کراچی میں قیام امن … وقت کا تقاضا
کراچی میں بدامنی کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کی معیشت اور کاروباری سرگرمیوں کو نقصان پہنچایا جائے
وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کی مرکزی اور سندھ حکومت کو کراچی میں قیام امن کے لیے اپنا رہنما کردار ادا کرنا چاہیے۔ فوٹو:ایکسپریس/محمد نعمان
کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے اور یہ پاکستان کا معاشی دارالحکومت بھی ہے۔کراچی میں بدامنی کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کی معیشت اور کاروباری سرگرمیوں کو نقصان پہنچایا جائے۔ کراچی میں بدامنی کی وجوہات کیا ہیں اور روشنیوں کا یہ شہر اس نوبت تک کیوں پہنچا، اس میں پاکستان اور سندھ میں برسراقتدار آنے والی ہر حکومت نے اپنا اپنا حصہ ڈالا ہے۔ گزشتہ روز کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر قائد میں منشیات فروشوں سے لے کر القاعدہ تک نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں تاہم سیاسی اور انتظامی نااہلی نے مسائل میں کئی گنا اضافہ کردیا ہے،کراچی میں قانون کی بالادستی نہیں رہی اور حکومت تو کراچی میں ہے لیکن اس کے اثر و رسوخ میں کمی آئی ہے، کراچی میں متوازی حکومتوں کو ختم کرنا ہوگا، ضروری ہے کہ 'وائٹ کالر جرائم، سے بھی نمٹا جائے جو شدت پسندوں کی مدد کرتے ہیں۔
کراچی میں امن کے قیام کے لیے کسی کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ہر قسم کے جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن جاری ہے جس میں ناکام ہونے کا کوئی آپشن نہیں ہے۔ کور کمانڈر کراچی کی باتوں کو کسی طور بھی غلط قرار نہیں دیا جا سکتا۔کراچی ایک ایسا شہر بن گیا ہے جہاں وائٹ کالر کرائمز کا بھی مافیا ہے ،دہشت گرد بھی موجود ہیں ،ان میں ہر قسم کے دہشت گرد شامل ہیں۔ ادھر ڈرگ مافیا بھی ہے،لینڈ مافیا بھی ہے ،حد یہ ہے کہ ٹینکر مافیا بھی ہے۔یہی نہیں بلکہ پینے کا پانی سپلائی کرنے والے بھی کراچی کے باسیوں کو لوٹ رہے ہیں۔ان معاملات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتظامی نااہلی کی پیمانے پر ہے۔ادھر سیاسی قیادت کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا پڑے گی کہ وہ بھی کراچی میں وہ کردار ادا نہیں کر سکی جو اسے کرنا چاہیے تھا۔کراچی کی بندرگاہوں سے ملک کی 80 فیصد تجارتی سرگرمیاں ہوتی ہیں، ملک کو 65 فیصد ریونیو کراچی دیتا ہے۔ان اعدادوشمار سے واضح ہوتا ہے کہ کراچی کو برباد کرنے والوں کے مقاصد کیا ہیں۔
اس وقت کراچی شہر کی آبادی سوا دو کروڑ یا ڈھائی کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ بعض لوگوں کا دعویٰ شاید اس سے بھی زیادہ ہے۔ اتنے بڑے شہر میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے ایک انتہائی مستعد اور فرض شناس انتظامیہ کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کراچی شہر میں پولیس سسٹم کو بھی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اگر اس شہر میں کمیونٹی انٹیلی جنس سسٹم کو استعمال میں لایا جائے تو دہشت گردی اور جرائم مافیا کے خلاف بہتر حکمت عملی تیار کی جا سکتی ہے۔ اس وقت کراچی میں جو آپریشن ہو رہا ہے ،اس کے بارے میں یہ کہا تو جا رہا ہے کہ اس میں ناکامی کا کوئی آپشن نہیں تاہم اس حقیقت کو بھی ذہن میں رہنا چاہیے کہ اس آپریشن کے اثرات اور نتائج مثبت ہونے چاہئیں ۔کراچی کے سٹیک ہولڈرز کو بھی معاملات کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے آپریشن کے ساتھ جڑنا چاہیے تاکہ غیر جمہوری قوتیں حالات سے فائدہ نہ اٹھاسکیں۔
