ہم پھر مشکل دور سے گزر رہے ہیں
وفاقی حکومت کی سرپرستی اور صوبائی حکومت کی فرض شناسی بلکہ ’’ان تھک محنت‘‘ کی وجہ سے بڑے اچھے دور میں ہیں۔
barq@email.com
اپنے بارے میں شبہ تو ہمیں کافی عرصے سے یعنی لگ بھگ ستر سال سے تھا کہ ہم کچھ زیادہ ''ذہین و فتین'' نہیں ہیں، پرانے زمانے کی پرانی سی دو چار جماعتیں پڑھنے والوں کی بساط ہی کیا، اس لیے جب بھی سننے میں آتا تھا کہ ہم مشکل دور سے گزر رہے ہیں تو سوچتے کہ لوگ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں گے، واقعی ہم مشکل دور سے گزر رہے ہوں گے لیکن بصیرت اور بصارت یعنی آئی کیو اور آئی سائٹ دونوں کے ڈیفیکٹو ہونے کے سبب بے خبر ہیں لیکن اب تو پکا پکا یقین ہو چلا ہے کہ ہم یقیناً مشکل دور سے گزر رہے ہوں گے بلکہ ڈبل ''مشکل دور'' کہیے بلکہ صحیح معنوں میں اسے ''ٹرپل، ٹربل'' کہا جا سکتا ہے کیونکہ ایک تو مسلمان ہونے کے ناتے ہم عرصہ دراز سے مشکل دور میں ہیں، کم از کم دینی طور پر ''سیانے'' لوگوں کا تو یہی کہنا ہے۔
پھر پاکستانی بھی تو ہیں اس لیے دوہری مشکل سے گزر رہے ہیں کیوں کہ پاکستان کا مشکل دور تو پیدائشی ہے جب سے اس نے آنکھ کھولی ہے اپنے اردگرد ''مشکل دور'' ہی کو گزرتے ہوئے دیکھ رہا ہے کیوں کہ روز اول ہی سے اسے لیڈروں کی شکل میں ایک اچھا خاصا صحت مند ''مشکل دور'' لاحق ہے، لیکن اب یہ سن کر دل مزید دھک دھک کرنے لگا ہے کہ بحیثیت پشتون بھی ہم مشکل دور سے گزر رہے ہیں، اس آخری اطلاع کا ذریعہ جناب آفتاب شیر پاؤ ہیں جو نہایت ہی باوثوق اور قابل اعتماد ذریعہ ہیں، بخدا یہ سن کر تو ہمیں از حد شرمندگی ہوئی کہ ہمیں اپنے مشکل دور کی اطلاع باہر سے مل رہی ہے اور خود ہمیں احساس تک نہیں ہے کہ ہم کس دور سے گزر رہے ہیں، خدا جناب شیر پاؤ کا بھلا کرے ورنہ ہم نہ جانے کب تک بے خبر رہتے کہ ہم مشکل دور بلکہ قہری یعنی ٹرپل مشکل دور سے گزر رہے ہیں
اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
جناب شیر پاؤ نے کہا ہے کہ پشتون اس وقت مشکل دور سے گزر رہے ہیں، ظاہر کہ پشتون تو ہم ہیں ،کچھ زیادہ نامی گرامی اور قابل رشک نہ سہی ماڑے ماٹھے پشتون تو ہیں، ''ماڑے ماٹھے'' اس لیے بھی کہ ابھی تک ہمیں یہ ہی معلوم نہیں کہ ہم مشکل دور سے گزر رہے ہیں، حد ہو گئی نالائقی، لاپرواہی اور بے حسی کی۔کتنے افسوس کا مقام ہے۔ اس سے تو اچھا تھا کہ ہم چلو بھر پانی لے کر ۔۔۔ لیکن پانی کی کیا ضرورت ہے ''خودکشی'' ہی کر لیتے تو اچھا تھا بلکہ اپنے اردگر بارود باندھ کر اس کم بخت ''مشکل دور'' سے جا بھڑتے تو اور بھی اچھا ہوتا۔آپ نے فلم حسینہ مان جائے گی تو دیکھی ہو گی۔ نہیں دیکھی ہے تو ہم بتائے دیتے ہیں۔گووندا کرشمہ کپور کو فون پر تنگ کرتا ہے ۔کرشمہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ پروگرام بناتی ہے کہ اس کم بخت کو ملاقات کا جھانسہ دے کر بلایا جائے اور خوب مرمت کی جائے۔
