سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر شیر افگن نیازی انتقال کر گئے
جگر کے کینسر میںمبتلا تھے، صدر،وزیراعظم،نوازشریف،شجاعت کا اظہار افسوس
جگر کے کینسر میںمبتلا تھے، صدر،وزیراعظم،نوازشریف،شجاعت کا اظہار افسوس۔ فوٹو: فائل
سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر شیر افگن نیازی انتقال کر گئے۔
ان کی عمر 67 سال تھی اور وہ جگر کے کینسر میںمبتلا تھے۔ اہل خانہ کے مطابق وہ کچھ روز کوما میں رہنے کے بعدجمعرات کو انتقال کر گئے۔ انھوں نے پسماندگان میں بیوہ،ایک بیٹا اوردوبیٹیاں چھوڑی ہیں۔ ان کی نماز جنازہ آج(جمعہ) صبح 10:30بجے گورنمنٹ ہائی اسکول، میانوالی میں ادا کی جائے گی۔ انھیںچاہ گل خان والا قبرستان میں سپردخاک کیا جائے گا ۔
بی بی سی کے مطابق یکم جنوری 1946کو پیدا ہونے والے شیر افگن نیازی نے نشتر میڈیکل کالج، ملتان سے 1968 میں ایم بی بی ایس کی سند لی اور پریکٹس کرتے رہے ۔ انھوں نے اپنی سیاست کا آغاز 1979 میں ضلع کونسل سے کیا ۔ 1985 ، 1988، 1993 اور 2002 میں وہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ۔ وہ قانون و انصاف ، سماجی بہبود اور پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر بھی رہے ۔ انھوں نے 2002 کا انتخاب پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر جیتا لیکن بعد میں پرویز مشرف کے بنائے گئے پیٹریاٹ گروپ میں شامل ہوگئے۔ انھوں نے آل پاکستان مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی لیکن بعد میں اس سے بھی مستعفیٰ ہوگئے ۔
دریں اثناء صدر آصف زرداری ، وزیراعظم پرویز اشرف، وفاقی وزیر اطلاعات قمر کائرہ ، نواز شریف ، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف ، چوہدری شجاعت، پرویزالٰہی، عمران خان ، الطاف حسین ، مولانا فضل الرحمٰن ، منور حسن ، پرویز مشرف ' گورنر پنجاب لطیف کھوسہ و دیگر نے شیر افگن کی ناگہانی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ۔ اپنے تعزیتی بیانات میں انھوں نے کہا کہ شیر افگن ایک کہنہ مشق ' نڈر اور اصول پسند سیاستدان تھے ، ملک کے لئے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
ادھر سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے بھی ان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شیر افگن کی زندگی سیاسی جدوجہد سے عبارت تھی ، ان کے انتقال سے پاکستان کے سیاسی میدان میں پیدا ہونے والا خلا پُر ہونا مشکل ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفندیار ولی خان اور سندھ کے صوبائی صدر سینیٹرشاہی سید نے بھی شیر افگن کے انتقال پر انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ۔باچاخان مرکز سے جاری ہونے والے ایک تعزیتی بیان میں انھوں نے کہا کہ وہ ایک منجھے ہوئے مدبر سیاستدان تھے، ان کی وفات سے ملک ایک بہترین سیاستدان سے محروم ہو گیا ہے۔
ان کی عمر 67 سال تھی اور وہ جگر کے کینسر میںمبتلا تھے۔ اہل خانہ کے مطابق وہ کچھ روز کوما میں رہنے کے بعدجمعرات کو انتقال کر گئے۔ انھوں نے پسماندگان میں بیوہ،ایک بیٹا اوردوبیٹیاں چھوڑی ہیں۔ ان کی نماز جنازہ آج(جمعہ) صبح 10:30بجے گورنمنٹ ہائی اسکول، میانوالی میں ادا کی جائے گی۔ انھیںچاہ گل خان والا قبرستان میں سپردخاک کیا جائے گا ۔
بی بی سی کے مطابق یکم جنوری 1946کو پیدا ہونے والے شیر افگن نیازی نے نشتر میڈیکل کالج، ملتان سے 1968 میں ایم بی بی ایس کی سند لی اور پریکٹس کرتے رہے ۔ انھوں نے اپنی سیاست کا آغاز 1979 میں ضلع کونسل سے کیا ۔ 1985 ، 1988، 1993 اور 2002 میں وہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ۔ وہ قانون و انصاف ، سماجی بہبود اور پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر بھی رہے ۔ انھوں نے 2002 کا انتخاب پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر جیتا لیکن بعد میں پرویز مشرف کے بنائے گئے پیٹریاٹ گروپ میں شامل ہوگئے۔ انھوں نے آل پاکستان مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی لیکن بعد میں اس سے بھی مستعفیٰ ہوگئے ۔
دریں اثناء صدر آصف زرداری ، وزیراعظم پرویز اشرف، وفاقی وزیر اطلاعات قمر کائرہ ، نواز شریف ، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف ، چوہدری شجاعت، پرویزالٰہی، عمران خان ، الطاف حسین ، مولانا فضل الرحمٰن ، منور حسن ، پرویز مشرف ' گورنر پنجاب لطیف کھوسہ و دیگر نے شیر افگن کی ناگہانی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ۔ اپنے تعزیتی بیانات میں انھوں نے کہا کہ شیر افگن ایک کہنہ مشق ' نڈر اور اصول پسند سیاستدان تھے ، ملک کے لئے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
ادھر سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے بھی ان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شیر افگن کی زندگی سیاسی جدوجہد سے عبارت تھی ، ان کے انتقال سے پاکستان کے سیاسی میدان میں پیدا ہونے والا خلا پُر ہونا مشکل ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفندیار ولی خان اور سندھ کے صوبائی صدر سینیٹرشاہی سید نے بھی شیر افگن کے انتقال پر انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ۔باچاخان مرکز سے جاری ہونے والے ایک تعزیتی بیان میں انھوں نے کہا کہ وہ ایک منجھے ہوئے مدبر سیاستدان تھے، ان کی وفات سے ملک ایک بہترین سیاستدان سے محروم ہو گیا ہے۔