کراچی میں کام کرنے والے دہشت گرد گروپوں کی جڑیں خاصی گہری ہیں ،انھیں جڑ سے اکھاڑنے کے لیے جہاں کاروباری طبقے کی حمایت کی ضرورت ہے وہیں عوام اور سیاسی جماعتوں کو بھی اس کام میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ کراچی میں امن قائم ہو جائے تو اس کے اثرات پورے ملک پر مرتب ہوں گے کیونکہ پاکستان کا کوئی شہر اور کوئی گاؤں ایسا نہیں جس کا کوئی باسی کراچی میں روز گار کی غرض سے مقیم نہ ہو ۔کراچی میں بدامنی کی لہر بھی پاکستان کے شہر شہر اور گاؤں گاؤں میں محسوس کی جاتی ہے۔وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کی مرکزی اور سندھ حکومت کو کراچی میں قیام امن کے لیے اپنا رہنما کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ اس شہر میں کاروباری سرگرمیاں پوری آب و تاب سے شروع ہو سکیں۔
کراچی میں امن کے قیام کے لیے کسی کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ہر قسم کے جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن جاری ہے جس میں ناکام ہونے کا کوئی آپشن نہیں ہے۔ کور کمانڈر کراچی کی باتوں کو کسی طور بھی غلط قرار نہیں دیا جا سکتا۔کراچی ایک ایسا شہر بن گیا ہے جہاں وائٹ کالر کرائمز کا بھی مافیا ہے ،دہشت گرد بھی موجود ہیں ،ان میں ہر قسم کے دہشت گرد شامل ہیں۔ ادھر ڈرگ مافیا بھی ہے،لینڈ مافیا بھی ہے ،حد یہ ہے کہ ٹینکر مافیا بھی ہے۔یہی نہیں بلکہ پینے کا پانی سپلائی کرنے والے بھی کراچی کے باسیوں کو لوٹ رہے ہیں۔ان معاملات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتظامی نااہلی کی پیمانے پر ہے۔ادھر سیاسی قیادت کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا پڑے گی کہ وہ بھی کراچی میں وہ کردار ادا نہیں کر سکی جو اسے کرنا چاہیے تھا۔کراچی کی بندرگاہوں سے ملک کی 80 فیصد تجارتی سرگرمیاں ہوتی ہیں، ملک کو 65 فیصد ریونیو کراچی دیتا ہے۔ان اعدادوشمار سے واضح ہوتا ہے کہ کراچی کو برباد کرنے والوں کے مقاصد کیا ہیں۔
اس وقت کراچی شہر کی آبادی سوا دو کروڑ یا ڈھائی کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ بعض لوگوں کا دعویٰ شاید اس سے بھی زیادہ ہے۔ اتنے بڑے شہر میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے ایک انتہائی مستعد اور فرض شناس انتظامیہ کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کراچی شہر میں پولیس سسٹم کو بھی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اگر اس شہر میں کمیونٹی انٹیلی جنس سسٹم کو استعمال میں لایا جائے تو دہشت گردی اور جرائم مافیا کے خلاف بہتر حکمت عملی تیار کی جا سکتی ہے۔ اس وقت کراچی میں جو آپریشن ہو رہا ہے ،اس کے بارے میں یہ کہا تو جا رہا ہے کہ اس میں ناکامی کا کوئی آپشن نہیں تاہم اس حقیقت کو بھی ذہن میں رہنا چاہیے کہ اس آپریشن کے اثرات اور نتائج مثبت ہونے چاہئیں ۔کراچی کے سٹیک ہولڈرز کو بھی معاملات کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے آپریشن کے ساتھ جڑنا چاہیے تاکہ غیر جمہوری قوتیں حالات سے فائدہ نہ اٹھاسکیں۔
کراچی میں کام کرنے والے دہشت گرد گروپوں کی جڑیں خاصی گہری ہیں ،انھیں جڑ سے اکھاڑنے کے لیے جہاں کاروباری طبقے کی حمایت کی ضرورت ہے وہیں عوام اور سیاسی جماعتوں کو بھی اس کام میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ کراچی میں امن قائم ہو جائے تو اس کے اثرات پورے ملک پر مرتب ہوں گے کیونکہ پاکستان کا کوئی شہر اور کوئی گاؤں ایسا نہیں جس کا کوئی باسی کراچی میں روز گار کی غرض سے مقیم نہ ہو ۔کراچی میں بدامنی کی لہر بھی پاکستان کے شہر شہر اور گاؤں گاؤں میں محسوس کی جاتی ہے۔وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کی مرکزی اور سندھ حکومت کو کراچی میں قیام امن کے لیے اپنا رہنما کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ اس شہر میں کاروباری سرگرمیاں پوری آب و تاب سے شروع ہو سکیں۔