ایک ریستوران میں ملاقات طے ہوتی ہے لیکن گووندا اپنی جگہ کسی اور کو وہی نشانی دے کر بٹھاتا ہے۔ لڑکیوں کا گروپ آکر اس پر پل پڑتا ہے، مرمت کرتے ہوئے لڑکیاں کہتی ہیں، شرم نہیں آتی لڑکیوں کو چھیڑتے ہوئے۔ اب وہ بے چارا بڑی مسکینی سے کہتا ہے، کمال ہے میں آپ کو چھیڑ رہا ہوں اور مجھے خود بھی پتہ نہیں ہے، کچھ ایسی حالت ہماری بھی سمجھ لیجیے جب سے یہ سنا ہے کہ پشتون مشکل دور سے گزر رہے ہیں بڑی شرم سی محسوس ہو رہی ہے کہ ہم مشکل دور سے گزر رہے ہیں اور ہمیں خود بھی پتہ نہیں ہے حالانکہ ہم خوش ہو رہے تھے کہ آج کل ہم امریکا کی مہربانی، آئی ایم ایف کی دریا دلی، وفاقی حکومت کی سرپرستی اور صوبائی حکومت کی فرض شناسی بلکہ ''ان تھک محنت'' کی وجہ سے بڑے اچھے دور میں ہیں۔
بلکہ حال تو خوش حال ہے ہی نہیں مستقبل اور بھی تاب ناک اور شان دار دکھائی دے رہا ہے کیوں کہ کم از کم 45 ہزار نئے خادمان قوم بھی جلوہ گر ہونے والے ہیں۔ ذرا تصور تو کیجیے 'یہ منتخب خادمان قوم جب قوم کی خدمت میں جت جائیں گے تو پھر تو روز گوشت پکے گا، ہرشام پلاؤ کھائیں گے اور ہر رات حلوہ ٹھونسیں گے۔
لیکن اب سن رہے ہیں کہ پشتون مشکل دور سے گزر رہے ہیں، سمجھ میں نہیں آتا کہ کس پر یقین کریں کیوں کہ دونوں طرف نہایت ہی ''ثقہ'' لوگ ہیں جو ہمیشہ سچ بولتے ہیں اور سچ کے سوا کچھ نہیں بولتے، کم از کم پاکستان کی سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ لیڈر لوگ کبھی جھوٹ نہیں بولتے، اس کی صرف ایک ہی توجیہہ و توصیخ ممکن ہے کہ وہ بھی سچ بولتے ہیں اور یہ بھی جھوٹ نہیں بولتے، بیچ میں رہ گئے ہم، تو یقیناً ہم ہی جھوٹ بول رہے ہوں گے کیوں کہ اس سارے معاملے میں اگر کوئی ''بے اعتبارا'' ہے تو وہ ہم ہی ہو سکتے ہیں اگر ایک شخص کو خود ہی یہ پتہ نہ ہو کہ وہ مشکل دور سے گزر رہا ہے اور اتنی بڑی خبر کہیں کسی اور ذریعے سے مل رہی ہو تو اس کا کیا اعتبار؟ یہ تو وہی بات ہوئی کہ
اس بے خودی میں جانے کیا کیا نظر آتا ہے
مجنوں نظر آتی ہے لیلیٰ نظر آتا ہے
یقین تو ہم نے کر لیا اور جب یقین کر لیا کہ واقعی ہم مشکل دور سے گزر رہے ہوں گے اس لیے ذرا پھر سے اپنا جائزہ لیا، اپنے چار چوفیرے نگاہ کی، تھوڑا سا ہلے جلے بھی کیوں کہ پرانی کہانیوں میں اکثر لوگوں کے جسم سے تلوار پار ہو چکی ہوتی لیکن ان کو پتہ نہیں ہوتا تھا کیوں کہ تلوار نہایت تیز اور تلوار باز نہایت ماہر ہوتا تھا پھر ذرا سا ہلنے پر وہ دھڑام سے دو نیم ہو کر یہاں وہاں بکھر جاتا تھا، دراصل ہمارا واسطہ بھی انتہائی ماہر شمشر زنوں سے پڑا ہوا ہے ،کیا پتہ ہم کب کے دو نیم ہو چکے ہوں، چنانچہ اب تھوڑا سا شبہ ہمیں بھی ہو رہا ہے کہ شاید بلکہ یقیناً ہم مشکل دور سے گزر رہے ہوں کیوں کہ چاروں طرف مشکلیں ہی مشکلیں گھوم رہی ہیں، وہ بھی رنگ برنگے جھنڈے اٹھا کر۔ رنگ جھنڈوں کے بے شک مختلف ہیں لیکن ہر جھنڈے میں جو ڈنڈا ہے، وہ ایک ہی جیسا ہے۔
