آیندہ بجٹ…خدشات اور توقعات

ہر حکومت بجٹ پیش کرتے ہوئے یہ بلند بانگ دعویٰ کرتی ہے کہ اس کا پیش کردہ بجٹ مکمل طور پر عوامی ہے

چین کی مثال سب کے سامنے ہے جس نے بہتر منصوبہ بندی کی بدولت سیلاب پر کافی حد تک قابو پا لیا ہے اور اب وہ بڑی تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ فوٹو: فائل

مالی سال 2015-16 اپنے اختتام کی طرف جا رہا ہے، ملک میں بجٹ کی آمد آمد ہے اور حکومتی سطح پر اس کی تیاری کا عمل بھی جاری ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق رواں مالی سال کا اقتصادی سروے 4جون کو جاری کیا جائے گا جب کہ آیندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ 5 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ گزشتہ روز اسلام آباد میں نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ سے متعلق اہم اجلاس بھی ہوا جس کی صدارت وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کی۔ انھوں نے نئے مالی سال 2015-16 کے وفاقی بجٹ سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے واضح کیا کہ آیندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی تیاری میں عوام کے مفاد کا خیال رکھنے کے علاوہ ٹیکس اصلاحات کمیشن کی سفارشات کو بھی شامل کیا جائے گا۔

ہر حکومت بجٹ پیش کرتے ہوئے یہ بلند بانگ دعویٰ کرتی ہے کہ اس کا پیش کردہ بجٹ مکمل طور پر عوامی ہے اور اس میں عوام کے مفاد کا ہر ممکن خیال رکھا گیا ہے اور اس نے جو منصوبے پیش کیے ہیں ان کی تکمیل کے بعد ملک میں خوشحالی کا دور دورہ ہو گا اور معیشت کا ہر شعبہ پوری رفتار سے ترقی کرے گا لیکن ماضی میں پیش ہونے والے بجٹ اور اس کے بعد پیدا ہونے والے حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ بجٹ میں پیش کیے گئے بہت سے اہداف حاصل نہیں کیے جا سکے اور عوام کی حالت بہتر ہونے کے بجائے پہلے سے بھی زیادہ بگڑتی چلی گئی ، مختلف ذرایع سے جاری ہونے والی رپورٹس بھی یہ واضح کرتی ہیں کہ وطن عزیز میں ہر سال غربت کی لکیر سے نیچے جانے والے افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔

یہ بھی مشاہدے میں آیا ہے کہ حکومت بجٹ پیش کرتے ہوئے اسے بڑے فخر سے ٹیکس فری قرار دیتی ہے اور یہ دعویٰ کرتی ہے کہ اس کے بعد کوئی منی بجٹ نہیں آئے گا مگر چند ماہ بعد ہی ان حکومتی دعوؤں کے برعکس منی بجٹ عوام پر مسلط ہو جاتا ہے۔ سال میں کئی بار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بھی منی بجٹ کی ایک صورت ہے، پٹرول کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا اثر پورے معاشی نظام پر مرتب ہوتا ہے۔ معاشی نظام کے استحکام اور اسے غیر یقینی کیفیت سے بچنے کے لیے ناگزیر ہے کہ جون میں بجٹ پیش کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا سالانہ بنیادوں پر تعین کیا جائے۔ یہ اخباری اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کے دباؤ پر آیندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں بجلی کے صارفین کو دی جانے والی سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 2سے 3روپے کا اضافہ ہو جائے گا، ذرایع کے مطابق سبسڈی کے خاتمے سے حکومت کو دو ارب روپے سے زائد کی بچت ہوگی۔


