آتشزدگی کادرد ناک سانحہ اور حکومتی اداروں کی کارکردگی

جب بھی کوئی ایسا سانحہ ہوتا ہے تو ہماری حکومت اور سانحات سے نمٹنے والے امدادی اداروں کی قلعی کھل جاتی ہے۔

عوام کے نمایندے اپنی تنخواؤں اور مراعات میں اضافہ کروانا فرض سمجھتے ہیں لیکن اصل کام کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔فوٹو : فائل

پاکستان میں بڑی کثرت سے قدرتی آفات اور آتشزدگی کے واقعات رونما ہوتے ہیں اور یہ واقعات حکومتی اداروں کی نااہلی اور غفلت کے باعث سانحات میں تبدیل ہو جاتے ہیں، یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ جب بھی کوئی ایسا سانحہ ہوتا ہے تو ہماری حکومت اور سانحات سے نمٹنے والے امدادی اداروں کی قلعی کھل جاتی ہے۔ گزشتہ روز لاہور میں آتشزدگی کا ایک انتہائی درد ناک سانحہ رونما ہوا ہے۔ لاہور کے گنجان آباد علاقے شاد باغ کے ایک گھر میں بجلی کے تاروں کے شارٹ سرکٹ سے آگ بھڑکی اور اس دو منزلہ گھر میں مقیم گھرانے کے 6بہن بھائی آگ کی لپیٹ میں آ کر جاں بحق ہو گئے۔ یوں یہ گھرانہ دیکھتے ہی دیکھتے اجڑ گیا۔ اس سانحے کا تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ شہری امدادی ادارے جن میں فائر بریگیڈ، ریسکیو ٹیمیں اور پولیس وغیرہ شامل ہیں کچھ نہیں کر سکے۔

اخباری اطلاعات کے مطابق فائر بریگیڈ کے دفتر میں مقامی لوگ فون کرتے رہے لیکن وہاں گھنٹیاں بجتی رہیں اور کسی نے فون نہیں اٹھایا اور جب فون اٹھایا اور فائر بریگیڈ کا عملہ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کے بعد جائے وقوع پر پہنچا تو عملے کے پاس آگ بجھانے کے آلات تھے اور نہ پانی۔ فائر بریگیڈ کے پاس پانی پھینکنے والے پائپ انتہائی ناقص تھے۔ فائر بریگیڈ کا عملہ مقامی لوگوں سے پانی لانے کی اپیل کرتا رہا، مقامی یونین کونسلوں میں تو خیر سے کسی قسم کا انتظام ہی نہیں ہوتا۔ یہ ایٹمی پاکستان کی انتہائی المناک تصویر ہے۔ پاکستان کے بڑے شہروں خصوصاً کراچی اور لاہور میں آتشزدگی کے بیسیوں سانحات رونما ہو چکے ہیں، ان میں بے شمار قیمتی جانیں ضایع ہو گئیں حالانکہ اگر شہری امدادی ادارے فعال ہوتے توآگ پر بروقت قابو بھی پایاجاسکتا تھا اور قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔ کچھ عرصہ پہلے کراچی میں بلدیہ ٹاؤن میں ایک گارمنٹس فیکٹری میں آگ لگی اور فیکٹری میں موجود سیکڑوں افراد جل کر راکھ ہو گئے۔


