کم عمری میں شادی

کم عمری میں شادی سے لڑکی پر ذہنی اورجسمانی طور پر منفی اثرپڑتا ہے۔

پسماندہ معاشروں میں غربت اورفرسودہ رسم ورواج کے زیر اثر کم عمر لڑکیاں دگنی عمر کےمردوں سے بیاہ دی جاتی ہیں۔ فوٹو:فائل

اپنی آب بیتی سناتے ہوئے وہ کئی بارآبدیدہ ہوئی، وہ باربار آنچل سے اپنے آنسو پونچھتی اور پھر بات شروع کردیتی ''میرے ماں باپ نے میری شادی 70 سالہ زمیندار سے کردی جس کی پہلے ہی تین بیویاں تھیں، لیکن میں اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی، میں خلع چاہتی ہوں اوراب اسی لئے دارالامان میں پناہ لے لی ہے''۔

اٹھارہ سالہ رابعہ خود کے ساتھ ہونیوالے ظلم کی داستان سنارہی تھی ۔۔۔ رابعہ اُس کا فرضی نام ہے، اُس کی خواہش پر اُس کا نام، شہر اور چند شناختیں تبدیل کردی گئی ہیں۔ لاہور کے دارالامان میں مقیم جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والی رابعہ نے بتایا 15 سال کی عمر میں اس کی شادی کردی گئی، اُس کا شوہر نشہ کرتا اوراس پر تشدد کرتا تھا، تین سال تک وہ ظلم وستم برداشت کرتی رہی، اُسی دوران اللہ نے اسے ایک بیٹی بھی عطا کردی لیکن شوہر نے نشہ چھوڑا نہ تشدد کرنے سے باز آتا، بالاآخراس کے ماں باپ نے اس کے شوہرسے طلاق دلوادی، چند ماہ کی بیٹی اس کے شوہر کے پاس ہی رہی، رابعہ نے بتایا کہ وہ تین سال تک ماں باپ کے گھر میں رہی، طعنے سنتی، باپ، بھائیوں کی گالیاں سننے کوملتی، اُسے دو وقت کی روٹی اِس طرح دی جاتی جیسے اُس پر بہت بڑا احسان کیا جارہا ہے لیکن وہ سب کچھ صبر و شکرسے برداشت کرتی رہی۔

ہمارے معاشرے میں حوا کی بیٹیوں کی کم عمری میں شادی اور فرسودہ رسم و رواج کی بھینٹ چڑھانے کا سلسلہ بہت پرانا ہے، دارالامان میں میری ملاقات گڑیا سے بھی ہوئی ۔۔۔ گڑیا نے بھی اپنے شوہر سے خلع کی درخواست دائر کر رکھی ہے، گڑیا کا تعلق لاہورسے ہی ہے۔ گڑیا کے مطابق اُس کا بچپن کراچی میں ایک گھر میں کام کرتے ہوئے گزرا، اُس کے دو بھائی لاہورمیں ہی رہتے ہیں لیکن وہ کراچی میں ایک گھر میں کام کرتی تھی، چند برس پہلے اس کے بھائی نے فون کیا کہ لاہورمیں رشتہ داروں کی شادی ہے وہ اس میں لازمی شریک ہو۔ وہ جن کے یہاں کام کرتی تھی ان کے ساتھ ہی شادی میں شریک ہوئی لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ شادی میں شرکت اس کے لئے کتنی منحوس ثابت ہوگی۔ شادی کے دوران اس کی حقیقی پھوپھو نے اسے دیکھ لیا اورجب میرے بھائی نے پھوپھو کو میرے بارے بتایا تو میری پھوپھو نے کہا یہ تو ہماری بہو ہے۔ میرے بھائی کی شادی میری پھوپھو کی بیٹی سے ہوچکی تھی جبکہ اب یہ کہا جارہا تھا کہ میری شادی بچپن میں ہی میرے پھوپھو زاد جو مجھ سے کئی گنا بڑا ہے اس سے کردی گئی تھی۔ میں جن کے گھر کام کرتی تھی وہ لوگ مجھے واپس کراچی لے گئے لیکن میرے بھائیوں اور پھوپھو نے اس قدر ہنگامہ اور ذلیل کیا کہ وہ لوگ مجبور ہوگئے اورمجھے ان کے ساتھ لاہور بھیج دیا۔



