اسٹیٹ بینک کی ششماہی معاشی جائزہ رپورٹ

ٹیکس محاصل کی نمو بھی سست روی کا شکار ہے جب کہ خسارے میں چلنے والے سرکاری ادارے مالیاتی وسائل پر بوجھ بنے ہوئے ہیں

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ضرور ہوئی ہے لیکن اس کا معیشت پر زیادہ اثر نہیں پڑا۔ فوٹو : فائل

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مالی سال 2014-15 کی پہلی ششماہی معاشی جائزہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ معیشت میں ساختی کمزوریاں برقرار ہیں جو مجموعی معاشی کارکردگی پر اثرانداز ہو رہی ہیں، صنعتوں میں توانائی کی قلت بدستور سنگین مسئلہ ہے، بیرونی سرمایہ کاری میں بھی اضافہ نہیں ہو رہا، ٹیکس محاصل کی نمو بھی سست روی کا شکار ہے جب کہ خسارے میں چلنے والے سرکاری ادارے مالیاتی وسائل پر بوجھ بنے ہوئے ہیں ۔


ان تمام عوامل کے باعث بجٹ کا خسارہ جی ڈی پی کے4.9 فیصد کے ہدف سے زائد رہنے کی توقع ہے البتہ معاشی ترقی کی شرح نمو گزشتہ سال سے زائد رہے گی۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ سے ملکی معیشت کی بعض کمزوریاں واقع ہو رہی ہیں۔ معیشت کا جائزہ لیں تو سب سے بڑا مسئلہ توانائی کا بحران ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی اور بدامنی بھی معاشی ترقی کی سست رفتاری کی وجوہات میں شامل ہے۔

اگر پاکستان کی حکومت توانائی کے بحران پر قابو پا لیتی ہے اور ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور جرائم میں کمی کی جاتی ہے تو معیشت میں بہتری کی رفتار تیز ہو جائے گی۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ضرور ہوئی ہے لیکن اس کا معیشت پر زیادہ اثر نہیں پڑا۔ لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کو مدنظر رکھ کر معیشت اور مالیات کے شعبوں میں موجود کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرے۔
Load Next Story