غصہ ور ویرات کوہلی کو نفسیاتی علاج کا مشورہ
ویرات کوہلی کو خود اپنی حرکتوں پر غور کرناچاہیے اس سے قبل کہ بہت دیر نہ ہوجائے، ماہرنفسیات
ویرات کوہلی کو خود اپنی حرکتوں پر غور کرناچاہیے اس سے قبل کہ بہت دیر نہ ہوجائے، ماہرنفسیات
بھارتی ٹیسٹ کپتان ویرات کوہلی کو غصہ پر قابو پانے کےلیے نفسیاتی علاج کا مشورہ دیا جانے لگا۔
دولت اور شہرت کے ساتھ ان کی بدمزاجی بھی بڑھتی جارہی ہے، جمعے کو سن رائزرز حیدرآباد کے خلاف میچ کے دوران امپائر کمار دھرما سینا سے الجھنا کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ وہ کئی مرتبہ اپنے ٹیمپرامنٹ کی وجہ سے تنازعات میں الجھ چکے ہیں۔ چند روز قبل ان کی ممبئی انڈینز کے وکٹ کیپر پرتھیو پٹیل کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی تھی۔ ورلڈ کپ کے دوران وہ ایک صحافی سے خوامخواہ ہی الجھ بیٹھے تھے، اس سے قبل آسٹریلیا سے ٹیسٹ ٹور کے دوران ان کی اوپنر شیکھر دھون سے تلخ کلامی کی بھی رپورٹس میڈیا میں آئی تھیں۔
بھارت میں کھلاڑیوں کے ساتھ کام کرنے والے معروف ماہرنفسیات بی پی بام کا کہنا ہے کہ ویرات کوہلی کو خود اپنی حرکتوں پر غور کرناچاہیے اس سے قبل کہ بہت دیر نہ ہوجائے، انھوں نے کہا کہ یہ نہ صرف خود ان کے بلکہ بھارتی کرکٹ کے بھی حق میں ہے، اگر غصے کی وجہ سے وہ کسی بڑے تنازع میں الجھے تو ان پر پابندی بھی عائد ہوسکتی اور اس کا نقصان بھارت کو ہوگا اس لیے انھیں خود پر کنٹرول کےلیے ماہر نفسیات سے رجوع کرنا اور خود اپنی اصلاح بھی کرنی چاہیے۔
دولت اور شہرت کے ساتھ ان کی بدمزاجی بھی بڑھتی جارہی ہے، جمعے کو سن رائزرز حیدرآباد کے خلاف میچ کے دوران امپائر کمار دھرما سینا سے الجھنا کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ وہ کئی مرتبہ اپنے ٹیمپرامنٹ کی وجہ سے تنازعات میں الجھ چکے ہیں۔ چند روز قبل ان کی ممبئی انڈینز کے وکٹ کیپر پرتھیو پٹیل کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی تھی۔ ورلڈ کپ کے دوران وہ ایک صحافی سے خوامخواہ ہی الجھ بیٹھے تھے، اس سے قبل آسٹریلیا سے ٹیسٹ ٹور کے دوران ان کی اوپنر شیکھر دھون سے تلخ کلامی کی بھی رپورٹس میڈیا میں آئی تھیں۔
بھارت میں کھلاڑیوں کے ساتھ کام کرنے والے معروف ماہرنفسیات بی پی بام کا کہنا ہے کہ ویرات کوہلی کو خود اپنی حرکتوں پر غور کرناچاہیے اس سے قبل کہ بہت دیر نہ ہوجائے، انھوں نے کہا کہ یہ نہ صرف خود ان کے بلکہ بھارتی کرکٹ کے بھی حق میں ہے، اگر غصے کی وجہ سے وہ کسی بڑے تنازع میں الجھے تو ان پر پابندی بھی عائد ہوسکتی اور اس کا نقصان بھارت کو ہوگا اس لیے انھیں خود پر کنٹرول کےلیے ماہر نفسیات سے رجوع کرنا اور خود اپنی اصلاح بھی کرنی چاہیے۔