پانی کی فراہمی کے لیے واٹر بورڈ کو 16 کروڑ روپے دیے جائیں وزیر اعلیٰ

روزانہ 500ملین گیلن پانی کی کمی کا سامنا ہے، K-4 منصوبے کی تکمیل سے ہی قلت آب کا خاتمہ ہوگا،ایم ڈی واٹر بورڈ

روزانہ 200ٹینکر متاثرہ علاقوں میں بھیجے جا رہے ہیں اور 500 روپے فی ٹینکرلاگت آتی ہے، صوبائی وزیر۔ فوٹو: فائل

وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے شہر میں پانی کی قلت سے نمٹنے کے لیے 1000ٹینکرز کے ذریعے پانی کی فراہمی کی مد میں ادارہ فراہمی و نکاسی آب کو 16 کروڑ روپے کی گرانٹ دینے کی منظوری دی۔

قائم علی شاہ نے یہ فیصلہ جمعرات اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا،وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری قلیل اور طویل المدتی حکمت عملی وضع کی جائے، واٹر بورڈ کے ایم ڈی ہاشم رضا زیدی نے بریفنگ میں وزیراعلیٰ کو بتایا کہ روزانہ 500ملین گیلن پانی کی کمی کا سامنا ہے، یہ مسئلہ تب ہی حل ہوگا، جب 25 ارب روپے کا پانی کی فراہمی کا K-4 منصوبہ مکمل ہوگا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ آئندہ ماہ K-4منصوبہ کا سنگ بنیاد رکھیں گے اور وزیراعظم سے ذاتی طور پر درخواست کریں گے کہ وہ اس کی میچنگ گرانٹ جاری کردیں، وزیر بلدیات شرجیل انعام میمن نے کہا کہ قلیل المدتی حل یہ ہے کہ متاثرہ علاقوں کو واٹر ٹینکر کے ذریعے پانی فراہم کیا جائے، وزیراعلیٰ سندھ نے ان سے پوچھا کہ وہ کتنے ٹینکر روزانہ ان متاثرہ علاقوں میں بھیج رہے ہیں، صوبائی وزیر نے بتایا کہ روزانہ 200ٹینکر بھیجے جا رہے ہیں، وزیراعلیٰ نے پوچھا کہ کراچی واٹر بورڈ کی فی ٹینکر کتنی لاگت آئی ہے۔


صوبائی وزیر نے بتایا کہ 500 روپے فی ٹینکرلاگت آتی ہے، کیونکہ پانی تو کراچی واٹر بورڈ کا ہے، مگر کراچی واٹر بورڈ ٹینکر کے فیول اور کرایہ کی مد میں یہ اخراجات برداشت کرتا ہے، وزیراعلیٰ نے وزیر بلدیات سے کہا کہ وہ شہر میں 1000واٹر ٹینکر روزانہ فراہمی کے لیے ضروری انتظامات کریں اور اس مقصد کے لیے وہ فوری طور پر 160ملین روپے جاری کر رہے ہیں، انھوں نے کہا کہ آپ نہ صرف ٹینکر کی فراہمی جاری رکھیں بلکہ دھابیجی اسٹیشن اور دیگر علاقوں میں موجود پمپس کی فوری طور پر4روز میں مرمت کرائی جائے۔

اے سی ایس(ترقیات) محمد وسیم نے تجویز پیش کی کہ کراچی واٹر بورڈ میں استعمال ہونے والے ڈسٹری بیوشن سسٹم کا جائزہ لیا جائے، تاکہ پانی کی تقسیم مزید بہتر طریقے سے ہو سکے، وزیراعلیٰ نے ایم ڈی واٹر بورڈ کو ہدایت کی کہ وہ والوز کی مرمت کے لیے اخراجات کا تخمینہ لگائیں، وزیراعلیٰ نے پاک اوئیسس کے ٹیکنیکل ڈائریکٹر سعید سے کہا کہ وہ بتائیں کہ انھوں نے شہر میں کتنے آر او پلانٹس لگائے ہیں، انھوں نے بتایا کہ ان کے 18آر او پلانٹس میں سے 16کام کر رہے ہیں۔

https://www.dailymotion.com/video/x2qb171_water-problem-karachi_news
Load Next Story