ایک عبوری مرحلہ

سبب ان کے ساتھ روا رکھی جانے والی معاشی، معاشرتی اور سیاسی ناانصافیاں ہیں۔

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

68 سال سے پاکستانی عوام جس جمہوریت کے پنجے میں پھنسے ہوئے ہیں، اس جمہوریت نے عوام میں ایک شدید بے چینی اور اضطراب تو پیدا کر دیا ہے لیکن اس شکنجے سے نکلنے کے لیے جس اجتماعی طاقت کی ضرورت ہے، عوام اس سے اس لیے محروم ہیں کہ انھیں بڑی عیارانہ منصوبہ بندی کے ساتھ ٹکڑوں میں بانٹ دیا گیا ہے،پاکستان میں کوئی ایسی سیاسی جماعت موجود نہیں جو اس جابرانہ ظالمانہ نظام کو ختم کرنے میں دیانتدار اور سنجیدہ ہو۔ اس کے برخلاف دھوکے اور فریب پر مبنی نظام بدلنے کے نعرے لگانے والی جماعتیں موجود ہیں جو اس قسم کے عیارانہ نعرے صرف اس لیے لگاتی ہیں کہ اس طرح وہ عوام کی حمایت حاصل کر سکیں۔

اس قسم کی دھوکا دہی کی سیاست کرنے والی جماعتوں اور رہنماؤں کی نظر ہر وقت اقتدار کی کرسی پر لگی رہتی ہے اور اگر اس قسم کی جماعتیں شومئی قسمت سے اقتدار میں آ جاتی ہیں تو پھر وہ اس استحصالی نظام کا حصہ ہی نہیں بلکہ محافظ بھی بن جاتی ہیں۔ اگرچہ یہ جماعتیں مختلف حوالوں مختلف سہاروں سے اقتدار کی کرسی تک پہنچنے کی سر توڑ کوشش کر رہی ہیں لیکن ان کوششوں میں ان کی کامیابی اس لیے ممکن نہیں کہ عوام ان سے بدظن ہو چکے ہیں اور بدقسمتی سے ہر کامیاب دھوکے کے باوجود آخرکار اقتدار کی کرسی تک پہنچنے کے لیے عوام ہی کے پاس جانا پڑتا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عوام کی اس بے چینی اور اضطراب کا سبب کیا ہے؟ سبب ان کے ساتھ روا رکھی جانے والی معاشی، معاشرتی اور سیاسی ناانصافیاں ہیں۔ کیا یہ ناانصافیاں ہماری اشرافیائی جمہوریت اور اشرافیہ ختم کر سکتی ہے؟ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ ہماری اشرافیہ اور اشرافیائی جمہوریت یہ ناانصافیاں ختم کرے کیونکہ جو نظام جو جماعتیں جو اشرافیہ اس نامنصفانہ نظام کو جنم دیتی ہے بھلا وہ اپنے جنم دیے ہوئے نظام کو کیسے ختم کر سکتی ہے، اسی نظام کی لوٹ مار سے اشرافیہ اربوں میں کھیل رہی ہے ملک کے اندر اور باہر اربوں کے اثاثوں کی مالک ہے اس کھلی بددیانتی کے باوجود وہ اقتدار اور سیاست پر قابض ہے یہی وہ گند ہے جس کی صفائی کے بغیر نہ عوام کی بے چینی ختم ہو سکتی ہے نہ اضطراب۔

جب تک سوشلسٹ بلاک موجود تھا دنیا کے عوام اس نظام سے امید باندھے ہوئے تھے کہ وہ اس نظام کے ذریعے اپنی محرومیاں ختم کر دیں گے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ سوشلسٹ بلاک کی ٹوٹ پھوٹ کے بعد ساری دنیا میں ایک خلا پیدا ہو گیا ہے، عوام یہ محسوس کر رہے ہیں کہ اب ان کے پاس کوئی متبادل موجود نہیں۔ یہ تصور اس لیے مضبوط ہوا کہ سوشلسٹ بلاک کے نظریاتی رہنماؤں نے سوشلسٹ بلاک کی ٹوٹ پھوٹ کا گہرائی سے جائزہ لے کر اس کے اسباب کو ختم کر کے اس نظام کو زیادہ بہتر اور قابل عمل بنانے کے بجائے سرمایہ داری کا راستہ اختیار کر لیا۔

