہمی جیسے اہم معاملات مشکوک ہوگئے۔ اس صورتحال کا اثر تعلیم کے معیار پر ہوا۔ حکومت لاڑکانہ، سکھر، خیرپور اور سندھ کے دیگر اضلاع میں قائم گھوسٹ اسکولوں کے خاتمے کے لیے کچھ نہ کرسکی۔ اسی طرح گھوسٹ اساتذہ کی تعداد میں بھی کوئی کمی نہ آئی۔ محکمہ تعلیم میں ایسے افسروں کی تقرریاں کی گئیں جن کے تقرر سے لسانی خلیج پیدا ہوئی اور اساتذہ اور تعلیمی اداروں کی نگرانی کا فریضہ پورا نہیں ہوسکا۔

طالع آزما قوتوں نے نصاب کو دوبارہ وفاق کی نگرانی میں دینے کے لیے مہم شروع کی۔ اس مہم کا مقصد نئی نسل میں جنونیت اور تشدد کے جراثیم کو مستحکم کرنا تھا۔ ملک کے سب سے بڑے شہرکراچی کی تعلیمی پسماندگی سندھ حکومت کے لیے ایک اہم سوال ہے۔ قائم علی شاہ خیرپور کی تعلیمی پسماندگی دور نہیں کرسکے اور اب کس جوازکی بناء پر اپنے نام پر میڈیکل کالج قائم کرنا چاہتے ہیں۔ تعلیم کا معاملہ صرف خواندگی سے ہی نہیں بلکہ غربت کے خاتمے اور جمہوری نظام کے استحکام سے بھی منسلک ہے۔

تعلیم کا معیار نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ ناقص تعلیم نہ صرف میرٹ کو پامال کرتی ہے بلکہ معاشرتی خرابیوں کا سبب بھی بنتی ہے۔ 21ویں صدی میں اس خطے میں تعلیم کے حوالے سے پسماندگی دیگر ممالک کو بالادستی کا راستہ دکھاتی ہے۔

اس رپورٹ سے حاصل کردہ نتائج سے پھر ثابت ہوتا ہے کہ سندھ میں تعلیمی صورتحال کسی طور پر بہتر نہیں ہو پا رہی۔ یہی وجہ ہے کہ سروے کرنے والے عملے کے پاس سندھ کی مایوس کن کارکردگی کا ذکر کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔اس رپورٹ پر پارلیمنٹ اور سندھ اسمبلی میں تفصیلی بحث ہونی چاہیے۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ کو اس رپورٹ پر غور کرنے کے لیے صوبائی اسمبلی کا اجلاس بلانا چاہیے۔ اراکینِ سندھ اسمبلی کو اس رپورٹ کے تمام پہلوؤں پر غور کرنا چاہیے۔ اس رپورٹ کے نتائج کا ہر سطح پر جائزہ لیا جائے اور پھر رپورٹ پر عملدرآمد کے لیے واضح پالیسی بنائی جائے۔
Load Next Story