صفورا بس ہلاکتیں ٹیسٹ کیس
جولوگ صفورا ٹریجیڈی کےذمےدار ہیں وہ غیر قانونی اسلحےکی بدولت ریاست،حکومت، سماج اور آئینی جمہوریت کو چیلنج کر رہے ہیں
امید کی جانی چاہیے کہ اپیکس کمیٹی صفورا سانحہ کے مجرموں کو بے نقاب کر کے دم لے گی.
آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی زیرصدارت کور ہیڈکوارٹرزکراچی میں اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں سانحہ صفورا گوٹھ کے تناظرمیں دہشت گردوں اوردیگرجرائم کے خلاف جاری آپریشن کو ہفتہ وار بنیادوں پر مزید موثر بنانے اور قانون نافذکرنے والے اداروں کی کارروائیوں میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا۔
حقیقت میں اپیکس اجلاس کا جاری رہنا اس امر کا واضح اعلان ہے کہ حکومت صفورا سانحے میں ملوث ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچا کر دم لے گی۔ اپیکس کمیٹی کو اس حقیقت کا یقیناً ادراک ہو گا کہ جو لوگ صفورا ٹریجیڈی کے ذمے دار ہیں وہ غیر قانونی اسلحے کی بدولت ریاست، حکومت، سماج اور آئینی جمہوریت کو چیلنج کر رہے ہیں۔
ملٹری آپریشن یا متاثرہ و مخدوش علاقوں میں کاؤنٹر انسرجنسی کارروائی اپنے مقاصد، طریقہ کار، اسپیڈ اور رسپانس کے حوالے سے امیدوں پر مبنی اور بد امنی کی شکل میں ملک کو درپیش مسائل سے نمٹنے کی فیصلہ کن کوشش ہے۔ اس مرحلے میں آپریشن کو متنازع بنانے کی کوئی بات ملکی مفاد میں نہیں۔ صفورا سانحہ کراچی آپریشن ٹیسٹ کیس کا اہم نکتہ ہے جس کی روشنی میں اس سانحے کے کرداروں کی گرفتاری اولین ترجیح ہونی چاہیے، چنانچہ اجلاس میں یہ صائب فیصلہ کیا گیا کہ کراچی کے نواحی علاقوں میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کیے جائیں گے جو درحقیقت جرائم کی نرسریاں بن چکی ہیں، یہی کہیں مجرموں اور مافیائی گینگز کے سیف ہیونز (محفوظ ٹھکانے) بھی ہوں گے۔
ایک اہم فیصلہ یہ بھی کیا گیا کہ مجرموں کے خلاف سیاسی، مذہبی، لسانی، فرقہ ورانہ یا کسی بھی وابستگی سے بالاتر ہو کر کارروائی ہو گی۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹنٹ جنرل رضوان اختر، ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس، گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد، وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ، کورکمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، چیف سیکریٹری سندھ صدیق میمن، سیکریٹری داخلہ مختارسومرو، ڈائریکٹر جنرل رینجرز سندھ میجر جنرل بلال اکبر اور آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی نے شرکت کی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردوں کی مالی معاونت کے تمام چینلز کا سراغ لگا کرانھیں ختم کر دیا جائے گا۔ اپیکس کمیٹی سندھ نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ کراچی میں جرائم پیشہ عناصر، کالعدم تنظیموں اور ملک دشمن قوتوں سے رابطے میں رہنے والے گروہوں کے خلاف سخت ترین کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔ ذرایع کے مطابق اس موقعے پر آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے یقین سے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مل کردہشت گردوں کا خاتمہ کر دیں گے۔
اب ضرورت ہے کہ کراچی اور اندرون سندھ جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی کے لیے حکومت دستیاب وسائل کے درست استعمال اور لاانفورسمنٹ ایجنسیز کو درپیش مسائل کا بھی جائزہ لے، ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق گزشتہ 13 برس میں 30 کھرب22 ارب59 کروڑ روپے سندھ میں قیام امن کے لیے خرچ کیے گئے، اس حساب سے خود احتسابی بھی شرط ہے،اسی طرح ایک سروے کے مطابق 13 سالوں میں تقریباً 13 ہزار افراد جاںبحق ہوئے، بتایا جاتا ہے کہ پی پی کے7سال سے زائد سابقہ حکومتی دورانئے میں سندھ میں امن و امان کے قیام کی کوششوں پر 22 کھرب20 ارب روپے خرچ کیے گئے۔ مگر اجمالاً صوبہ اور ملک کا سب سے بڑا شہر ہنوز بدامنی اور دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔
