پاکستان افغانستان کے اصل دشمن دہشت گرد

پاکستان اورافغانستان دو برادر اسلامی ممالک جو مذہب، تاریخ و ثقافت کے اٹوٹ بندھن میں بندھے ہیں،جوکبھی نہیں ٹوٹ سکتا۔

دونوں ممالک کے سربراہوں کی ملاقات خطے اور عالمی سیاسی حالات کے تناظرمیں نہایت اہمیت وافادیت کی حامل ہے۔ فوٹو : آئی این پی

PESHAWAR:
پاکستان اورافغانستان دو برادر اسلامی ممالک جو مذہب، تاریخ و ثقافت کے اٹوٹ بندھن میں بندھے ہیں،جوکبھی نہیں ٹوٹ سکتا۔ خطے کی تبدیل ہوتی سیاسی واقتصادی صورتحال نے دونوں ممالک کی قیادت پر بھاری ذمے داری عائدکردی ہے کہ وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے مدبرانہ اور دانشمندانہ اقدامات اٹھائیں۔ گزشتہ روز وزیراعظم نوازشریف نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے ہمراہ افغانستان کا دورہ کیا۔

دونوں ممالک کے سربراہوں کی ملاقات خطے اور عالمی سیاسی حالات کے تناظرمیں نہایت اہمیت وافادیت کی حامل ہے ، امریکا اور اتحادی افواج کے انخلاء کے بعد افغانستان میں امن برقرار رہتا ہے تو یہ پاکستان کے لیے خوش آیند امر ہے لیکن اگر دوبارہ خدانخواستہ افغانستان خانہ جنگی کا شکار ہوجاتا ہے تو یہ بات خطے کے امن اور پاکستان کے لیے تشویش ناک ہوگی ، افغانستان پر غیرملکی حملہ آوروں کی یلغار، باہمی نفاق ، وارلارڈز اور جنگجو گروپوں کی دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں میں پناہ گاہیں قائم کرنا اور بآسانی دہشتگردانہ کارروائیاں کر کے سرحد پار کرلینے کے عمل سے بہت کچھ بگڑا ہے جسے سدھارنے اور سنوارنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ افغانستان کے دشمن پاکستان کے دوست نہیں ہوسکتے۔


دونوں ملکوں کی قیادت نے ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ دہشتگردی کی لعنت کا بھرپورانداز میں خاتمہ کیے بغیر خطے میں امن واستحکام کا خواب پورا نہیں ہوسکتا۔ وزیراعظم پاکستان کے خیالات انتہائی صائب ہیں ، بلاشبہ عالمی قوتوں نے اپنے مفادات کے لیے جوکچھ افغانستان میں کیا وہ تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے ، پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں تناؤ اورکشیدگی کی کیفیت کرزئی کے دورحکومت میں رہی ، لیکن افغانستان کی موجودہ قیادت کو مسئلے کی سنگینی کا پوری طرح ادراک ہے اور وہ اس سلسلے میں حکومت پاکستان سے مکمل تعاون کر رہی ہے اور ہمارے ڈاکٹرائن میں بھی تبدیلی ہوئی ہے ، اب بجائے تزویراتی گہرائی کے اصل دشمن جو ملک کے اندر موجود ہے ان کا خاتمہ کیا جا رہا ہے ۔

افغان صدر اشرف غنی کا کہنا بالکل بجا ہے کہ امن کے لیے دونوں ملکوں کو مل کرکام کرنا ہوگا۔ہمارے اصل دشمن دہشتگردی اورغربت ہیں۔ دہشتگردی نے پاکستان اور افغانستان دونوں کو نقصان پہنچایا ہے۔دونوں ممالک کی سیاسی وعسکری قیادت اس وقت درست سمت میں سوچ رہی ہے،عدم مداخلت کی پالیسی اور ایک دوسرے کی زمین دہشت گردوں کے لیے تنگ کرنے کا عمل جاری رہا تو یقینا جلد خطے میں امن وامان کی صورتحال بہتر ہوگی اور اس کے نتیجے میں یقینا باہمی تجارت، سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر میں بہتری کے امکانات پیدا ہوجائیں گے۔

جس کی وجہ سے پاکستان اور افغانستان میں ترقی وخوشحالی کے ایک نئے دورکا آغاز ہوگا۔دہشت گرد گروہوں نے پہلے افغانستان میں اپنی عمل داری قائم کی اور پھر انھوں نے پاکستان کے سماجی واقتصادی نظام کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی،یقینا پاکستان اور افغانستان کی قیادت میں ملاقات سے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے امکانات روشن ہونگے۔
Load Next Story