اگر حکومت بجٹ پیش کرتے ہوئے بجلی کے نرخوں میں مزید اضافہ کرتی ہے تو اسے عوامی بجٹ کہنا مشکل امر ہو گا۔ یہ عوامی بجٹ اسی صورت کہلائے گا جب حکومت یوٹیلٹی بلوں کی قیمتوں میں واضح کمی کا اعلان کرے کیونکہ اس کمی سے مہنگائی کا گراف یقیناً نیچے آئے گا اور عوام کو ریلیف ملے گا لیکن اگر حکومت ایسا نہیں کرتی تو عوام مہنگائی کی چکی میں مسلسل پستے چلے جائیں گے۔ سرکاری ملازمین اور پنشنرز ہر سال حکومت سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کی تنخواؤں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے مگر حکومت تنخواؤں اور پنشن میں جس اضافے کا اعلان کرتی ہے وہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے مقابلے میں اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف قرار دیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں عالمی بینک نے رواں مالی سال کی ڈیزاسٹر رسک اسیسمنٹ رپورٹ جاری کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں تقریباً ہر سال 30 لاکھ افراد قدرتی آفات سے متاثر ہوتے ہیں جو تمام آبادی کے تقریباً 1.6 فیصد کے برابر ہے۔

رپورٹ میں ابتدائی تجزیے کے مطابق سیلاب کے سالانہ معاشی اثرات کا اندازہ 1.2 سے 1.8 ارب ڈالر کے درمیان لگایا گیا ہے جو ملکی جی ڈی پی کا 0.5 فیصد سے 0.8 فیصد بنتا ہے۔ پاکستان میں آنے والی قدرتی آفات میں سب سے زیادہ نقصان سیلاب سے ہوتا ہے جو اربوں ڈالر تک جا پہنچتا ہے جس سے پورے ملک کی معیشت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں،فصلیں تباہ ہونے سے ان سے وابستہ صنعتوں کو بھی خاطر خواہ نقصان پہنچتا ہے، ملک بھر میں ترقیاتی منصوبے تعطل کا شکار ہو جاتے ہیں۔اور حکومت کو سیلاب سے ہونے والی تباہ کاری سے نمٹنے کے لیے عالمی مالیاتی اداروں سے امداد مانگنا پڑتی ہے۔گزشتہ چند برسوں میں آنے والے سیلاب نے ملکی معیشت کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا جس سے وفاقی بجٹ پر بہت زیادہ دباؤ پڑا۔

حکومت نے ابھی تک سیلاب کی تباہ کاریاں روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر کوئی اقدامات نہیں کیے اور اس بات کا خدشہ مسلسل ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر کوئی بڑا سیلاب آیا تو اس سے بہت زیادہ جانی و مالی نقصان ہوگا اور پورے ملک کی معیشت شدید متاثر ہو گی۔ ماہرین یہ مسلسل کہتے چلے آ رہے ہیں کہ حکومت سیلاب متاثرین کی بحالی، ٹوٹ پھوٹ جانے والی سڑکوں، سرکاری عمارتوں، اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی تعمیر و مرمت پر جتنا کثیر سرمایہ صرف کرتی ہے اگر یہ سرمایہ پانی کے ذخائر تعمیر کرنے پر صرف کیا جائے تو اس سے سیلاب پر قابو پا کر اس سے ہونے والے قومی نقصان سے بچا جاسکتا ہے جس سے ملکی ترقی کو بھی واضح مہمیز ملے گی اور حکومت کے ترقیاتی منصوبے بھی متاثر نہیں ہوں گے لیکن حکومت اس جانب کوئی توجہ نہیں دے رہی اور روایتی تساہل پسندی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔

چین کی مثال سب کے سامنے ہے جس نے بہتر منصوبہ بندی کی بدولت سیلاب پر کافی حد تک قابو پا لیا ہے اور اب وہ بڑی تیزی سے ترقی کر رہا ہے جس کا اعتراف پوری دنیا کر رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت وفاقی بجٹ کی تیاری میں عوام کے مفاد کا کس قدر خیال رکھتی ہے اور یہ عوامی بجٹ کہلاتا ہے یا سرکاری اعدادوشمار کا گورکھ دھندا۔
Load Next Story