سول اسپتال کے شعبہ حادثات میں آتشزدگی سے مریضوں میں خوف
ڈاکٹروں کا کہنا تھاکہ اسپتال کے انتظامی سربراہ کو وزیر اعلی سندھ کے ذاتی دوست ہونے کی وجہ سے 7سال سے تعینات ہیں
اسپتال کی عمارت میں بجلی کے غیر محفوظ تاریں کھلی پڑی رہتی ہیں جو کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہیں، ملازمین ۔ فوٹو: پی پی آئی
MIAMI:
سول اسپتال کے شعبہ حادثات (ایمرجنسی وارڈ) میں آگ لگ گئی جس کی وجہ سے شعبہ حادثات میں دھواں بھرگیا شعبہ حادثات میں موجود مریضوں اوران کے تیمارداروں سمیت اسپتال کے ڈاکٹروں اوردیگر عملے میں شدید خوف وہراس پھیل گیا اورشعبہ حادثات میں افراتفری مچ گئی۔
آگ لگنے کے باوجود اسپتال انتظامیہ کا کوئی بھی افسرشعبہ حادثات نہیں پہنچ سکا اورڈاکٹروں اور دیگر عملے اپنی مدد آپ کے تحت موجود مریضوں کوفوری طورپرباہرنکالاجبکہ بعض مریضوں کو دوسرے وارڈز میں منتقل کیااسی اثنا میں فائر بریگیڈ نے موقع پر پہنچ کر صورتحال پر قابو پالیا، ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ شعبہ حادثات میں نصب آکسیجن سپلائی کرنے والی لائن میں لگی تھی جودیکھتے ہی دیکھتے بڑھ گئی، فائر بریگیڈ کے عملے نے جلد ہی آ گ پر قابو پالیا تاہم دھواں بھرجانے کے باعث لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی تھی جس کے بعد اسموک ایجیکٹرکے ذریعے دھواں بھی نکال دیا گیا اور صورتحال معمول پر آگئی، اسپتال کے ڈاکٹروں اور دیگر عملے نے ایکسپریس کوبتایا کہ شعبہ حادثات میں آئے دن بجلی کے شارٹ سرکٹ کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں، اسپتال انتظامیہ نے اس اہم مسئلے پر چپ ساد رکھی ہے۔
ملازمین کا کہنا تھا کہ اسپتال کی عمارت میں بجلی کے غیر محفوظ تاریں کھلی پڑی رہتی ہیں جو کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہیں، ان ملازمین کا کہنا تھاکہ اسپتال انتظامیہ اور محکمہ صحت نے اسپتال سے اظہار لاتعلقی کررکھا ہے عدم توجہی کی وجہ سے اسپتال مسائل کی آماجگاہ بن چکا ہے کیونکہ اسپتال محکمہ صحت کا عمل دخل عملًا ختم ہوگیا ہے جس کی وجہ اسپتال کے انتظامی سربراہ ہیں، ان ڈاکٹروں کا کہنا تھاکہ اسپتال کے انتظامی سربراہ کو وزیر اعلی سندھ کے ذاتی دوست ہونے کی وجہ سے 7سال سے تعینات ہیں، اسپتال کے شعبہ حادثات کے سامنے اور اطراف تجاوزات کی بھرمار ہے بعض افسران کا کہنا ہے کہ تجاوزات اسپتال کے انتظامی سربراہ کی ملی بھگت سے قائم کی گئی ہیں۔
سول اسپتال کے شعبہ حادثات (ایمرجنسی وارڈ) میں آگ لگ گئی جس کی وجہ سے شعبہ حادثات میں دھواں بھرگیا شعبہ حادثات میں موجود مریضوں اوران کے تیمارداروں سمیت اسپتال کے ڈاکٹروں اوردیگر عملے میں شدید خوف وہراس پھیل گیا اورشعبہ حادثات میں افراتفری مچ گئی۔
آگ لگنے کے باوجود اسپتال انتظامیہ کا کوئی بھی افسرشعبہ حادثات نہیں پہنچ سکا اورڈاکٹروں اور دیگر عملے اپنی مدد آپ کے تحت موجود مریضوں کوفوری طورپرباہرنکالاجبکہ بعض مریضوں کو دوسرے وارڈز میں منتقل کیااسی اثنا میں فائر بریگیڈ نے موقع پر پہنچ کر صورتحال پر قابو پالیا، ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ شعبہ حادثات میں نصب آکسیجن سپلائی کرنے والی لائن میں لگی تھی جودیکھتے ہی دیکھتے بڑھ گئی، فائر بریگیڈ کے عملے نے جلد ہی آ گ پر قابو پالیا تاہم دھواں بھرجانے کے باعث لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی تھی جس کے بعد اسموک ایجیکٹرکے ذریعے دھواں بھی نکال دیا گیا اور صورتحال معمول پر آگئی، اسپتال کے ڈاکٹروں اور دیگر عملے نے ایکسپریس کوبتایا کہ شعبہ حادثات میں آئے دن بجلی کے شارٹ سرکٹ کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں، اسپتال انتظامیہ نے اس اہم مسئلے پر چپ ساد رکھی ہے۔
ملازمین کا کہنا تھا کہ اسپتال کی عمارت میں بجلی کے غیر محفوظ تاریں کھلی پڑی رہتی ہیں جو کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہیں، ان ملازمین کا کہنا تھاکہ اسپتال انتظامیہ اور محکمہ صحت نے اسپتال سے اظہار لاتعلقی کررکھا ہے عدم توجہی کی وجہ سے اسپتال مسائل کی آماجگاہ بن چکا ہے کیونکہ اسپتال محکمہ صحت کا عمل دخل عملًا ختم ہوگیا ہے جس کی وجہ اسپتال کے انتظامی سربراہ ہیں، ان ڈاکٹروں کا کہنا تھاکہ اسپتال کے انتظامی سربراہ کو وزیر اعلی سندھ کے ذاتی دوست ہونے کی وجہ سے 7سال سے تعینات ہیں، اسپتال کے شعبہ حادثات کے سامنے اور اطراف تجاوزات کی بھرمار ہے بعض افسران کا کہنا ہے کہ تجاوزات اسپتال کے انتظامی سربراہ کی ملی بھگت سے قائم کی گئی ہیں۔