سانحہ صفورا اور ضرب ذہن
صفورا سانحے پر روایت کے عین مطابق اعلیٰ سطح کے اکابرین کی طرف سے مذمت اور شدید مذمت کا اظہار کیا گیا
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
TOKYO:
13 مئی کو صفورا چورنگی پر دن دیہاڑے دہشت گردی کا ایک ایسا سانحہ پیش آیا کہ اہل کراچی کے دل دہل کر رہ گئے۔ دہشت گردی کے ہر واقعے پر اگرچہ ہر انسان دکھی ہوجاتا ہے لیکن صفورا چورنگی پر بس میں گھس کر جس کمیونٹی کے مرد اور خواتین کو بھون دیا گیا، یہ کمیونٹی پورے ملک میں انتہائی بے ضرر اور پرامن تسلیم کی جاتی ہے، ہر قسم کے تشدد سے مبرا اس کمیونٹی کے افراد پر جس بے رحمی سے گولیاں چلائی گئیں، یہ کام حیوانیت سے بھی بدتر ہے، بھوکے بھیڑیے بھی اس قسم کی حیوانیت کا مظاہرہ نہیں کرسکتے، جس طرح انسان نما ان درندوں نے کیا ہے۔
صفورا چورنگی کا یہ سانحہ بلاشبہ اپنی نوعیت میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے لیکن دہشت گردی کے اس قبیلے سے تعلق رکھنے والوں نے پچھلے ایک عشرے کے دوران جس قسم کی سفاکانہ دہشت گردیوں کے مظاہرے کیے ہیں ان کے پس منظر میں صفورا چورنگی کا سانحہ باعث حیرت نہیں رہتا جس دہشت گردی کا پاکستان ہی کو نہیں آج ساری دنیا کو سامنا ہے یہ کوئی معمولی عفریت نہیں بلکہ اس عفریت نے پورے کرہ ارض پر بسنے والے انسانوں اور ان کی ہزاروں سالوں میں فروغ پانے والی تہذیب کے لیے ایسا مہیب خطرہ پیدا کردیا ہے کہ اگر اس کا مقابلہ عقل و دانش نظم و ضبط منصوبہ بندی کے ساتھ نہ کیا گیا تو پھر دنیا کا کوئی شخص اس عفریت سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔
صفورا سانحے پر روایت کے عین مطابق اعلیٰ سطح کے اکابرین کی طرف سے مذمت اور شدید مذمت کا اظہار کیا گیا اور روایت کے مطابق ہی مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے دعوے بھی کیے گئے۔ روایت ہی کے مطابق اس قسم کے ہر سانحے کے بعد ہائی الرٹ کا اعلان کردیا جاتا ہے جس میں کچھ ہو نہ ہو بے گناہ شہریوں کی شامت ضرور آجاتی ہے۔ چیکنگ اور اسنیپ چیکنگ کے نام پر پرامن شہریوں کی تذلیل کی جاتی ہے اور سیکڑوں کے حساب سے مشکوک افراد کو پکڑا جاتا ہے جب ان مشکوک افراد سے عندالطلب وصول ہوجاتا ہے تو یہ مشکوک افراد تھانوں سے باعزت رخصت ہوجاتے ہیں۔ اس سانحے کے بعد روایت ہی کے مطابق علاقہ ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کو معطل کردیا گیا۔ معطل کیے جانے والوں میں آئی جی کا نام بھی آیا لیکن وزیر اعلیٰ سندھ نے فوری تردید کردی کہ ایسی کوئی غلطی ان سے سرزد نہیں ہوئی ایک وزیر اعلیٰ سے برتر شخصیت کی طرف سے یہ تردید آئی کہ آئی جی کو نہیں ہٹایا گیا، وہ بدستور خدمات انجام دیتے رہیں گے۔ اس قسم کے متنازعہ اور متضاد اقدامات صوبہ سندھ میں عام ہیں۔
