کاشغر اور ترکی تک ٹرین سفر کی خوشخبری
مستقبل میں ریلوے ٹرین کراچی سے کاشغر جائے گی اور پھر ترکی تک بھی ٹرین کا سفر ممکن ہو سکے گا۔
ریلوے کو ترقی دینے کا مطلب ملک کو ترقی دینا ہے اور اگر انگریز کے چھوڑے ہوئے نظام کو ترقی دینے کا عمل جاری رہتا تو آج وطن عزیز کی ریل سروس کم ازکم بھارت کے برابر ہونی تھی۔ فوٹو ـ پی آئی ڈی
وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ ملک بھر میں تیز رفتار اقتصادی سرگرمی شروع ہو گئی ہے اور عوام آنیوالے برسوں میں ایک انقلابی تبدیلی دیکھیں گے۔ مستقبل میں ریلوے ٹرین کراچی سے کاشغر جائے گی اور پھر ترکی تک بھی ٹرین کا سفر ممکن ہو سکے گا۔
یہ اعلان وزیر اعظم پاکستان نے مارگلہ ریلوے اسٹیشن پر اسلام آباد سے کراچی کے لیے جدید گرین ٹرین سروس کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کیا۔ یہ اعلان اس قدر خوش آئند ہے کہ قوم بڑے طویل عرصے سے اس قسم کے کسی انقلابی منصوبے کی منتظر تھی۔ ایک وقت تھا جب پاکستان سے ایران کے لیے ٹرین چلتی تھی لیکن پھر حالات ایسے نامساعد ہو گئے کہ قوم کے لیے مزید راہیں کھلنے کے بجائے یہ ایک اکلوتا راستہ بھی مسدود ہو گیا۔ اب وزیر اعظم کے اس اعلان نے شاعر مشرق کے اس دیرینہ خواب کی تعبیر کی نوید دلائی ہے ع
نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغر
جہاں تک پاکستان ریلوے کی مبینہ زبوں حالی کا تعلق ہے تو وزیر اعظم نے اس کے توڑ کا بھی عندیہ دیا ہے اور کہا ہے کہ ''نئی ٹرین سروس اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان ریلوے ایک آمدن پیدا کرنے والے ادارے میں تبدیل ہو رہا ہے۔
گرین ٹرین اسلام آباد اور کراچی کے درمیان سفر 23 گھنٹے میں طے کرے گی اور مسافروں کو آرام دہ سلیپر، وائی فائی، کھانے اور اخبارات کی سہولت فراہم کی جائے گی۔'' اسلام آباد سے کراچی کا فاصلہ ڈیڑھ ہزار کلو میٹر کے لگ بھگ ہے جس کے لیے تئیس گھنٹے کا وقت قدرے طویل ہے لیکن اس وقت کو کم کرنے کی خاطر ریلوے لائن کی قوت برداشت میں اضافے کی ضرورت ہو گی جو کہ یقیناً ایک طویل مدت منصوبہ ہے اور اگر وزیر اعظم کاشغر اور ترکی والے منصوبے کے حوالے سے سنجیدہ ہیں تو انھیں اس طویل مدت منصوبے پر بھی غور و فکر کرنا ہو گا۔
وزیراعظم نے گرین ٹرین میں مسافروں کو فراہم کی گئی معیاری سروس کی تعریف کی اور کہا کہ اس ٹرین کے ٹوائلٹ قومی فضائی کمپنی کے ٹوائلٹ سے بھی بہتر ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ریلوے کی آمدنی اٹھارہ ارب نے بڑھ کر تئیس ارب روپے ہو گئی جب کہ موجودہ مالی سال میں یہ اکتیس ارب روپے تک پہنچ جائے گی جو کسی معجزے سے کم نہیں۔ ریلوے کو ترقی دینے کا مطلب ملک کو ترقی دینا ہے اور اگر انگریز کے چھوڑے ہوئے نظام کو ترقی دینے کا عمل جاری رہتا تو آج وطن عزیز کی ریل سروس کم ازکم بھارت کے برابر ہونی تھی۔
یہ اعلان وزیر اعظم پاکستان نے مارگلہ ریلوے اسٹیشن پر اسلام آباد سے کراچی کے لیے جدید گرین ٹرین سروس کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کیا۔ یہ اعلان اس قدر خوش آئند ہے کہ قوم بڑے طویل عرصے سے اس قسم کے کسی انقلابی منصوبے کی منتظر تھی۔ ایک وقت تھا جب پاکستان سے ایران کے لیے ٹرین چلتی تھی لیکن پھر حالات ایسے نامساعد ہو گئے کہ قوم کے لیے مزید راہیں کھلنے کے بجائے یہ ایک اکلوتا راستہ بھی مسدود ہو گیا۔ اب وزیر اعظم کے اس اعلان نے شاعر مشرق کے اس دیرینہ خواب کی تعبیر کی نوید دلائی ہے ع
نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغر
جہاں تک پاکستان ریلوے کی مبینہ زبوں حالی کا تعلق ہے تو وزیر اعظم نے اس کے توڑ کا بھی عندیہ دیا ہے اور کہا ہے کہ ''نئی ٹرین سروس اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان ریلوے ایک آمدن پیدا کرنے والے ادارے میں تبدیل ہو رہا ہے۔
گرین ٹرین اسلام آباد اور کراچی کے درمیان سفر 23 گھنٹے میں طے کرے گی اور مسافروں کو آرام دہ سلیپر، وائی فائی، کھانے اور اخبارات کی سہولت فراہم کی جائے گی۔'' اسلام آباد سے کراچی کا فاصلہ ڈیڑھ ہزار کلو میٹر کے لگ بھگ ہے جس کے لیے تئیس گھنٹے کا وقت قدرے طویل ہے لیکن اس وقت کو کم کرنے کی خاطر ریلوے لائن کی قوت برداشت میں اضافے کی ضرورت ہو گی جو کہ یقیناً ایک طویل مدت منصوبہ ہے اور اگر وزیر اعظم کاشغر اور ترکی والے منصوبے کے حوالے سے سنجیدہ ہیں تو انھیں اس طویل مدت منصوبے پر بھی غور و فکر کرنا ہو گا۔
وزیراعظم نے گرین ٹرین میں مسافروں کو فراہم کی گئی معیاری سروس کی تعریف کی اور کہا کہ اس ٹرین کے ٹوائلٹ قومی فضائی کمپنی کے ٹوائلٹ سے بھی بہتر ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ریلوے کی آمدنی اٹھارہ ارب نے بڑھ کر تئیس ارب روپے ہو گئی جب کہ موجودہ مالی سال میں یہ اکتیس ارب روپے تک پہنچ جائے گی جو کسی معجزے سے کم نہیں۔ ریلوے کو ترقی دینے کا مطلب ملک کو ترقی دینا ہے اور اگر انگریز کے چھوڑے ہوئے نظام کو ترقی دینے کا عمل جاری رہتا تو آج وطن عزیز کی ریل سروس کم ازکم بھارت کے برابر ہونی تھی۔