درد سے خوگر ہوا انسان تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں مجھ پر پڑی اتنی کہ آساں ہو گئیں
پھر پاکستانی بھی تو ہیں اس لیے دوہری مشکل سے گزر رہے ہیں کیوں کہ پاکستان کا مشکل دور تو پیدائشی ہے جب سے اس نے آنکھ کھولی ہے اپنے اردگرد ''مشکل دور'' ہی کو گزرتے ہوئے دیکھ رہا ہے کیوں کہ روز اول ہی سے اسے لیڈروں کی شکل میں ایک اچھا خاصا صحت مند ''مشکل دور'' لاحق ہے، لیکن اب یہ سن کر دل مزید دھک دھک کرنے لگا ہے کہ بحیثیت پشتون بھی ہم مشکل دور سے گزر رہے ہیں، اس آخری اطلاع کا ذریعہ جناب آفتاب شیر پاؤ ہیں جو نہایت ہی باوثوق اور قابل اعتماد ذریعہ ہیں، بخدا یہ سن کر تو ہمیں از حد شرمندگی ہوئی کہ ہمیں اپنے مشکل دور کی اطلاع باہر سے مل رہی ہے اور خود ہمیں احساس تک نہیں ہے کہ ہم کس دور سے گزر رہے ہیں، خدا جناب شیر پاؤ کا بھلا کرے ورنہ ہم نہ جانے کب تک بے خبر رہتے کہ ہم مشکل دور بلکہ قہری یعنی ٹرپل مشکل دور سے گزر رہے ہیں
اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
جناب شیر پاؤ نے کہا ہے کہ پشتون اس وقت مشکل دور سے گزر رہے ہیں، ظاہر کہ پشتون تو ہم ہیں ،کچھ زیادہ نامی گرامی اور قابل رشک نہ سہی ماڑے ماٹھے پشتون تو ہیں، ''ماڑے ماٹھے'' اس لیے بھی کہ ابھی تک ہمیں یہ ہی معلوم نہیں کہ ہم مشکل دور سے گزر رہے ہیں، حد ہو گئی نالائقی، لاپرواہی اور بے حسی کی۔کتنے افسوس کا مقام ہے۔ اس سے تو اچھا تھا کہ ہم چلو بھر پانی لے کر ۔۔۔ لیکن پانی کی کیا ضرورت ہے ''خودکشی'' ہی کر لیتے تو اچھا تھا بلکہ اپنے اردگر بارود باندھ کر اس کم بخت ''مشکل دور'' سے جا بھڑتے تو اور بھی اچھا ہوتا۔آپ نے فلم حسینہ مان جائے گی تو دیکھی ہو گی۔ نہیں دیکھی ہے تو ہم بتائے دیتے ہیں۔گووندا کرشمہ کپور کو فون پر تنگ کرتا ہے ۔کرشمہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ پروگرام بناتی ہے کہ اس کم بخت کو ملاقات کا جھانسہ دے کر بلایا جائے اور خوب مرمت کی جائے۔