جب بھی اس قسم کا کوئی سانحہ وقوع پذیر ہوتا ہے تو فی الفور ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے جس کی تحقیق ہمیشہ نتائج طلب ہی رہ جاتی ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری پولیس وغیرہ ''جس قسم کے اہم کاموں میں پھنسی رہتی ہے'' اس کے بعد اس کے پاس اتنا وقت ہی نہیں بچتا کہ وہ دہشت گردی کی روک تھام کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے، کراچی جیسے دو کروڑ انسانوں کی اس بستی میں جو سیکڑوں میلوں میں پھیلی ہوئی ہے مجرموں کو جرم سے روکنا آسان نہیں لیکن اگر ہر تھانہ اپنی حدود میں غیر ضروری مصروفیات ختم کرکے پوری توجہ و دلچسپی اور سنجیدگی سے جرائم کی روک تھام پر توجہ دے تو مجرم اس دھڑلے اور آزادی سے جرائم کا ارتکاب نہیں کرسکتے جو وہ عشروں سے کر رہے ہیں۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ایسے کسی سانحے کی صورت میں نزلہ عضو ضعیف ہی پر گرتا ہے اصل اور اوپر والے نااہلوں پر ہاتھ ڈالنے کی کوئی ہمت اس لیے نہیں کرسکتا کہ اعلیٰ سطح کے نااہلوں کی حمایت حاصل ہوتی ہے اس کلچر کی وجہ انتظامیہ نہ صرف نااہلی کا مظاہرہ کرتی ہے بلکہ مجرموں کی سرپرستی کرتی بھی نظر آتی ہے۔
دہشت گردی کے خلاف ہماری بہادر مسلح افواج بڑی دلیری کے ساتھ آپریشن ضرب عضب میں مصروف ہیں اور دہشت گردوں کے گڑھ شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کو جانی نقصان بھی پہنچا رہی ہیں اور ان کے ٹھکانوں کو بھی تباہ کر رہی ہیں، اس آپریشن میں انھیں جانی نقصانات کا بھی سامنا ہے لیکن دانستہ یا نادانستہ ان عوامل کی طرف توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی جو دہشت گردی کا محور ہیں۔ وہ وجہ یا عوامل ہیں دہشت گردوں کا نظریاتی بیس۔ ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ایک خودکش بمبار یا بارودی گاڑی استعمال کرنے والا اپنے جسم کے پرخچے کیوں اڑواتا ہے؟
ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ بسوں سے اتار کر یا بسوں میں گھس کر بے گناہ انسانوں کو گولیوں سے بھون دینے کی ترغیب اور حوصلہ کون سی طاقت فراہم کرتی ہے؟ جب تک ہم اس اصل محرک کے خلاف کوئی نظریاتی ضرب عضب شروع نہیں کرتے اس وقت تک دہشت گردی کو ختم کرنے کے دعوے ''خیال است و محال است وجنوں'' کے علاوہ کچھ نہیں۔ آپریشنوں سے اگر 100 دہشت گرد مارے جاتے ہیں تو نظریاتی محرک دو سو نئے دہشت گرد پیدا کردیتا ہے۔ یوں ہماری ساری کوششیں خواہ وہ کتنی ایماندارانہ اور بہادرانہ کیوں نہ ہوں ان نتائج سے محروم رہ جاتی ہیں جن کی ہمیں ضرورت ہے۔
مذہبی انتہا پسندی جس نے دہشت گردی کا روپ دھار لیا ہے جہل کی پیداوار ہے ۔ قبائلی عوام اپنے اکابرین کے فرمان کو حکم سمجھتے ہیں، اسی کی وجہ سے مذہبی انتہا پسندی دہشت گردی کی چادر اوڑھے دھڑلے سے پوری دنیا کے سرپر سوار ہونے کی کوشش کر رہی ہے ۔ پاکستان عملاً ابھی تک نیم قبائلی جاگیردارانہ نظام کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے اور دہشت گردی کا ارتکاب کرنے والوں کا عمومی تعلق قبائلی معاشرت سے ہوتا ہے۔ صنعتی کلچر میں چونکہ علم شامل ہوتا ہے لہٰذا اس کلچر کے باسی جہل اور جہالت کے پروڈکٹس سے عموماً دور رہتے ہیں۔