اور یہ تاثر ابھارا گیا کہ سوشلسٹ بلاک ہی ختم نہیں ہوا بلکہ سوشلسٹ نظریہ بھی منہدم ہو گیا۔ بات یہ نہیں ہے جب تک دنیا میں انسانوں کے ساتھ معاشی معاشرتی اور سیاسی ناانصافیاں جاری رہیں گے سوشلزم کا نظریہ باقی رہے گا۔ البتہ اس میں جدید دنیا کے تقاضوں کے مطابق تبدیلیاں لانی ہوں گی۔


یہ ایک طویل اور مبہم مسئلہ اس لیے بن گیا ہے کہ اس نظام کی حامی اور محافظ طاقتیں مایوسی اور نظریاتی انتشار کا شکار ہو گئی ہیں وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ نہ سرمایہ دارانہ نظام کی ناانصافی ختم ہو سکتی ہے نہ اس کا کوئی اور متبادل ممکن ہے۔ اگر نظریاتی آئیکون ان حقائق کو سمجھ لیں تو بلاشبہ ان میں مایوسی کی جگہ امید لے لے گی اور وہ اپنے نظریے کو حالات کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر کے اس کے ذریعے عوام کو سرمایہ دارانہ استحصال سے نجات دلانے کی کوشش کریں گے۔

لیکن یہ ایک طویل المیعاد کام ہے جس کے انتظار میں عوام زندگی کے عذاب نہیں سہہ سکتے۔ جمہوریت ایک عبوری مرحلہ ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ اس ملک کے عوام جس جمہوریت کے دلدل میں پھنس کر رہ گئے ہیں اس کا اس جمہوریت سے بھی کوئی تعلق نہیں جو ترقی یافتہ ملکوں میں نافذ ہے بلکہ یہ مغلیہ دور کے آخری تاجدار بہادر شاہ ظفر کا دور ہے جس میں انارکی لوٹ مار اور قانون و انصاف کی بے حرمتی کے علاوہ اور کچھ نظر نہیں آتا اس اندھیر نگری چوپٹ راج کی دلدل سے عوام کو نکالنے کے لیے اس جمہوریت کی شکل بدلنا ضروری ہے جس کے لیے حالات سازگار ہیں۔

ہر طرف انتخابی اصلاحات قانونی اصلاحات بلدیاتی انتخابات کی باتیں ہو رہی ہیں۔ لیکن اس سے اشرافیائی جمہوریت کا مکروہ چہرہ نہیں بدل سکتا۔ بلکہ اس میں کچھ ایسی بامعنی تبدیلیاں لانی ہوں گی جو اشرافیائی جمہوریت کی لوٹ مار انارکی کو روک سکیں۔

ہمارا سماج طبقات میں بٹا ہوا ہے پسے ہوئے غریب طبقات کا اس جمہوریت میں بس اتنا کردار ہے کہ وہ اپنے معاشی قاتلوں کو ہر 5 سال بعد تبدیل کریں۔ تبدیل کیا کریں ان کے چہرے تبدیل کریں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اشرافیائی جمہوریت عوام کو اس کے علاوہ کوئی کردار کوئی اختیار دینے کو تیار نہیں۔ اس مصیبت سے نکلنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ قانون ساز اداروں میں نشستوں کا تناسب طبقات کی بنیاد پر کیا جائے مثلاً ہمارے ملک میں مزدوروں کی تعداد 6 کروڑ ہے اسی تناسب سے مزدوروں کی نشستیں مقرر کی جائیں یہ دیکھا جائے کہ ہمارے ملک میں کسانوں کی تعداد کتنی ہے۔

اسی تناسب سے ان کی نشستیں متعین کی جائیں۔ ہمارے ملک میں ڈاکٹر ہیں، انجینئر ہیں، وکلا ہیں، چھوٹے تاجر ہیں، ادیب ہیں، شاعر ہیں، دانشور ہیں، فنکار ہیں، صحافی ہیں یہ وہ طبقات ہیں جنھیں اشرافیائی جمہوریت میں ہریجن بنا کر رکھ دیا گیا ہے جب کہ پورا ملک ان ہی طبقات کی جسمانی اور ذہنی محنت پر کھڑا ہے اور یہ محنت کش دو وقت کی روٹی کے حصول کے لیے سارا دن مشقت میں گزار دیتے ہیں اب اس 68 سالہ ظالمانہ استحصالی سیٹ اپ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے جس کے لیے سب سے پہلے رائے عامہ ہموار کرنا ضروری ہے اور یہ کام پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں موجود وہ لوگ کر سکتے ہیں جو اس مکروہ نظام کے مخالف ہیں۔
Load Next Story