ایک ریستوران میں ملاقات طے ہوتی ہے لیکن گووندا اپنی جگہ کسی اور کو وہی نشانی دے کر بٹھاتا ہے۔ لڑکیوں کا گروپ آکر اس پر پل پڑتا ہے، مرمت کرتے ہوئے لڑکیاں کہتی ہیں، شرم نہیں آتی لڑکیوں کو چھیڑتے ہوئے۔ اب وہ بے چارا بڑی مسکینی سے کہتا ہے، کمال ہے میں آپ کو چھیڑ رہا ہوں اور مجھے خود بھی پتہ نہیں ہے، کچھ ایسی حالت ہماری بھی سمجھ لیجیے جب سے یہ سنا ہے کہ پشتون مشکل دور سے گزر رہے ہیں بڑی شرم سی محسوس ہو رہی ہے کہ ہم مشکل دور سے گزر رہے ہیں اور ہمیں خود بھی پتہ نہیں ہے حالانکہ ہم خوش ہو رہے تھے کہ آج کل ہم امریکا کی مہربانی، آئی ایم ایف کی دریا دلی، وفاقی حکومت کی سرپرستی اور صوبائی حکومت کی فرض شناسی بلکہ ''ان تھک محنت'' کی وجہ سے بڑے اچھے دور میں ہیں۔
بلکہ حال تو خوش حال ہے ہی نہیں مستقبل اور بھی تاب ناک اور شان دار دکھائی دے رہا ہے کیوں کہ کم از کم 45 ہزار نئے خادمان قوم بھی جلوہ گر ہونے والے ہیں۔ ذرا تصور تو کیجیے 'یہ منتخب خادمان قوم جب قوم کی خدمت میں جت جائیں گے تو پھر تو روز گوشت پکے گا، ہرشام پلاؤ کھائیں گے اور ہر رات حلوہ ٹھونسیں گے۔
لیکن اب سن رہے ہیں کہ پشتون مشکل دور سے گزر رہے ہیں، سمجھ میں نہیں آتا کہ کس پر یقین کریں کیوں کہ دونوں طرف نہایت ہی ''ثقہ'' لوگ ہیں جو ہمیشہ سچ بولتے ہیں اور سچ کے سوا کچھ نہیں بولتے، کم از کم پاکستان کی سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ لیڈر لوگ کبھی جھوٹ نہیں بولتے، اس کی صرف ایک ہی توجیہہ و توصیخ ممکن ہے کہ وہ بھی سچ بولتے ہیں اور یہ بھی جھوٹ نہیں بولتے، بیچ میں رہ گئے ہم، تو یقیناً ہم ہی جھوٹ بول رہے ہوں گے کیوں کہ اس سارے معاملے میں اگر کوئی ''بے اعتبارا'' ہے تو وہ ہم ہی ہو سکتے ہیں اگر ایک شخص کو خود ہی یہ پتہ نہ ہو کہ وہ مشکل دور سے گزر رہا ہے اور اتنی بڑی خبر کہیں کسی اور ذریعے سے مل رہی ہو تو اس کا کیا اعتبار؟ یہ تو وہی بات ہوئی کہ
اس بے خودی میں جانے کیا کیا نظر آتا ہے
مجنوں نظر آتی ہے لیلیٰ نظر آتا ہے
یقین تو ہم نے کر لیا اور جب یقین کر لیا کہ واقعی ہم مشکل دور سے گزر رہے ہوں گے اس لیے ذرا پھر سے اپنا جائزہ لیا، اپنے چار چوفیرے نگاہ کی، تھوڑا سا ہلے جلے بھی کیوں کہ پرانی کہانیوں میں اکثر لوگوں کے جسم سے تلوار پار ہو چکی ہوتی لیکن ان کو پتہ نہیں ہوتا تھا کیوں کہ تلوار نہایت تیز اور تلوار باز نہایت ماہر ہوتا تھا پھر ذرا سا ہلنے پر وہ دھڑام سے دو نیم ہو کر یہاں وہاں بکھر جاتا تھا، دراصل ہمارا واسطہ بھی انتہائی ماہر شمشر زنوں سے پڑا ہوا ہے ،کیا پتہ ہم کب کے دو نیم ہو چکے ہوں، چنانچہ اب تھوڑا سا شبہ ہمیں بھی ہو رہا ہے کہ شاید بلکہ یقیناً ہم مشکل دور سے گزر رہے ہوں کیوں کہ چاروں طرف مشکلیں ہی مشکلیں گھوم رہی ہیں، وہ بھی رنگ برنگے جھنڈے اٹھا کر۔ رنگ جھنڈوں کے بے شک مختلف ہیں لیکن ہر جھنڈے میں جو ڈنڈا ہے، وہ ایک ہی جیسا ہے۔
درد سے خوگر ہوا انسان تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں مجھ پر پڑی اتنی کہ آساں ہو گئیں