13 سالہ گڑیا نے مزید بتایا کہ اُس کا شوہر مقامی منڈی میں کام کرتا ہے، اس کے سسرال والوں کا پہلے تو رویہ ٹھیک رہا لیکن پھر شوہر نے تشدد شروع کردیا۔ میں مجبور تھی میرا ایک بھائی ان کا داماد تھا اور وہ ان کا ساتھ دیتا تھا۔ میرے ساتھ سسرال والوں کا ظلم وستم جب حد سے بڑھا تو ایک بھائی کو میری حالت پرترس آگیا اوراس نے میرا ساتھ دینے کا وعدہ کیا، جس کے بعد میں نے خلع کا دعوی کردیا اور دارالامان میں آگئی ہوں۔ اُس نے بتایا کہ خلع کے بعد وہ اپنے تین سال کے بیٹے کے ساتھ زندگی گزار رہی ہے۔ وہ اچھی کوکنگ کرلیتی ہے، بیوٹیشن کا کورس بھی کرلیا ہے، وہ اگر اپنے سسرال والوں کو کما کر کھلا سکتی ہے تو اپنا اور اپنے بیٹے کا پیٹ بھی پال سکتی ہے۔

ہمارے یہاں ایسے بہت سے کیس ہیں جہاں کوئی گڑیا اور رابعہ ایسے ہی ظلم وستم کا شکار ہیں۔ پاکستان میں کم عمر بچیوں کی شادی پر پابندی عائد ہے لیکن اس کے باوجود ایسے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ دارالامان کی انچارج مصباح رشید اس حوالے سے کہتی ہیں کہ ''کم عمری میں شادی پر پابندی کا قانون تو موجود ہے لیکن قانون پر عمل داری موثر نہ ہونے کی وجہ سے ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں، اُن کے پاس آنیوالی زیادہ تر لڑکیاں ایسی ہیں جن کی شادیاں غربت اور فرسودہ رسم ورواج کی وجہ سے اُن سے بڑے مردوں سے کردی جاتی ہیں۔ کم عمری میں شادی کا لڑکی ذہنی اورجسمانی نشوونما پر بھی منفی اثر پڑتا ہے اور ایسی شادیوں کا نتیجہ بالاخر طلاق کی صورت ہی نکلتا ہے''۔


صوبہ سندھ کے بعد پنجاب میں بھی کم عمری کی شادی کو جرم قرار دیتے ہوئے پہلے سے موجود سزاؤں کو بڑھا دیا گیا ہے، لیکن قدامت پسند مذہبی حلقے لڑکی کی کم عمری میں شادی کو جائز سمجھتے ہیں، اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا اختر شیرانی اس بارے کھل کر اپنا موقف پیش کرچکے ہیں تاہم اس اہم معاملے پر قوم کی دینی اور شرعی رہنمائی کے لئے اسلامی نظریاتی کونسل کا اہم اجلاس مئی کے آخرمیں اسلام آباد میں ہورہا ہے۔



کم عمری میں شادی کے حوالے سے جامعہ نعیمیہ لاہور کے مہتمم ڈاکٹر راغب نعیمی نے بتایا ''جس طرح ہم شادی کے وقت یہ دیکھتے ہیں کہ لڑکا جوان ہو، برسرِ روزگار اور پڑھا لکھا ہو تو اُسی طرح لڑکیوں کے لئے بھی یہ دیکھنا چائیے کہ وہ ایسی ذمہ داریاں ادا کرنے کے قابل ہے بھی یا نہیں جو شادی کے بعد اس پرعائد ہوں گی''۔ لیکن اس کے باوجود اسلام میں کم عمری میں لڑکی کے نکاح کی ممانعت نہیں لیکن رخصتی اسی وقت ہونی چاہئے جب وہ بالغ ہوجائے اوراس وقت بھی لڑکی یا لڑکے کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ بچپن میں کئے نکاح کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں یا نہیں، اِس حوالے سے صرف شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔



گڑیا اور رابعہ کا شمار ایسی بے شمار لڑکیوں میں ہوتا ہے جن کی شادیاں کم عمری میں کردی گئیں۔ یہ دونوں تو اب اپنے حق کی جنگ لڑرہی ہیں لیکن اس لڑائی میں ہمیں بھی اپنا کردار ادا کرنا ہے، ہمارے ارد گرد جہاں بھی کوئی حوا کی بیٹی کم سنی میں بیاہی جارہی ہوں یا اسے ونی، سوارہ جیسی گھناونی رسموں کی بھینٹ چڑھایا جارہا ہے تو اس کی اطلاع فوراً مقامی انتظامیہ کو دینی چاہئے تاکہ کسی معصوم کی زندگی بچائی جاسکے۔

[poll id="422"]

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس
Load Next Story