کراچی ملک کا سب سے بڑا صنعتی شہر ہے، اس حوالے سے یہاں کے اصل باسیوں کا دہشت گردی سے تعلق غیر منطقی نظر آتا ہے لیکن اس حوالے سے ایک پہلو ایسا ہے جو صنعتی کلچر کے باسیوں کو ٹارگٹ کلنگ دہشت گردی کی طرف لے جا سکتا ہے وہ پہلو ہے 'غربت۔' دہشت گرد تنظیمیں بے پناہ وسائل کی مالک ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ وہ بھاری معاوضے پر سادہ لوح غربت کے مارے ہوئے عوام سے جو چاہے کام لے سکتی ہیں۔ اس حوالے سے یہ تک کہا جا رہا ہے کہ انھوں نے ہر جرم کا بھاری معاوضہ طے کر رکھا ہے جو مجرم کو بڑی ایمانداری سے ادا کردیا جاتا ہے۔
مغرب کے ملک ترقی یافتہ ہیں اور صنعتی کلچر کے حامل بھی لیکن یہاں غربت بھی ہے اور دولت کی ہوس بھی ہے۔ یہ خبریں میڈیا میں تواتر کے ساتھ آرہی ہیں کہ مغربی ملکوں سے نوجوان مرد اور خواتین فرار ہوکر عراق، شام وغیرہ پہنچ کر مذہبی انتہا پسند تحریکوں کا حصہ بن رہے ہیں۔ کیوں؟ یہ ایک بہت بڑا سوال ہے جس کی سنجیدگی سے تحقیق کی ضرورت ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں اکثر غیر اہم مسائل پر بڑی بڑی تحقیقیں ہوتی ہیں۔کیا اس نظریاتی خطرناک ہجرت پر مغربی ملکوں کے محقق دانشور توجہ دے رہے ہیں؟
صفورا چورنگی کا سانحہ ایک دل ہلا دینے والا سانحہ ہے جس پر محض انتظامی نوعیت کی اور روایتی اینٹی وائلنس کارروائیوں سے آگے جانے کی ضرورت ہے ۔ ہماری مرکزی اور صوبائی حکومتوں میں اہل دانش بھی ہوں گے اہل عقل بھی اگر ایسے لوگ موجود ہیں تو کیا وہ اینٹی وائلنس آپریشنوں کے ساتھ ایسے نظریاتی آپریشن پر غور کر رہے ہیں جو مذہبی انتہاپسندی کی جڑوں کو اکھاڑ دیں؟ اس آپریشن میں ہمارا میڈیا ہماری عبادت گاہیں ہمارے مخلص ایماندار اور محب وطن مولوی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں بشرطیکہ حکومتوں میں کوئی اہل عقل اہل دانش موجود ہو۔
13 مئی کو صفورا چورنگی پر دن دیہاڑے دہشت گردی کا ایک ایسا سانحہ پیش آیا کہ اہل کراچی کے دل دہل کر رہ گئے۔ دہشت گردی کے ہر واقعے پر اگرچہ ہر انسان دکھی ہوجاتا ہے لیکن صفورا چورنگی پر بس میں گھس کر جس کمیونٹی کے مرد اور خواتین کو بھون دیا گیا، یہ کمیونٹی پورے ملک میں انتہائی بے ضرر اور پرامن تسلیم کی جاتی ہے، ہر قسم کے تشدد سے مبرا اس کمیونٹی کے افراد پر جس بے رحمی سے گولیاں چلائی گئیں، یہ کام حیوانیت سے بھی بدتر ہے، بھوکے بھیڑیے بھی اس قسم کی حیوانیت کا مظاہرہ نہیں کرسکتے، جس طرح انسان نما ان درندوں نے کیا ہے۔
صفورا چورنگی کا یہ سانحہ بلاشبہ اپنی نوعیت میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے لیکن دہشت گردی کے اس قبیلے سے تعلق رکھنے والوں نے پچھلے ایک عشرے کے دوران جس قسم کی سفاکانہ دہشت گردیوں کے مظاہرے کیے ہیں ان کے پس منظر میں صفورا چورنگی کا سانحہ باعث حیرت نہیں رہتا جس دہشت گردی کا پاکستان ہی کو نہیں آج ساری دنیا کو سامنا ہے یہ کوئی معمولی عفریت نہیں بلکہ اس عفریت نے پورے کرہ ارض پر بسنے والے انسانوں اور ان کی ہزاروں سالوں میں فروغ پانے والی تہذیب کے لیے ایسا مہیب خطرہ پیدا کردیا ہے کہ اگر اس کا مقابلہ عقل و دانش نظم و ضبط منصوبہ بندی کے ساتھ نہ کیا گیا تو پھر دنیا کا کوئی شخص اس عفریت سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔
صفورا سانحے پر روایت کے عین مطابق اعلیٰ سطح کے اکابرین کی طرف سے مذمت اور شدید مذمت کا اظہار کیا گیا اور روایت کے مطابق ہی مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے دعوے بھی کیے گئے۔ روایت ہی کے مطابق اس قسم کے ہر سانحے کے بعد ہائی الرٹ کا اعلان کردیا جاتا ہے جس میں کچھ ہو نہ ہو بے گناہ شہریوں کی شامت ضرور آجاتی ہے۔ چیکنگ اور اسنیپ چیکنگ کے نام پر پرامن شہریوں کی تذلیل کی جاتی ہے اور سیکڑوں کے حساب سے مشکوک افراد کو پکڑا جاتا ہے جب ان مشکوک افراد سے عندالطلب وصول ہوجاتا ہے تو یہ مشکوک افراد تھانوں سے باعزت رخصت ہوجاتے ہیں۔ اس سانحے کے بعد روایت ہی کے مطابق علاقہ ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کو معطل کردیا گیا۔ معطل کیے جانے والوں میں آئی جی کا نام بھی آیا لیکن وزیر اعلیٰ سندھ نے فوری تردید کردی کہ ایسی کوئی غلطی ان سے سرزد نہیں ہوئی ایک وزیر اعلیٰ سے برتر شخصیت کی طرف سے یہ تردید آئی کہ آئی جی کو نہیں ہٹایا گیا، وہ بدستور خدمات انجام دیتے رہیں گے۔ اس قسم کے متنازعہ اور متضاد اقدامات صوبہ سندھ میں عام ہیں۔
جب بھی اس قسم کا کوئی سانحہ وقوع پذیر ہوتا ہے تو فی الفور ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے جس کی تحقیق ہمیشہ نتائج طلب ہی رہ جاتی ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری پولیس وغیرہ ''جس قسم کے اہم کاموں میں پھنسی رہتی ہے'' اس کے بعد اس کے پاس اتنا وقت ہی نہیں بچتا کہ وہ دہشت گردی کی روک تھام کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے، کراچی جیسے دو کروڑ انسانوں کی اس بستی میں جو سیکڑوں میلوں میں پھیلی ہوئی ہے مجرموں کو جرم سے روکنا آسان نہیں لیکن اگر ہر تھانہ اپنی حدود میں غیر ضروری مصروفیات ختم کرکے پوری توجہ و دلچسپی اور سنجیدگی سے جرائم کی روک تھام پر توجہ دے تو مجرم اس دھڑلے اور آزادی سے جرائم کا ارتکاب نہیں کرسکتے جو وہ عشروں سے کر رہے ہیں۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ایسے کسی سانحے کی صورت میں نزلہ عضو ضعیف ہی پر گرتا ہے اصل اور اوپر والے نااہلوں پر ہاتھ ڈالنے کی کوئی ہمت اس لیے نہیں کرسکتا کہ اعلیٰ سطح کے نااہلوں کی حمایت حاصل ہوتی ہے اس کلچر کی وجہ انتظامیہ نہ صرف نااہلی کا مظاہرہ کرتی ہے بلکہ مجرموں کی سرپرستی کرتی بھی نظر آتی ہے۔
دہشت گردی کے خلاف ہماری بہادر مسلح افواج بڑی دلیری کے ساتھ آپریشن ضرب عضب میں مصروف ہیں اور دہشت گردوں کے گڑھ شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کو جانی نقصان بھی پہنچا رہی ہیں اور ان کے ٹھکانوں کو بھی تباہ کر رہی ہیں، اس آپریشن میں انھیں جانی نقصانات کا بھی سامنا ہے لیکن دانستہ یا نادانستہ ان عوامل کی طرف توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی جو دہشت گردی کا محور ہیں۔ وہ وجہ یا عوامل ہیں دہشت گردوں کا نظریاتی بیس۔ ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ایک خودکش بمبار یا بارودی گاڑی استعمال کرنے والا اپنے جسم کے پرخچے کیوں اڑواتا ہے؟
ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ بسوں سے اتار کر یا بسوں میں گھس کر بے گناہ انسانوں کو گولیوں سے بھون دینے کی ترغیب اور حوصلہ کون سی طاقت فراہم کرتی ہے؟ جب تک ہم اس اصل محرک کے خلاف کوئی نظریاتی ضرب عضب شروع نہیں کرتے اس وقت تک دہشت گردی کو ختم کرنے کے دعوے ''خیال است و محال است وجنوں'' کے علاوہ کچھ نہیں۔ آپریشنوں سے اگر 100 دہشت گرد مارے جاتے ہیں تو نظریاتی محرک دو سو نئے دہشت گرد پیدا کردیتا ہے۔ یوں ہماری ساری کوششیں خواہ وہ کتنی ایماندارانہ اور بہادرانہ کیوں نہ ہوں ان نتائج سے محروم رہ جاتی ہیں جن کی ہمیں ضرورت ہے۔
مذہبی انتہا پسندی جس نے دہشت گردی کا روپ دھار لیا ہے جہل کی پیداوار ہے ۔ قبائلی عوام اپنے اکابرین کے فرمان کو حکم سمجھتے ہیں، اسی کی وجہ سے مذہبی انتہا پسندی دہشت گردی کی چادر اوڑھے دھڑلے سے پوری دنیا کے سرپر سوار ہونے کی کوشش کر رہی ہے ۔ پاکستان عملاً ابھی تک نیم قبائلی جاگیردارانہ نظام کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے اور دہشت گردی کا ارتکاب کرنے والوں کا عمومی تعلق قبائلی معاشرت سے ہوتا ہے۔ صنعتی کلچر میں چونکہ علم شامل ہوتا ہے لہٰذا اس کلچر کے باسی جہل اور جہالت کے پروڈکٹس سے عموماً دور رہتے ہیں۔
کراچی ملک کا سب سے بڑا صنعتی شہر ہے، اس حوالے سے یہاں کے اصل باسیوں کا دہشت گردی سے تعلق غیر منطقی نظر آتا ہے لیکن اس حوالے سے ایک پہلو ایسا ہے جو صنعتی کلچر کے باسیوں کو ٹارگٹ کلنگ دہشت گردی کی طرف لے جا سکتا ہے وہ پہلو ہے 'غربت۔' دہشت گرد تنظیمیں بے پناہ وسائل کی مالک ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ وہ بھاری معاوضے پر سادہ لوح غربت کے مارے ہوئے عوام سے جو چاہے کام لے سکتی ہیں۔ اس حوالے سے یہ تک کہا جا رہا ہے کہ انھوں نے ہر جرم کا بھاری معاوضہ طے کر رکھا ہے جو مجرم کو بڑی ایمانداری سے ادا کردیا جاتا ہے۔
مغرب کے ملک ترقی یافتہ ہیں اور صنعتی کلچر کے حامل بھی لیکن یہاں غربت بھی ہے اور دولت کی ہوس بھی ہے۔ یہ خبریں میڈیا میں تواتر کے ساتھ آرہی ہیں کہ مغربی ملکوں سے نوجوان مرد اور خواتین فرار ہوکر عراق، شام وغیرہ پہنچ کر مذہبی انتہا پسند تحریکوں کا حصہ بن رہے ہیں۔ کیوں؟ یہ ایک بہت بڑا سوال ہے جس کی سنجیدگی سے تحقیق کی ضرورت ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں اکثر غیر اہم مسائل پر بڑی بڑی تحقیقیں ہوتی ہیں۔کیا اس نظریاتی خطرناک ہجرت پر مغربی ملکوں کے محقق دانشور توجہ دے رہے ہیں؟
صفورا چورنگی کا سانحہ ایک دل ہلا دینے والا سانحہ ہے جس پر محض انتظامی نوعیت کی اور روایتی اینٹی وائلنس کارروائیوں سے آگے جانے کی ضرورت ہے ۔ ہماری مرکزی اور صوبائی حکومتوں میں اہل دانش بھی ہوں گے اہل عقل بھی اگر ایسے لوگ موجود ہیں تو کیا وہ اینٹی وائلنس آپریشنوں کے ساتھ ایسے نظریاتی آپریشن پر غور کر رہے ہیں جو مذہبی انتہاپسندی کی جڑوں کو اکھاڑ دیں؟ اس آپریشن میں ہمارا میڈیا ہماری عبادت گاہیں ہمارے مخلص ایماندار اور محب وطن مولوی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں بشرطیکہ حکومتوں میں کوئی اہل عقل اہل دانش موجود ہو۔