مزید برآں 2015 کے دوران سانحہ صفورا سے قبل کراچی میں 1520 افراد لقمہ اجل بنے۔ صفورا سانحے میں اندیشے کے مطابق زخمی ہونے والی ایک اور خاتون دوران علاج دم توڑ گئی جب کہ جاں بحق ہونیوالے 43 افراد کو سپردخاک کر دیا گیا، شہر کراچی اس المیہ کے باعث تاحال سوگوار ہے، کراچی میں عام تعلیمی ادارے بند رہے تاہم صفورا گوٹھ میں اسماعیلی کمیونٹی کی بس کو نشانہ بنانے کے واقعے پر سوگ کے باوجود آغاخان تعلیمی بورڈ کی جانب سے جمعرات کو میٹرک اور انٹر کے امتحانات معمول کے مطابق پرامن ماحول میں منعقد ہوئے۔
ادھر ایک اہم پیشرفت کے تحت رینجرز اور پولیس نے شہر کے مختلف علاقوں میں ٹارگٹڈ آپریشن کرتے ہوئے269 ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے قبضہ سے اسلحہ برآمد کر لیا ۔ ترجمان سندھ رینجرز کے مطابق حراست میں لیے جانے والے ملزمان میں ٹارگٹ کلرز، کالعدم تنظیموں کے دہشت گرد اور لیاری کے گینگسٹر شامل ہیں۔ چھاپے مسلسل جاری رہنے چاہئیں، سندھ رینجرز نے شہر کے مختلف علاقوں سہراب گوٹھ، گلشن اقبال، شاہ فیصل کالونی، کورنگی، نیو کراچی، ناظم آباد اور اورنگی ٹاؤن کے علاقے میں ٹارگٹڈ آپریشن کرتے ہوئے145 ملزمان کو حراست میں لے کر ان کے قبضے سے اسلحہ برآمد کر لیا۔
امید کی جانی چاہیے کہ اپیکس کمیٹی صفورا سانحہ کے مجرموں کو بے نقاب کر کے دم لے گی، منی پاکستان کو غیر قانونی اسلحہ سے پاک شہر بنانے کے لیے پولیس اور رینجرز کو تمام انٹیلی جنس اداروں کی مکمل معاونت اور رہنمائی ملے تا کہ تفتیش کے سرنگ سے اس المیے کے قرائنی اور سائنسی شواہد کے ساتھ اصل ملزمان کو قوم کو سامنے لایا جا سکے اور ملک میں دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور فرقہ وارانہ قتل و غارتگری کے باعث ہلاکتوں پر ''مرڈر مسٹری'' کا گھناؤنا سلسلہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے۔ قاتل رنگے ہاتھوں پکڑے جائیں اورکسی نے دستانے نہ پہنے ہوں۔
حقیقت میں اپیکس اجلاس کا جاری رہنا اس امر کا واضح اعلان ہے کہ حکومت صفورا سانحے میں ملوث ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچا کر دم لے گی۔ اپیکس کمیٹی کو اس حقیقت کا یقیناً ادراک ہو گا کہ جو لوگ صفورا ٹریجیڈی کے ذمے دار ہیں وہ غیر قانونی اسلحے کی بدولت ریاست، حکومت، سماج اور آئینی جمہوریت کو چیلنج کر رہے ہیں۔
ملٹری آپریشن یا متاثرہ و مخدوش علاقوں میں کاؤنٹر انسرجنسی کارروائی اپنے مقاصد، طریقہ کار، اسپیڈ اور رسپانس کے حوالے سے امیدوں پر مبنی اور بد امنی کی شکل میں ملک کو درپیش مسائل سے نمٹنے کی فیصلہ کن کوشش ہے۔ اس مرحلے میں آپریشن کو متنازع بنانے کی کوئی بات ملکی مفاد میں نہیں۔ صفورا سانحہ کراچی آپریشن ٹیسٹ کیس کا اہم نکتہ ہے جس کی روشنی میں اس سانحے کے کرداروں کی گرفتاری اولین ترجیح ہونی چاہیے، چنانچہ اجلاس میں یہ صائب فیصلہ کیا گیا کہ کراچی کے نواحی علاقوں میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کیے جائیں گے جو درحقیقت جرائم کی نرسریاں بن چکی ہیں، یہی کہیں مجرموں اور مافیائی گینگز کے سیف ہیونز (محفوظ ٹھکانے) بھی ہوں گے۔