کراچی میں ہی لی مارکیٹ کی ٹمبر مارکیٹ میں آگ لگی جس میں اربوں کا نقصان ہوا۔ کراچی میں کئی شاپنگ مالز میں آتشزدگی کے واقعات ہوئے لیکن آگ اپنا کام کرکے خود ہی بجھ گئی۔معاملہ وہی کراچی میں فائربریگیڈ ایسا لنگڑا گھوڑا ہے جو چلنے کے قابل نہیں۔ ریسکیو کے ادارے بھی اسی قسم کے ہیں حالانکہ کراچی شہر کا بجٹ کئی ارب روپے کا ہے۔ اگر سندھ حکومت فائر بریگیڈ اور ریسکیو پر رقم خرچ کرے تو یہ ادارے بہتر ہو سکتے ہیں۔کچھ عرصہ قبل لاہور میں ایل ڈی بلڈنگ کی کثیر المنزلہ عمارت میں آگ لگی، کئی بدقسمت افراد کھڑکیوں سے کود کر مر گئے اور باقی اندر جھلس کر مر گئے لیکن سرکاری اداروں میں اتنا دم خم نہیں تھا کہ بروقت آگ بجھالی جاتی اور لوگوں کو بحفاظت باہر نکالا جا سکتا ہے۔ لاہور کی سب سے بڑی تھوک مارکیٹ شاہ عالم مارکیٹ میں بھی کچھ عرصہ قبل آگ لگی تھی۔ وہاں بھی وہی کچھ ہوا جو دیگر واقعات میں ہوا۔

ہمارے ہاں مرکزی حکومت ہو یا صوبائی حکومتیں، وہ آئے روز اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کر رہی ہیں۔ کہیں شمسی توانائی پیدا کرنے کے لیے کام ہو رہا ہے تو کہیں موٹروے تعمیر ہو رہی ہے، لاہورمیں میٹرو بس کا اربوں روپے کا منصوبہ مکمل ہو چکا ہے لیکن حال یہ ہے کہ فائر بریگیڈ جیسے اہم محکمے کے لیے خاطر خواہ فنڈز مختص نہیں کیے گئے۔ ملک بھر میں فائربریگیڈ اور شہری امدادی اداروں کا سروے کیا جائے تو ایک جیسی ہی تصویر ابھرے گی۔یہاں تربیت یافتہ عملہ ہے، نہ جدید گاڑیاں اور نہ ہی آگ بجھانے والے آلات موجود ہیں۔ بلدیاتی اداروں کا حال یہ ہے کہ ان اداروں کا عملہ سوائے گلیوں اور سڑکوں پر جھاڑو پھیرنے کے کوئی کام کرنے کے قابل نہیں ہے، کراچی اور لاہور کی سڑکوں پر ٹریفک کا ایسا بے ہنگم نظام ہے کہ کسی حادثے تک کوئی گاڑی بروقت پہنچنا ممکن ہی نہیں ہے۔ آج پاکستان کے کراچی اور لاہور جیسے میگا سٹی بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں، روز حادثے ہو رہے ہیں جن میں معصوم بچے، خواتین اور نوجوان زندگی کی بازی ہار رہے ہیں۔

کراچی میں لوگ پینے کے پانی کی تلاش میں در بدر بھٹک رہے ہیں۔ ملک میں ہر سال سیلاب آتے ہیں لیکن اس کی روک تھام کے لیے کوئی انتظامات نہیں کیے جاتے، ہر سال بارشیں ہوتی ہیں لیکن بڑے شہروں میں نکاسی آب کا نظام ایسا ہے کہ معمولی بارش میں بھی گلیاں اور سڑکیں ندی نالوں کا روپ دھار لیتی ہیں۔ بجلی کے کھمبوں میں کرنٹ آنے سے لوگ مارے جاتے ہیں، کوئی کھلے مین ہول میں گر کر مارا جاتا ہے اور کوئی سیوریج نالوں میں گر کر مر جاتا ہے۔ ادھر بے شمار سانحات و حادثات کے باوجود حکومتوں اور سیاسی لیڈروں کا حال یہ ہے کہ وہ سوائے بیانات جاری کرنے کے کچھ نہیں کر رہے۔ عوام کے نمایندے اپنی تنخواؤں اور مراعات میں اضافہ کروانا فرض سمجھتے ہیں لیکن اصل کام کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ اصل حکومت شہری اداروں کی فعالیت کا نام ہے۔ اگر شہری امدادی ادارے فعال نہیں تو اس کا مطلب ہے کہ حکومت بھی فعال نہیں۔
Load Next Story