ایک اہم فیصلہ یہ بھی کیا گیا کہ مجرموں کے خلاف سیاسی، مذہبی، لسانی، فرقہ ورانہ یا کسی بھی وابستگی سے بالاتر ہو کر کارروائی ہو گی۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹنٹ جنرل رضوان اختر، ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس، گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد، وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ، کورکمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، چیف سیکریٹری سندھ صدیق میمن، سیکریٹری داخلہ مختارسومرو، ڈائریکٹر جنرل رینجرز سندھ میجر جنرل بلال اکبر اور آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی نے شرکت کی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردوں کی مالی معاونت کے تمام چینلز کا سراغ لگا کرانھیں ختم کر دیا جائے گا۔ اپیکس کمیٹی سندھ نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ کراچی میں جرائم پیشہ عناصر، کالعدم تنظیموں اور ملک دشمن قوتوں سے رابطے میں رہنے والے گروہوں کے خلاف سخت ترین کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔ ذرایع کے مطابق اس موقعے پر آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے یقین سے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مل کردہشت گردوں کا خاتمہ کر دیں گے۔
اب ضرورت ہے کہ کراچی اور اندرون سندھ جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی کے لیے حکومت دستیاب وسائل کے درست استعمال اور لاانفورسمنٹ ایجنسیز کو درپیش مسائل کا بھی جائزہ لے، ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق گزشتہ 13 برس میں 30 کھرب22 ارب59 کروڑ روپے سندھ میں قیام امن کے لیے خرچ کیے گئے، اس حساب سے خود احتسابی بھی شرط ہے،اسی طرح ایک سروے کے مطابق 13 سالوں میں تقریباً 13 ہزار افراد جاںبحق ہوئے، بتایا جاتا ہے کہ پی پی کے7سال سے زائد سابقہ حکومتی دورانئے میں سندھ میں امن و امان کے قیام کی کوششوں پر 22 کھرب20 ارب روپے خرچ کیے گئے۔ مگر اجمالاً صوبہ اور ملک کا سب سے بڑا شہر ہنوز بدامنی اور دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔
مزید برآں 2015 کے دوران سانحہ صفورا سے قبل کراچی میں 1520 افراد لقمہ اجل بنے۔ صفورا سانحے میں اندیشے کے مطابق زخمی ہونے والی ایک اور خاتون دوران علاج دم توڑ گئی جب کہ جاں بحق ہونیوالے 43 افراد کو سپردخاک کر دیا گیا، شہر کراچی اس المیہ کے باعث تاحال سوگوار ہے، کراچی میں عام تعلیمی ادارے بند رہے تاہم صفورا گوٹھ میں اسماعیلی کمیونٹی کی بس کو نشانہ بنانے کے واقعے پر سوگ کے باوجود آغاخان تعلیمی بورڈ کی جانب سے جمعرات کو میٹرک اور انٹر کے امتحانات معمول کے مطابق پرامن ماحول میں منعقد ہوئے۔
ادھر ایک اہم پیشرفت کے تحت رینجرز اور پولیس نے شہر کے مختلف علاقوں میں ٹارگٹڈ آپریشن کرتے ہوئے269 ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے قبضہ سے اسلحہ برآمد کر لیا ۔ ترجمان سندھ رینجرز کے مطابق حراست میں لیے جانے والے ملزمان میں ٹارگٹ کلرز، کالعدم تنظیموں کے دہشت گرد اور لیاری کے گینگسٹر شامل ہیں۔ چھاپے مسلسل جاری رہنے چاہئیں، سندھ رینجرز نے شہر کے مختلف علاقوں سہراب گوٹھ، گلشن اقبال، شاہ فیصل کالونی، کورنگی، نیو کراچی، ناظم آباد اور اورنگی ٹاؤن کے علاقے میں ٹارگٹڈ آپریشن کرتے ہوئے145 ملزمان کو حراست میں لے کر ان کے قبضے سے اسلحہ برآمد کر لیا۔
امید کی جانی چاہیے کہ اپیکس کمیٹی صفورا سانحہ کے مجرموں کو بے نقاب کر کے دم لے گی، منی پاکستان کو غیر قانونی اسلحہ سے پاک شہر بنانے کے لیے پولیس اور رینجرز کو تمام انٹیلی جنس اداروں کی مکمل معاونت اور رہنمائی ملے تا کہ تفتیش کے سرنگ سے اس المیے کے قرائنی اور سائنسی شواہد کے ساتھ اصل ملزمان کو قوم کو سامنے لایا جا سکے اور ملک میں دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور فرقہ وارانہ قتل و غارتگری کے باعث ہلاکتوں پر ''مرڈر مسٹری'' کا گھناؤنا سلسلہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے۔ قاتل رنگے ہاتھوں پکڑے جائیں اورکسی نے دستانے نہ پہنے ہوں۔